سورۃ الفاتحہ 1:7 الفاتحة
یہ سورۃ الفاتحہ کی 7 آیات میں سے آیت 7 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 7، پارہ 1۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 1 پر ہے۔
صِرَٰطَ ٱلَّذِينَ أَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِمۡ غَيۡرِ ٱلۡمَغۡضُوبِ عَلَيۡهِمۡ وَلَا ٱلضَّآلِّينَ
ان لوگوں کی راه جن پر تو نے انعام کیا1 ان کی نہیں جن پر غضب کیا گیا (یعنی وه لوگ جنہوں نے حق کو پہچانا، مگر اس پر عمل پیرا نہیں ہوئے) اور نہ گمراہوں کی2 (یعنی وه لوگ جو جہالت کے سبب راه حق سے برگشتہ ہوگئے)۔
مترجم کے حواشی (2)
- 1 یہ صراط مستقیم کی وضاحت ہے کہ یہ سیدھا راستہ وہ ہے جس پر وہ لوگ چلے، جن پر تیرا انعام ہوا، یہ منعم علیہ گروہ ہے انبیا شہدا صدیقین اور صالحین کا۔ جیسا کہ سورۂ نساء میں ہے: «وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا» (النساء: 69) ”اور جو اللہ اور اس کے رسول (صلى الله عليه وسلم) کی اطاعت کرتے ہیں، وہ قیامت کے روز ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی انبیا، صدیقین، شہدا، اور صالحین، اور ان لوگوں کی رفاقت بہت ہی خوب ہے۔“ اس آیت میں یہ بھی وضاحت کردی گئی ہے کہ انعام یافتہ لوگوں کا یہ راستہ اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول (صلى الله عليه وسلم) ہی کا راستہ ہے، نہ کہ کوئی اور راستہ۔
- 2 بعض روایات سے ثابت ہے کہ «مَغْضُوبٌ عَلَيْهِمْ» ”جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا“ سے مراد یہودی اور «ضَالِّيْنَ» ”گمراہوں“ سے مراد نصاریٰ (عیسائی) ہیں۔ ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ مفسرین کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ ”لا أَعْلَمُ خِلافًا بَيْنَ الْمُفَسِّرِينَ فِي تَفْسِيرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ : بِالْيَهُود وَ الضَّالِّينَ بالنَّصَارَى“ (فتح القدیر)، اس لئے صراط مستقیم پر چلنے کی خواہش رکھنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ یہود اور نصاریٰ دونوں کی گمراہیوں سے بچ کر رہیں۔ یہود کی بڑی گمراہی یہ تھی کہ وہ جانتے بوجھتے صحیح راستے پر نہیں چلتے تھے، آیات الٰہی میں تحریف اور حیلہ کرنے سے گریز نہیں کرتے تھے، حضرت عزیر (عليه السلام) کو ”ابن اللہ“ کہتے، اپنے احبار ورھبان کو حرام وحلال کرنے کا مجاز سمجھتے تھے۔ نصاریٰ کی بڑی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کی شان میں غلو کیا اور انہیں ”ابْنُ اللهِ“ اور ”ثَالِثُ ثَلاثَةٍ“ (اللہ کا بیٹا اور تین خدا میں سے ایک) قرار دیا۔ افسوس ہے کہ امت محمدیہ میں بھی یہ گمراہیاں عام ہیں اور اسی وجہ سے وہ دنیا میں ذلیل و رسوا ہیں۔ اللہ تعالیٰ اسے ضلالت کے گڑھے سے نکالے، تاکہ ادبار ونکبت کے بڑھتے ہوئے سائے سے وہ محفوظ رہ سکیں۔ سورۂ فاتحہ کے آخر میں آمین کہنے کی نبی (صلى الله عليه وسلم) نے بڑی تاکید اور فضیلت فرمائی ہے۔ اس لئے امام اور مقتدی ہر ایک کو آمین کہنی چاہیے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) جہری نمازوں میں اونچی آواز سے آمین کہا کرتے تھے اور صحابہ (رضي الله عنهم) بھی، حتیٰ کہ مسجد گونج اٹھتی۔ (ابن ماجہ۔ ابن کثیر)، بنابریں آمین اونچی آواز سے کہنا سنت اور صحابہ کرام (رضي الله عنهم) کا معمول بہ ہے۔ آمین کے معنی مختلف بیان کیے گئے ہیں۔ ”كَذَلِكَ فَلْيَكُنْ“ (اسی طرح ہو)، ”لا تُخَيِّبْ رَجَاءَنا“ (ہمیں نامراد نہ کرنا)، ”اللَّهُمَّ! اسْتَجِبْ لَنَا“ (اے اللہ ہماری دعا قبول فرمالے)۔
1:7 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 1:7
Al-Mukhtasar
7- اپنے ان بندوں کی راہ دکھا جنھیں تو نے ہدایت دے کر ان پر انعامات فرمائے، جیسے: انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین۔ یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں! ان لوگوں کی راہ پر نہ چلانا جو تیرے غضب کا شکار ہوئے، جنھوں نے حق کو پہچان کر اس کی پیروی سے گریز کیا، جیسے: یہود۔ اور حق سے بھٹکے ہوئے لوگوں کی راہ پر بھی نہ چلانا جو تلاشِ حق میں اپنی کوتاہی کی و جہ سے حق پانے سے قاصر رہے، جیسے: عیسائی۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 1
- الفاظ کی تعداد
- 9
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 1
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 1
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 2
آیت 1:7 کس سورت میں ہے؟
سورۃ الفاتحہ (الفاتحة). 114 میں سے سورت نمبر 1 · آیات کی تعداد: 7.
آیت 1:7 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 1.
آیت 1:7 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 1 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 1 · نسخ مصحف (612 صفحات): 2.
آیت 1:7 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 9.
آیت 1:7 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 1:7: حروف کی تعداد 43، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 1:7 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 1:7 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 7 ہے۔
سورۃ الفاتحہ میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ الفاتحہ: آیات کی تعداد 7۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 1 پر ہے۔
سورۃ الفاتحہ مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ الفاتحہ مکی ہے۔
کیا آیت 1:7 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 1:7 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ الفاتحہ کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 7 آیات اور 29 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔