مواد پر جائیں

سورۃ الحج 22:5

یہ سورۃ الحج کی 78 آیات میں سے آیت 5 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 2600، پارہ 17۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 332 پر ہے۔

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِن كُنتُمۡ فِي رَيۡبٖ مِّنَ ٱلۡبَعۡثِ فَإِنَّا خَلَقۡنَٰكُم مِّن تُرَابٖ ثُمَّ مِن نُّطۡفَةٖ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَةٖ ثُمَّ مِن مُّضۡغَةٖ مُّخَلَّقَةٖ وَغَيۡرِ مُخَلَّقَةٖ لِّنُبَيِّنَ لَكُمۡۚ وَنُقِرُّ فِي ٱلۡأَرۡحَامِ مَا نَشَآءُ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗى ثُمَّ نُخۡرِجُكُمۡ طِفۡلٗا ثُمَّ لِتَبۡلُغُوٓاْ أَشُدَّكُمۡۖ وَمِنكُم مَّن يُتَوَفَّىٰ وَمِنكُم مَّن يُرَدُّ إِلَىٰٓ أَرۡذَلِ ٱلۡعُمُرِ لِكَيۡلَا يَعۡلَمَ مِنۢ بَعۡدِ عِلۡمٖ شَيۡـٔٗاۚ وَتَرَى ٱلۡأَرۡضَ هَامِدَةٗ فَإِذَآ أَنزَلۡنَا عَلَيۡهَا ٱلۡمَآءَ ٱهۡتَزَّتۡ وَرَبَتۡ وَأَنۢبَتَتۡ مِن كُلِّ زَوۡجِۭ بَهِيجٖ

لوگو! اگر تمہیں مرنے کے بعد جی اٹھنے میں شک ہے تو سوچو ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے پھر خون بستہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے جو صورت دیا گیا تھا اور بے نقشہ تھا1 ۔ یہ ہم تم پر ﻇاہر کر دیتے ہیں2، اور ہم جسے چاہیں ایک ٹھہرائے ہوئے وقت تک رحم مادر میں رکھتے ہیں3 پھر تمہیں بچپن کی حالت میں دنیا میں ﻻتے ہیں پھر تاکہ تم اپنی پوری جوانی کو پہنچو، تم میں سے بعض تو وه ہیں جو فوت کر لئے جاتے ہیں4 اور بعض بے غرض عمر کی طرف پھر سے لوٹا دیئے جاتے ہیں کہ وه ایک چیز سے باخبر ہونے کے بعد پھر بے خبر ہو جائے5۔ تو دیکھتا ہے کہ زمین (بنجر اور) خشک ہے پھر ہم اس پر بارشیں برساتے ہیں تو وه ابھرتی ہے اور پھولتی ہے اور ہر قسم کی رونق دار نباتات اگاتی ہے.6

مترجم کے حواشی (6)
  1. 1 یعنی نطفے (قطرہ منی) سے چالیس روز بعد عَلَقَۃ گاڑھا خون اور عَلَقَۃ سے مُضْغَۃ گوشت کا لوتھڑا بن جاتا ہے مُخَلَّقَۃ سے، وہ بچہ مراد ہے جس کی پیدائش واضح اور شکل و صورت نمایاں ہو جائے، ایسے بچے میں روح پھونک دی جاتی ہے اور تکمیل کے بعد اس کی ولادت ہوجاتی ہے اور غیر مخلقۃ، اس کے برعکس، جس کی شکل و صورت واضح نہ ہو، نہ اس میں روح پھونکی جائے اور قبل از وقت ہی وہ ساقط ہو جائے۔ صحیح حدیث میں بھی رحم مادر کی ان کیفیات کا ذکر کیا گیا ہے۔ مثلا ایک حدیث میں ہے کہ نطفہ چالیس دن کے بعد علقۃ (گاڑھا خون) بن جاتا ہے پھر چالیس دن کے بعد یہ مضغۃ(لوتھرڑا یا گوشت کی بوٹی) کی شکل اختیار کر لیتا ہے پھر اللہ تعالٰی کی طرف سے ایک فرشتہ آتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے یعنی چار مہینے کے بعد نفخ روح ہوتا ہے اور بچہ ایک واضح شکل میں ڈھل جاتا ہے (صحيح بخاري كتاب الأنبياء وكتاب القدر، مسلم كتاب القدر ، باب كيفية الخلق الآدميٍ)
  2. 2 یعنی اس طرح ہم اپنا کمال قدرت و تخلیق تمہارے لئے بیان کرتے ہیں۔
  3. 3 یعنی جس کو ساقط کرنا نہیں ہوتا۔
  4. 4 یعنی عمر اشد سے پہلے ہی۔ عمر اشد سے مراد بلوغت یا کمال عقل و کمال قوت و تمیز کی عمر، جو 30 سے 40 سال کے درمیان عمر ہے۔
  5. 5 اس سے مراد بڑھاپے میں قوائے انسانی میں ضعف و کمزوری کے ساتھ عقل و حافظہ کا کمزور ہو جانا اور یاداشت اور عقل و فہم میں بچے کی طرح ہو جانا، جسے سورہ یٰسین میں «وَمَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ»(یس:68) اور سورہ تین میں «ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ»(التین:5) سے تعبیر کیا گیا ہے۔
  6. 6 یہ احیائے موتی (مردوں کے زندہ کرنے) پر اللہ تعالٰی کے قادر ہونے کی دوسری دلیل ہے۔ پہلی دلیل، جو مذکورہ ہوئی، یہ تھی کہ جو ذات ایک حقیر قطرہ پانی سے اس طرح ایک انسانی پیکر تراش سکتا ہے اور ایک حسین وجود عطا کر سکتا ہے، علاوہ ازیں وہ اسے مختلف مراحل سے گزارتا ہوا بڑھاپے کے ایسے اسٹیج پر پہنچا سکتا ہے جہاں اس کے جسم سے لے کر اس کی ذہنی و دماغی صلاحیتیں تک، سب ضعف و انحطاط کا شکار ہوجائیں۔ کیا اس کے لئے اسے دوبارہ زندگی عطا کر دینا مشکل ہے؟ یقینا جو ذات انسان کو ان مراحل سے گزار سکتی ہے، وہی ذات مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرکے ایک نیا قالب اور نیا وجود بخش سکتی ہے دوسری دلیل یہ دی ہے کہ دیکھو زمین بنجر اور مردہ ہوتی ہے لیکن اسے بارش کے بعد یہ کس طرح زندہ اور شاداب اور انواع و اقسام کے غلے، میوہ جات اور رنگ برنگ کے پھولوں سے مالا مال ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالٰی قیامت والے دن انسانوں کو بھی ان کی قبروں سے اٹھا کر کھڑا کرے گا۔ جس طرح حدیث میں ہے ایک صحابی(رضي الله عنه) نے پوچھا کہ اللہ تعالٰی انسانوں کو جس طرح پیدا فرمائے گا اس کی کوئی نشانی مخلوقات میں سے بیان فرمائیے نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا کیا تمہارا گزر ایسی وادی سے ہوا ہے جو خشک اور بنجر ہو پھر دوبارہ اسے لہلہاتا ہوا دیکھا ہو؟ اس نے کہا ہاں آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا بس اسی طرح انسانوں کی جی اٹھنا ہوگا۔(مسند احمد جلد 4، ص11 ابن ماجہ المقدمہ، حدیث نمبر 180)

22:5 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3

تفسیر سورۃ الحج
0/78
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
مشاري العفاسي الحج 22:5 0:00 0:00 پڑھ لیا، آگے بڑھیں

تفسیر · 22:5

Al-Mukhtasar

5- اے لوگو! اگر تمھیں ہماری قدرت و طاقت کے بارے میں شک ہو کہ ہم تمھیں موت کے بعد کیسے زندہ کریں گے تو تم اپنی پیدائش پر غور کر لو کہ یقیناً ہم نے تمھارے باپ آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا، پھر ہم نے اس کی اولاد کو منی کے اس قطرے سے پیدا کیا جو مرد عورت کے رحم میں ٹپکاتا ہے، پھر وہ منی جمے ہوئے خون کی شکل اختیار کر لیتی ہے، پھر وہ جما ہوا خون گوشت کے ایسے لوتھڑے کی شکل میں بدل جاتا ہے جو چبائے ہوئے گوشت کے ٹکڑے کے مشابہ ہو، پھر گوشت کا وہ لوتھڑا یا تو کامل انسان کی شکل اختیار کر لیتا ہے جو رحم میں باقی رہتا ہے اور نومولود کی صورت میں زندہ باہر نکلتا ہے یا پھروہ پوری شکل اختیار نہیں کرتا اور رحم اسے گرا دیتا ہے تاکہ ہم تم پر واضح کر دیں کہ ہم تمھیں مختلف مرحلوں سے گزار کر پیدا کرنے پر قادر ہیں۔ ہم جس جنین کو چاہتے ہیں، رحم میں ٹھہراتے ہیں حتی کہ مقرر مدت میں جنین کی پیدائش ہوتی ہے اور وہ مدت نو ماہ ہے۔ پھر ہم تمھیں تمھاری ماؤں کے پیٹوں سے بچے کی صورت میں نکالتے ہیں، تاکہ تم قوت و عقل کے کمال کو پہنچو۔ تم میں سے کچھ اس سے پہلے ہی فوت ہو جاتے ہیں اور کچھ زندہ رہتے ہیں یہاں تک کہ بڑھاپے کی عمرکو پہنچ جاتے ہیں جب قوت اورعقل کمزور ہو جاتی ہے حتی کہ ان کی حالت بچوں سے بھی بدتر ہو جاتی ہے کہ جو کچھ وہ جانتے تھے، سب محو ہو جاتا ہے۔ تم دیکھتے ہو کہ زمین خشک ہوتی ہے، اس میں کوئی سبزہ نہیں ہوتا، پھر جب ہم اس پر بارش کا پانی برساتے ہیں تو وہ نباتات کے ساتھ کھل اٹھتی ہے اور نباتات اگنے سے وہ بلند ہو جاتی ہے اور خوبصورت منظر پیش کرنے والی ہر قسم کی نباتات نکالتی ہے۔

Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution

پارہ
17
الفاظ کی تعداد
69
مدینہ مصحف (604 صفحات)
332
انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
332
نسخ مصحف (612 صفحات)
333
آیت 22:5 کس سورت میں ہے؟

سورۃ الحج. 114 میں سے سورت نمبر 22 · آیات کی تعداد: 78.

آیت 22:5 کس پارے میں ہے؟

پارہ: 17.

آیت 22:5 کس صفحے پر ہے؟

مدینہ مصحف (604 صفحات): 332 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 332 · نسخ مصحف (612 صفحات): 333.

آیت 22:5 میں کتنے الفاظ ہیں؟

الفاظ کی تعداد: 69.

آیت 22:5 میں کتنے عربی حروف ہیں؟

آیت 22:5: حروف کی تعداد 260، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔

آیت 22:5 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟

آیت 22:5 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 2,600 ہے۔

سورۃ الحج میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ الحج: آیات کی تعداد 78۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 22 پر ہے۔

سورۃ الحج مکی ہے یا مدنی؟

سورۃ الحج مدنی ہے۔

کیا آیت 22:5 سنی جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ آیت 22:5 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔

سورۃ الحج کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟

شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 78 آیات اور 1,274 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play