مواد پر جائیں

سورۃ الحشر 59:2

یہ سورۃ الحشر کی 24 آیات میں سے آیت 2 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 5128، پارہ 28۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 545 پر ہے۔

هُوَ ٱلَّذِيٓ أَخۡرَجَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ مِن دِيَٰرِهِمۡ لِأَوَّلِ ٱلۡحَشۡرِۚ مَا ظَنَنتُمۡ أَن يَخۡرُجُواْۖ وَظَنُّوٓاْ أَنَّهُم مَّانِعَتُهُمۡ حُصُونُهُم مِّنَ ٱللَّهِ فَأَتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِنۡ حَيۡثُ لَمۡ يَحۡتَسِبُواْۖ وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ ٱلرُّعۡبَۚ يُخۡرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيۡدِيهِمۡ وَأَيۡدِي ٱلۡمُؤۡمِنِينَ فَٱعۡتَبِرُواْ يَٰٓأُوْلِي ٱلۡأَبۡصَٰرِ

وہی ہے جس نے اہل کتاب میں سے کافروں کو ان کے گھروں سے پہلے حشر کے وقت نکالا1 ، تمہارا گمان (بھی) نہ تھا کہ وه نکلیں گے اور وه خود (بھی) سمجھ رہے تھے کہ ان کے (سنگین) قلعے انہیں اللہ (کے عذاب) سے بچا لیں گے2 پس ان پر اللہ (کا عذاب) ایسی جگہ سے آپڑا کہ انہیں گمان بھی نہ تھا3 اور ان کے دلوں میں اللہ نے رعب ڈال دیا4 وه اپنے گھروں کو اپنے ہی ہاتھوں اجاڑ رہے تھے5 اور مسلمانوں کے ہاتھوں (برباد کروا رہے تھے6) پس اے آنکھوں والو! عبرت حاصل کرو.7

مترجم کے حواشی (7)
  1. 1 مدینے کے اطراف میں یہودیوں کے تین قبیلے آباد تھے ، بنو نضیر، بنو قریظہ اور بنو قینقاع۔ ہجرت مدینہ کے بعد نبی (صلى الله عليه وسلم) نے ان سے معاہدہ بھی کیا لیکن یہ لوگ درپردہ سازشیں کرتے رہے اور کفار مکہ سے بھی مسلمانوں کے خلاف رابطہ رکھا، حتیٰ کہ ایک موقعے پر جب کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) ان کے پاس گئے ہوئے تھے ، بنو نضیر نے رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) پر اوپر سے ایک بھاری پتھر پھینک کر آپ (صلى الله عليه وسلم) کو مار ڈالنے کی سازش تیار کی، جس سے وحی کے ذریعے سے آپ (صلى الله عليه وسلم) کو بروقت اطلاع کر دی گئی، اور آپ (صلى الله عليه وسلم) وہاں سے واپس تشریف لے آئے۔ ان کی اس عہد شکنی کی وجہ سے رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے ان پر لشکر کشی کی، یہ چند دن اپنے قلعوں میں محصور رہے، بالآخر انہوں نے جان بخشی کی صورت میں جلا وطنی پر آمادگی کا اظہار کیا، جسے رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے قبول فرما لیا۔ اسے اول حشر (پہلی بار اجتماع) سے اس لیے تعبیر کیا کہ یہ ان کی پہلی جلاوطنی تھی، جو مدینے سے ہوئی، یہاں سے یہ خیبر میں جاکر مقیم ہوگئے، وہاں سے حضرت عمر (رضي الله عنه) ، نے اپنے دور میں انہیں دوبارہ جلا وطن کیا اور شام کی طرف دھکیل دیا، جہاں کہتے ہیں کہ تمام انسانوں کا آخری حشر ہوگا۔
  2. 2 اس لیے کہ انہوں نے نہایت مضبوط قلعے تعمیر کر رکھے تھے جس پر انہیں گھمنڈ تھا اور مسلمان بھی سمجھتے تھے کہ اتنی آسانی سے یہ قلعے فتح نہیں ہوسکیں گے۔
  3. 3 اور وہ یہی تھا کہ رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے ان کا محاصرہ کر لیا تھا جو ان کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا۔
  4. 4 اس رعب کی وجہ سے ہی انہوں نے جلاوطنی پر آمادگی کا اظہار کیا، ورنہ عبداللہ بن ابی (رئیس المنافقین) اور دیگر لوگوں نے انہیں پیغامات بھیجے تھے کہ تم مسلمانوں کے سامنے جھکنا نہیں، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کو یہ خصوصی وصف عطا فرمایا تھا کہ دشمن ایک مہینے کی مسافت پر آپ (صلى الله عليه وسلم) سے مرعوب ہو جاتا تھا۔ اس لیے سخت دہشت اور گھبراہٹ ان پر طاری ہوگئی۔ اور تمام تر اسباب ووسائل کے باوجود انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے اور صرف یہ شرط مسلمانوں سے منوائی کہ جتنا سامان وہ لاد کر لے جاسکتے ہیں انہیں لے جانے کی اجازت ہو، چنانچہ اس اجازت کی وجہ سے انہوں نے اپنے گھروں کے دروازے اور شہتیر تک اکھیڑ ڈالے تاکہ انہیں اپنے ساتھ لے جائیں۔
  5. 5 یعنی جب انہیں یقین ہوگیا کہ اب جلا وطنی ناگزیر ہے تو انہوں نے دوران محاصرہ اندر سے اپنے گھروں کو برباد کرنا شروع کر دیا تاکہ وہ مسلمانوں کے بھی کام کے نہ رہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ سامان لے جانے کی اجازت سے پورا فائدہ اٹھانے کے لیے وہ اپنے اپنے اونٹوں پر جتنا سامان لاد کر لے جاسکتے تھے، اپنے گھر ادھیڑ ادھیڑ کر وہ سامان انہوں نے اونٹوں پر رکھ لیا۔
  6. 6 باہر سے مسلمان ان کے گھروں کو برباد کرتے رہے تاکہ ان پر گرفت آسان ہو جائے یا یہ مطلب ہے کہ ان کے ادھیڑے ہوئے گھروں سے بقیہ سامان نکالنے اور حاصل کرنے کے لیے مسلمانوں کو مزید تخریب سے کام لینا پڑا۔
  7. 7 کہ کس طرح اللہ نے ان کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈالا۔ دراں حالیکہ وہ ایک نہایت طاقت ور اور باوسائل قبیلہ تھا، لیکن جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہلت عمل ختم ہوگئی اور اللہ نے اپنے مواخذے کے شکنجے میں کسنے کا فیصلہ کر لیا تو پھر ان کی اپنی طاقت اور وسائل ان کے کام آئے نہ دیگر اعوان وانصار ان کی کچھ مدد کرسکے۔

59:2 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3

تفسیر سورۃ الحشر
0/24
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
مشاري العفاسي الحشر 59:2 0:00 0:00 پڑھ لیا، آگے بڑھیں

تفسیر · 59:2

Al-Mukhtasar

2- وہی ہے جس نے بنو نضیر کے لوگوں کو ان کے مدینے والے گھروں سے نکالا جنھوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسول محمد صلى اللہ عليہ وسلم کو جھٹلایا۔ یہ ان کی پہلی جلاوطنی کے وقت ہوا جو مدینہ طیبہ سے شام کی طرف تھی۔ بنو نضیر تورات کے پیروکار یہودیوں میں سے تھے۔ ان کی یہ جلاوطنی ان کی عہد شکنی اور معاہدے کے خلاف مشرکوں کی مدد کرنے اور ان کے ساتھ مل جانے کی وجہ سے ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں شام کی طرف نکال دیا۔ اے مومنو! جس عزت اور وقار کے ساتھ وہ رہتے تھے، اس کی وجہ سے تمھارے گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ اپنے گھروں سے نکلیں گے۔ وہ خود بھی یہ سمجھتے تھے کہ ان کے مضبوط اور پختہ قلعے انھیں اللہ کی سزا اور پکڑ سے بچا لیں گے، پھر جب رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم نے ان سے لڑنے اور انھیں ان کے گھروں سے بے دخل اور جلاوطن کرنے کا حکم دیا تو ان پر اللہ کی پکڑ اور سزا اس انداز سے آئی جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں شدید ڈر اور خوف ڈال دیا۔ وہ اندر سے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے گھر توڑ پھوڑ رہے تھے تاکہ مسلمان ان سے فائدہ نہ اٹھا سکیں اور بیرونی جانب سے مسلمان انھیں تباہ کر رہے تھے، لہٰذا اے بصیرت رکھنے والو! نصیحت پکڑو کہ ان کے کفر کی وجہ سے ان پر کیا بیتی اور ان کی طرح نہ بنو ورنہ وہی بدلہ اور سزا تمھیں بھی ملے گی جو انھیں دی گئی۔

Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution

پارہ
28
الفاظ کی تعداد
40
مدینہ مصحف (604 صفحات)
545
انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
545
نسخ مصحف (612 صفحات)
546
آیت 59:2 کس سورت میں ہے؟

سورۃ الحشر. 114 میں سے سورت نمبر 59 · آیات کی تعداد: 24.

آیت 59:2 کس پارے میں ہے؟

پارہ: 28.

آیت 59:2 کس صفحے پر ہے؟

مدینہ مصحف (604 صفحات): 545 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 545 · نسخ مصحف (612 صفحات): 546.

آیت 59:2 میں کتنے الفاظ ہیں؟

الفاظ کی تعداد: 40.

آیت 59:2 میں کتنے عربی حروف ہیں؟

آیت 59:2: حروف کی تعداد 181، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔

آیت 59:2 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟

آیت 59:2 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 5,128 ہے۔

سورۃ الحشر میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ الحشر: آیات کی تعداد 24۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 59 پر ہے۔

سورۃ الحشر مکی ہے یا مدنی؟

سورۃ الحشر مدنی ہے۔

کیا آیت 59:2 سنی جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ آیت 59:2 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔

سورۃ الحشر کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟

شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 24 آیات اور 445 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play