سورۃ بنی اسرائیل 17:1 الإسراء
یہ سورۃ بنی اسرائیل کی 111 آیات میں سے آیت 1 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 2030، پارہ 15۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 282 پر ہے۔
سُبۡحَٰنَ ٱلَّذِيٓ أَسۡرَىٰ بِعَبۡدِهِۦ لَيۡلٗا مِّنَ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ إِلَى ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡأَقۡصَا ٱلَّذِي بَٰرَكۡنَا حَوۡلَهُۥ لِنُرِيَهُۥ مِنۡ ءَايَٰتِنَآۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡبَصِيرُ
پاک ہے1 وه اللہ تعالیٰ جو اپنے بندے2 کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ3 تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے4 رکھی ہے، اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں5، یقیناً اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے دیکھنے واﻻ ہے.
مترجم کے حواشی (5)
- 1 سُبْحَانَ, سَبَحَ يَسْبَحُ کا مصدر ہے۔ معنی ہیں أُنَزِّهُ اللهَ تَنْزِيهًا یعنی میں اللہ کی ہر نقص سے تنزیہ اور براءت کرتا ہوں۔ عام طور پر اس کا استعمال ایسے موقع پر ہوتا ہے جب کسی عظیم الشان واقعے کا ذکر ہو۔ مطلب یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے نزدیک ظاہری اسباب کے اعتبار سے یہ واقعہ کتنا محال ہو، اللہ کے لئے مشکل نہیں، اس لئے کہ وہ اسباب کا پابند نہیں، وہ لفظ كُنْ سے پلک جھپکنے میں جو چاہے کر سکتا ہے۔ اسباب تو انسانوں کے لئے ہیں۔ اللہ تعالٰی ان پابندیوں اور کوتاہیوں سے پاک ہے۔
- 2 إِسْرَاءٌ کے معنی ہوتے ہیں، رات کو لے جانا۔ آگے لَيْلا اس لیے ذکر کیا گیا تاکہ رات کی قلت واضح ہو جائے۔ یعنی رات ایک حصے یا تھوڑے سے حصے میں۔ یعنی چالیس راتوں کا دور دراز کا سفر، پوری رات میں بھی نہیں بلکہ رات کے ایک قلیل حصے میں طے ہوا۔
- 3 أَقْصَى ٰ دور کو کہتے ہیں بیت المقدس، جو القدس یا ایلیاء (قدیم نام) شہر میں اور فلسطین میں واقع ہے، مکے سے القدس تک مسافت ”40“ دن کی ہے، اس اعتبار سے مسجد حرام کے مقابلے میں بیت المقدس کو مسجد اقصٰی (دور کی مسجد) کہا گیا ہے۔
- 4 یہ علاقہ قدرتی نہروں اور پھلوں کی کثرت اور انبیاء کا مسکن و مدفن ہونے کے لحاظ سے ممتاز ہے، اس لئے اسے بابرکت قرار دیا گیا ہے۔
- 5 یہ اس سیر کا مقصد ہے تاکہ ہم اپنے بندے کو عجائبات اور آیات کبریٰ دکھائیں۔ جن میں سے ایک آیت اور معجزہ یہ سفر بھی ہے کہ اتنا لمبا سفر رات کے ایک قلیل حصے میں ہو گیا نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کو جو معراج ہوئی یعنی آسمانوں پر لے جایا گیا، وہاں مختلف آسمانوں پر انبیاء (عليهم السلام) سے ملاقاتیں ہوئیں اور سدرۃ المنتہٰی پر، جو عرش سے نیچے ساتویں آسمان پر ہے، اللہ تعالٰی نے وحی کے ذریعے سے نماز اور دیگر بعض چیزیں عطا کیں۔ جس کی تفصیلات صحیح احادیث میں بیان ہوئی ہیں اور صحابہ و تابعین سے لے کر آج تک امت کے اکثر علماء فقہاء اس بات کے قائل چلے آرہے ہیں کہ یہ معراج بِجَسَدِهِ الْعُنْصُرِيِّ حالت بیداری میں ہوئی ہے۔ یہ خواب یا روحانی سیر اور مشاہدہ نہیں ہے، بلکہ عینی مشاہدہ ہے جو اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اپنے پیغمبر کو کرایا ہے۔ اس معراج کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ اسراء کہلاتا ہے، جس کا ذکر یہاں کیا گیا ہے اور جو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کے سفر کا نام ہے، یہاں پہنچنے کے بعد نبی (صلى الله عليه وسلم) نے تمام انبیاء کی امامت فرمائی۔ بیت المقدس سے پھر آپ کو آسمانوں پر لے جایا گیا، یہ سفر کا دوسرا حصہ ہے جسے معراج کہا جاتا ہے۔ اس کا تذکرہ سورہ نجم میں کیا گیا ہے اور باقی تفصیلات احادیث میں بیان کی گئی ہیں۔ عام طور پر اس پورے سفر کو ”معراج“ سے ہی تعبیر کیا جاتا ہے۔ معراج سیڑھی کو کہتے ہیں یہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ عُرِجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ (مجھے آسمان پر لے جایا یا چڑھایا گیا) سے ماخوذ ہے۔ کیونکہ اس سفر کا یہ دوسرا حصہ پہلے سے بھی زیادہ اہم اور عظیم الشان ہے، اس لئے معراج کا لفظ ہی زیادہ مشہور ہو گیا۔ اس کی تاریخ میں اختلاف ہے۔ تاہم اس میں اتفاق ہے کہ یہ ہجرت سے قبل کا واقعہ ہے۔ بعض کہتے ہیں ایک سال قبل اور بعض کہتے ہیں کئی سال قبل یہ واقعہ پیش آیا۔ اسی طرح مہینے اور اس کی تاریخ میں اختلاف ہے۔ کوئی ربیع الاول کی 17 یا 27، کوئی رجب کی 27 اور بعض کوئی اور مہینہ اس کی تاریخ بتلاتے ہیں۔ (فتح القدیر)
17:1 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 17:1
Al-Mukhtasar
1- اللہ تعالیٰ پاک اور اپنی قدرت کی وجہ سے اتنا عظیم ہے کہ اس کے سوا کوئی اس جیسی قدرت و طاقت نہیں رکھتا۔ وہی اللہ ہے جس نے اپنے بندے محمد صلى اللہ عليہ وسلم کو روح اور جسم کے ساتھ بحالتِ بیداری رات کے ایک حصے میں مسجد الحرام سے اس مسجد بیت المقدس تک سیر کرائی جس کے آس پاس کی سرزمین کو ہم نے مختلف پھلوں، فصلوں اور انبیاء علیہم السلام کے گھروں سے برکت دی۔ تاکہ وہ اللہ کی قدرت کی دلیل بننے والی ہماری بعض نشانیاں دیکھیں۔ بلاشبہ وہی سب کچھ سننے والا ہے اور کوئی سنی جانے والی آواز اس سے چھپی نہیں۔ سب کچھ دیکھنے والا ہے کہ کوئی دیکھی جانے والی چیز اس سے چھپی نہیں۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 15
- الفاظ کی تعداد
- 21
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 282
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 282
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 283
آیت 17:1 کس سورت میں ہے؟
سورۃ بنی اسرائیل (الإسراء). 114 میں سے سورت نمبر 17 · آیات کی تعداد: 111.
آیت 17:1 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 15.
آیت 17:1 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 282 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 282 · نسخ مصحف (612 صفحات): 283.
آیت 17:1 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 21.
آیت 17:1 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 17:1: حروف کی تعداد 93، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 17:1 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 17:1 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 2,030 ہے۔
سورۃ بنی اسرائیل میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ بنی اسرائیل: آیات کی تعداد 111۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 17 پر ہے۔
سورۃ بنی اسرائیل مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ بنی اسرائیل مکی ہے۔
کیا آیت 17:1 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 17:1 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ بنی اسرائیل کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 111 آیات اور 1,556 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔