مواد پر جائیں
آیت بہ آیت

سورۃ کے بارے میں

سورۃ القیامہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 75 پر ہے، یہ مکی ہے اور اس کی آیات کی تعداد 40 ہے۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 577 سے شروع ہوتی ہے۔

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. لَآ أُقۡسِمُ بِيَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ

    میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 لا اقسم میں لا زائد ہے جو عربی زبان کا ایک اسلوب ہے جیسے ”مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ“ (الاعراف: 12) اور ”لِئَلَّا يَعْلَمَ أَهْلُ الْكِتَابِ“ (الحدید: 29) اور دیگر بہت سے مقامات میں ہے بعض کہتے ہیں کہ قسم سے پہلے کفار کے کلام کا رد ہے وہ کہتے تھے مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں۔لا کے زیعے سے کہا گیا ، جس طرح کہتے ہو معاملہ اس طرح نہیں ہے میں قیامت کے دن کی قسم کھاتا ہوں، قیامت کے دن کی قسم کھانے کا مقصد اس کی اہمیت اور عظمت کو واضح کرنا ہے۔
  2. وَلَآ أُقۡسِمُ بِٱلنَّفۡسِ ٱللَّوَّامَةِ

    اور قسم کھاتا ہوں اس نفس کی جو ملامت کرنے واﻻ ہو.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی بھلائی پر بھی کرتا ہے کہ زیادہ کیوں نہیں کی۔ اور برائی پر بھی، کہ اس سے باز کیوں نہیں آتا؟ دنیا میں بھی جن کے ضمیر بیدار ہوتے ہیں ان کے نفس انہیں ملامت کرتے ہیں، تاہم آخرت میں تو سب کے ہی نفس ملامت کریں گے۔
  3. أَيَحۡسَبُ ٱلۡإِنسَٰنُ أَلَّن نَّجۡمَعَ عِظَامَهُۥ

    کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع کریں گے ہی نہیں.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یہ جواب قسم ہے انسان سے مراد یہاں کافر اور بےدین انسان ہے جو قیامت کو نہیں مانتا۔ اس کا گمان غلط ہے، اللہ تعالٰی یقینا انسانوں کے اجزا کو جمع فرمائے گا یہاں ہڈیوں کا بطور خاص ذکر ہے، اس لیئے کہ ہڈیاں ہی پیدائش کا اصل ڈھانچہ اور قالب ہیں۔
  4. بَلَىٰ قَٰدِرِينَ عَلَىٰٓ أَن نُّسَوِّيَ بَنَانَهُۥ

    ہاں ضرور کریں گے ہم تو قادر ہیں کہ اس کی پور پور تک درست کردیں.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 بَنَان (پور پور) جوڑوں، ناخن، لطیف رگوں اور باریک ہڈیوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جب یہ باریک اور لطیف چیزیں ہم بالکل صحیح صحیح جوڑ دیں گے تو بڑے حصے کو جوڑ دینا ہمارے لئے کیا مشکل ہوگا۔
  5. بَلۡ يُرِيدُ ٱلۡإِنسَٰنُ لِيَفۡجُرَ أَمَامَهُۥ

    بلکہ انسان تو چاہتا ہے کہ آگے آگے نافرمانیاں کرتا جائے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی اس امید پر نافرمانی اور حق کا انکار کرتا ہے کہ کون سی قیامت آنی ہے۔
  6. يَسۡـَٔلُ أَيَّانَ يَوۡمُ ٱلۡقِيَٰمَةِ

    پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب آئے گا.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یہ سوال اس لئے نہیں کرتا کہ گناہوں سے تائب ہو جائے، بلکہ قیامت کو ناممکن الو قوع سمجھتے ہوئے پوچھتا ہے۔ اسی لیے فسق وفجور سے باز نہیں آتا۔ تاہم اگلی ٓآیت میں اللہ تعالٰی قیامت کے آنے کا وقت بیان فرما رہاہے۔
  7. فَإِذَا بَرِقَ ٱلۡبَصَرُ

    پس جس وقت کہ نگاه پتھرا جائے گی.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 دہشت اور حیرانی سے برق ،تحیر و اندھش جیسے موت کے وقت عام طور پر ہوتا ہے۔
  8. وَخَسَفَ ٱلۡقَمَرُ

    اور چاند بے نور ہو جائے گا.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 جب چاند کو گرہن لگ جاتا ہے تو اس وقت بھی وہ بےنور ہو جاتا ہے۔ لیکن جو علامات قیامت میں سے ہے، جب ہوگا تو اس کے بعد اس میں روشنی نہیں آئے گی۔
  9. وَجُمِعَ ٱلشَّمۡسُ وَٱلۡقَمَرُ

    اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں گے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی بےنوری میں۔ مطلب ہے کہ چاند کی طرح سورج کی روشنی بھی ختم ہو جائے گی۔
  10. يَقُولُ ٱلۡإِنسَٰنُ يَوۡمَئِذٍ أَيۡنَ ٱلۡمَفَرُّ

    اس دن انسان کہے گا کہ آج بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی جب یہ واقعات ظہور پذیر ہونگے تو پھر اللہ سے یا جہنم کے عذاب سے راہ فرار ڈھونڈے گا، لیکن اس وقت راہ فرار کہاں ہوگی؟
  11. كـَلَّا لَا وَزَرَ

    نہیں نہیں کوئی پناہ گاه نہیں.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 وَزَرَ پہاڑ یا قعلے کو کہتے ہیں جہاں انسان پناہ حاصل کرلے۔ وہاں ایسی کوئی پناہ گاہ نہیں ہوگی۔
  12. إِلَىٰ رَبِّكَ يَوۡمَئِذٍ ٱلۡمُسۡتَقَرُّ

    آج تو تیرے پروردگار کی طرف ہی قرار گاه ہے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 جہاں وہ بندوں کے درمیان فیصلے فرمائے گا۔ یہ ممکن نہیں ہوگا کہ کوئی اللہ کی اس عدالت سے چھپ جائے۔
  13. يُنَبَّؤُاْ ٱلۡإِنسَٰنُ يَوۡمَئِذِۭ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ

    آج انسان کو اس کے آگے بھیجے ہوئے اور پیچھے چھوڑے ہوئے سے آگاه کیا جائے گا.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی اس کے تمام اعمال سے آگاہ کیا جائے گا قدیم ہو یا جدید، اول ہو یا آخر چھوٹا ہو یا بڑا۔ ”وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا“ (الکھف:49)
  14. بَلِ ٱلۡإِنسَٰنُ عَلَىٰ نَفۡسِهِۦ بَصِيرَةٞ

    بلکہ انسان خود اپنے اوپر آپ حجت ہے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی اس کے اپنے ہاتھ، پاؤں، زبان اور دیگر اعضاء گواہی دیں گے، یا یہ مطلب ہے کہ انسان اپنے عیوب خود جانتا ہے۔
  15. وَلَوۡ أَلۡقَىٰ مَعَاذِيرَهُۥ

    اگر چہ کتنے ہی بہانے پیش کرے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی لڑے جھگڑے، ایک سے ایک بہانہ کرے، لیکن ایسا کرنا نہ اس کے لئے مفید ہے اور نہ وہ اپنے ضمیر کو مطمئن کر سکتا ہے۔
  16. لَا تُحَرِّكۡ بِهِۦ لِسَانَكَ لِتَعۡجَلَ بِهِۦٓ

    (اے نبی) آپ قرآن کو جلدی (یاد کرنے) کے لیے اپنی زبان کو حرکت1 نہ دیں.

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 حضرت جبرائیل (عليه السلام) جب وحی لے کر آتے نبی (صلى الله عليه وسلم) بھی ان کے ساتھ جلدی سے پڑھتے جاتے کہ کہیں کوئی لفظ بھول نہ جائے۔ اللہ نے اپنے فرشتے کے ساتھ ساتھ اس طرح پڑھنے سے منع فرمایا۔ (صحیح بخاری' تفسہر سورۃ القیامہ) یہ مضمون پہلے بھی گزر چکا ہے ”وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُقْضَى إِلَيْكَ وَحْيُهُ“ (سورۃ طٰہٰ:114) چنانچہ اس حکم کے بعد آپ خاموشی سے سنتے۔
  17. إِنَّ عَلَيۡنَا جَمۡعَهُۥ وَقُرۡءَانَهُۥ

    اس کا جمع کرنا اور (آپ کی زبان سے) پڑھنا ہمارے ذمہ ہے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی آپ کے سینے میں اس کا جمع کر دینا اور آپ کی زبان پر اس کی قرأت کو جاری کر دینا ہماری ذمہ داری ہے۔ تاکہ اس کا کوئی حصہ آپ کی یاداشت سے نہ نکلے اور آپ کے ذہن سے محو نہ ہو۔
  18. فَإِذَا قَرَأۡنَٰهُ فَٱتَّبِعۡ قُرۡءَانَهُۥ

    ہم جب اسے پڑھ1 لیں تو آپ اس کے پڑھنے کی پیروی کریں.2

    مترجم کے حواشی (2)
    1. 1 یعنی فرشتے کے ذریعے سے جب ہم اس کی قرأت آپ پوری کرلیں۔
    2. 2 یعنی اس کے شرائع و احکام لوگوں کو پڑھ کر سنائیں اور ان کی پیروی بھی کریں۔
  19. ثُمَّ إِنَّ عَلَيۡنَا بَيَانَهُۥ

    پھر اس کا واضح کر دینا ہمارے ذمہ ہے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی اس کے مشکل مقامات کی تشریح اور حلال وحرام کی توضیح یہ بھی ہمارے ذمے ہے اس کا صاف مطلب ہے کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے قرآن کے مجملات کی توضیح جو تخصیص بیان فرمائی ہے جسے حدیث کہاجاتا ہے یہ بھی اللہ کی طرف سے ہی الہام اور سمجھائی ہوئی باتیں ہیں اس لیے انہیں بھی قرآن کی طرح ماننا ضروری ہے۔
  20. كـَلَّا بَلۡ تُحِبُّونَ ٱلۡعَاجِلَةَ

    نہیں نہیں تم جلدی ملنے والی (دنیا) کی محبت رکھتے ہو.

  21. وَتَذَرُونَ ٱلۡأٓخِرَةَ

    اور آخرت کو چھوڑ بیٹھے ہو.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی یوم قیامت کو جھٹلانا اور حق سے اعراض، اسلئے ہے کہ تم نے دنیا کی زندگی کو ہی سب کچھ سمجھ رکھا ہے اور آخرت تمہیں بالکل فراموش ہے۔
  22. وُجُوهٞ يَوۡمَئِذٖ نَّاضِرَةٌ

    اس روز بہت سے چہرے تروتازه اور بارونق ہوں گے.

  23. إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٞ

    اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یہ اہل ایمان کے چہرے ہونگے جو اپنے حسن انجام کی وجہ سے مطمئن، مسرور اور منور ہونگے۔ مذید دیدار الٰہی سے بھی لطف اندوز ہونگیں۔ جیسا کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے اور اہل سنت کا متفقہ عقیدہ ہے۔
  24. وَوُجُوهٞ يَوۡمَئِذِۭ بَاسِرَةٞ

    اور کتنے چہرے اس دن (بد رونق اور) اداس ہوں گے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یہ کافروں کے چہرے ہونگے سیاہ اور بےرونق۔
  25. تَظُنُّ أَن يُفۡعَلَ بِهَا فَاقِرَةٞ

    سمجھتے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ دینے واﻻ معاملہ1 کیا جائے گا.

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 اور وہ یہی ہے کہ جہنم میں ان کو پھینک دیا جائے گا۔
  26. كـَلَّآ إِذَا بَلَغَتِ ٱلتَّرَاقِيَ

    نہیں نہیں1 جب روح ہنسلی تک2 پہنچے گی.

    مترجم کے حواشی (2)
    1. 1 یعنی یہ ممکن نہیں کہ کافر قیامت پر ایمان لے آئیں۔
    2. 2 تراقی، ترقوہ کی جمع ہے ۔یہ گردن کے قریب، سینے اور کندھے کے درمیان ایک ہڈی ہے، یعنی جب موت آئے گی آہنی پنجہ تمہیں اپنی گرفت میں لے لے گا۔
  27. وَقِيلَ مَنۡۜ رَاقٖ

    اور کہا جائے گا کہ کوئی جھاڑ پھونک1 کرنے واﻻ ہے؟

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی حاضرین میں سے کوئی ہے جو جھاڑ پھونک کے ذریعہ سے تمہیں موت کے پنجے سے چھڑا لے۔ بعض نے اس کا ترجمہ یہ بھی کیا ہے کہ اس کی روح کون لے کر چڑھے گا ملائکہ رحمت یا ملائکہ عذاب؟ اس صورت میں یہ قول فرشتوں کا ہے۔
  28. وَظَنَّ أَنَّهُ ٱلۡفِرَاقُ

    اور جان لیا اس نے کہ یہ وقت جدائی ہے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی وہ شخص یقین کر لے گا جس کی روح ہنسلی تک پہنچ گئی ہے کہ اب، مال، اولاد اور دنیا کی ہرچیز سے جدائی کا مرحلہ آگیا ہے۔
  29. وَٱلۡتَفَّتِ ٱلسَّاقُ بِٱلسَّاقِ

    اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے گی.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 اس سے یا تو موت کے وقت پنڈلی کا پنڈلی کے ساتھ مل جانا مراد ہے یا پے درپے تکلیفیں، بہت سے مفسرین نے دوسرے معنی کئے ہیں۔ (فتح القدیر)
  30. إِلَىٰ رَبِّكَ يَوۡمَئِذٍ ٱلۡمَسَاقُ

    آج تیرے پروردگار کی طرف چلنا ہے.

  31. فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ

    اس نے نہ تو تصدیق کی نہ نماز ادا کی.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی اس انسان نے رسول اور قرآن کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی یعنی اللہ کی عبادت نہیں کی۔
  32. وَلَٰكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ

    بلکہ جھٹلایا اور روگردانی کی.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی رسول کو جھٹلایا اور ایمان و اطاعت سے روگردانی کی۔
  33. ثُمَّ ذَهَبَ إِلَىٰٓ أَهۡلِهِۦ يَتَمَطَّىٰٓ

    پھر اپنے گھر والوں کے پاس اتراتا ہوا گیا.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یَتَمَطَّیٰ اتراتا اور اکڑاتا ہوا۔
  34. أَوۡلَىٰ لَكَ فَأَوۡلَىٰ

    افسوس ہے تجھ پر حسرت ہے تجھ پر.

  35. ثُمَّ أَوۡلَىٰ لَكَ فَأَوۡلَىٰٓ

    وائے ہے اور خرابی ہے تیرے لیے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یہ کلمہ وعید سے کہا جاتا ہے کہ اس کی اصل ہے، اللہ تجھے ایسی چیز سے دو چار کرے جسے تو ناپسند کرے۔
  36. أَيَحۡسَبُ ٱلۡإِنسَٰنُ أَن يُتۡرَكَ سُدًى

    کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے بیکار چھوڑ دیا جائے گا.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی اس کو کسی چیز کا حکم دیا جائے گا، نہ کسی چیز سے منع کیا جائے گا، نہ اس کا محاسبہ ہوگا۔ یا اس کی قبر میں ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیا جائے گا، وہاں سے اسے دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا۔
  37. أَلَمۡ يَكُ نُطۡفَةٗ مِّن مَّنِيّٖ يُمۡنَىٰ

    کیا وه ایک گاڑھے پانی کا قطره نہ تھا جو ٹپکایا گیا تھا؟

  38. ثُمَّ كَانَ عَلَقَةٗ فَخَلَقَ فَسَوَّىٰ

    پھر وه لہو کا لوتھڑا ہوگیا پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست بنا دیا.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 فَسَوَّیٰ، یعنی اسے ٹھیک ٹھاک کیا اور اس کی تکمیل کی اور اس میں روح پھونکی۔
  39. فَجَعَلَ مِنۡهُ ٱلزَّوۡجَيۡنِ ٱلذَّكَرَ وَٱلۡأُنثَىٰٓ

    پھر اس سے جوڑے یعنی نر وماده بنائے.

  40. أَلَيۡسَ ذَٰلِكَ بِقَٰدِرٍ عَلَىٰٓ أَن يُحۡـِۧيَ ٱلۡمَوۡتَىٰ

    کیا (اللہ تعالیٰ) اس (امر) پر قادر نہیں کہ مردے کو زنده کردے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی جواللہ انسان کو اس طرح مختلف اطوار سے گزار کر پیدا فرماتا ہے کیا مرنے کے بعد دوبارہ اسے زندہ کرنے پر قادر نہیں ہے؟
0/40
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
مشاري العفاسي القیامہ 0:00 0:00

مصحف میں سورۃ القیامہ

نزول
مکی
پارہ
29
الفاظ کی تعداد
164
مدینہ مصحف (604 صفحات)
577-578
انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
580-581
نسخ مصحف (612 صفحات)
581-582

سورۃ القیامہ کے بارے میں سوالات

سورۃ القیامہ میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ القیامہ: آیات کی تعداد 40۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 75 پر ہے۔

سورۃ القیامہ کس پارے میں ہے؟

سورۃ القیامہ: پارہ 29 (کل 30 پارے)۔

سورۃ القیامہ مکی ہے یا مدنی؟

سورۃ القیامہ مکی ہے۔

سورۃ القیامہ کس صفحے پر ہے؟

سورۃ القیامہ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں: 577-578۔ انڈو پاک مصحف (610 صفحات) میں: 580-581۔ نسخ مصحف (612 صفحات) میں: 581-582۔

سورۃ القیامہ میں کتنے الفاظ ہیں؟

سورۃ القیامہ: الفاظ کی تعداد 164، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے۔

سورۃ القیامہ میں کتنے عربی حروف ہیں؟

سورۃ القیامہ: حروف کی تعداد 671، اسی عثمانی متن سے، اعراب کے بغیر۔

سورۃ القیامہ قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟

سورۃ القیامہ قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 5,552 سے آیت نمبر 5,591 تک ہے۔

کیا سورۃ القیامہ میں سجدے کی آیت ہے؟

نہیں۔ مدینہ مصحف میں سورۃ القیامہ پر سجدے کی کوئی علامت نہیں؛ 114 سورتوں میں سے 14 میں سجدے کی آیت ہے۔

کیا سورۃ القیامہ سنی جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ سورۃ القیامہ کی تمام 40 آیات یہاں آیت بہ آیت، 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہیں، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔

سورۃ القیامہ کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟

شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 40 آیات اور 164 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔

سورۃ القیامہ سنیں

قرآن کے قاری

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play