سورۃ النحل 16:90
یہ سورۃ النحل کی 128 آیات میں سے آیت 90 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 1991، پارہ 14۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 277 پر ہے۔
۞ إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُ بِٱلۡعَدۡلِ وَٱلۡإِحۡسَٰنِ وَإِيتَآيِٕ ذِي ٱلۡقُرۡبَىٰ وَيَنۡهَىٰ عَنِ ٱلۡفَحۡشَآءِ وَٱلۡمُنكَرِ وَٱلۡبَغۡيِۚ يَعِظُكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُونَ
اللہ تعالیٰ عدل کا، بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی کے کاموں، ناشائستہ حرکتوں اور ﻇلم وزیادتی سے روکتا ہے1 ، وه خود تمہیں نصیحتیں کر رہا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو.
مترجم کے حواشی (1)
- 1 عدل کے مشہور معنی انصاف کرنے کے ہیں۔ یعنی اپنوں اور بیگانوں سب کے ساتھ انصاف کیا جائے، کسی کے ساتھ دشمنی یا عناد یا محبت یا قرابت کی وجہ سے، انصاف کے تقاضے مجروح نہ ہوں۔ ایک دوسرے معنی اعتدال کے ہیں یعنی کسی معاملے میں بھی زیادتی یا کمی کا ارتکاب نہ کیا جائے۔ حتیٰ کہ دین کے معاملے میں بھی۔ کیونکہ دین میں زیادتی کا نتیجہ حد سے زیادہ گزر جانا ہے، جو سخت خراب ہے اور کمی، دین میں کوتاہی ہے یہ بھی ناپسندیدہ ہے۔ احسان کے ایک معنی حسن سلوک، عفو ودرگزر اور معاف کر دینے کے ہیں۔ دوسرے معنی تفضل کے ہیں یعنی حق واجب سے زیادہ دینا یا عمل واجب سے زیادہ عمل کرنا۔ مثلا کسی کام کی مزدوری سو روپے طے ہے لیکن دیتے وقت ۱۰،۲۰ روپے زیادہ دے دینا، طے شدہ سو روپے کی ادائیگی حق واجب ہے اور یہ عدل ہے۔ مزید ۱۰،۲۰ روپے یہ احسان ہے۔ عدل سے بھی معاشرے میں امن قائم ہوتا ہے لیکن احسان سے مزید خوش گواری اور اپنائیت و فدائیت کے جذبات نشو ونما پاتے ہیں۔ اور فرائض کی ادائیگی کے ساتھ نوافل کا اہتمام، عمل واجب سے زیادہ عمل جس سے اللہ کا قرب خصوصی حاصل ہوتا ہے۔ احسان کے ایک تیسرے معنی اخلاص عمل اور حسن عبادت ہے، جس کو حدیث میں «أَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ» ”اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو“ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ”إِيَتَاءِ ذِي الْقُرْبَى“ (رشتے داروں کا حق ادا کرنا یعنی ان کی امداد کرنا ہے) اسے حدیث میں صلہ رحمی کہا گیا ہے اور اس کی نہایت تاکید احادیث میں بیان کی گئی ہے۔ عدل واحسان کے بعد اس کا الگ سے ذکر یہ بھی صلہ رحمی کی اہمیت کو واضح کر رہا ہے۔ ”فحشاء“ سے مراد بے حیائی کے کام ہیں۔ آج کل بےحیائی اتنی عام ہوگئی ہے کہ اس کا نام تہذیب ترقی اور آرٹ قرار پا گیا ہے۔ یا ”تفریح“ کے نام پر اس کا جواز تسلیم کر لیا گیا ہے۔ تاہم محض خوشنما لیبل لگا لینے سے کسی چیز کی حقیقت نہیں بدل جاتی اسی طرح شریعت اسلامیہ نے زنا اور اس کے مقدمات کو رقص وسرود بےپردگی اور فیشن پرستی کو اور مرد و زن کے بےباکانہ اختلاط اور مخلوط معاشرت اور دیگر اس قسم کی خرافات کو بے حیائی قرار دیا ہے، ان کا کتنا بھی اچھا نام رکھ لیا جائے مغرب سے درآمد شدہ یہ خباثتیں جائز قرار نہیں پا سکتیں۔ ”مُنْكَرٌ“ ہر وہ کام ہے جسے شریعت نے ناجائز قرار دیا ہے اور ”بَغْيٌ“ کا مطلب ظلم وزیادتی کا ارتکاب۔ ایک حدیث میں بتلایا گیا ہے کہ قطع رحمی اور بغی یہ دونوں جرم اللہ کو اتنے ناپسند ہیں کہ اللہ تعالٰی کی طرف سے (آخرت کے علاوہ) دنیا میں بھی ان کی فوری سزا کا امکان غالب رہتا ہے۔ (ﺍﺑﻦ ﻣﺎﺟﮧ, ﻛﺘﺎﺏ الزھد, ﺑﺎﺏ ﺍﻟﺒﻐﯽ)
16:90 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 16:90
Al-Mukhtasar
90- بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عدل کا حکم دیتا ہے کہ بندہ اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق ادا کرے اور فیصلہ کرنے میں کسی کو دوسرے پر فضیلت نہ دے اِلاّ یہ کہ اسے فضیلت کا حق حاصل ہو۔ اللہ احسان کرنے کا حکم دیتا ہے اور وہ یہ کہ بندہ اضافی طور پر وہ کچھ کرے جو اس پر لازم نہیں ہے، جیسے نفلی صدقہ اور ظالم کو معافی۔ وہ قریبی رشتے داروں کو ان کی ضرورت کی چیز دینے کا حکم دیتا ہے اور ہر قبیح قول جیسے فحش گوئی اور قبیح فعل جیسے زنا وغیرہ سے منع کرتا ہے اور ہر خلافِ شریعت کام سے روکتا ہے اور اس سے مراد ہر نافرمانی اور گناہ ہے۔ اور وہ لوگوں پر ظلم و تکبرکرنے سے منع کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کا تمھیں حکم دیا ہے اور جن کاموں سے منع کیا ہے، ان کے بارے میں وہ تمھیں اس آیت میں اس امید پر نصیحت کرتا ہے کہ تم اس نصیحت سے سبق سیکھو۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 14
- الفاظ کی تعداد
- 16
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 277
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 277
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 278
آیت 16:90 کس سورت میں ہے؟
سورۃ النحل. 114 میں سے سورت نمبر 16 · آیات کی تعداد: 128.
آیت 16:90 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 14.
آیت 16:90 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 277 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 277 · نسخ مصحف (612 صفحات): 278.
آیت 16:90 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 16.
آیت 16:90 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 16:90: حروف کی تعداد 80، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 16:90 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 16:90 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 1,991 ہے۔
سورۃ النحل میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ النحل: آیات کی تعداد 128۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 16 پر ہے۔
سورۃ النحل مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ النحل مکی ہے۔
کیا آیت 16:90 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 16:90 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ النحل کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 128 آیات اور 1,844 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔