مواد پر جائیں

سورۃ النساء 4:127

یہ سورۃ النساء کی 176 آیات میں سے آیت 127 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 620، پارہ 5۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 98 پر ہے۔

وَيَسۡتَفۡتُونَكَ فِي ٱلنِّسَآءِۖ قُلِ ٱللَّهُ يُفۡتِيكُمۡ فِيهِنَّ وَمَا يُتۡلَىٰ عَلَيۡكُمۡ فِي ٱلۡكِتَٰبِ فِي يَتَٰمَى ٱلنِّسَآءِ ٱلَّٰتِي لَا تُؤۡتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرۡغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ وَٱلۡمُسۡتَضۡعَفِينَ مِنَ ٱلۡوِلۡدَٰنِ وَأَن تَقُومُواْ لِلۡيَتَٰمَىٰ بِٱلۡقِسۡطِۚ وَمَا تَفۡعَلُواْ مِنۡ خَيۡرٖ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِهِۦ عَلِيمٗا

آپ سے عورتوں کے بارے میں حکم دریافت کرتے ہیں1 ، آپ کہہ دیجئے! کہ خود اللہ ان کے بارے میں حکم دے رہا ہے اور قرآن کی وه آیتیں جو تم پر ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں پڑھی جاتی ہیں جنہیں ان کا مقرر حق تم نہیں دیتے2 اور انہیں اپنے نکاح میں ﻻنے کی رغبت رکھتے ہو3 اور کمزور بچوں کے بارے میں اور اس بارے میں کہ یتیموں کی کارگزاری انصاف کے ساتھ کرو4۔ تم جو نیک کام کرو، بے شبہ اللہ اسے پوری طرح جاننے واﻻ ہے۔5

مترجم کے حواشی (5)
  1. 1 عورتوں کے بارے میں جو سوالات ہوتے رہتے تھے، یہاں سے ان کے جوابات دیئے جا رہے ہیں۔
  2. 2 ”وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ“ اس کا عطف ”اللهُ يُفْتِيكُمْ“ پر ہے یعنی اللہ تعالیٰ ان کی بابت وضاحت فرماتا ہے اور کتاب اللہ کی وہ آیات وضاحت کرتی ہیں جو اس سے قبل یتیم لڑکیوں کے بارے میں نازل ہو چکی ہیں، مراد ہے سورۂ نساء کی آیت 3 جس میں ان لوگوں کو اس بے انصافی سے روکا گیا ہے کہ وہ یتیم لڑکی سے ان کے حسن وجمال کی وجہ سے شادی تو کر لیتے ہیں لیکن مہر مثل دینے سے گریز کرتے تھے۔
  3. 3 اس کے دو ترجمے کئے گئے ہیں، ایک تو یہی جو مرحوم مترجم نے کیا ہے، اس میں ”فی“ کا لفظ محذوف ہے۔ اس کا دوسرا ترجمہ ”عن“ کا لفظ محذوف مان کر کیا گیا ہے یعنی ”تَرْغَبُونَ عَنْ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ“ (تمہیں ان سے نکاح کرنے کی رغبت نہ ہو) رَغِبَ کا صلہ عَنْ آئے تو معنی اعراض اور بے رغبتی کے ہوتے ہیں۔ جیسے” وَمَنْ يَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ“ میں ہے یہ گویا دوسری صورت بیان کی گئی ہے کہ یتیم لڑکی بعض دفعہ بدصورت ہوتی تو اس کے ولی یا اس کے ساتھ وراثت میں شریک دوسرے ورثا خود بھی اس کے ساتھ نکاح کرنا پسند نہ کرتے اور کسی دوسری جگہ بھی اس کا نکاح نہ کرتے، تاکہ کوئی اور شخص اس کے حصہ جائیداد میں شریک نہ بنے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلی صورت کی طرح ظلم کی اس دوسری صورت سے بھی منع فرمایا۔
  4. 4 اس کا عطف ”يَتَامَى النِّسَاءِ“ پر ہے۔ یعنی ”وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ وَفِي الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْوِلْدَانِ“ یتیم لڑکیوں کے بارے میں تم پر جو پڑھا جاتا ہے۔ (سورۃ النساء کی آیت نمبر 3) اور کمزور بچوں کی بابت جو پڑھا جاتا ہے اس سے مراد قرآن کا حکم ”يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ“ ہے جس میں بیٹوں کے ساتھ بیٹیوں کو بھی وراثت میں حصہ دار بنایا گیا۔ جب کہ زمانۂ جاہلیت میں صرف بڑے لڑکوں کو ہی وارث سمجھا جاتاتھا، چھوٹے کمزور بچے اور عورتیں وراثت سے محروم ہوتی تھیں۔ شریعت نے سب کو وارث قرار دیا۔
  5. 5 اس کا عطف بھی ”يَتَامَى النِّسَاءِ“ پر ہے۔ یعنی کتاب اللہ کا یہ حکم بھی تم پر پڑھا جاتا ہے کہ یتیموں کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرو۔ یتیم بچی صاحب جمال ہو تب بھی اور بدصورت ہو تب بھی۔ دونوں صورتوں میں انصاف کرو (جیسا کہ تفصیل گزری)۔

4:127 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3

تفسیر سورۃ النساء
0/176
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
مشاري العفاسي النساء 4:127 0:00 0:00 پڑھ لیا، آگے بڑھیں

تفسیر · 4:127

Al-Mukhtasar

127- اور اے رسول( صلى اللہ عليہ وسلم )! وہ آپ سے عورتوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ ان کے حقوق و واجبات کیا ہیں؟ آپ کہہ دیں: اللہ تعالیٰ تمھیں اس کے متعلق کھول کر بتاتا ہے جو تم نے پوچھا ہے اورتمھیں ان یتیم عورتوں کے متعلق بھی قرآن میں بتاتا ہے جو تمھارے زیرِ پرورش ہیں اور تم انھیں ان کا حق مہر یا میراث نہیں دیتے، جو اللہ نے ان کے لیے مقرر کی ہے۔ تم خود ان سے نکاح کی رغبت نہیں رکھتے اور ان کے مال کے لالچ میں ان کا نکاح آگے بھی نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ وہ بھی بیان کرتا ہے جو تم پر چھوٹے کمزور بچوں کے بارے میں فرض ہے کہ وراثت میں سے انھیں ان کا حق دو اور ان کے مالوں پر قبضہ کر کے ان پر ظلم نہ کرو۔ وہ تمھارے لیے بیان کرتا ہے کہ یتیموں کی دنیا و آخرت کی بہتری کا لحاظ رکھتے ہوئے عدل و انصاف سے ان کی کفالت کرتے رہنا، اور تم یتیموں وغیرہ کے لیے جو بھی بھلائی کا کام کرو گے، اللہ اسے خوب جاننے والا ہے اور جلد تمھیں اس کا بدلہ بھی دے گا۔

Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution

پارہ
5
الفاظ کی تعداد
40
مدینہ مصحف (604 صفحات)
98
انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
98
نسخ مصحف (612 صفحات)
99
آیت 4:127 کس سورت میں ہے؟

سورۃ النساء. 114 میں سے سورت نمبر 4 · آیات کی تعداد: 176.

آیت 4:127 کس پارے میں ہے؟

پارہ: 5.

آیت 4:127 کس صفحے پر ہے؟

مدینہ مصحف (604 صفحات): 98 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 98 · نسخ مصحف (612 صفحات): 99.

آیت 4:127 میں کتنے الفاظ ہیں؟

الفاظ کی تعداد: 40.

آیت 4:127 میں کتنے عربی حروف ہیں؟

آیت 4:127: حروف کی تعداد 172، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔

آیت 4:127 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟

آیت 4:127 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 620 ہے۔

سورۃ النساء میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ النساء: آیات کی تعداد 176۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 4 پر ہے۔

سورۃ النساء مکی ہے یا مدنی؟

سورۃ النساء مدنی ہے۔

کیا آیت 4:127 سنی جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ آیت 4:127 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔

سورۃ النساء کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟

شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 176 آیات اور 3,747 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play