سورۃ النساء 4:141
یہ سورۃ النساء کی 176 آیات میں سے آیت 141 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 634، پارہ 5۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 101 پر ہے۔
ٱلَّذِينَ يَتَرَبَّصُونَ بِكُمۡ فَإِن كَانَ لَكُمۡ فَتۡحٞ مِّنَ ٱللَّهِ قَالُوٓاْ أَلَمۡ نَكُن مَّعَكُمۡ وَإِن كَانَ لِلۡكَٰفِرِينَ نَصِيبٞ قَالُوٓاْ أَلَمۡ نَسۡتَحۡوِذۡ عَلَيۡكُمۡ وَنَمۡنَعۡكُم مِّنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَۚ فَٱللَّهُ يَحۡكُمُ بَيۡنَكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ وَلَن يَجۡعَلَ ٱللَّهُ لِلۡكَٰفِرِينَ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ سَبِيلًا
یہ لوگ تمہارے انجام کار کا انتظار کرتے رہتے ہیں پھر اگر تمہیں اللہ فتح دے تو یہ کہتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھی نہیں اور اگر کافروں کو تھوڑا سا غلبہ مل جائے تو (ان سے) کہتے ہیں کہ ہم تم پر غالب نہ آنے لگے تھے اور کیا ہم نے تمہیں مسلمانوں کے ہاتھوں سے نہ بچایا تھا؟1 پس قیامت میں خود اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا2 اور اللہ تعالیٰ کافروں کو ایمان والوں پر ہرگز راه نہ دے گا۔3
مترجم کے حواشی (3)
- 1 یعنی ہم تم پر غالب آنے لگے تھے لیکن تمہیں اپنا ساتھی سمجھ کر چھوڑ دیا اور مسلمانوں کا ساتھ چھوڑ کر ہم نے تمہیں مسلمانوں کے ہاتھوں سے بچایا۔ مطلب یہ کہ تمہیں غلبہ ہماری اس دوغلی پالیسی کے نتیجے میں حاصل ہواہے۔ جو ہم نے مسلمانوں میں ظاہری طور پر شامل ہو کر اپنائے رکھی۔ لیکن درپردہ ان کو نقصان پہنچانے میں ہم نے کوئی کوتاہی اور کمی نہیں کی تاآنکہ تم ان پر غالب آگئے۔ یہ منافقین کا قول ہے جو انہوں نے کافروں سے کہا۔
- 2 یعنی دنیا میں تم نے دھوکے اور فریب سے وقتی طور پر کچھ کامیابی حاصل کر لی، لیکن قیامت والے دن اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ان باطنی جذبات وکیفیات کی روشنی میں ہوگا جنہیں تم سینوں میں چھپائے ہوئے تھے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ تو سینوں کے رازوں کو بھی خوب جانتا ہے اور پھر اس پر جو وہ سزا دے گا تو معلوم ہوگا کہ دنیا میں منافقت اختیار کرکے نہایت خسارے کا سودا کیا تھا، جس پر جہنم کا دائمی عذاب بھگتنا ہوگا۔أَعَاذَنَا اللهُ مِنْهُ
- 3 یعنی غلبہ نہ دے گا۔ اس کے مختلف مفہوم بیان کئے گئے ہیں۔ (1) اہل اسلام کا یہ غلبہ قیامت والے دن ہوگا۔ (2) حجت اور دلائل کے اعتبار سے کافر مسلمانوں پر غالب نہیں آسکتے۔ (3) کافروں کا ایسا غلبہ نہیں ہوگا کہ مسلمان کی دولت وشوکت کا بالکل خاتمہ ہی ہو جائے اور وہ حرف غلط کی طرح دنیا کے نقشے سے ہی محو ہو جائیں۔ ایک حدیث سے بھی اس مفہوم کی تائید ہوتی ہے۔ (4) جب تک مسلمان اپنے دین کے عامل، باطل سے غیر راضی اور منکرات سے روکنے والے رہیں گے، کافر ان پر غالب نہ آسکیں گے۔ امام ابن العربی فرماتے ہیں کہ ”یہ سب سے عمدہ معنی ہے“ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ”وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ“ (الشوری: 30) ”اور جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے، سو تمہارے اپنے فعلوں کی وجہ سے“ (فتح القدیر) گویا مسلمانوں کی مغلوبیت ان کی اپنی کوتاہیوں کا نتیجہ ہے۔
4:141 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 4:141
Al-Mukhtasar
141- وہ لوگ جو تمھارے لیے کسی خیر یا شر کا انتظار کرتے ہیں، اگر تمھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے فتح اور غنیمت حاصل ہو تو تم سے کہتے ہیں: کیا ہم تمھارے ساتھ نہیں تھے، ہم بھی اسی جگہ موجود رہے جہاں تم موجود رہے؟ ایسا وہ صرف غنیمت حاصل کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ اگر کافروں کو تھوڑا سا غلبہ مل جائے تو یہ لوگ ان سے کہتے ہیں: کیا ہم تمھارے معاملات کی دیکھ بھال نہیں کرتے رہے اور پوری طرح تمھاری مدد و نصرت کر کے مسلمانوں کو ناکام کرنے کے لیے تمھیں ان سے بچاتے نہیں رہے؟ اللہ تعالیٰ تم سب کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا تو مومنوں کو جنت میں داخل کر کے جزا دے گا اور منافقوں کو جہنم کے نچلے طبقے میں داخل کر کے بدلہ دے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و احسان سے قیامت کے دن کافروں کی اہلِ ایمان کے خلاف کوئی دلیل قبول نہیں کرے گا بلکہ انجام کار ایمان والے ہی کامیاب ہوں گے بشرطیکہ وہ اپنے ایمان میں سچے اور شریعت پر عمل پیرا رہیں۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 5
- الفاظ کی تعداد
- 36
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 101
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 101
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 102
آیت 4:141 کس سورت میں ہے؟
سورۃ النساء. 114 میں سے سورت نمبر 4 · آیات کی تعداد: 176.
آیت 4:141 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 5.
آیت 4:141 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 101 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 101 · نسخ مصحف (612 صفحات): 102.
آیت 4:141 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 36.
آیت 4:141 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 4:141: حروف کی تعداد 158، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 4:141 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 4:141 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 634 ہے۔
سورۃ النساء میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ النساء: آیات کی تعداد 176۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 4 پر ہے۔
سورۃ النساء مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ النساء مدنی ہے۔
کیا آیت 4:141 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 4:141 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ النساء کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 176 آیات اور 3,747 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔