مواد پر جائیں

سورۃ النساء 4:23

یہ سورۃ النساء کی 176 آیات میں سے آیت 23 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 516، پارہ 4۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 81 پر ہے۔

حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ أُمَّهَٰتُكُمۡ وَبَنَاتُكُمۡ وَأَخَوَٰتُكُمۡ وَعَمَّٰتُكُمۡ وَخَٰلَٰتُكُمۡ وَبَنَاتُ ٱلۡأَخِ وَبَنَاتُ ٱلۡأُخۡتِ وَأُمَّهَٰتُكُمُ ٱلَّٰتِيٓ أَرۡضَعۡنَكُمۡ وَأَخَوَٰتُكُم مِّنَ ٱلرَّضَٰعَةِ وَأُمَّهَٰتُ نِسَآئِكُمۡ وَرَبَٰٓئِبُكُمُ ٱلَّٰتِي فِي حُجُورِكُم مِّن نِّسَآئِكُمُ ٱلَّٰتِي دَخَلۡتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمۡ تَكُونُواْ دَخَلۡتُم بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ وَحَلَٰٓئِلُ أَبۡنَآئِكُمُ ٱلَّذِينَ مِنۡ أَصۡلَٰبِكُمۡ وَأَن تَجۡمَعُواْ بَيۡنَ ٱلۡأُخۡتَيۡنِ إِلَّا مَا قَدۡ سَلَفَۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورٗا رَّحِيمٗا

حرام کی گئیں1 تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری لڑکیاں اور تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خاﻻئیں اور بھائی کی لڑکیاں اور بہن کی لڑکیاں اور تمہاری وه مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو اور تمہاری دودھ شریک بہنیں اور تمہاری ساس اور تمہاری وه پرورش کرده لڑکیاں جو تمہاری گود میں ہیں، تمہاری ان عورتوں سے جن سے تم دخول کر چکے ہو، ہاں اگر تم نے ان سے جماع نہ کیا ہو تو تم پر کوئی گناه نہیں اور تمہارے صلبی سگے بیٹوں کی بیویاں اور تمہارا دو بہنوں کا جمع کرنا ہاں جو گزر چکا سو گزر چکا، یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے۔

مترجم کے حواشی (1)
  1. 1 جن عورتوں سے نکاح کرنا حرام ہے، ان کی تفصیل بیان کی جا رہی ہے۔ ان میں سات محرمات نسب، سات رضاعی اور چار سسرالی بھی ہیں۔ ان کے علاوہ حدیث رسول سے ثابت ہے کہ بھتیجی اور پھوپھی اور بھانجی اور خالہ کو ایک نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔ سات نسبی محرمات میں مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجی اور بھانجی ہیں اور سات رضاعی محرمات میں رضاعی مائیں، رضاعی بیٹیاں، رضاعی بہنیں، رضاعی پھوپھیاں، رضاعی خالائیں، رضاعی بھتیجیاں اور رضاعی بھانجیاں اور سسرالی محرمات میں ساس، ربائب (مدخولہ بیوی کے پہلے خاوند سے لڑکیاں) بہو اور دو سگی بہنوں کا جمع کرنا ہے۔ ان کے علاوہ باپ کی منکوحہ (جس کا ذکر اس سے پہلی آیت میں ہے) اور حدیث کے مطابق بیوی جب تک عقد نکاح میں ہے اس کی پھوپھی اور اس کی خالہ اور اس کی بھتیجی اور اس کی بھانجی سے بھی نکاح حرام ہے۔ محرمات نسبی کی تفصیل! أُمَّهَاتٌ (مائیں) میں ماؤں کی مائیں (نانیاں) ان کی دادیاں اور باپ کی مائیں (دادیاں، پردادیاں اور ان سے آگے تک) شامل ہیں۔ بَنَاتٌ (بیٹیاں) میں پوتیاں، نواسیاں اور پوتیوں،نواسیوں کی بیٹیاں (نیچے تک) شامل ہیں۔ زنا سے پیدا ہونے والی لڑکی، بیٹی میں شامل ہے یا نہیں اس میں اختلاف ہے۔ ائمہ ثلاثہ اسے بیٹی میں شامل کرتے ہیں اور اس سے نکاح کو حرام سمجھتے ہیں۔ البتہ امام شافعی کہتے ہیں کہ بنت شرعی نہیں ہے۔ پس جس طرح ”يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ“ (اللہ تعالیٰ تمہیں اولاد میں مال متروکہ تقسیم کرنے کا حکم دیتا ہے) میں داخل نہیں اور بالا جماع وہ وارث نہیں۔ اسی طرح وہ اس آیت میں بھی داخل نہیں۔ واللہ اعلم (ابن کثیر)۔ أَخَوَاتٌ (بہنیں) عینی ہوں یا اخیافی وعلاتی، عَمَّات ٌ(پھوپھیاں) اس میں باپ کی سب مذکر اصول یعنی نانا، دادا کی تینوں قسموں کی بہنیں شامل ہیںخَالاتٌ( خالائیں) اس میں ماں کی سب مونث اصول (یعنی نانی دادی) کی تینوں قسموں کی بہنیں شامل ہیں۔ بھتیجیاں، اس میں تینوں قسم کی بھائیوں کی اولاد بواسطہ اور بلاواسطہ (یا صلبی وفرعی) شامل ہیں۔ بھانجیاں، اس میں تینوں قسم کی بہنوں کی اولاد بواسطہ وبلاواسطہ یا صلبی وفرعی شامل ہیں۔ قسم دوم، محرمات رضاعیہ: رضاعی ماں، جس کا دودھ تم نے مدت رضاعت (یعنی دو سال) کے اندر پیا ہو۔ رضاعی بہن، وہ عورت جس کو تمہاری حقیقی یا رضاعی ماں نے دودھ پلایا، تمہارے ساتھ پلایا تم سے پہلے یا بعد تمہارے اور بہن بھائیوں کے ساتھ پلایا۔ یاجس عورت کی حقیقی یا رضاعی ماں نے تمہیں دودھ پلایا، چاہے مختلف اوقات میں پلایا ہو۔ رضاعت سے بھی وہ تمام رشتے حرام ہو جائینگے جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ رضاعی ماں بننے والی عورت کی نسبی ورضاعی اولاد دودھ پینے والے بچے کی بہن بھائی، اس عورت کا شوہر اس کا باپ اور اس مرد کی بہنیں، اور اس کی پھوپھیاں اس عورت کی بہنیں خالائیں اور اس عورت کے جیٹھ، دیور اس کے رضاعی چچا تایا بن جائیں گے اس دودھ پینے والے بچے کی نسبی بہن بھائی وغیرہ اس گھرانہ پر رضاعت کی بنا پر حرام نہ ہوں گے۔ قسم سوم سسرالی محرمات: بیوی کی ماں یعنی ساس (اس میں بیوی کی نانی دادی بھی داخل ہے) اگر کسی عورت سے نکاح کر کے بغیر ہم بستری کے ہی طلاق دے دی ہو، تب بھی اس کی ماں (ساس) سے نکاح حرام ہوگا، البتہ کسی عورت سے نکاح کرکے اسے بغیر مباشرت کے طلاق دے دی ہو تو اس کی لڑکی سے اس کا نکاح جائز ہوگا۔ (فتح القدیر) رَبِيبَةٌ بیوی کے پہلے خاوند سے لڑکی۔ اس کی حرمت مشروط ہے یعنی اس کی ماں سے اگر مباشرت کر لی گئی ہوگی تو ربیبہ سے نکاح حرام، بصورت دیگر حلال ہوگا۔ فِي حُجُورِكُمْ (وہ ربیبہ جو تمہاری گود میں پرورش پائیں) یہ قید غالب احوال کے اعتبار سے ہے، بطور شرط کے نہیں ہے۔ اگر یہ لڑکی کسی اور جگہ بھی زیر پرورش یا مقیم ہوگی۔ تب بھی اس سے نکاح حرام ہوگا۔ حلائل یہ حَلِيلَةٌ کی جمع ہے یہ حل یحل (اترنا) سے فَعِيلَةٌ کے وزن پر بمعنی فَاعِلَةٍ ہے۔ بیوی کو حلیلہ اس لئے کہا گیا ہے کہ اس کا محل (جائے قیام) خاوند کے ساتھ ہی ہوتا ہے یعنی جہاں خاوند اترتا یا قیام کرتا ہے یہ بھی وہیں اترتی یا قیام کرتی ہے۔ بیٹوں میں پوتے نواسے بھی داخل ہیں یعنی ان کی بیویوں سے بھی نکاح حرام ہوگا۔ اسی طرح رضاعی اولاد کے جوڑے بھی حرام ہوں گے مِنْ أَصْلابِكُمْ (تمہارے صلبی بیٹوں کی بیویوں) کی قید سے یہ واضح ہوگیا کہ لے پالک بیٹوں کی بیویوں سے نکاح حرام نہیں ہے۔ دو بہنیں (رضاعی ہوں یا نسبی) ان سے بیک وقت نکاح حرام ہے۔ البتہ ایک کی وفات کے بعد یا طلاق کی صورت میں عدت گزرنے کے بعد دوسری بہن سے نکاح جائز ہے۔ اسی طرح چار بیویوں میں سے ایک کو طلاق دینے سے پانچویں نکاح کی اجازت نہیں جب تک طلاق یافتہ عورت عدت سے فارغ نہ ہو جائے۔ ملحوظة: زنا سے حرمت ثابت ہوگی یا نہیں؟ اس میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ اکثر اہل علم کا قول ہے کہ اگر کسی شخص نے کسی عورت سے بدکاری کی تو اس بدکاری کی وجہ سے وہ عورت اس پر حرام نہیں ہوگی اسی طرح اگر اپنی بیوی کی ماں (ساس) سے یا اس کی بیٹی سے (جو دوسرے خاوند سے ہو) زنا کر لے گا تو اس کی بیوی اس پر حرام نہیں ہوگی (دلائل کے لئے دیکھئے، فتح القدیر) احناف اور دیگر بعض علماء کی رائے میں زنا کاری سے بھی حرمت ثابت ہو جائے گی۔ اول الذکر مسلک کی تائید بعض احادیث سے ہوتی ہے۔

4:23 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3

تفسیر سورۃ النساء
0/176
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
مشاري العفاسي النساء 4:23 0:00 0:00 پڑھ لیا، آگے بڑھیں

تفسیر · 4:23

Al-Mukhtasar

23- اللہ تعالیٰ نے تم پر تمھاری ماؤں سے اوپر تک نکاح حرام قرار دیا ہے، یعنی ماں کی ماں(نانی، پڑنانی) اوپر تک اور باپ کی ماں (دادی، پڑدادی) اوپر تک۔ اور بیٹیوں سے نکاح حرام کیا ہے، وہ نیچے جہاں تک چلی جائیں، جیسے بیٹی کی بیٹی اور آگے اس کی بیٹی آخر تک۔ اور اسی طرح پوتیوں اور نواسیوں سے نکاح حرام ہے، خواہ نیچے جہاں تک چلی جائیں۔ اسی طرح حقیقی، علاتی(باپ کی طرف سے) اور اخیافی (ماں کی طرف سے)بہنوں سے نکاح بھی حرام ہے۔ اور تمھاری پھوپھیوں سے اور اسی طرح تمھارے آباء و اجداد کی پھوپھیوں سے تمھارا نکاح حرام ہے۔ اور تمھاری ماؤں کی پھوپھیوں سے اوپر نانی وغیرہ کی پھوپھیوں تک نکاح حرام ہے۔ اسی طرح تمھارا اپنی خالاؤں اور اپنے والدین کی خالاؤں سے اوپر تک نکاح حرام ہے۔ اسی طرح بھتیجیوں، بھانجیوں اور ان کی اولاد سے آخر تک نکاح حرام ہے۔ اور تمھارا اپنی رضاعی ماؤں اور رضاعی بہنوں سے بھی نکاح حرام ہے۔ اور تمھارا اپنی ساسوں سے نکاح کرنا بھی حرام ہے، خواہ تم نے اپنی بیویوں سے ازدواجی تعلق قائم کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ اسی طرح تمھاری بیویوں کی ان بیٹیوں سے بھی تمھارا نکاح حرام ہے جو ان کے دوسرے خاوندوں سے ہوں جو اکثر و بیشتر تمھارے ہی گھروں میں پلی بڑھی ہوتی ہیں اور اگر تمھارے گھروں میں انھوں نے پرورش نہ پائی ہو، تب بھی ان سے نکاح حرام ہے بشرطیکہ تم نے ان کی ماؤں سے ازدواجی تعلقات قائم کیے ہوں۔ اگر ان کی ماؤں سے صرف تمھارا نکاح ہوا اور تم نے ازدواجی تعلقات قائم نہیں کیے تو پھر ان سے نکاح کر سکتے ہو۔ اسی طرح تمھارے لیے اپنے حقیقی بیٹوں کی بیویوں سے نکاح کرنا بھی حرام ہے، خواہ انھوں نے صرف نکاح کیا ہو، تعلق قائم نہ بھی کیا ہو۔ یہی حکم تمھارے رضاعی بیٹوں کی بیویوں کا ہے۔ اسی طرح تمھارے لیے دو حقیقی یا رضاعی بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنا بھی حرام ہے۔ ہاں، اگر کوئی اسلام سے پہلے ایسا کر چکا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اسے معاف کر دیا ہے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے توبہ کرنے والے بندوں کو بے حد بخشنے والا اور ان پر نہایت رحم کرنے والا ہے۔ اسی طرح سنت سے یہ ثابت ہے کہ پھوپھی بھتیجی اور خالہ بھانجی کو بھی ایک ساتھ نکاح میں رکھنا حرام ہے۔

Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution

پارہ
4
الفاظ کی تعداد
54
مدینہ مصحف (604 صفحات)
81
انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
81
نسخ مصحف (612 صفحات)
82
آیت 4:23 کس سورت میں ہے؟

سورۃ النساء. 114 میں سے سورت نمبر 4 · آیات کی تعداد: 176.

آیت 4:23 کس پارے میں ہے؟

پارہ: 4.

آیت 4:23 کس صفحے پر ہے؟

مدینہ مصحف (604 صفحات): 81 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 81 · نسخ مصحف (612 صفحات): 82.

آیت 4:23 میں کتنے الفاظ ہیں؟

الفاظ کی تعداد: 54.

آیت 4:23 میں کتنے عربی حروف ہیں؟

آیت 4:23: حروف کی تعداد 247، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔

آیت 4:23 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟

آیت 4:23 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 516 ہے۔

سورۃ النساء میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ النساء: آیات کی تعداد 176۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 4 پر ہے۔

سورۃ النساء مکی ہے یا مدنی؟

سورۃ النساء مدنی ہے۔

کیا آیت 4:23 سنی جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ آیت 4:23 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔

سورۃ النساء کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟

شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 176 آیات اور 3,747 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play