سورۃ النور 24:58
یہ سورۃ النور کی 64 آیات میں سے آیت 58 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 2849، پارہ 18۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 357 پر ہے۔
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لِيَسۡتَـٔۡذِنكُمُ ٱلَّذِينَ مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُكُمۡ وَٱلَّذِينَ لَمۡ يَبۡلُغُواْ ٱلۡحُلُمَ مِنكُمۡ ثَلَٰثَ مَرَّٰتٖۚ مِّن قَبۡلِ صَلَوٰةِ ٱلۡفَجۡرِ وَحِينَ تَضَعُونَ ثِيَابَكُم مِّنَ ٱلظَّهِيرَةِ وَمِنۢ بَعۡدِ صَلَوٰةِ ٱلۡعِشَآءِۚ ثَلَٰثُ عَوۡرَٰتٖ لَّكُمۡۚ لَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ وَلَا عَلَيۡهِمۡ جُنَاحُۢ بَعۡدَهُنَّۚ طَوَّٰفُونَ عَلَيۡكُم بَعۡضُكُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمُ ٱلۡأٓيَٰتِۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٞ
ایمان والو! تم سے تمہاری ملکیت کے غلاموں کو اور انہیں بھی جو تم میں سے بلوغت کو نہ پہنچے ہوں (اپنے آنے کی) تین وقتوں میں اجازت حاصل کرنی ضروری ہے۔ نماز فجر سے پہلے اور ﻇہر کے وقت جب کہ تم اپنے کپڑے اتار رکھتے ہو اور عشا کی نماز کے بعد1 ، یہ تینوں وقت تمہاری (خلوت) اور پرده کے ہیں2۔ ان وقتوں کے ماسوا نہ تو تم پر کوئی گناه ہے نہ ان پر3۔ تم سب آپس میں ایک دوسرے کے پاس بکثرت آنے جانے والے ہو4 (ہی)، اللہ اسی طرح کھول کھول کر اپنے احکام تم سے بیان فرما رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ پورے علم اور کامل حکمت واﻻ ہے.
مترجم کے حواشی (4)
- 1 غلاموں سے مراد، باندیاں اور غلام دونوں ہیں ثَلاثَ مَرَّاتٍ کا مطلب اوقات، تین وقت ہیں، یہ تینوں اوقات ایسے ہیں کہ انسان گھر میں اپنی بیوی کے ساتھ بہ کار خاص مصروف، یا ایسے لباس میں ہوسکتا ہے کہ جس میں کسی کا ان کو دیکھنا جائز اور مناسب نہیں۔ اس لئے ان اوقات ثلاثہ میں گھر کے ان خدمت گزاروں کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ بغیر اجازت طلب کئے گھر کے اندر داخل ہوں۔
- 2 عَوْرَاتٍ، عَوْرَةٌ کی جمع ہے، جس کے اصل معنی خلل اور نقص کے ہیں۔ پھر اس کا اطلاق ایسی چیز پر کیا جانے لگا جس کا ظاہر کرنا اوراس کو دیکھنا پسندیدہ نہ ہو۔ خاتون کو بھی اسی لئے عورت کہا جاتا ہے کہ اس کا ظاہر اور عریاں ہونا اور دیکھنا شرعاً ناپسندیدہ ہے۔ یہاں مذکورہ تین اوقات میں عورات کہا گیا ہے یعنی یہ تمہارے پردے اور خلوت کے اوقات ہیں جن میں تم اپنے مخصوص لباس اور ہیئت کو ظاہر کرنا پسند نہیں کرتے۔
- 3 یعنی ان اوقات ثلاثہ کے علاوہ گھر کے مذکورہ خدمت گزاروں کو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ اجازت طلب کئے بغیر گھر کے اندر آجاسکتے ہیں۔
- 4 یہ وہی وجہ ہے جو حدیث میں بلی کے پاک ہونے کی بیان کی گئی ہے۔ «إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ؛ إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ»، ”بلی ناپاک نہیں ہے اس لئے کہ وہ بکثرت تمہارے پاس (گھر کے اندر) آنے جانے والی ہے“۔ (أبو داود، كتاب الطهارة باب سؤر الهرة، ترمذي، كتاب وباب مذكور وغيره) خادم اور مالک، ان کو بھی آپس میں ہر وقت ایک دوسرے سے ملنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اسی ضرورت عامہ کے پیش نظر اللہ نے یہ اجازت مرحمت فرما دی، کیونکہ وہ علیم ہے، لوگوں کی ضروریات اور حاجات کو جانتا ہے اور حکیم ہے، اس کے ہر حکم میں بندوں کے مفادات اور حکمتیں ہیں۔
24:58 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 24:58
Al-Mukhtasar
جب اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے آزاد بالغ لوگوں کے اجازت لینے کے احکام ذکر فرمائے تو یہاں غلاموں اور نابالغ آزاد بچوں کے اجازت طلب کرنے کے احکام ذکر کر دیے اور اس کی وضاحت کر دی کہ بچے جب بالغ ہو جائیں تو ان کا کیا حکم ہے، چنانچہ فرمایا:
58- اے اللہ پر ا یمان لانے اور اس کی شریعت پر عمل کرنے والو! تمھارے غلام، لونڈیاں اور وہ آزاد بچے جو ابھی بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچے، وہ بھی تین اوقات میں اجازت لے کر تمھارے پاس آیا کریں: صبح کی نماز سے پہلے جو نیند کے لباس کا بیداری والے لباس سے بدلنے کا وقت ہے اور دوپہر کے وقت جب تم قیلولے کے لیے اپنے (باہر پہننے والے) کپڑے اتار دیتے ہو اور عشاء کی نماز کے بعد کیونکہ وہ تمھاری نیند کا اور بیداری کے کپڑے اتارنے اور سونے والے کپڑے پہننے کا وقت ہے۔ یہ تینوں اوقات تمھارے پردے کے ہیں۔ ان میں وہ تم سے اجازت لیے بغیر تمھارے پاس نہ آئیں۔ ان اوقات کے علاوہ اگروہ اجازت لیے بغیر تمھارے پاس آئیں تو نہ تم پر کوئی گناہ ہے اور نہ ان پر۔ ان کا تمھارے پاس کثرت سے آنا جانا ہوتا ہے اور تم ایک دوسرے کے پاس آتے جاتے ہو، اس لیے ہر وقت اجازت لینا باعثِ مشقت ہے اور انھیں پابند کرنا مشکل ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اجازت لینے کے احکام تمھارے سامنے کھول کر بیان کیے ہیں، اسی طرح اس نے وہ آیات بھی کھول کھول کر بیان کی ہیں جو تمھارے لیے اس کے دوسرے شرعی احکام بیان کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مصلحتوں کو خوب جانتا ہے اور جو احکام اس نے اپنے بندوں کو دیے ہیں، ان میں وہ کمال حکمت والا ہے۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 18
- الفاظ کی تعداد
- 49
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 357
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 357
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 358
آیت 24:58 کس سورت میں ہے؟
سورۃ النور. 114 میں سے سورت نمبر 24 · آیات کی تعداد: 64.
آیت 24:58 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 18.
آیت 24:58 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 357 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 357 · نسخ مصحف (612 صفحات): 358.
آیت 24:58 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 49.
آیت 24:58 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 24:58: حروف کی تعداد 212، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 24:58 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 24:58 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 2,849 ہے۔
سورۃ النور میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ النور: آیات کی تعداد 64۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 24 پر ہے۔
سورۃ النور مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ النور مدنی ہے۔
کیا آیت 24:58 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 24:58 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ النور کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 64 آیات اور 1,316 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔