مواد پر جائیں

عبس عبس · Muhammad AbdulKareem

Muhammad AbdulKareem کی آواز میں آیات: 42 حفص عن عاصم مرتل

ترجمہ: Muhammad Junagarhi

سورت پڑھیں

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. عَبَسَ وَتَوَلَّىٰٓ

    وه ترش رو ہوا اور منھ موڑ لیا.

  2. أَن جَآءَهُ ٱلۡأَعۡمَىٰ

    (صرف اس لئے) کہ اس کے پاس ایک نابینا آیا.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 ابن ام مکتوم سےنبی (صلى الله عليه وسلم) کے چہرے پر جو ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے، اسے عَبَسَ سے اور توجہی کو تَوَلَّى ٰ سے تعبیر فرمایا۔
  3. وَمَا يُدۡرِيكَ لَعَلَّهُۥ يَزَّكَّىٰٓ

    تجھے کیا خبر شاید وه سنور جاتا.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی وہ نابینا تجھ سے دینی رہنمائی حاصل کرکے عمل صالح کرتا جس سے اس کا اخلا ق وکردار سنور جاتا، اس کے باطن کی اصلاح ہو جاتی اور تیری نصیحت سننے سے اس کو فائدہ ہوتا۔
  4. أَوۡ يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ ٱلذِّكۡرَىٰٓ

    یا نصیحت سنتا اور اسے نصیحت فائده پہنچاتی.

  5. أَمَّا مَنِ ٱسۡتَغۡنَىٰ

    جو بے پرواہی کرتا ہے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 ایمان سے اور اس علم سے جو تیرے پاس اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ یا دوسرا ترجمہ ہے جو صاحب ثروت وغنا ہے۔
  6. فَأَنتَ لَهُۥ تَصَدَّىٰ

    اس کی طرف تو تو پوری توجہ کرتا ہے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 اس میں آپ (صلى الله عليه وسلم) کو مزید توجہ دلائی گئی ہے کہ مخلصین کو چھوڑ کر معرضین کی طرف توجہ مبذول رکھنا صحیح بات نہیں ہے۔
  7. وَمَا عَلَيۡكَ أَلَّا يَزَّكَّىٰ

    حاﻻنکہ اس کے نہ سنورنے سے تجھ پر کوئی الزام نہیں.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 کیوں کہ تیرا کام تو صرف تبلیغ ہے۔ اس لئے اس قسم کے کفار کے پیچھے پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔
  8. وَأَمَّا مَن جَآءَكَ يَسۡعَىٰ

    اور جو شخص تیرے پاس دوڑتا ہوا آتا ہے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 اس بات کا طالب بن کر کہ تو خیر کی طرف اس کی رہنمائی کرے اور اسے وعظ ونصیحت سے نوازے۔
  9. وَهُوَ يَخۡشَىٰ

    اور وه ڈر (بھی) رہا ہے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی اللہ کا خوف بھی اس کے دل میں ہے، جس کی وجہ سے یہ امید ہے کہ تیری باتیں اس کےلئے مفید ہوں گی اور وہ ان کو اپنائے گا اور ان پر عمل کرے گا۔
  10. فَأَنتَ عَنۡهُ تَلَهَّىٰ

    تو اس سے بےرخی برتتا ہے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی ایسے لوگوں کی تو قدر افزائی کی ضرورت ہے نہ کہ ان سے بےرخی برتنے کی۔ ان آیات سے یہ بات معلوم ہوئی کہ دعوت وتبلیغ میں کسی کو خاص نہیں کرنا چاہئے بلکہ اصحاب حیثیت اور بےحیثیت، امیر اور غریب، آقا وغلام، مرد اور عورت، چھوٹے اور بڑے سب کو یکساں حیثیت دی جائے اور سب کو مشترکہ خطاب کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا اپنی حکمت بالغہ کے تحت، ہدایت سے نواز دے گا۔ ( ابن کثیر ) ۔
  11. كـَلَّآ إِنَّهَا تَذۡكِرَةٞ

    یہ ٹھیک نہیں1 قرآن تو نصیحت (کی چیز) ہے.

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی غریب سے یہ اعراض اور اصحاب حیثیت کی طرف خصوصی توجہ، یہ ٹھیک نہیں۔ مطلب ہے کہ آئندہ اس کا اعادہ نہ ہو۔
  12. فَمَن شَآءَ ذَكَرَهُۥ

    جو چاہے اس سے نصیحت لے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی جو اس میں رغبت کرے، وہ اس سے نصیحت حاصل کرے، اسے یاد کرے اور اس کے موجبات پر عمل کرے۔ اور جو اس اعراض سے کرے اور بے رخی برتے، جیسے اشراف قریش نے کیا، تو ان کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
  13. فِي صُحُفٖ مُّكَرَّمَةٖ

    (یہ تو) پر عظمت صحیفوں میں (ہے).1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی لوح محفوظ میں، کیوں کہ وہیں سے یہ قرآن اترتا ہے۔ یا مطلب ہے کہ یہ صحیفے اللہ کے ہاں بڑےمحترم ہیں کیوں کہ وہ علم وحکمت سے پر ہیں۔
  14. مَّرۡفُوعَةٖ مُّطَهَّرَةِۭ

    جو بلند وباﻻ اور پاک صاف ہے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 مَرْفُوعَةٍ اللہ کے ہاں رفیع القدر ہیں، یا شبہات اور تناقض سے بلند ہیں۔ مُطَهَّرَةٍ، وہ بالکل پاک ہیں کیوں کہ انہیں پاک لوگوں ( فرشتوں ) کے سوا کوئی چھوتا ہی نہیں، یا کمی بیشی سے پاک ہے۔
  15. بِأَيۡدِي سَفَرَةٖ

    ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 سَفَرَةٍ، سَافِرٌ کی جمع ہے، یہ سفارت سے ہے۔ مراد یہاں وہ فرشتے ہیں جو اللہ کی وحی اس کےرسولوں تک پہنچاتے ہیں۔ یعنی اللہ اور اس کےرسول کے درمیان سفارت کا کام کرتے ہیں۔ یہ قرآن ایسے سفیروں کے ہاتھوں میں ہےجو اسے لوح محفوظ سے نقل کرتے ہیں۔
  16. كِرَامِۭ بَرَرَةٖ

    جو بزرگ اور پاکباز ہیں.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی خلق کے اعتبار سے وہ کریم یعنی شریف اور بزرگ ہیں اور افعال کے اعتبار سے وہ نیکو کار اور پاکباز ہیں۔ یہاں سے یہ بات معلوم ہوئی کہ حامل قرآن ( حافظ اور عالم ) کو بھی اخلاق وکردار اور افعال واطوار میں كِرَامٍ بَرَرَةٍ کا مصداق ہونا چاہئے۔ (ابن کثیر) حدیث میں بھی سَفَرَةٍ کا لفظ فرشتوں کے لئے استعمال ہوا ہے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا جو قرآن پڑھتا ہے اور وہ اس کا ماہر ہے، وہ السَّفَرَةُ الكِرَامُ الْبَرَرَةُ ( فرشتوں ) کے ساتھ ہوگا اور جو قرآن پڑھتا ہے، لیکن مشقت کےساتھ۔ ( یعنی ماہرین کی طرح سہولت اور روانی سےنہیں پڑھتا ) اس کے لئے دوگنا اجر ہے۔ (صحيح بخاري، تفسير سورة عبس مسلم، كتاب الصلاة، باب فضل الماهر بالقرآن....)۔
  17. قُتِلَ ٱلۡإِنسَٰنُ مَآ أَكۡفَرَهُۥ

    اللہ کی مار انسان پر کیسا ناشکرا ہے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 اس سے وہ انسان مراد ہے جو بغیر کسی سند اور دلیل کے قیامت کی تکذیب کرتا ہے۔ قُتِلَ بمعنی لُعِنَ اور مَا أَكْفَرَهُ ! فعل تعجب ہے، کس قدر ناشکرا ہے۔ آگے اس انسان کفور کو غور وفکر کی دعوت دی جا رہی ہے کہ شاید وہ اپنے کفر سے باز آجائے۔
  18. مِنۡ أَيِّ شَيۡءٍ خَلَقَهُۥ

    اسے اللہ نے کس چیز سے پیدا کیا.

  19. مِن نُّطۡفَةٍ خَلَقَهُۥ فَقَدَّرَهُۥ

    اسے) ایک نطفہ1 سے پیدا کیا،پھراس کا اندازہ مقررکیا .2

    مترجم کے حواشی (2)
    1. 1 یعنی جس کی پیدائش ایسے حقیر قطرۂ آب سے ہوئی ہے، کیا اسے تکبر زیب دیتا ہے؟
    2. 2 اس کا مطلب ہے کہ اس کے مصالح نفس اسے مہیا کیے، اس کو دو ہاتھ دو پیر اوردو آنکھیں اور دیگر آلات وخواص عطا کیے۔
  20. ثُمَّ ٱلسَّبِيلَ يَسَّرَهُۥ

    پھر اس کے لئے راستہ آسان کیا.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی خیر اور شر کے راستے اس کے لئے واضح کر دیئے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ ہے۔ لیکن پہلا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔
  21. ثُمَّ أَمَاتَهُۥ فَأَقۡبَرَهُۥ

    پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں دفن کیا.

  22. ثُمَّ إِذَا شَآءَ أَنشَرَهُۥ

    پھر جب چاہے گا اسے زنده کر دے گا۔

  23. كـَلَّا لَمَّا يَقۡضِ مَآ أَمَرَهُۥ

    ہرگز نہیں1 ۔ اس نے اب تک اللہ کے حکم کی بجا آوری نہیں کی.

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی معاملہ اس طرح نہیں ہے‘ جس طرح یہ کافر کہتا ہے۔
  24. فَلۡيَنظُرِ ٱلۡإِنسَٰنُ إِلَىٰ طَعَامِهِۦٓ

    انسان کو چاہئے کہ اپنے کھانے کو دیکھے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 کہ اسے اللہ نے کس طرح پیدا کیا، جو اس کی زندگی کا سبب ہے اور کس طرح اس کے لئے اسباب معاش مہیا کئے تاکہ وہ ان کے ذریعے سے سعادت اخروی حاصل کر سکے۔
  25. أَنَّا صَبَبۡنَا ٱلۡمَآءَ صَبّٗا

    کہ ہم نے خوب پانی برسایا.

  26. ثُمَّ شَقَقۡنَا ٱلۡأَرۡضَ شَقّٗا

    پھر پھاڑا زمین کو اچھی طرح.

  27. فَأَنۢبَتۡنَا فِيهَا حَبّٗا

    پھر اس میں سے اناج اگائے.

  28. وَعِنَبٗا وَقَضۡبٗا

    اور انگور اور ترکاری.

  29. وَزَيۡتُونٗا وَنَخۡلٗا

    اور زیتون اور کھجور.

  30. وَحَدَآئِقَ غُلۡبٗا

    اور گنجان باغات.

  31. وَفَٰكِهَةٗ وَأَبّٗا

    اور میوه اور (گھاس) چاره (بھی اگایا).1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 أباً، وہ گھاس چارہ جو خود رو ہو اور جسے جانور کھاتے ہیں۔
  32. مَّتَٰعٗا لَّكُمۡ وَلِأَنۡعَٰمِكُمۡ

    تمہارے استعمال وفائدے کے لئے اور تمہارے چوپایوں کے لئے.

  33. فَإِذَا جَآءَتِ ٱلصَّآخَّةُ

    پس جب کہ کان بہرے کر دینے والی (قیامت) آجائے گی.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 قیامت کو صَاخَّةٌ (بہرا کر دینے والی) اس لئے کہا کہ وہ ایک نہایت سخت چیخ کے ساتھ واقع ہوگی جو کانوں کو بہرہ کر دے گی۔
  34. يَوۡمَ يَفِرُّ ٱلۡمَرۡءُ مِنۡ أَخِيهِ

    اس دن آدمی اپنے بھائی سے.

  35. وَأُمِّهِۦ وَأَبِيهِ

    اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے.

  36. وَصَٰحِبَتِهِۦ وَبَنِيهِ

    اور اپنی بیوی اور اپنی اوﻻد سے بھاگے گا.

  37. لِكُلِّ ٱمۡرِيٕٖ مِّنۡهُمۡ يَوۡمَئِذٖ شَأۡنٞ يُغۡنِيهِ

    ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایسی فکر (دامن گیر) ہوگی جو اس کے لئے کافی ہوگی.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یا اپنے اقربا اور احباب سے بے نیاز اور بے پروا کر دے گا۔ حدیث میں آتا ہے ۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا کہ سب لوگ میدان محشر میں ننگے بدن، ننگے پیر، پیدل اور غیر مختون ہوں گے۔ حضرت عائشہ (رضی الله عنها) نے پوچھا، اس طرح شرم گاہوں پر نظر نہیں پڑے گی ؟ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے اس کے جواب میں یہی آیت تلاوت فرمائی۔ یعنی لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ ( الترمذي تفسير سورة عبس، النسائي، كتاب الجنائز، باب البعث) اس کی وجہ بعض کے نزدیک یہ ہے کہ انسان اپنے گھر والوں سے اس لئےبھاگے گا تاکہ وہ اس کی وہ تکلیف اور شدت نہ دیکھیں جس میں وہ مبتلا ہوگا۔ بعض کہتے ہیں، اس لئے کہ انہیں علم ہوگا کہ وہ کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور ان کے کچھ کام نہیں آسکتے۔ (فتح القدیر ) ۔
  38. وُجُوهٞ يَوۡمَئِذٖ مُّسۡفِرَةٞ

    اس دن بہت سے چہرے روشن ہوں گے.

  39. ضَاحِكَةٞ مُّسۡتَبۡشِرَةٞ

    (جو) ہنستے ہوئے اور ہشاش بشاش ہوں گے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یہ اہل ایمان کے چہرےہوں گے،جنہیں ان کے اعمال نامے ان کو دائیں ہاتھ میں ملیں گے جس سے انہیں اپنی اخروی سعادت وکامیابی کا یقین ہو جائے گا، جس سے ان کے چہرے خوشی سے تمتما رہے ہوں گے۔
  40. وَوُجُوهٞ يَوۡمَئِذٍ عَلَيۡهَا غَبَرَةٞ

    اور بہت سے چہرے اس دن غبار آلود ہوں گے.

  41. تَرۡهَقُهَا قَتَرَةٌ

    جن پر سیاہی چڑھی ہوئی ہوگی.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی ذلت اور معائینہ عذاب سے ان کے چہرے غبار آلود، کدورت زدہ اور سیاہ ہوں گے، جیسے محزون اور نہایت غمگین آدمی کا چہرہ ہوتا ہے۔
  42. أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡكَفَرَةُ ٱلۡفَجَرَةُ

    وه یہی کافر بدکردار لوگ ہوں گے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی اللہ کا، رسولوں کا اور قیامت کا انکار کرنے والے بھی تھے اور بدکردار اور بداطوار بھی۔ اللَّهُمَّ! لا تَجْعَلْنَا مِنْهُمْ ۔
0/42
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
محمد عبدالكريم عبس 80:1 0:00 0:00

Muhammad AbdulKareem کی مزید سورتیں

دوسرے قاری

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play