مواد پر جائیں

القلم القلم · Abdullah al-Matroud

Abdullah al-Matroud کی آواز میں آیات: 52 حفص عن عاصم مرتل

ترجمہ: Muhammad Junagarhi

سورت پڑھیں

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. نٓۚ وَٱلۡقَلَمِ وَمَا يَسۡطُرُونَ

    ن1 ، قسم ہے قلم کی اور2 اس کی جو کچھ کہ وه (فرشتے) لکھتے ہیں.3

    مترجم کے حواشی (3)
    1. 1 ن اسی طرح حروف مقطعات میں سے ہے ،جیسے اس سے قبل ص،قاور دیگر فواتحسور گزر چکے ہیں،
    2. 2 قلم کی قسم کھائی، جس کی اس لحاظ سے ایک اہمیت ہے کہ اس کے ذریعے سے کھول کر بیان لکھا جاتا ہے بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ خاص قلم ہے جسے اللہ نے سب سے پہلے پیدا فرمایا اور اسکو تقدیر لکھنے کا حکم دیا۔ چنانچہ اس نے ابد تک ہونے والی ساری چیزیں لکھ دیں (سنن ترمذی)
    3. 3 یسطرون"کا مرجع اصضاب ہیں جس پر قلم کا لفث دلالت کرتا ہے اس لئے کہ آلہ کتاب کا ذکر کاتب کے وجود کو مستلزم ہے مطلب ہے کہ اس کی بھی قسم جو لکھنے والے لکھتے ہیں،یا پھر مرجع فرشتے ہیں جیسے ترجمہ سے واضح ہے۔
  2. مَآ أَنتَ بِنِعۡمَةِ رَبِّكَ بِمَجۡنُونٖ

    تو اپنے رب کے فضل سے دیوانہ نہیں ہے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یہ جواب قسم ہے، جس میں کفار کے قول کا رد ہے، وہ آپ کو مجنون (دیوانہ) کہتے تھے۔
  3. وَإِنَّ لَكَ لَأَجۡرًا غَيۡرَ مَمۡنُونٖ

    اور بے شک تیرے لیے بے انتہا اجر ہے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 فریضہ نبوت کی ادائیگی میں جتنی زیادہ تکلیفیں برداشت کیں اور دشمنوں کی باتیں سنی ہیں اس پر اللہ تعالٰی کی طرف سے نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔مَنّ کے معنی قطع کرنے کے ہیں۔
  4. وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٖ

    اور بیشک تو بہت بڑے (عمده) اخلاق پر ہے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 خُلُقٍ عَظِیْمٍ سے مراد اسلام، دین یا قرآن ہے مطلب ہے کہ تو اس خلق پر ہے جس کا حکم اللہ نے تجھے قرآن میں یا دین میں دیا ہے۔
  5. فَسَتُبۡصِرُ وَيُبۡصِرُونَ

    پس اب تو بھی دیکھ لے گا اور یہ بھی دیکھ لیں گے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی جب حق واضح ہو جائے گا اور سارے پردے اٹھ جائیں گے اور یہ قیامت کے دن ہوگا بعض نے اسے جنگ بدر سے متعلق فرمایا ہے۔
  6. بِأَييِّكُمُ ٱلۡمَفۡتُونُ

    کہ تم میں سے کون فتنہ میں پڑا ہوا ہے.

  7. إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعۡلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِٱلۡمُهۡتَدِينَ

    بیشک تیرا رب اپنی راه سے بہکنے والوں کو خوب جانتا ہے، اور وه راه یافتہ لوگوں کو بھی بخوبی جانتا ہے.

  8. فَلَا تُطِعِ ٱلۡمُكَذِّبِينَ

    پس تو جھٹلانے والوں کی نہ مان.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 اطاعت سے مراد یہاں وہ مدارات ہے جس کا اظہار انسان نے اپنے ضمیر کے خلاف کرتا ہے۔ یعنی مشرکوں کی طرف جھکنے اور ان کی خاطر مدارت کی ضرورت نہیں ہے۔
  9. وَدُّواْ لَوۡ تُدۡهِنُ فَيُدۡهِنُونَ

    وه تو چاہتے ہیں کہ تو ذرا ڈھیلا ہو تو یہ بھی ڈھیلے پڑ جائیں.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی وہ تو چاہتے ہیں کہ تو ان کے معبودوں کے بارے میں نرم رویہ اختیار کرے تو وہ بھی تیرے بارے میں نرم رویہ اختیار کریں باطل پرست اپنی باطل پرستی کو چھوڑنے میں ڈھیلے ہو جائیں گے۔ اس لئے حق میں خوشامد، حکمت، تبلیغ اور کار نبوت کے لئے سخت نقصان دہ ہے۔
  10. وَلَا تُطِعۡ كُلَّ حَلَّافٖ مَّهِينٍ

    اور تو کسی ایسے شخص کا بھی کہا نہ ماننا جو زیاده قسمیں کھانے واﻻ.

  11. هَمَّازٖ مَّشَّآءِۭ بِنَمِيمٖ

    بے وقار، کمینہ، عیب گو، چغل خور.

  12. مَّنَّاعٖ لِّلۡخَيۡرِ مُعۡتَدٍ أَثِيمٍ

    بھلائی سے روکنے واﻻ حد سے بڑھ جانے واﻻ گنہگار.

  13. عُتُلِّۭ بَعۡدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ

    گردن کش پھر ساتھ ہی بے نسب ہو.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یہ ان کافروں کی اخلاقی پستیوں کا ذکر ہے جن کی خاطر پیغمبر کو خوش آمد کرنے سے روکا جا رہا ہے۔یہ صفات ذمیمہ کسی ایک شخص کی بیان کی گئی ہیں یا عام کافروں کی؟پہلی بات کا اخذا اگر چہ بعض رعایتیں ہیں مگر وہ غیر مستند ہیں۔اس لئے مقصود عام یعنی ہر وہ شخص ہے جس میں مذکورہصفات پائی جائیں۔زنیم ،ولد حرامیا مشہور بدنام۔
  14. أَن كَانَ ذَا مَالٖ وَبَنِينَ

    اس کی سرکشی صرف اس لیے ہے کہ وه مال واﻻ اور بیٹوں واﻻ ہے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی مذکورہ اخلاقی قباحتوں کا ارتکاب اس لئے کرتا ہے کہ اللہ نے اسے مال اور اولاد کی نعمتوں سے نوازا ہے یعنی وہ شکر کی بجائے کفران نعمت کرتا ہے، یعنی جس شخص کے اندر یہ خرابیاں ہوں، اس کی بات صرف اس لئے مان لی جائے کہ وہ مال اور اولاد رکھتا ہے۔
  15. إِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِ ءَايَٰتُنَا قَالَ أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ

    جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہہ دیتا ہے کہ یہ تو اگلوں کے قصے ہیں.

  16. سَنَسِمُهُۥ عَلَى ٱلۡخُرۡطُومِ

    ہم بھی اس کی سونڈ (ناک) پر داغ دیں گے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 بعض کے نزدیک اس کا تعلق دنیا سے ہے، مثلًا کہا جاتا ہے کہ جنگ بدر میں ان کفروں کے ناکوں کو تلواروں کا نشانہ بنایا گیا۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یہ قیامت والے دن جہنمیوں کی علامت ہوگی کہ ان کے ناکوں کو داغ دیا جائے گا یا اس کا مطلب چہروں کی سیاہی ہے۔ جیسا کہ کافروں کے چہرے اس دن سیاہ ہونگے۔ بعض کہتے ہیں کہ کافروں کا یہ حشر دنیا اور آخرت دونوں جگہ ممکن ہے۔
  17. إِنَّا بَلَوۡنَٰهُمۡ كَمَا بَلَوۡنَآ أَصۡحَٰبَ ٱلۡجَنَّةِ إِذۡ أَقۡسَمُواْ لَيَصۡرِمُنَّهَا مُصۡبِحِينَ

    بیشک ہم نے انہیں اسی طرح آزما لیا1 جس طرح ہم نے باغ والوں کو2 آزمایا تھا جبکہ انہوں نے قسمیں کھائیں کہ صبح ہوتے ہی اس باغ کے پھل اتار لیں گے.3

    مترجم کے حواشی (3)
    1. 1 مراد اہل مکہ ہیں یعنی ہم نے ان کو مال و دولت سے نوازا تاکہ وہ اللہ کا شکر کریں نہ کہ کفر وتکبر لیکن انہوں نے کفر و استکبار کیا تو ہم نے انہیں بھوک اور قحط کی آزمائش میں ڈال دیا جس میں وہ نبی کی بددعا کی وجہ سے کچھ عرصہ مبتلا رہے۔
    2. 2 باغ والوں کا قصہ عربوں میں مشہور تھا۔ یہ باغ (یمن) سے دو فرسخ کے فاصلے پر تھا اس کا مالک اس کی پیداوار غربا و مساکین پر بھی خرچ کرتا تھا، لیکن اس کے مرنے کے بعد جب اس کی اولاد اس کی وارث بنی تو انہوں نے کہا کہ ہمارے تو اپنے اخراجات بمشکل پورے ہوتے ہیں، ہم اس کی آمدنی میں سے مساکین اور سائلین کو کس طرح دیں؟ چنانچہ اللہ تعالٰی نے اس باغ کو تباہ کر دیا، کہتے ہیں یہ واقعہ حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کے آسمان پر اٹھائے جانے کے تھوڑے عرصے بعد پیش آیا (فتح القدیر) یہ ساری تفصیل تفسیری روایات کی ہے۔
    3. 3 صزم کے معنی ہے کاٹ ڈالنا ،پھل اور کھیتی کا کاٹ دالنا ،مصبحین ضال ہے یعنی صبح ہوتے ہی پھل اتار لیں گے اور پیداوار کاٹ لیں گے۔
  18. وَلَا يَسۡتَثۡنُونَ

    اور انشاءاللہ نہ کہا.

  19. فَطَافَ عَلَيۡهَا طَآئِفٞ مِّن رَّبِّكَ وَهُمۡ نَآئِمُونَ

    پس اس پر تیرے رب کی جانب سے ایک بلا چاروں طرف گھوم گئی اور یہ سو ہی رہے تھے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 بعض کہتے ہیں، راتوں رات اسے آگ لگ گئی، بعض کہتے ہیں، جبرائیل (عليه السلام) نے آکر اسے تہس نہس کر دیا۔
  20. فَأَصۡبَحَتۡ كَٱلصَّرِيمِ

    پس وه باغ ایسا ہو گیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی جس طرح کھیتی کٹنے کے بعد خشک ہو جاتی ہے، اس طرح سارا باغ اجڑ گیا، بعض نے ترجمہ یہ کیا ہے، سیاہ رات کی طرح ہوگیا، یعنی جل کر۔
  21. فَتَنَادَوۡاْ مُصۡبِحِينَ

    اب صبح ہوتے ہی انہوں نے ایک دوسرے کو آوازیں دیں.

  22. أَنِ ٱغۡدُواْ عَلَىٰ حَرۡثِكُمۡ إِن كُنتُمۡ صَٰرِمِينَ

    کہ اگر تمہیں پھل اتارنے ہیں تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی سویرے چل پڑو.

  23. فَٱنطَلَقُواْ وَهُمۡ يَتَخَٰفَتُونَ

    پھر یہ سب چپکے چپکے یہ باتیں کرتے ہوئے چلے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی باغ کی طرف جانے کے لئے ایک تو صبح صبح نکلے دوسرے آہستہ آہستہ باتیں کرتے ہوئے گئے تاکہ کسی کو ان کے جانے کا علم نہ ہو۔
  24. أَن لَّا يَدۡخُلَنَّهَا ٱلۡيَوۡمَ عَلَيۡكُم مِّسۡكِينٞ

    کہ آج کے دن کوئی مسکین تمہارے پاس نہ آنے پائے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی وہ ایک دوسرے کو کہتے رہے کہ آج کوئی باغ میں آکر ہم سے کچھ نہ مانگے جس طرح ہمارے باپ کے زمانے میں آیا کرتے تھے اور وہ اپنا حصہ لے جاتے تھے۔
  25. وَغَدَوۡاْ عَلَىٰ حَرۡدٖ قَٰدِرِينَ

    اور لپکے ہوئے صبح صبح گئے۔ (سمجھ رہے تھے) کہ ہم قابو پاگئے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 حَرْدٍ کے ایک معنی تو قوت و شدت 'کیے گئے ہیں جس کو مترجم مرحوم نے ”لپکے ہوئے“ سے تعبیر کیا ہے ۔بعض نے غصہ اور حسد کئے ہیں 'یعنی مساکین پر غیظ و غضب کا اظہار یا حسد کرتے ہوئے قادرین حال ہےیعنی اپنے معاملے کا انہوں نے اندازہ کر لیا، یا اپنے ارادے سے انہوں نے باغ پر قدرت حاصل کر لی، یا مطلب ہے مساکین پر انہوں نے قابو پا لیا۔
  26. فَلَمَّا رَأَوۡهَا قَالُوٓاْ إِنَّا لَضَآلُّونَ

    جب انہوں نے باغ دیکھا1 تو کہنے لگے یقیناً ہم راستہ2 بھول گئے.

    مترجم کے حواشی (2)
    1. 1 یعنی باغ والی جگہ کو راکھ کا ڈھیر یا اسے تباہ برباد دیکھا۔
    2. 2 یعنی پہلے پہل تو ایک دوسرے کو کہا۔
  27. بَلۡ نَحۡنُ مَحۡرُومُونَ

    نہیں نہیں بلکہ ہماری قسمت پھوٹ گئی.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 پھر جب غور کیا تو جان گئے کہ یہ آفت زدہ اور تباہ شدہ باغ ہمارا ہی ہے جسے اللہ نے ہمارے طرز عمل کی پاداش میں ایسا کر دیا اور واقعی یہ ہماری بد نصیبی ہے۔ٍ
  28. قَالَ أَوۡسَطُهُمۡ أَلَمۡ أَقُل لَّكُمۡ لَوۡلَا تُسَبِّحُونَ

    ان سب میں جو بہتر تھا اس نے کہا کہ میں تم سے نہ کہتا تھا کہ تم اللہ کی پاکیزگی کیوں نہیں بیان کرتے؟1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 بعض نے تسبیح سے مراد ان شاء اللہ کہنا مراد لیا ہے۔
  29. قَالُواْ سُبۡحَٰنَ رَبِّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَٰلِمِينَ

    تو سب کہنے لگے ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم ہی ﻇالم تھے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی اب انہیں احساس ہوا کہ ہم نے اپنے باپ کے طرز عمل کے خلاف قدم اٹھا کر غلطی کا ارتکاب کیا ہے جس کی سزا اللہ نے ہمیں دی ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ معصیت کا عزم اور اس کے لیے ابتدائی اقدامات بھی ارتکاب معصیت کی طرح جرم ہے جس پر مؤاخذہ ہوسکتا ہے صرف وہ ارادہ معاف ہے جو وسوسے کی حد تک رہتا ہے۔
  30. فَأَقۡبَلَ بَعۡضُهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖ يَتَلَٰوَمُونَ

    پھر وه ایک دوسرے کی طرف رخ کر کے آپس میں ملامت کرنے لگے.

  31. قَالُواْ يَٰوَيۡلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَٰغِينَ

    کہنے لگے ہائے افسوس! یقیناً ہم سرکش تھے.

  32. عَسَىٰ رَبُّنَآ أَن يُبۡدِلَنَا خَيۡرٗا مِّنۡهَآ إِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا رَٰغِبُونَ

    کیا عجب ہے کہ ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے دے ہم تو اب1 اپنے رب سے ہی آرزو رکھتے ہیں.

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 کہتے ہیں کہ انہوں نے آپس میں عہد کیا کہ اب اگر اللہ نے ہمیں مال دیا تو اپنے باپ کی طرح اس میں سے غربا اور مساکین کا حق ادا کریں گے۔ اسلئے ندامت اور توبہ کے ساتھ رب سے امیدیں بھی وابستہ کیں۔
  33. كَذَٰلِكَ ٱلۡعَذَابُۖ وَلَعَذَابُ ٱلۡأٓخِرَةِ أَكۡبَرُۚ لَوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ

    یوں ہی آفت آتی ہے1 اور آخرت کی آفت بہت بڑی ہے۔ کاش انہیں سمجھ ہوتی.2

    مترجم کے حواشی (2)
    1. 1 یعنی اللہ کے حکم کی مخالفت اور اللہ کے دیے مال میں بخل کرنے والوں کو ہم دنیا میں اسی طرح عذاب دیتے ہیں۔
    2. 2 لیکن افسوس وہ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے، اس لئے پروا نہیں کرتے۔
  34. إِنَّ لِلۡمُتَّقِينَ عِندَ رَبِّهِمۡ جَنَّٰتِ ٱلنَّعِيمِ

    پرہیزگاروں کے لیے ان کے رب کے پاس نعمتوں والی جنتیں ہیں.

  35. أَفَنَجۡعَلُ ٱلۡمُسۡلِمِينَ كَٱلۡمُجۡرِمِينَ

    کیا ہم مسلمانوں کو مثل گناه گاروں کے کردیں گے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 مشرکین مکہ کہتے تھے کہ اگر قیامت ہوئی تو وہاں بھی ہم مسلمانوں سے بہتر ہی ہونگے، جیسے دنیا میں ہم مسلمانوں سے زیادہ آسودہ حال ہیں۔ اللہ تعالٰی نے ان کے جواب میں فرمایا، یہ کس طرح ممکن ہے ہم مسلمانوں کو یعنی اپنے فرماں برداروں کو مجرموں یعنی نافرمانوں کی طرح کر دیں گے مطلب یہ ہے کہ یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالٰی عدل وانصاف کے خلاف دونوں کو یکساں کردے۔
  36. مَا لَكُمۡ كَيۡفَ تَحۡكُمُونَ

    تمہیں کیا ہوگیا، کیسے فیصلے کر رہے ہو؟

  37. أَمۡ لَكُمۡ كِتَٰبٞ فِيهِ تَدۡرُسُونَ

    کیا تمہارے پاس کوئی کتاب1 ہے جس میں تم پڑھتے ہو؟

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 جس میں یہ بات لکھی ہوئی ہے جس کا تم دعویٰ کر رہے ہو، کہ وہاں بھی تمہارے لئے وہ کچھ ہو جسے تم پسند کرتے ہو۔
  38. إِنَّ لَكُمۡ فِيهِ لَمَا تَخَيَّرُونَ

    کہ اس میں تمہاری من مانی باتیں ہوں؟

  39. أَمۡ لَكُمۡ أَيۡمَٰنٌ عَلَيۡنَا بَٰلِغَةٌ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ إِنَّ لَكُمۡ لَمَا تَحۡكُمُونَ

    یا تم نے ہم سے کچھ قسمیں لی ہیں؟ جو قیامت تک باقی رہیں کہ تمہارے لیے وه سب ہے جو تم اپنی طرف سے مقرر کر لو.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یا ہم نے تم سے پکا عہد کر رکھا ہے، جو قیامت تک باقی رہنے والا ہے کہ تمہارے لئے وہی کچھ ہوگا جس کا تم اپنی بابت فیصلہ کرو گے۔`
  40. سَلۡهُمۡ أَيُّهُم بِذَٰلِكَ زَعِيمٌ

    ان سے پوچھو تو کہ ان میں سے کون اس بات کا ذمہدار (اور دعویدار) ہے؟1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 کہ وہ قیامت والے دن ان کے لئے وہی کچھ فیصلہ کروائے گا، جو اللہ تعالٰی مسلمانوں کے لئے فرمائے گا۔
  41. أَمۡ لَهُمۡ شُرَكَآءُ فَلۡيَأۡتُواْ بِشُرَكَآئِهِمۡ إِن كَانُواْ صَٰدِقِينَ

    کیا ان کے کوئی شریک ہیں؟ تو چاہئے کہ اپنے اپنے شریکوں کو لے آئیں اگر یہ سچے ہیں.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یا جن کو انہوں نے شریک ٹھہرا رکھا ہے وہ ان کی مدد کر کے ان کو اچھا مقام دلوا دیں گے؟ اگر ان کے شریک ایسے ہیں تو ان کو سامنے لائیں تاکہ ان کی صداقت واضح ہو۔
  42. يَوۡمَ يُكۡشَفُ عَن سَاقٖ وَيُدۡعَوۡنَ إِلَى ٱلسُّجُودِ فَلَا يَسۡتَطِيعُونَ

    جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی اور سجدے کے لیے بلائے جائیں گے تو (سجده) نہ کر سکیں گے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 بعض نے کشف ساق سے مراد قیامت کی ہولناکیاں لی ہیں لیکن ایک صحیح حدیث اس کی تفسیر اس طرح بیان ہوئی ہے کہ قیامت والے دن اللہ تعالٰی اپنی پنڈلی کھولے گا (جس طرح اس کی شان کے لائق ہے) تو ہر مومن مرد اور عورت اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیں گے البتہ وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو دکھلاوے اور شہرت کے لئے سجدہ کرتے تھے وہ سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی ریڑھ کی ہڈی کے منکے، تختے کی طرح ایک ہڈی بن جائیں گے جس کی وجہ سے ان کے لئے جھکنا ناممکن ہو جائے گا (صحیح بخاری) اللہ تعالٰی کی پنڈلی کس طرح کی ہوگی؟ اسے وہ کس طرح کھولے گا؟ اس کیفیت ہم نہ جان سکتے ہیں نہ بیان کر سکتے ہیں۔ اس لئے جس طرح ہم بلا کیف و بلاشبہ اس کی آنکھوں، کان، ہاتھ وغیرہ پر ایمان رکھتے ہیں، اسی طرح پنڈلی کا ذکر بھی قرآن اور حدیث میں ہے، اس پر بلاکیف ایمان رکھنا ضروری ہے۔ یہی سلف اور محدثین کا مسلک ہے۔
  43. خَٰشِعَةً أَبۡصَٰرُهُمۡ تَرۡهَقُهُمۡ ذِلَّةٞۖ وَقَدۡ كَانُواْ يُدۡعَوۡنَ إِلَى ٱلسُّجُودِ وَهُمۡ سَٰلِمُونَ

    نگاہیں نیچی ہوں گی اور ان پر ذلت و خواری چھارہی ہوگی1 ، حاﻻنکہ یہ سجدے کے لیے (اس وقت بھی) بلائے جاتے تھے جب کہ صحیح سالم تھے.2

    مترجم کے حواشی (2)
    1. 1 یعنی دنیا کے برعکس ان کا معاملہ ہوگا دنیا میں تکبر وعناد کی وجہ سے ان کی گردنیں اکڑی ہوتی تھیں۔
    2. 2 یعنی صحت مند اور توانا تھے، اللہ کی عبادت میں کوئی چیز ان کے لئے مانع نہیں تھی۔ لیکن دنیا میں اللہ کی عبادت سے یہ دور رہے۔`
  44. فَذَرۡنِي وَمَن يُكَذِّبُ بِهَٰذَا ٱلۡحَدِيثِۖ سَنَسۡتَدۡرِجُهُم مِّنۡ حَيۡثُ لَا يَعۡلَمُونَ

    پس مجھے اور اس کلام کو جھٹلانے والے کو چھوڑ دے1 ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ کھینچیں گے کہ انہیں معلوم بھی نہ ہوگا.2

    مترجم کے حواشی (2)
    1. 1 یعنی میں ہی ان سے نمٹ لوں گا تو ان کی فکر نہ کر.
    2. 2 یہ اسی استدراج (ڈھیل دینے) کا ذکر ہے۔ قرآن میں کئی جگہ بیان کیا گیا ہے اور حدیث میں بھی وضاحت کی گئی ہے کہ نافرمانی کے باوجود دنیاوی مال و اسباب کی فراوانی، اللہ کا فضل نہیں ہے، اللہ کے قانون پھر جب وہ گرفت کرنے پر آتا ہے تو کوئی بچانے والا نہیں ہوتا۔
  45. وَأُمۡلِي لَهُمۡۚ إِنَّ كَيۡدِي مَتِينٌ

    اور میں انہیں ڈھیل دوں گا، بیشک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یہ گزشتہ مضمون ہی کی تاکید ہے ۔کید خفیہ تدبیر اور چال کو کہتے ہیں اچھے مقصد جت کےت یو تو اس میں کوئی برائی نہیں ۔اسے اردو زبان کا کید نہ سمجھا ائے جس میں زم ہی کا مفہوم ہوتا ہے۔
  46. أَمۡ تَسۡـَٔلُهُمۡ أَجۡرٗا فَهُم مِّن مَّغۡرَمٖ مُّثۡقَلُونَ

    کیا تو ان سے کوئی اجرت چاہتا ہے جس کے تاوان سے یہ دبے جاتے ہیں.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یہ خطاب نبی (صلى الله عليه وسلم) کو ہے لیکن سرزنش ان کو کی جا رہی ہے جو آپ پر ایمان نہیں لا رہے تھے۔
  47. أَمۡ عِندَهُمُ ٱلۡغَيۡبُ فَهُمۡ يَكۡتُبُونَ

    یا کیا ان کے پاس علم غیب ہے جسے وه لکھتے ہوں.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی کیا غیب کا علم ان کے پاس ہے لوح محفوظ ان کے تصرف میں ہے کہ اس میں سے جو بات چاہتے ہیں نقل کر لیتے ہیں اس لیے یہ تیری اطاعت اختیار کرنے اور تجھ پر ایمان لانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے اس کا جواب یہ ہے کہ نہیں ایسا نہیں ہے۔
  48. فَٱصۡبِرۡ لِحُكۡمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُن كَصَاحِبِ ٱلۡحُوتِ إِذۡ نَادَىٰ وَهُوَ مَكۡظُومٞ

    پس تو اپنے رب کے حکم کا صبر سے (انتظار کر1 ) اور مچھلی والے کی طرح نہ ہو جا جب2 کہ اس نے غم کی حالت میں دعا کی.3

    مترجم کے حواشی (3)
    1. 1 فا صبر میں فاؔء تفریع کے لئے ہے ۔یعنی ھب واقعہ ایسا نہیں ہے تو اے پیغمبر!تو فرحی رسالت ادا کرتا رہاور ان مکذبین کے بارے میں اللہ کے فیصلےکا انتظار کر۔
    2. 2 جنہوں نے اپنی قوم کی روش تکذیب کو دیکھتے ہوئے عجلت سے کام لیا اور رب کے فیصلے کے بغیر ہی از خود اپنی قوم کو چھوڑکر چلے گئے۔
    3. 3 جس کے نتیجے میں انہیں مچھلی کے پیٹ میں، جب کہ وہ غم و اندوہ سے بھرے ہوئے تھے اپنے رب کو مدد کے لئے پکارنا پڑا۔ جیسے کہ تفصیل پہلے گزر چکی ہے،
  49. لَّوۡلَآ أَن تَدَٰرَكَهُۥ نِعۡمَةٞ مِّن رَّبِّهِۦ لَنُبِذَ بِٱلۡعَرَآءِ وَهُوَ مَذۡمُومٞ

    اگر اسے اس کے رب کی نعمت نہ پالیتی تو یقیناً وه برے حالوں میں چٹیل میدان میں ڈال دیا جاتا.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی اگر اللہ تعالٰی انہیں توبہ و مناجات کی توفیق نہ دیتا اور ان کی دعا قبول نہ فرماتا تو ساحل سمندر کے بجائے جہاں ان کے سائے اور خوراک کے لئے بیلدار درخت اگا دیا گیا، کسی بنجر زمین میں پھینک دیا جاتا اور عند اللہ ان کی حیثیت بھی مذموم رہتی، جب کہ قبولیت دعا کے بعد وہ محمود ہوگئے۔
  50. فَٱجۡتَبَٰهُ رَبُّهُۥ فَجَعَلَهُۥ مِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ

    اسے اس کے رب نے پھر نوازا1 اور اسے نیک کاروں میں کر دیا.2

    مترجم کے حواشی (2)
    1. 1 اس کا مطلب ہے کہ انہیں توانا اور تندرست کرنے کے بعد دوبارہ رسالت سے نواز کر انہیں اپنی قوم کی طرف بھیجا گیا، جیسا کہ (سورۂ صافات:146) سے بھی واضح ہے۔
    2. 2 اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے کہ کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔(صحیح مسلم ،کتاب الفضائل باب فی ذکر یونس)
  51. وَإِن يَكَادُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَيُزۡلِقُونَكَ بِأَبۡصَٰرِهِمۡ لَمَّا سَمِعُواْ ٱلذِّكۡرَ وَيَقُولُونَ إِنَّهُۥ لَمَجۡنُونٞ

    اور قریب ہے کہ کافر اپنی تیز نگاہوں سے آپ کو پھسلا دیں1 ، جب کبھی قرآن سنتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں یہ تو ضرور دیوانہ ہے.2

    مترجم کے حواشی (2)
    1. 1 یعنی اگر تجھے اللہ کی حمائت و حفاظت نہ ہوتی تو کفار کی حاسدانہ نظروں سے نظر بد کا شکار ہو جانا یعنی ان کی نظر تمہیں لگ جاتی۔ چنانچہ امام ابن کثیر نے یہ مفہوم بیان کیا، مذید لکھتے ہیں ' یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نظر کا لگ جانا اور اس کا دوسروں پر، اللہ کے حکم سے، اثر انداز ہونا، حق ہے۔ جیسا کہ متعدد احادیث سے بھی ثابت ہے۔ چنانچہ حدیث میں اس سے بچنے کے لیے دعائیں بھی بیان کی گئی ہیں اور یہ بھی تاکید کی گئی ہے کہ جب تمہیں کوئی چیز اچھی لگے تو ماشاء اللہ یا بارک اللہ کہا کرو تاکہ اسے نظر نہ لگے۔اسی طرح کسی کو نظر لگ جائے رو فرمای ، اسے غسل کروا کے اس کا پانی اس شخص پر ڈالا جائے جس کو اس کی نظرلگی ہے(تفصیل کے لئے دیکھئے تفسیر ابن کثیر اور کتب حدیث)اس کا مطلب یہ بیا کیا ہے کہ یہ تجھے تبلیغرسالت سے پھیر دیتے۔
    2. 2 یعنی حسد کے طور پر بھی اور اس غرض سے بھی کہ لوگ اس قرآن سے متاثر نہ ہوں بلکہ اس سے دور ہی رہیں آنکھوں کے ذریعے سے بھی یہ کفار نبی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے اور زبانوں سے بھی آپ کو دیوانہ کہہ کر ایذاء پہنچاتے اور آپ کے دل کو مجروح کرتے۔
  52. وَمَا هُوَ إِلَّا ذِكۡرٞ لِّلۡعَٰلَمِينَ

    در حقیقت یہ (قرآن) تو تمام جہان والوں کے لیے سراسر نصیحت ہی ہے.1

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 جب واقعہ یہ ہے کہ یہ قرآن جن و انس کی ہدایت و رہنمائی کے لئے آیا ہے تو پھر اس کو لانے والا اور بیان کرنے والا مجنون (دیوانہ) کس طرح ہو سکتا ہے؟
0/52
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
عبدالله المطرود القلم 68:1 0:00 0:00

Abdullah al-Matroud کی مزید سورتیں

دوسرے قاری

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play