الواقعہ الواقعة · Mahmoud Khalil al-Husary
Mahmoud Khalil al-Husary کی آواز میں آیات: 96 حفص عن عاصم مجود
ترجمہ: Muhammad Junagarhi
مطالعے کی ترتیبات
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
-
وَٱلسَّٰبِقُونَ ٱلسَّٰبِقُونَ
اور جو آگے والے ہیں وه تو آگے والے ہی ہیں.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 ان سےمراد خواص مومنین ہیں، یہ تیسری قسم ہے جوایمان قبول کرنے میں سبقت کرنے اور نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لینے والے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو قرب خاص سےنوازے گا، یہ ترکیب ایسے ہی ہے، جیسے کہتے ہیں، تو تو ہے اور زید زید، اس میں گویا زید کی اہمیت اور فضیلت کا بیان ہے۔
-
وَقَلِيلٞ مِّنَ ٱلۡأٓخِرِينَ
اور تھوڑے سے پچھلے لوگوں میں سے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 ثُلَّةٌ، اس بڑے گروہ کو کہا جاتا ہے جس کا گننا ناممکن ہو۔ کہا جاتا ہے کہ اولین سےمراد حضرت آدم (عليه السلام) سے لے کر نبی ﹲ تک کی امت کےلوگ ہیں اور آخرین سے امت محمدیہ کے افراد۔ مطلب یہ ہے کہ پچھلی امتوں میں سابقین کا ایک بڑا گروہ ہے، کیونکہ ان کا زمانہ بہت لمبا ہے جس میں ہزاروں انبیا کے سابقین شامل ہیں ان کے مقابلے میں امت محمدیہ کا زمانہ (قیامت تک) تھوڑا ہے، اس لیے ان میں سابقین بھی بہ نسبت گزشتہ امتوں کے تھوڑے ہوں گے۔ اور ایک حدیث میں آتا ہے۔ جس میں نبی ﹲ نے فرمایا ہے کہ مجھے امید ہے کہ تم جنتیوں کا نصف ہو گے (صحیح مسلم، نمبر 200) تو یہ آیت کے مذکورہ مفہوم کےمخالف نہیں۔ کیونکہ امت محمدیہ کہ سابقین اور عام مومنین ملا کر باقی تمام امتوں سے جنت میں جانے والوں کا نصف ہو جائیں گے، اس لیے محض سابقین کی کثرت (سابقہ امتوں میں) سے حدیث میں بیان کردہ تعداد کی نفی نہیں ہو گی۔ مگریہ قول محل نظر ہے اور بعض نے اولین وآخرین سے اسی امت محمدیہ کے افراد مراد لیے ہیں۔ یعنی اس کے پہلے لوگوں میں سابقین کی تعداد زیادہ اور پچھلے لوگوں میں تھوڑی ہوگی۔ امام ابن کثیر نے اسی دوسرے قول کو ترجیح دی ہے۔ اوریہی زیادہ درست معلوم ہوتا ہے یہ جملہ معترضہ ہے، فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ اور عَلَى سُرُرٍ مَوْضُونَةٍ کے درمیان۔
-
بِأَكۡوَابٖ وَأَبَارِيقَ وَكَأۡسٖ مِّن مَّعِينٖ
آبخورے اور جگ لے کر اور ایسا جام لے کر جو بہتی ہوئی شراب سے پر ہو.
-
لَّا يُصَدَّعُونَ عَنۡهَا وَلَا يُنزِفُونَ
جس سے نہ سر میں درد ہو نہ عقل میں فتور آئے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 صُدَاعٌ، ایسے سر درد کو کہتے ہیں جو شراب کےنشے اور خمار کی وجہ سے ہو اور إِنْزَافٌ کے معنی، وہ فتور عقل جو مدہوشی کی بنیاد پر ہو۔ دنیا کی شراب کے نتیجے میں یہ دونوں چیزیں ہوتی ہیں، آخرت کی شراب میں سرور اور لذت تو یقیناً ہو گی لیکن یہ خرابیاں نہیں ہوں گی۔ معین، چشمہ جاری جو خشک نہ ہو۔
-
إِلَّا قِيلٗا سَلَٰمٗا سَلَٰمٗا
صرف سلام ہی سلام کی آواز ہوگی.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی دنیامیں تو باہم لڑائی جھگڑے ہی ہوتے ہیں، حتیٰ کہ بہن بھائی بھی اس سے محفوظ نہیں، اس اختلاف و نزاع سے دلوں میں کدورتیں اور بغض و عنادپیدا ہوتا ہے جو ایک دوسرےکے خلاف بدزبانی، سب وشتم، غیبت اور چغل خوری وغیرہ پر انسان کو آمادہ کرتا ہے۔ جنت ان تمام اخلاقی گندگیوں اور بےہودگیوں سے نہ صرف پاک ہوگی، بلکہ وہاں سلام ہی سلام کی آوازیں سننے میں آئیں گی، فرشتوں کی طرف سے بھی اور آپس میں اہل جنت کی طرف سے بھی۔ جس کا مطلب ہے کہ وہاں سلام و تحیہ توہو گا۔ لیکن دل اور زبان کی وہ خرابیاں نہیں ہوں گی جو دنیامیں عام ہیں حتیٰ کہ بڑے بڑے دین دار بھی ان سے محفوظ نہیں۔
-
لَّا مَقۡطُوعَةٖ وَلَا مَمۡنُوعَةٖ
جو نہ ختم ہوں نہ روک لیے جائیں.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی یہ پھل موسمی نہیں ہوں گے کہ موسم گزر گیا تو یہ پھل بھی آئندہ فصل تک ناپید ہو جائیں، یہ پھل اس طرح فصل گل ولالہ کے پابند نہیں ہوں گے، بلکہ بہار و خزاں اور گرمی و سردی ہر موسم میں دستیاب ہوں گے۔ اس طرح ان کے حصول میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔
-
فَجَعَلۡنَٰهُنَّ أَبۡكَارًا
اور ہم نے انہیں کنواریاں بنا دیا ہے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 أَنْشَأْنَاهُنَّ کا مرجع اگرچہ قریب میں نہیں ہے لیکن سیاق کلام اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس سے مراد اہل جنت کو ملنے والی بیویاں اور حور عین ہیں۔ حوریں، ولادت کے عام طریقے سے پیدا شدہ نہیں ہوں گی، بلکہ اللہ تعالیٰ خاص طور پر انہیں جنت میں اپنی قدرت خاص سے بنائے گا، اور جو دنیاوی عورتیں ہوں گی، تو و ہ بھی حوروں کے علاوہ اہل جنت کو بیویوں کے طور پر ملیں گی، ان میں بوڑھی، کالی، بدشکل، جس طرح کی بھی ہوں گی، سب کو اللہ تعالی ﺀ جنت میں جوانی اور حسن وجمال سے نواز دے گا، نہ کوئی بوڑھی،بوڑھی رہے گی، نہ کوئی بدشکل، بدشکل بلکہ سب باکرہ (کنواری) کی حیثیت میں ہوں گی۔
-
عُرُبًا أَتۡرَابٗا
محبت والیاں اور ہم عمر ہیں.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 عُرُبٌ عَرُوبَةٌ کی جمع ہے۔ ایسی عورت جو اپنے حسن وجمال اور دیگر محاسن کی وجہ سے خاوند کو نہایت محبوب ہو۔ أَتْرَابٌ تِرْبٌ کی جمع ہے۔ ہم عمر، یعنی سب عورتیں جو اہل جنت کو ملیں گی، ایک ہی عمر کی ہوں گی، جیساکہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ سب جنتی 33 سال کی عمر کےہوں گے، (سنن ترمذي، باب ما جاء في سن أهل الجنة) یا مطلب ہےکہ خاوندوں کی ہم عمر ہوں گی۔ مطلب دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے۔
-
وَظِلّٖ مِّن يَحۡمُومٖ
اورسیاه دھوئیں کے سائے میں.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 سَمُومٍ، آگ کی حرارت یاگرم ہوا جو مسام بدن میں گھس جائے۔ حَمِيمٍ، کھولتا ہوا پانی، يَحْمُومٍ، حِمَمَةٌ سے ہے، بمعنی سیاہ، اور احم بہت زیادہ سیاہ چیز ہو تو کہا جاتا ہے، يَحْمُومٍ کے معنی سخت کالا دھواں مطلب یہ ہے کہ جہنم کے عذاب سے تنگ آ کر وہ ایک سائے کی طرف دوڑیں گے، لیکن جب وہاں پہنچیں گے تو معلوم ہوگا کہ یہ سایہ نہیں ہے، جہنم ہی کی آگ کا سخت سیاہ دھواں ہے۔ بعض کہتےہیں کہ یہ حَمٌّ سے ہے جو اس چربی کو کہتے ہیں جوآ گ میں جل جل کر سیاہ ہو گئی ہو۔ بعض کہتے ہیں، یہ حِمَمٌ سے ہے، جو کوئلے کےمعنی میں ہے۔ اسی لیے امام ضحاک فرماتے ہیں۔ آگ بھی سیاہ ہے، اہل نار بھی سیاہ رو ہوں گے۔ اور جہنم میں جو کچھ بھی ہوگا۔ ، سیاہ ہی ہو گا۔ اللَّهُمَّ أَجِرْنَا مِنَ النَّارِ۔
-
وَكَانُواْ يَقُولُونَ أَئِذَا مِتۡنَا وَكُنَّا تُرَابٗا وَعِظَٰمًا أَءِنَّا لَمَبۡعُوثُونَ
اور کہتے تھے کہ کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈی ہو جائیں گے تو کیا ہم پھر دوباره اٹھا کھڑے کیے جائیں گے.
-
أَوَءَابَآؤُنَا ٱلۡأَوَّلُونَ
اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی؟1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 اس سے معلوم ہوا کہ عقیدۂ آخرت کا انکار ہی کفر وشرک اور معاصی میں ڈوبے رہنےکا بنیادی سبب ہے . یہی وجہ ہے کہ جب آخرت کاتصور، اس کے ماننے والوں کے ذہنوں میں دھندلا جاتا ہے، تو ان میں بھی فسق و فجور عام ہو جاتا ہے۔ جیسے آج کل عام مسلمانوں کاحال ہے۔
-
فَشَٰرِبُونَ شُرۡبَ ٱلۡهِيمِ
پھر پینے والے بھی پیاسے اونٹوں کی طرح.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 هِيمٌ ، أَهْيَمُ کی جمع ہے، ان پیاسے اونٹوں کو کہا جاتا ہے جو ایک خاص بیماری کی وجہ سے پانی پر پانی پیئے جاتے ہیں لیکن ان کی پیاس نہیں بجھتی۔ مطلب یہ ہے کہ زقوم کھانے کے بعد بھی اس طرح نہیں پیو گے جس طرح عام معمول ہوتا ہے، بلکہ ایک تو بطور عذاب کے تمہیں پینے کےلیے کھولتاہوا پانی ملے گا۔ دوسرا تم اسے پیاسے اونٹوں کی طرح پیئے جاؤ گے لیکن تمہاری پیاس دور نہیں ہوگی۔
-
هَٰذَا نُزُلُهُمۡ يَوۡمَ ٱلدِّينِ
قیامت کے دن ان کی مہمانی یہ ہے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یہ بطور استہزا اور تہکم کے فرمایا، ورنہ مہمانی تو وہ ہوتی ہے جو مہمان کی عزت کے لیےتیار کی جاتی ہے۔ یہ ایسے ہی ہےجیسے بعض مقام پر فرمایا: «فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ» (آل عمران: 21) ”ان کو دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دیجیئے“۔
-
عَلَىٰٓ أَن نُّبَدِّلَ أَمۡثَٰلَكُمۡ وَنُنشِئَكُمۡ فِي مَا لَا تَعۡلَمُونَ
کہ تمہاری جگہ تم جیسے اور پیدا کر دیں اور تمہیں نئے سرے سے اس عالم میں پیدا کریں جس سے تم (بالکل) بےخبر ہو.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی تمہاری صورتیں مسخ کر کے تمہیں بندر اور خنزیر بنادیں اور تمہاری جگہ تمہاری شکل و صورت کی کوئی اور مخلوق پیداکردیں۔
-
ءَأَنتُمۡ تَزۡرَعُونَهُۥٓ أَمۡ نَحۡنُ ٱلزَّٰرِعُونَ
اسے تم ہی اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی زمین میں تم جو بیج بوتے ہو، اس سے ایک درخت زمین کے اوپر نمودار ہو جاتا ہے۔ غلے کے ایک بےجان دانے کوپھاڑ کر اور زمین کے سینے کو چیر کو اس طرح درخت اگانے والا کون ہے؟ یہ بھی منی کے قطرے سے انسان بنا دینے کی طرح ہماری ہی قدرت کا شاہکار ہے۔ یا تمہارے کسی ہنر یا چھو منتر کانتیجہ ہے؟
-
لَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنَٰهُ حُطَٰمٗا فَظَلۡتُمۡ تَفَكَّهُونَ
اگر ہم چاہیں تواسے ریزه ریزه کر ڈالیں اور تم حیرت کے ساتھ باتیں بناتے ہی ره جاؤ.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی کھیتی کو سرسبز وشاداب کرنےکے بعد، جب وہ پکنے کے قریب ہو جائے توہم اگر چاہیں تو اسے خشک کر کے ریزہ ریزہ کردیں اور تم حیرت سے منہ ہی تکتے رہ جاؤ۔ تَفَكُّهٌ اضداد میں سے ہے اس کے معنی نعمت وخوش حالی بھی ہیں اور حزن ویاس بھی۔ یہاں دوسرے معنی مراد ہیں، اس کے مختلف معانی کیے گئے ہیں، تُنَوِّعُونَ كَلامَكُمْ ، تَنْدَمُونَ ، تَحْزَنُونَ ، تَعْجَبُونَ ، تَلاوَمُونَ، اور تَفْجَعُونَ وغیرہ۔ ظَلْتُمْ، اصل میں ظَلَلْتُم بمعنی صِرْتُمْ اور تَفَكَّهُونَ، تَتَفَكَّهُونَ ہے۔
-
إِنَّا لَمُغۡرَمُونَ
کہ ہم پر تو تاوان ہی پڑ گیا.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی ہم نے پہلے زمین پر ہل چلا کر اسے ٹھیک کیا پھر بیج ڈالا، پھر اسے پانی دیتے رہے، لیکن جب فصل کے پکنے کا وقت آیا تو وہ خشک ہو گئی، اور ہمیں کچھ بھی نہ ملا یعنی یہ سارا خرچ اور محنت، ایک تاوان ہی ہوا جو ہمیں برداشت کرنا پڑا۔ تاوان کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ انسان کو اس کے مال یا محنت کامعاوضہ نہ ملے، بلکہ وہ یوں ہی ضائع ہو جائے یا زبردستی اس سے کچھ موصول کر لیا جائے۔ اور اس کےبدلے میں اسے کچھ نہ دیا جائے۔
-
ءَأَنتُمۡ أَنزَلۡتُمُوهُ مِنَ ٱلۡمُزۡنِ أَمۡ نَحۡنُ ٱلۡمُنزِلُونَ
اسے بادلوں سے بھی تم ہی اتارتے ہو یا ہم برساتے ہیں؟
-
نَحۡنُ جَعَلۡنَٰهَا تَذۡكِرَةٗ وَمَتَٰعٗا لِّلۡمُقۡوِينَ
ہم نے اسے سبب نصیحت1 اور مسافروں کے فائدے کی چیز بنایا ہے.2
مترجم کے حواشی (2)
- 1 کہ اس کے اثرات اور فوائد حیرت انگیز ہیں اور دنیاکی بےشمار چیزوں کی تیاری کے لیے اسے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ جو ہماری قدرت عظیمہ کی نشانی ہے، پھر ہم نے جس طرح دنیامیں یہ آگ پیدا کی ہے، ہم آخرت میں بھی پیدا کرنے پر قادر ہیں۔ جو اس سے 69 درجہ حرارت میں زیادہ ہو گی۔ (كَمَا فِي الْحَدِيثِ)۔
- 2 مُقْوِينَ، مُقْوٍ کی جمع ہے، قَوَاءٌ یعنی خالی صحرا میں داخل ہونے والا، مراد مسافر ہے۔ یعنی مسافر صحراؤں اور جنگلوں میں ان درختوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اس سے روشنی، گرمی اور ایندھن حاصل کرتے ہیں۔ بعض نے مُقْوٍ سے وہ فقرا مراد لیےہیں جو بھوک کی وجہ سے خالی پیٹ ہوں۔ بعض نے اس کی معنی مُسْتَمْتِعِينَ (فائدہ اٹھانے والے) کیے ہیں۔ اس میں امیر ، غریب، مقیم اور مسافر سب آ جاتے ہیں اور سب ہی آگ سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اسی لیے حدیث میں جن تین چیزوں کو عام رکھنے کا اوران سے کسی کو نہ روکنے کا حکم دیا گیا ہے، ان میں پانی اورگھاس کے علاوہ آگ بھی ہے، (أبو داود، كتاب البيوع، باب في منع الماء ، وسنن ابن ماجه، كتاب الرهون، باب المسلمون شركاء في ثلاث) امام ابن کثیر نے اس مفہوم کو زیادہ پسندکیا ہے۔
-
۞ فَلَآ أُقۡسِمُ بِمَوَٰقِعِ ٱلنُّجُومِ
پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 فَلا أُقْسِمُ میں ”لا“ زائد ہے جو تاکید کے لیے ہے۔ یا یہ زائد نہیں ہے۔ بلکہ ماقبل کی کسی چیز کی نفی کےلیے ہے۔ یعنی یہ قرآن کہانت یا شاعری نہیں ہے بلکہ میں ستاروں کے گرنے کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ قرآن عزت والا ہے . . . مَوَاقِعُ النُّجُومِ سے مراد ستاروں کے طلوع و غروب کی جگہیں اور ان کی منزلیں اور مدارہیں، بعض نے ترجمہ کیا ہے ”قسم کھاتا ہوں آیتوں کے اترنے کی پیغمبروں کے دلوں میں“ (موضح القرآن) یعنی نجوم، قرآن کی آیات اور مواقع، قلوب انبیا۔ بعض نے اس کا مطلب قرآن کا آہستہ آہستہ بتدریج اترنا اور بعض نے قیامت والے ستاروں کا جھڑنا مراد لیا ہے۔ (ابن کثیر)۔
-
لَّا يَمَسُّهُۥٓ إِلَّا ٱلۡمُطَهَّرُونَ
جسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 لا يَمَسُّهُ، میں ضمیر کا مرجع لوح محفوط ہے اور پاک لوگوں سے مراد فرشتے، بعض نے اس کا مرجع، قرآن کریم کو بنایا ہے یعنی اس قرآن کو فرشتے ہی چھوتےہیں، یعنی آسمانوں پر فرشتوں کے علاوہ کسی کی بھی رسائی اس قرآن تک نہیں ہوتی۔ مطلب مشرکین کی تردید ہے جو کہتے تھے کہ قرآن شیاطین لے کر اترتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا یہ کیونکر ممکن ہے یہ قرآن تو شیطانی اثرات سے بالکل محفوظ ہے۔
-
أَفَبِهَٰذَا ٱلۡحَدِيثِ أَنتُم مُّدۡهِنُونَ
پس کیا تم ایسی بات کو سرسری (اور معمولی) سمجھ رہے ہو؟1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 حدیث سے مراد قرآن کریم ہے مُدَاهَنَةٌ، وہ نرمی جو کفر ونفاق کے مقابلے میں اختیار کی جائے۔ دراں حالیکہ ان کے مقابلے میں سخت تر رویے کی ضرورت ہے۔ یعنی اس قرآن کو اپنانے کے معاملےمیں تمام کافروں کو خوش کرنے کے لیے نرمی اور اعراض کا راستہ اختیار کر رہے ہو۔ حالانکہ یہ قرآن جو مذکورہ صفات کا حامل ہے، اس لائق ہے کہ اسے نہایت خوشی سے اپنایا جائے۔
-
وَنَحۡنُ أَقۡرَبُ إِلَيۡهِ مِنكُمۡ وَلَٰكِن لَّا تُبۡصِرُونَ
ہم اس شخص سے بہ نسبت تمہارے بہت زیاده قریب ہوتے ہیں1 لیکن تم نہیں دیکھ سکتے.2
مترجم کے حواشی (2)
- 1 یعنی مرنے والے کے ہم، تم سے بھی زیادہ قریب ہوتےہیں۔ اپنے علم، قدرت اور رؤیت کے اعتبار سے۔ یا ہم سے مراد اللہ کے کارندے یعنی موت کے فرشتے ہیں جو اس کی روح قبض کرتےہیں۔
- 2 یعنی اپنی جہالت کی وجہ سے تمہیں اس بات کا ادراک نہیں کہ اللہ تو تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے یا روح قبض کرنے والے فرشتوں کو تم دیکھ نہیں سکتے۔
-
تَرۡجِعُونَهَآ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
اور اس قول میں سچے ہو تو (ذرا) اس روح کو تو لوٹاؤ.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 دَانَ يَدِينُ کے معنی ہیں، ماتحت ہونا، دوسرے معنی ہیں بدلہ دینا۔ یعنی اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ کوئی تمہارا آقا اور مالک نہیں جس کے تم زیرفرمان اور ماتحت ہو یاکوئی جزا سزا کا دن نہیں آئے گا، تو اس قبض کی ہوئی روح کو اپنی جگہ پر واپس لوٹا کر دکھاو اور اگرتم ایسا نہیں کر سکتے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ تمہارا گمان باطل ہے۔ یقیناً تمہارا ایک آقا ہے اور یقیناً ایک دن آئے گا جس میں وہ آقا ہر ایک کو اس کے عمل کی جزادے گا۔
-
فَأَمَّآ إِن كَانَ مِنَ ٱلۡمُقَرَّبِينَ
پس جو کوئی بارگاه الٰہی سے قریب کیا ہوا ہوگا.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 سورت کے آغاز میں اعمال کےلحاظ سے انسانوں کی جو تین قسمیں بیان کی گئیں تھیں، ان کا پھر ذکر کیا جا رہا ہے۔ یہ ان کی پہلی قسم ہے جنہیں مقربین کے علاوہ سابقین بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ وہ نیکی کے ہرکام میں آگے آگے ہوتے ہیں اور قبول ایمان میں بھی دوسروں سے سبقت کرتے ہیں اور اپنی اسی خوبی کی وجہ سے وہ مقربین بارگاہ الٰہی قرار پاتے ہیں۔
-
فَسَلَٰمٞ لَّكَ مِنۡ أَصۡحَٰبِ ٱلۡيَمِينِ
تو بھی سلامتی ہے تیرے لیے کہ تو داہنے والوں میں سے ہے.
-
وَأَمَّآ إِن كَانَ مِنَ ٱلۡمُكَذِّبِينَ ٱلضَّآلِّينَ
لیکن اگر کوئی جھٹلانے والوں گمراہوں میں سے ہے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یہ تیسری قسم ہے جنہیں آغازسورت میں أَصْحَابُ الْمَشْئَمَة ِکہا گیا تھا، بائیں ہاتھ والے یا حاملین نحوست۔ یہ اپنے کفر ونفاق کی سزا یا اس کی نحوست عذاب جہنم کی صورت میں بھگتیں گے۔
-
فَسَبِّحۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ ٱلۡعَظِيمِ
پس تواپنے عظیم الشان پروردگار کی تسبیح کر.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 حدیث میں آتا ہے کہ دو کلمے اللہ کو بہت محبوب ہیں، زباں پر ہلکے اور وزن میں بھاری۔ سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِه سَبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ (صحيح بخاري آخری حدیث وصحيح مسلم كتاب الذكر ، باب فضل التهليل والتسبيح والدعاء)۔
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
Mahmoud Khalil al-Husary کی مزید سورتیں
دوسرے قاری
- الواقعہ · Mishary Alafasy
- الواقعہ · AbdulBaset (Murattal)
- الواقعہ · AbdulBaset AbdulSamad
- الواقعہ · Minshawi (Murattal)
- الواقعہ · As-Sudais
- الواقعہ · Abu Bakr ash-Shatri
- الواقعہ · Hani ar-Rifai
- الواقعہ · Mahmoud Khalil al-Husary
- الواقعہ · Maher al-Muaiqly
- الواقعہ · Saud ash-Shuraym
- الواقعہ · Saad al-Ghamdi
- الواقعہ · Ali Abdur-Rahman al-Hudhaify
- الواقعہ · Abdullah Basfar
- الواقعہ · Ahmed ibn Ali al-Ajamy
- الواقعہ · Muhammad Ayyoub
- الواقعہ · Muhammad Jibreel
- الواقعہ · Ibrahim al-Akhdar
- الواقعہ · Ayman Suwaid
- الواقعہ · Shahriar Parhizgar
- الواقعہ · Mahmoud Khalil al-Husary
- الواقعہ · Muhammad Siddiq al-Minshawi
- الواقعہ · Mohammad al-Tablawi
- الواقعہ · Khalifa al-Tunaiji
- الواقعہ · Abdullah Awad al-Juhani
- الواقعہ · Nasser al-Qatami
- الواقعہ · Fares Abbad
- الواقعہ · Salah al-Budair
- الواقعہ · Salah Bukhatir
- الواقعہ · Abdullah al-Matroud
- الواقعہ · Abdul Mohsen al-Qasim
- الواقعہ · Ali Jaber
- الواقعہ · Khalid Abdullah al-Qahtani
- الواقعہ · Mahmoud Ali al-Banna
- الواقعہ · Sahl Yasin
- الواقعہ · Ahmad Nauina
- الواقعہ · Akram al-Alaqmi
- الواقعہ · Ali Hajjaj al-Suwaisi
- الواقعہ · Aziz Alili
- الواقعہ · Yasser Salamah
- الواقعہ · Nabil ar-Rifai
- الواقعہ · Muhammad AbdulKareem
- الواقعہ · Karim Mansoori