الصف الصف · As-Sudais
As-Sudais کی آواز میں آیات: 14 حفص عن عاصم مرتل
ترجمہ: Muhammad Junagarhi
مطالعے کی ترتیبات
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
-
سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۖ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ
زمین وآسمان کی ہر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے اور وہی غالب حکمت واﻻ ہے.
-
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفۡعَلُونَ
اے ایمان والو1 ! تم وه بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں.
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یہاں ندا اگرچہ عام ہے لیکن اصل خطاب ان مومنوں سے ہے جو کہہ رہے تھے کہ ہمیں أَحَبُّ الأَعْمَالِ کا علم ہو جائے تو ہم انہیں کریں، لیکن جب انہیں بعض پسندیدہ عمل بتلائے گئے تو سست ہوگئے۔ اس لیے ایسے لوگوں کو توبیخ کی جارہی ہے کہ خیر کی جو باتیں کہتے ہو، کرتے کیوں نہیں ہو، جو بات منہ سے نکالتے ہو، اسے پورا کیوں نہیں کرتے؟ جو زبان سے کہتے ہو، اس کی پاسداری کیوں نہیں کرتے؟
-
إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلَّذِينَ يُقَٰتِلُونَ فِي سَبِيلِهِۦ صَفّٗا كَأَنَّهُم بُنۡيَٰنٞ مَّرۡصُوصٞ
بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راه میں صف بستہ جہاد کرتے ہیں گویا وه سیسہ پلائی ہوئی عمارت ہیں.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یہ جہاد کا ایک انتہائی نیک عمل بتلایا گیا جو اللہ کو بہت محبوب ہے۔
-
وَإِذۡ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوۡمِهِۦ يَٰقَوۡمِ لِمَ تُؤۡذُونَنِي وَقَد تَّعۡلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيۡكُمۡۖ فَلَمَّا زَاغُوٓاْ أَزَاغَ ٱللَّهُ قُلُوبَهُمۡۚ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡفَٰسِقِينَ
اور (یاد کرو) جبکہ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم کے لوگو! تم مجھے کیوں ستا رہے ہو حاﻻنکہ تمہیں (بخوبی) معلوم ہے کہ میں تمہاری جانب اللہ کا رسول ہوں1 پس جب وه لوگ ٹیڑھے ہی رہے تو اللہ نے ان کے دلوں کو (اور) ٹیڑھا کر دیا2، اور اللہ تعالیٰ نافرمان قوم کو ہدایت نہیں دیتا.
مترجم کے حواشی (2)
- 1 یہ جانتے ہوئے بھی کہ حضرت موسیٰ (عليه السلام) اللہ کے سچے رسول ہیں، بنی اسرائیل انہیں اپنی زبان سے ایذا پہنچاتے تھے، حتیٰ کہ بعض جسمانی عیوب ان کی طرف منسوب کرتے تھے، حالانکہ وہ بیماری ان کے اندر نہیں تھی۔
- 2 یعنی علم کے باوجود حق سے اعراض کیا اور حق کے مقابلے میں باطل کو خیر کے مقابلے میں شرکو اور ایمان کے مقابلے میں کفر کو اختیار کیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی سزا کے طور پر ان کے دلوں کو مستقل طور پر ہدایت سے پھیر دیا۔ کیونکہ یہی سنت اللہ چلی آرہی ہے۔ کفر وضلالت پر دوام واستمرار ہی دلوں پر مہر لگنے کا باعث ہوتا ہے، پھر فسق ، کفر اور ظلم اس کی طبیعت اور عادت بن جاتی ہے، جس کو کوئی بدلنے پر قادر نہیں ہے۔ اسی لیے آگے فرمایا، اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو اپنی سنت کے مطابق گمراہ کیا ہوتا ہے، اب کون اسے ہدایت دے سکتا ہے جسے اس طریقے سے اللہ نے گمراہ کیا ہو؟
-
وَإِذۡ قَالَ عِيسَى ٱبۡنُ مَرۡيَمَ يَٰبَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ إِنِّي رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيۡكُم مُّصَدِّقٗا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيَّ مِنَ ٱلتَّوۡرَىٰةِ وَمُبَشِّرَۢا بِرَسُولٖ يَأۡتِي مِنۢ بَعۡدِي ٱسۡمُهُۥٓ أَحۡمَدُۖ فَلَمَّا جَآءَهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ قَالُواْ هَٰذَا سِحۡرٞ مُّبِينٞ
اور جب مریم کے بیٹے عیسیٰ نے کہا اے (میری قوم)، بنی اسرائیل! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں مجھ سے پہلے کی کتاب تورات کی میں تصدیق کرنے واﻻ ہوں1 اور اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی میں تمہیں خوشخبری سنانے واﻻ ہوں جنکا نام احمد ہے2۔ پھر جب وه ان کے پاس کھلی دلیلیں ﻻئے تو یہ کہنے لگے، یہ تو کھلا جادو ہے.3
مترجم کے حواشی (3)
- 1 حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کا قصہ اس لیے بیان فرمایا کہ بنی اسرائیل نے جس طرح حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی نافرمانی کی، اسی طرح انہوں نے حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کا بھی انکار کیا، اس میں نبی (صلى الله عليه وسلم) کو تسلی دی جارہی ہے کہ یہ یہود آپ (صلى الله عليه وسلم) ہی کے ساتھ اس طرح نہیں کر رہے ہیں، بلکہ ان کی تو ساری تاریخ ہی انبیا علیہم السلام کی تکذیب سے بھری پڑی ہے۔ تورات کی تصدیق کا مطلب یہ ہے کہ میں جو دعوت دے رہا ہوں، وہ وہی ہے جو تورات کی بھی دعوت ہے۔ جو اس بات کی دلیل ہے، کہ جو پیغمبر مجھ سے پہلے تورات لے کر آئے اور اب میں انجیل لے کر آیا ہوں، ہم دونوں کا اصل ماخذ ایک ہی ہے۔ اس لیے جس طرح تم موسیٰ وہارون اور داود وسلیمان علیہم السلام پر ایمان لائے ، مجھ پر بھی ایمان لاؤ، اس لیے کہ میں تورات کی تصدیق کر رہا ہوں نہ کہ اس کی تردید وتکذیب۔
- 2 یہ حضرت عیسیٰ (عليه السلام) نے اپنے بعد آنے والے آخری پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کی خوش خبری سنائی۔ چنانچہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا : «أَنَا دَعْوَةُ أَبِي إِبْرَاهِيمَ وَبَشَارَةُ عِيسَى» (أيسر التفاسير) (میں اپنے باپ ابراہیم (عليه السلام) کی دعا اور عیسیٰ (عليه السلام) کی بشارت کا مصداق ہوں)۔ احمد، یہ فاعل سے اگر مبالغے کا صیغہ ہو تو معنی ہوں گے، دوسرے تمام لوگوں سے اللہ کی زیادہ حمد کرنے والا۔ اور اگر یہ مفعول سے ہو تو معنی ہوں گے کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی خوبیوں اور کمالات کی وجہ سے جتنی تعریف آپ (صلى الله عليه وسلم) کی کی گئی، اتنی کسی کی بھی نہیں کی گئی۔ (فتح القدیر)۔
- 3 یعنی حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کے پیش کردہ معجزات کو جادو سے تعبیر کیا، جس طرح گزشتہ قومیں بھی اپنے پیغمبروں کو اسی طرح کہتی رہی ہیں۔ بعض نے اس سے مراد نبی (صلى الله عليه وسلم) لیے ہیں اور قَالُوا کا فاعل کفار مکہ کو بنایا ہے۔
-
يُرِيدُونَ لِيُطۡفِـُٔواْ نُورَ ٱللَّهِ بِأَفۡوَٰهِهِمۡ وَٱللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِۦ وَلَوۡ كَرِهَ ٱلۡكَٰفِرُونَ
وه چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منھ سے بجھا دیں1 اور اللہ اپنے نور کو کمال تک پہنچانے واﻻ ہے2 گو کافر برا مانیں.
مترجم کے حواشی (2)
- 1 نور سے مراد قرآن ، یا اسلام یا محمد (صلى الله عليه وسلم) یا دلائل وبراہین ہیں۔ (منہ سے بجھا دیں) کا مطلب، وہ طعن وتشنیع کی باتیں ہیں جو ان کے مونہوں سے نکلتی تھیں۔
- 2 یعنی اس کو آفاق میں پھیلانے والا اور دوسرے تمام دینوں پر غالب کرنے والا ہے۔ دلائل کے لحاظ سے، یا مادی غلبے کے لحاظ سے یا دونوں لحاظ سے۔
-
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ هَلۡ أَدُلُّكُمۡ عَلَىٰ تِجَٰرَةٖ تُنجِيكُم مِّنۡ عَذَابٍ أَلِيمٖ
اے ایمان والو! کیا میں تمہیں وه تجارت بتلا دوں1 جو تمہیں درد ناک عذاب سے بچا لے؟
مترجم کے حواشی (1)
- 1 اس عمل (یعنی ایمان اور جہاد) کو تجارت سے تعبیر کیا، اس لیے کہ اس میں بھی انہیں تجارت کی طرح ہی نفع ہوگا، اور وہ نفع کیا ہے؟ جنت میں داخلہ اور جہنم سے نجات۔ اس سے بڑا نفع اور کیا ہوگا، اور وہ نفع کیا ہے؟ اس بات کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا :«إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ» (التوبة ، 111) «اللہ نے مومنوں سے ان کی جانوں اور مالوں کا سودا جنت کے بدلے میں کرلیا ہے»۔
-
تُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَتُجَٰهِدُونَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ بِأَمۡوَٰلِكُمۡ وَأَنفُسِكُمۡۚ ذَٰلِكُمۡ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ
اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان ﻻؤ اور اللہ کی راه میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کرو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم میں علم ہو.
-
يَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوبَكُمۡ وَيُدۡخِلۡكُمۡ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ وَمَسَٰكِنَ طَيِّبَةٗ فِي جَنَّٰتِ عَدۡنٖۚ ذَٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ
اللہ تعالیٰ تمہارے گناه معاف فرما دے گا اور تمہیں ان جنتوں میں پہنچائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور صاف ستھرے گھروں میں جو جنت عدن میں ہوں گے، یہ بہت بڑی کامیابی ہے.
-
وَأُخۡرَىٰ تُحِبُّونَهَاۖ نَصۡرٞ مِّنَ ٱللَّهِ وَفَتۡحٞ قَرِيبٞۗ وَبَشِّرِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
اور تمہیں ایک دوسری (نعمت) بھی دے گا جسے تم چاہتے ہو وه اللہ کی مدد اور جلد فتح یابی ہے1 ، ایمان والوں کو خوشخبری دے دو.2
مترجم کے حواشی (2)
- 1 یعنی جب تم اس کی راہ میں لڑو گے اور اس کے دین کی مدد کرو گے، تو وہ بھی تمہیں فتح ونصرت سے نوازے گا۔ - «إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ» (سورة محمد: 7) «وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ» (الحج: 40) آخرت کی نعمتوں کے مقابلے میں اسے فتح قریب، قرار دیا۔ اور اس سے مراد فتح مکہ ہے اور بعض نے فارس وروم کی عظیم الشان سلطنتوں پر مسلمانوں کے غلبے کو اس کا مصداق قرار دیا ہے۔ جو خلافت راشدہ میں مسلمانوں کو حاصل ہوا۔
- 2 جنت کی بھی، مرنے کے بعد۔ اور فتح ونصرت کی بھی، دنیا میں۔ بشرطیکہ اہل ایمان ایمان کے تقاضے پورے کرتے رہیں۔ «وَأَنْتُمُ الأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ» (آل عمران: 139) آگے اللہ تعالیٰ مومنوں کو اپنے دین کی نصرت کی مزید ترغیب دے رہا ہے۔
-
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُونُوٓاْ أَنصَارَ ٱللَّهِ كَمَا قَالَ عِيسَى ٱبۡنُ مَرۡيَمَ لِلۡحَوَارِيِّـۧنَ مَنۡ أَنصَارِيٓ إِلَى ٱللَّهِۖ قَالَ ٱلۡحَوَارِيُّونَ نَحۡنُ أَنصَارُ ٱللَّهِۖ فَـَٔامَنَت طَّآئِفَةٞ مِّنۢ بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ وَكَفَرَت طَّآئِفَةٞۖ فَأَيَّدۡنَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ عَلَىٰ عَدُوِّهِمۡ فَأَصۡبَحُواْ ظَٰهِرِينَ
اے ایمان والو! تم اللہ تعالیٰ کے مددگار بن جاؤ1 ۔ جس طرح حضرت مریم کے بیٹے حضرت عیسیٰ نے حواریوں سے فرمایا کہ کون ہے جو اللہ کی راه میں میرا مددگار بنے2؟ حواریوں نے کہا ہم اللہ کی راه میں مددگار ہیں، پس بنی اسرائیل میں سے ایک جماعت تو ایمان ﻻئی اور ایک جماعت نے کفر کیا3 تو ہم نے مومنوں کی انکے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد کی پس وه غالب آ گئے.4
مترجم کے حواشی (4)
- 1 تمام حالتوں میں، اپنے اقوال وافعال کے ذریعے سے بھی اور جان ومال کے ذریعے سے بھی۔ جب بھی، جس وقت بھی اور جس حالت میں بھی تمہیں اللہ اور اس کا رسول اپنے دین کے لیے پکارﮮ تم فوراً ان کی پکار پر لبیک کہو، جس طرح حواریین نے عیسیٰ (عليه السلام) کی پکار پر لبیک کہا۔
- 2 یعنی ہم آپ (صلى الله عليه وسلم) کے اس دین کی دعوت وتبلیغ میں مددگار ہیں جس کی نشرواشاعت کا حکم اللہ نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کو دیا ہے۔ اسی طرح رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) ایام حج میں فرماتے (کون ہے جو مجھے پناہ دے تاکہ میں لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچا سکوں، اس لیے کہ قریش مجھے فریضۂ رسالت ادا نہیں کرنے دیتے)۔ حتیٰ کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی اس پکار پر مدینے کے اوس اور خزرج نے لبیک کہا، آپ (صلى الله عليه وسلم) کے ہاتھ پر انہوں نے بیعت کی اور آپ (صلى الله عليه وسلم) کی مدد کا وعدہ کیا۔ نیز آپ (صلى الله عليه وسلم) کو یہ پیشکش کی کہ اگر آپ (صلى الله عليه وسلم) ہجرت کرکے مدینہ آجائیں تو آپ (صلى الله عليه وسلم) کی حفاظت کی ذمے داری ہم قبول کرتے ہیں۔ چنانچہ جب آپ (صلى الله عليه وسلم) ہجرت کرکے مدینہ تشریف لے گئے تو وعدے کے مطابق انہوں نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کی اور آپ (صلى الله عليه وسلم) کے تمام ساتھیوں کی پوری مدد کی۔ حتیٰ کہ اللہ اور اس کے رسول (صلى الله عليه وسلم) نے ان کا نام ہی (انصار) رکھ دیا اور اب یہ ان کا علم بن گیا۔ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَأَرْضَاهُمْ (ابن کثیر)
- 3 یہ یہود تھے جنہوں نے نبوت عیسیٰ (عليه السلام) ہی کا انکار نہیں کیا بلکہ ان پر اور ان کی ماں پر بہتان تراشی کی۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ اختلاف وتفرق اس وقت ہوا، جب حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا گیا۔ ایک نے کہا کہ عیسیٰ (عليه السلام) کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے ہی زمین پر ظہور فرمایا تھا، اب وہ پھر آسمان پر چلا گیا ہے، یہ فرقہ یعقوبیہ کہلاتا ہے۔ نسطوریہ فرقے نے کہا کہ وہ ابن اللہ تھے، باپ نے بیٹے کو آسمان پر بلا لیا ہے۔ تیسرے فرقے نے کہا وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے، یہی فرقہ صحیح تھا۔
- 4 یعنی نبی (صلى الله عليه وسلم) کو مبعوث فرما کر ہم نے اسی آخری جماعت کی، دوسرے باطل گروہوں کے مقابلے میں مدد کی۔ چنانچہ یہ صحیح عقیدے کی حامل جماعت نبی (صلى الله عليه وسلم) پر بھی ایمان لے آئی اور یوں ہم نے ان کو دلائل کے لحاظ سے بھی سب کافروں پر غلبہ عطا فرمایا اور قوت وسلطنت کے اعتبار سے بھی۔ اس غلبے کا آخری ظہور اس وقت پھر ہوگا، جب قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کا دوبارہ نزول ہوگا، جیسا کہ اس نزول اور غلبے کی صراحت احادیث صحیحہ میں تواتر کے ساتھ منقول ہے۔
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
As-Sudais کی مزید سورتیں
دوسرے قاری
- الصف · Mishary Alafasy
- الصف · AbdulBaset (Murattal)
- الصف · AbdulBaset AbdulSamad
- الصف · Minshawi (Murattal)
- الصف · Abu Bakr ash-Shatri
- الصف · Hani ar-Rifai
- الصف · Mahmoud Khalil al-Husary
- الصف · Maher al-Muaiqly
- الصف · Saud ash-Shuraym
- الصف · Saad al-Ghamdi
- الصف · Ali Abdur-Rahman al-Hudhaify
- الصف · Abdullah Basfar
- الصف · Ahmed ibn Ali al-Ajamy
- الصف · Muhammad Ayyoub
- الصف · Muhammad Jibreel
- الصف · Ibrahim al-Akhdar
- الصف · Ayman Suwaid
- الصف · Mahmoud Khalil al-Husary
- الصف · Shahriar Parhizgar
- الصف · Mahmoud Khalil al-Husary
- الصف · Muhammad Siddiq al-Minshawi
- الصف · Mohammad al-Tablawi
- الصف · Khalifa al-Tunaiji
- الصف · Abdullah Awad al-Juhani
- الصف · Nasser al-Qatami
- الصف · Fares Abbad
- الصف · Salah al-Budair
- الصف · Salah Bukhatir
- الصف · Abdullah al-Matroud
- الصف · Abdul Mohsen al-Qasim
- الصف · Ali Jaber
- الصف · Khalid Abdullah al-Qahtani
- الصف · Mahmoud Ali al-Banna
- الصف · Sahl Yasin
- الصف · Ahmad Nauina
- الصف · Akram al-Alaqmi
- الصف · Ali Hajjaj al-Suwaisi
- الصف · Aziz Alili
- الصف · Yasser Salamah
- الصف · Nabil ar-Rifai
- الصف · Muhammad AbdulKareem
- الصف · Karim Mansoori