سورۃ یوسف 12:31 يوسف
یہ سورۃ یوسف کی 111 آیات میں سے آیت 31 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 1627، پارہ 12۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 239 پر ہے۔
فَلَمَّا سَمِعَتۡ بِمَكۡرِهِنَّ أَرۡسَلَتۡ إِلَيۡهِنَّ وَأَعۡتَدَتۡ لَهُنَّ مُتَّكَـٔٗا وَءَاتَتۡ كُلَّ وَٰحِدَةٖ مِّنۡهُنَّ سِكِّينٗا وَقَالَتِ ٱخۡرُجۡ عَلَيۡهِنَّۖ فَلَمَّا رَأَيۡنَهُۥٓ أَكۡبَرۡنَهُۥ وَقَطَّعۡنَ أَيۡدِيَهُنَّ وَقُلۡنَ حَٰشَ لِلَّهِ مَا هَٰذَا بَشَرًا إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا مَلَكٞ كَرِيمٞ
اس نے جب ان کی اس پر فریب غیبت کا حال سنا تو انہیں بلوا بھیجا1 اور ان کے لئے ایک مجلس مرتب کی2 اور ان میں سے ہر ایک کو چھری دی۔ اور کہا اے یوسف! ان کے سامنے چلے آؤ3، ان عورتوں نے جب اسے دیکھا تو بہت بڑا جانا اور اپنے ہاتھ کاٹ لئے4، اور زبان سے نکل گیا کہ حاشاللہ! یہ انسان تو ہرگز نہیں، یہ تو یقیناً کوئی بہت ہی بزرگ فرشتہ ہے.5
مترجم کے حواشی (5)
- 1 زنان مصر کی غائبانہ باتوں اور طعن و ملامت کو مکر سے تعبیر کیا گیا، جس کی وجہ سے بعض مفسرین نے یہ بیان کیا ہے کہ ان عورتوں کو بھی یوسف کے بےمثال حسن و جمال کی اطلاعات پہنچ چکی تھیں۔ چنانچہ وہ اس پیکر حسن کو دیکھنا چاہتی تھیں چنانچہ وہ اپنے اس مکر خفیہ تدبیر میں کامیاب ہوگئیں اور امرأۃ العزیز نے یہ بتلانے کے لیے کہ میں جس پر فریفتہ ہوئی ہوں، محض ایک غلام یا عام آدمی نہیں ہے بلکہ ظاہر و باطن کے ایسے حسن سے آراستہ ہے کہ اسے دیکھ کر نقد دل و جان ہار جانا کوئی انہونی بات نہیں، لہذا ان عورتوں کی ضیافت کا اہتمام کیا اور انہیں دعوت طعام دی۔
- 2 یعنی ایسی نشست گاہیں بنائیں جن میں تکئے لگے ہوئے تھے، جیسا کہ آج کل بھی عربوں میں ایسی فرشی نشست گاہیں عام ہیں۔ حتی کہ ہوٹلوں اور ریستورانوں میں بھی ان کا اہتمام ہے۔
- 3 یعنی حضرت یوسف (عليه السلام) کو پہلے چھپائے رکھا، جب سب عورتوں نے ہاتھوں میں چھریاں پکڑ لیں تو امراۃ العزیز (زلیخا) نے حضرت یوسف (عليه السلام) کو مجلس میں حاضر ہونے کا حکم دیا۔
- 4 یعنی حسن یوسف (عليه السلام) کی جلوہ آرائی دیکھ کر ایک تو ان کے عظمت و جلال شان کا اعتراف کیا اور دوسرے، ان پر بےخودی کی ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ چھریاں اپنے ہاتھوں پر چلا لیں۔ جس سے ان کے ہاتھ زخمی اور خون آلودہ ہوگئے۔ حدیث میں آتا ہے کہ حضرت یوسف (عليه السلام) کو نصف حسن دیا گیا ہے (صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب الإسراء)
- 5 اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ فرشتے شکل وصورت میں انسان سے بہتر یا افضل ہیں۔ کیونکہ فرشتوں کو تو انسانوں نے دیکھا ہی نہیں ہے۔ علاوہ ازیں انسان کے بارے میں تو اللہ تعالٰی نے خود قرآن کریم میں صراحت کی ہے کہ ہم نے اسے احسن تقویم بہترین انداز میں پیدا کیا ہے۔ ان عورتوں نے بشریت کی نفی محض اس لیے کی کہ انہوں نے حسن وجمال کا ایک ایسا پیکر دیکھا تھا جو انسانی شکل میں کبھی ان کی نظروں سے نہیں گزرا تھا اور انہوں نے فرشتہ اس لیے قرار دیا کہ عام انسان یہی سمجھتا ہے فرشتے ذات وصفات کے لحاظ سے ایسی شکل رکھتے ہیں جو انسانی شکل سے بالاتر ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ انبیاء کی غیر معمولی خصوصیات و امتیازات کی بناء پر انہیں انسانیت سے نکال کر نورانی مخلوق قرار دینا، ہر دور کے ایسے لوگوں کا شیوہ رہا ہے جو نبوت اور اس کے مقام سے ناآشنا ہوتے ہیں۔
12:31 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 12:31
Al-Mukhtasar
31- پھر جب عزیز مصر کی بیوی نے ان عورتوں کی اپنے اوپر تنقید اوراپنی غیبت کرنے کے بارے میں سنا تو انھیں بلا بھیجا تاکہ وہ یوسف علیہ السلام کو دیکھ کر اسے بے قصور سمجھیں۔ اس نے ان کے لیے نشست گاہیں بنائیں جن پر تکیے لگے ہوئے تھے اور دعوت میں بلائی گئی ہر عورت کو کھانے کی اشیاء کاٹنے کے لیے ایک ایک چھری دی اور یوسف علیہ السلام سے کہا: ان کے سامنے چلے آؤ۔ جب انھوں نے یوسف علیہ السلام کو دیکھا تو ان کی عظمت ان پر آشکار ہوئی۔ وہ ان کے حسن و جمال پر حیرت زدہ رہ گئیں اور ان کے جلوے کی تاب نہ لا کر بے خودی میں ان چھریوں سے اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں جو انھیں کھانے کی اشیاء کاٹنے کے لیے دی گئی تھیں اور کہہ اٹھیں: اللہ پاک ہے۔ یہ نوجوان انسان تو نہیں۔ انسان اتنے حسن و جمال والے کہاں ہوتے ہیں! یہ تو معزز فرشتوں میں سے کوئی فرشتہ ہے۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 12
- الفاظ کی تعداد
- 32
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 239
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 239
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 240
آیت 12:31 کس سورت میں ہے؟
سورۃ یوسف (يوسف). 114 میں سے سورت نمبر 12 · آیات کی تعداد: 111.
آیت 12:31 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 12.
آیت 12:31 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 239 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 239 · نسخ مصحف (612 صفحات): 240.
آیت 12:31 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 32.
آیت 12:31 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 12:31: حروف کی تعداد 131، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 12:31 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 12:31 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 1,627 ہے۔
سورۃ یوسف میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ یوسف: آیات کی تعداد 111۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 12 پر ہے۔
سورۃ یوسف مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ یوسف مکی ہے۔
کیا آیت 12:31 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 12:31 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ یوسف کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 111 آیات اور 1,777 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔