مواد پر جائیں

سورۃ الاعراف 7:143 الأعراف

یہ سورۃ الاعراف کی 206 آیات میں سے آیت 143 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 1097، پارہ 9۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 167 پر ہے۔

وَلَمَّا جَآءَ مُوسَىٰ لِمِيقَٰتِنَا وَكَلَّمَهُۥ رَبُّهُۥ قَالَ رَبِّ أَرِنِيٓ أَنظُرۡ إِلَيۡكَۚ قَالَ لَن تَرَىٰنِي وَلَٰكِنِ ٱنظُرۡ إِلَى ٱلۡجَبَلِ فَإِنِ ٱسۡتَقَرَّ مَكَانَهُۥ فَسَوۡفَ تَرَىٰنِيۚ فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُۥ لِلۡجَبَلِ جَعَلَهُۥ دَكّٗا وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقٗاۚ فَلَمَّآ أَفَاقَ قَالَ سُبۡحَٰنَكَ تُبۡتُ إِلَيۡكَ وَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے وقت پر آئے اور ان کے رب نے ان سے باتیں کیں تو عرض کیا کہ اے میرے پروردگار! اپنا دیدار مجھ کو کرا دیجئے کہ میں آپ کو ایک نظر دیکھ لوں ارشاد ہوا کہ تم مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے1 لیکن تم اس پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو وه اگر اپنی جگہ پر برقرار رہا تو تم بھی مجھے دیکھ سکو گے۔ پس جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو تجلی نے اس کے پرخچے اڑا دیئے اور موسیٰ (علیہ السلام) بےہوش ہوکر گر پڑے2۔ پھر جب ہوش میں آئے تو عرض کیا، بےشک آپ کی ذات منزه ہے میں آپ کی جناب میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلے آپ پر ایمان ﻻنے واﻻ ہوں۔3

مترجم کے حواشی (3)
  1. 1 جب موسیٰ علیہ السلام طور پر گئے اور وہاں اللہ نے ان سے براہ راست گفتگو کی، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دل میں اللہ کو دیکھنے کا بھی شوق پیدا ہوا، اور اپنے اس شوق کا اظہار ربِّ أرِنِي کہہ کر کیا ۔ جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لَنْ تَرَانِي (تو مجھے ہر گز نہیں دیکھ سکتا) اس سے استدلال کرتے ہوئے معتزلہ نے کہا کہ لَنْ نَفْيُ تَأْبِيدٍ (ہمیشہ کی نفی) کے لیے آتا ہے۔ اس لیے اللہ کا دیدار نہ دنیا میں ممکن ہے نہ آخرت میں۔ لیکن معتزلہ کا یہ مسلک صحیح احادیث کے خلاف ہے۔ متواتر، صحیح اور قوی روایات سے ثابت ہے کہ قیامت والے دن اہل ایمان اللہ کو دیکھیں گے اور جنت میں بھی دیدار الہیٰ سے مشرف ہوں گے۔ تمام اہل سنت کا یہی عقیدہ ہے۔ اس نفی رویت کا تعلق صرف دنیا سے ہے۔ دنیا میں کوئی انسانی آنکھ اللہ کو دیکھنے پرقادر نہیں ہے۔ لیکن آخرت میں اللہ تعالیٰ ان آنکھوں میں اتنی قوت پیدا فرما دے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے جلوے کو برداشت کرسکے۔
  2. 2 یعنی وہ پہاڑ بھی رب کی تجلی کو برداشت نہ کرسکا اور موسیٰ علیہ السلام بےہوش ہوکر گر پڑے ۔ حدیث میں آتا ہے کہ ”قیامت والے دن سب لوگ بےہوش ہوں گے، (یہ بےہوشی امام ابن کثیر کے بقول میدان محشر میں اس وقت ہوگی جب اللہ تعالیٰ فیصلے کرنے کے لیے نزول اجلال فرمائے گا) اور جب ہوش میں آئیں گے تو میں ہوش میں آنے والوں میں سب سے پہلا شخص ہوں گا، میں دیکھوں گا کہ موسیٰ (عليه السلام) عرش کا پایہ تھامے کھڑے ہیں، مجھے نہیں معلوم کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آئے یا انہیں کوہ طور کی بے ہوشی کے بدلے میں میدان محشر کی بےہوشی سے مستثنیٰ رکھا گیا“۔ (صحيح بخاري- تفسير سورة الأعراف - صحيح مسلم، باب فضائل موسى عليه السلام)
  3. 3 تیری عظمت وجلالت کا اور اس بات کا کہ میں تیرا عاجز بندہ ہوں، دنیا میں تیرے دیدار کا متحّمل نہیں ہوسکتا۔

7:143 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3

تفسیر سورۃ الاعراف
0/206
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
مشاري العفاسي الاعراف 7:143 0:00 0:00 پڑھ لیا، آگے بڑھیں

تفسیر · 7:143

Al-Mukhtasar

143- جب موسیٰ علیہ السلام اپنے رب سے ہم کلامی کے لیے مقرر وقت پر گئے، جو کہ مکمل چالیس راتیں تھیں، اور مختلف اوامر و نواہی کے متعلق ان کے رب نے ان سے کلام کیا تو ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کا شوق ابھرا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دیدار کا شرف پانے کی درخواست کی۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں جواب دیا: تم دنیا کی زندگی میں مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے کیونکہ تم میں اس کی قدرت نہیں۔ ہاں، تم اس پہاڑ کی طرف دیکھنا جب میں اس پر اپنے نور کا جلوہ دکھاؤںگا۔ اگر وہ اپنی جگہ قائم رہا اور متأثر نہ ہوا تو تم مجھے دیکھ سکو گے اور اگر وہ زمین بوس ہوگیا تو تم دنیا میں مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس پہاڑ پر اپنا جلوہ دکھایا تو اسے ریزہ ریزہ کر کے زمین کے برابر کر دیا اور موسیٰ علیہ السلام بے ہوش ہو کر گر گئے۔ پھر جب بے ہوشی سے ہوش میں آئے تو عرض کی: اے میرے رب! میں ہر اس چیز سے تجھے پاک قرار دیتا ہوں جو تیرے شایانِ شان نہیں۔ میں نے دنیا میں تیرے دیدار کا جو تقاضا کیا، اس پر تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور میں اپنی قوم میں سے ایمان لانے والا سب سے پہلا فرد ہوں۔

Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution

پارہ
9
الفاظ کی تعداد
41
مدینہ مصحف (604 صفحات)
167
انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
167
نسخ مصحف (612 صفحات)
168
آیت 7:143 کس سورت میں ہے؟

سورۃ الاعراف (الأعراف). 114 میں سے سورت نمبر 7 · آیات کی تعداد: 206.

آیت 7:143 کس پارے میں ہے؟

پارہ: 9.

آیت 7:143 کس صفحے پر ہے؟

مدینہ مصحف (604 صفحات): 167 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 167 · نسخ مصحف (612 صفحات): 168.

آیت 7:143 میں کتنے الفاظ ہیں؟

الفاظ کی تعداد: 41.

آیت 7:143 میں کتنے عربی حروف ہیں؟

آیت 7:143: حروف کی تعداد 163، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔

آیت 7:143 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟

آیت 7:143 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 1,097 ہے۔

سورۃ الاعراف میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ الاعراف: آیات کی تعداد 206۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 7 پر ہے۔

سورۃ الاعراف مکی ہے یا مدنی؟

سورۃ الاعراف مکی ہے۔

کیا آیت 7:143 سنی جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ آیت 7:143 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔

سورۃ الاعراف کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟

شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 206 آیات اور 3,320 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play