مواد پر جائیں

سورۃ البقرہ 2:177 البقرة

یہ سورۃ البقرہ کی 286 آیات میں سے آیت 177 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 184، پارہ 2۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 27 پر ہے۔

۞ لَّيۡسَ ٱلۡبِرَّ أَن تُوَلُّواْ وُجُوهَكُمۡ قِبَلَ ٱلۡمَشۡرِقِ وَٱلۡمَغۡرِبِ وَلَٰكِنَّ ٱلۡبِرَّ مَنۡ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةِ وَٱلۡكِتَٰبِ وَٱلنَّبِيِّـۧنَ وَءَاتَى ٱلۡمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِۦ ذَوِي ٱلۡقُرۡبَىٰ وَٱلۡيَتَٰمَىٰ وَٱلۡمَسَٰكِينَ وَٱبۡنَ ٱلسَّبِيلِ وَٱلسَّآئِلِينَ وَفِي ٱلرِّقَابِ وَأَقَامَ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَى ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلۡمُوفُونَ بِعَهۡدِهِمۡ إِذَا عَٰهَدُواْۖ وَٱلصَّٰبِرِينَ فِي ٱلۡبَأۡسَآءِ وَٱلضَّرَّآءِ وَحِينَ ٱلۡبَأۡسِۗ أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ صَدَقُواْۖ وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُتَّقُونَ

ساری اچھائی مشرق ومغرب کی طرف منھ کرنے میں ہی نہیں1 بلکہ حقیقتاً اچھا وه شخص ہے جو اللہ تعالی پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب اللہ پر اور نبیوں پر ایمان رکھنے واﻻ ہو، جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سوال کرنے والے کو دے، غلاموں کو آزاد کرے، نماز کی پابندی اور زکوٰة کی ادائیگی کرے، جب وعده کرے تب اسے پورا کرے، تنگدستی، دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرے، یہی سچے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں۔

مترجم کے حواشی (1)
  1. 1 یہ آیت قبلے کے ضمن میں ہی نازل ہوئی۔ ایک تو یہودی اپنے قبلے کو (جو بیت المقدس کا مغربی حصہ ہے) اور نصاریٰ اپنے قبلے کو (جو بیت المقدس کا مشرقی حصہ ہے) بڑی اہمیت دے رہے تھے اور اس پر فخر کر رہے تھے۔ دوسری طرف مسلمانوں کے تحویل قبلہ پر چہ میگوئیاں کررہے تھے، جس سے بعض مسلمان بھی بعض دفعہ کبیدہ خاطر ہوجاتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، مشرق یا مغرب کی طرف رخ کرلینا بذات خود کوئی نیکی نہیں ہے بلکہ یہ تو صرف مرکزیت اور اجتماعیت کے حصول کا ایک طریقہ ہے، اصل نیکی تو ان عقائد پر ایمان رکھنا ہے جو اللہ نے بیان فرمائے اور ان اعمال واخلاق کو اپنانا ہے جس کی تاکید اس نے فرمائی ہے۔ پھر آگے ان عقائدواعمال کا بیان ہے۔ اللہ پر ایمان یہ ہے کہ اسے اپنی ذات وصفات میں یکتا، تمام عیوب سے پاک ومنزہ اور قرآن وحدیث میں بیان کردہ تمام صفات باری کو بغیر کسی تاویل یا تعطیل یا تکییف کے تسلیم کیا جائے۔ آخرت کے روز جزا ہونے، حشر نشر اور جنت ودوزخ پر یقین رکھا جائے۔ الْكِتَابِ سے مراد تمام آسمانی کتابوں کی صداقت پر ایمان ہے۔ اور فرشتوں کے وجود پر اور تمام پیغمبروں پر یقین رکھا جائے۔ ان ایمانیات کے ساتھ ان اعمال کو اپنایا جائے جس کی تفصیل اس آیت میں ہے۔ «عَلَى حُبّهِ»(ہ) ضمیر مال کی طرف راجع ہے، یعنی مال کی محبت کے باوجود مال خرچ کرے۔ «الْبَأْسَاءِ» سے تنگ دستی اور دشت فقر«الضَّرَّاء» سے نقصان یا بیماری اور «الْبَأْسِ» سے لڑائی اور اس کی شدت مراد ہے۔ ان تینوں حالتوں میں صبر کرنا، یعنی احکامات الٰہیہ سے سرمو انحراف نہ کرنا نہایت کٹھن ہوتا ہے اس لئے ان حالتوں کو خاص طور پر بیان فرمایاہے۔

2:177 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3

تفسیر سورۃ البقرہ
0/286
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
مشاري العفاسي البقرہ 2:177 0:00 0:00 پڑھ لیا، آگے بڑھیں

تفسیر · 2:177

Al-Mukhtasar

177- اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ نیکی صرف یہ نہیں کہ مشرق یا مغرب کی طرف رخ کیا جائے یا اس میں اختلاف کیا جائے۔ یہ تو اطاعت کی ایک ظاہری علامت ہے۔ اصل نیکی اور خیر تو اس بندے کی ہے جو اللہ تعالیٰ کے معبود یکتا ہونے پر ایمان لائے، یوم آخرت، تمام فرشتوں، ساری آسمانی کتابوں اور بلاتفریق سارے نبیوں پر ایمان لائے۔ حقیقی نیکی تو اس کی ہے جس نے مال کی چاہت اور محبت کے باوجود اسے قرابت داروں، حد بلوغت تک پہنچنے سے پہلے باپ کے سائے سے محروم ہونے والوں، یعنی یتیموں، ضرورت مندوں، اپنے گھر والوں اور وطن سے دور مسافروں اور کسی ضرورت کے تحت مجبوراً سوال کرنے والوں پر خرچ کیا اور گردنوں کو غلامی اور قید سے نکالنے کے لیے مال لگایا۔ اور وہ بندہ بھی نیک ہے جس نے اللہ کے حکم کے مطابق پوری نماز پڑھی، فرض زکاۃ ادا کی اور وہ لوگ بھی نیک ہیں جو عہد کر کے اس کی پاسداری کرتے ہیں، جو فقر و فاقہ، مصائب اور بیماری کے وقت صبر کرتے ہیں اور جہاد و قتال کی سختیوں کو برداشت کرتے ہیں اور راہِ فرار اختیار نہیں کرتے۔ مذکورہ صفات کے حامل افراد ہی اپنے ایمان اور اعمال میں سچے ہیں۔ اور یہی لوگ متقی ہیں کیونکہ انھوں نے اپنے اعمال سے ثابت کیا کہ وہ اللہ کے ہر حکم کی تعمیل کرتے اور اس کے منع کیے ہوئے کاموں سے رک جاتے ہیں۔

Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution

پارہ
2
الفاظ کی تعداد
51
مدینہ مصحف (604 صفحات)
27
انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
26
نسخ مصحف (612 صفحات)
27
آیت 2:177 کس سورت میں ہے؟

سورۃ البقرہ (البقرة). 114 میں سے سورت نمبر 2 · آیات کی تعداد: 286.

آیت 2:177 کس پارے میں ہے؟

پارہ: 2.

آیت 2:177 کس صفحے پر ہے؟

مدینہ مصحف (604 صفحات): 27 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 26 · نسخ مصحف (612 صفحات): 27.

آیت 2:177 میں کتنے الفاظ ہیں؟

الفاظ کی تعداد: 51.

آیت 2:177 میں کتنے عربی حروف ہیں؟

آیت 2:177: حروف کی تعداد 263، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔

آیت 2:177 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟

آیت 2:177 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 184 ہے۔

سورۃ البقرہ میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ البقرہ: آیات کی تعداد 286۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 2 پر ہے۔

سورۃ البقرہ مکی ہے یا مدنی؟

سورۃ البقرہ مدنی ہے۔

کیا آیت 2:177 سنی جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ آیت 2:177 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔

سورۃ البقرہ کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟

شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 286 آیات اور 6,116 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play