مواد پر جائیں

سورۃ البقرہ 2:246 البقرة

یہ سورۃ البقرہ کی 286 آیات میں سے آیت 246 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 253، پارہ 2۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 40 پر ہے۔

أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلۡمَلَإِ مِنۢ بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ مِنۢ بَعۡدِ مُوسَىٰٓ إِذۡ قَالُواْ لِنَبِيّٖ لَّهُمُ ٱبۡعَثۡ لَنَا مَلِكٗا نُّقَٰتِلۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِۖ قَالَ هَلۡ عَسَيۡتُمۡ إِن كُتِبَ عَلَيۡكُمُ ٱلۡقِتَالُ أَلَّا تُقَٰتِلُواْۖ قَالُواْ وَمَا لَنَآ أَلَّا نُقَٰتِلَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَقَدۡ أُخۡرِجۡنَا مِن دِيَٰرِنَا وَأَبۡنَآئِنَاۖ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡقِتَالُ تَوَلَّوۡاْ إِلَّا قَلِيلٗا مِّنۡهُمۡۚ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِٱلظَّٰلِمِينَ

کیا آپ نے (حضرت) موسیٰ کے بعد والی بنی اسرائیل کی جماعت کو نہیں دیکھا1 جب کہ انہوں نے اپنے پیغمبر سے کہا کہ کسی کو ہمارا بادشاه بنا دیجیئے2 تاکہ ہم اللہ کی راه میں جہاد کریں۔ پیغمبر نے کہا کہ ممکن ہے جہاد فرض ہوجانے کے بعد تم جہاد نہ کرو، انہوں نے کہا بھلا ہم اللہ کی راه میں جہاد کیوں نہ کریں گے؟ ہم تو اپنے گھروں سے اجاڑے گئے ہیں اور بچوں سے دور کردیئے گئے ہیں۔ پھر جب ان پر جہاد فرض ہوا تو سوائے تھوڑے سے لوگوں کے سب پھر گئے اور اللہ تعالیٰ ﻇالموں کو خوب جانتا ہے۔

مترجم کے حواشی (2)
  1. 1 مَلأ کسی قوم کے ان اشراف، سردار اور اہل حل وعقد کو کہا جاتا ہے جو خاص مشیر اور قائد ہوتے ہیں، جن کے دیکھنے سے آنکھیں اور دل رعب سے بھر جاتے ہیں، ملا کے لغوی معنی (بھرنے کے ہیں) (ایسرالتفاسیر) جس پیغمبر کا یہاں ذکر ہے اس کا نام شمویل بتلایا جاتا ہے۔ ابن کثیر وغیرہ مفسرین نے جو واقعہ بیان کیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ بنواسرائیل حضرت موسیٰ (عليه السلام) کے بعد کچھ عرصے تک تو ٹھیک رہے، پھر ان میں انحراف آگیا، دین میں بدعات ایجاد کرلیں۔ حتیٰ کہ بتوں کی پوجا شروع کردی۔ انبیا ان کو روکتے رہے، لیکن یہ معصیت اور شرک سے باز نہیں آئے۔ اس کے نتیجے میں اللہ نے ان کے دشمنوں کو ان پر مسلط کردیا، جنہوں نے ان کے علاقے بھی چھین لئے اور ان کی ایک بڑی تعداد کو قیدی بھی بنا لیا، ان میں نبوت وغیرہ کا سلسلہ بھی منقطع ہوگیا، بالآخر بعض لوگوں کی دعاؤں سے شمویل نبی پیدا ہوئے، جنہوں نے دعوت وتبلیغ کا کام شروع کیا۔ انہوں نے پیغمبر سے یہ مطالبہ کیا کہ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردیں جس کی قیادت میں ہم دشمنوں سے لڑیں۔ پیغمبر نے ان کے سابقہ کردار کے پیش نظر کہا کہ تم مطالبہ تو کر رہے ہو، لیکن میرا اندازہ یہ ہے کہ تم اپنی بات پر قائم نہیں رہو گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، جیسا کہ قرآن نے بیان کیا ہے۔
  2. 2 نبی کی موجودگی میں بادشاہ مقرر کرنے کا مطالبہ، بادشاہت کے جواز کی دلیل ہے۔ کیونکہ اگر بادشاہت جائز نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس مطالبے کو رد فرما دیتا، لیکن اللہ نے اس معاملہ کو رد نہیں فرمایا، بلکہ طالوت کو ان کے لئے بادشاہ مقرر کر دیا، جیسا کہ آگے آرہا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ بادشاہ اگر مطلق العنان نہیں ہے بلکہ وہ احکام الٰہی کا پابند اور عدل وانصاف کرنے والا ہے تو اس کی بادشاہت جائز ہی نہیں، بلکہ مطلوب ومحبوب بھی ہے۔ مزید دیکھیے : سورۃ المائدۃ، آیت 20 کا حاشیہ۔

2:246 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3

تفسیر سورۃ البقرہ
0/286
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
مشاري العفاسي البقرہ 2:246 0:00 0:00 پڑھ لیا، آگے بڑھیں

تفسیر · 2:246

Al-Mukhtasar

246- اے نبی ( صلى اللہ عليہ وسلم )! کیا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے بعد بنی اسرائیل کے اشراف اور سرداروں کی خبر آپ کے علم میں نہیں آئی، جب انھوں نے اپنے نبی سے کہا: ہمارا کوئی بادشاہ مقرر کریں جس کی سربراہی میں ہم اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ ان کے نبی نے ان سے کہا: اگر اللہ نے تم پر لڑائی فرض کر لی تو مجھے خدشہ ہے کہ تم اس کی راہ میں لڑائی نہیں کروگے! انھوں نے نبی کے گمان کی نفی کرتے ہوئے کہا: ہم بھلا اللہ کی راہ میں لڑائی کیوں نہیں کریں گے جبکہ اس کے سارے تقاضے پائے جاتے ہیں۔ ہمارے دشمنوں نے ہمیں ہمارے وطنوں سے نکالا، ہمارے بیٹوں کو قیدی بنایا، چنانچہ ہم اپنے وطنوں کو واپس لینے اور اپنے قیدی چھڑانے کے لیے لڑیں گے، پھر جب اللہ نے ان پر قتال فرض کر دیا تو وہ پھر گئے اور چند لوگوں کے سوا انھوں نے کیا ہوا وعدہ پورا نہ کیا۔ اللہ اپنے حکم سے منہ موڑنے والے اور اپنے سے کیا ہوا وعدہ توڑنے والے ظالموں کو خوب جانتا ہے اور وہ جلد انھیں اس کی سزا دے گا۔

Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution

پارہ
2
الفاظ کی تعداد
54
مدینہ مصحف (604 صفحات)
40
انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
40
نسخ مصحف (612 صفحات)
41
آیت 2:246 کس سورت میں ہے؟

سورۃ البقرہ (البقرة). 114 میں سے سورت نمبر 2 · آیات کی تعداد: 286.

آیت 2:246 کس پارے میں ہے؟

پارہ: 2.

آیت 2:246 کس صفحے پر ہے؟

مدینہ مصحف (604 صفحات): 40 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 40 · نسخ مصحف (612 صفحات): 41.

آیت 2:246 میں کتنے الفاظ ہیں؟

الفاظ کی تعداد: 54.

آیت 2:246 میں کتنے عربی حروف ہیں؟

آیت 2:246: حروف کی تعداد 211، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔

آیت 2:246 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟

آیت 2:246 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 253 ہے۔

سورۃ البقرہ میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ البقرہ: آیات کی تعداد 286۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 2 پر ہے۔

سورۃ البقرہ مکی ہے یا مدنی؟

سورۃ البقرہ مدنی ہے۔

کیا آیت 2:246 سنی جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ آیت 2:246 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔

سورۃ البقرہ کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟

شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 286 آیات اور 6,116 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play