مواد پر جائیں

سورۃ البقرہ 2:256 البقرة

یہ سورۃ البقرہ کی 286 آیات میں سے آیت 256 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 263، پارہ 3۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 42 پر ہے۔

لَآ إِكۡرَاهَ فِي ٱلدِّينِۖ قَد تَّبَيَّنَ ٱلرُّشۡدُ مِنَ ٱلۡغَيِّۚ فَمَن يَكۡفُرۡ بِٱلطَّٰغُوتِ وَيُؤۡمِنۢ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱسۡتَمۡسَكَ بِٱلۡعُرۡوَةِ ٱلۡوُثۡقَىٰ لَا ٱنفِصَامَ لَهَاۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں، ہدایت ضلالت سے روشن ہوچکی ہے1 ، اس لئے جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے معبودوں کا انکار کرکے اللہ تعالیٰ پر ایمان ﻻئے اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا، جو کبھی نہ ٹوٹے گا اور اللہ تعالیٰ سننے واﻻ، جاننے واﻻ ہے۔

مترجم کے حواشی (1)
  1. 1 اس کی شان نزول میں بتایا گیا ہے کہ انصار کے کچھ نوجوان یہودی یا عیسائی ہوگئے تھے، پھر جب یہ انصار مسلمان ہو گئے تو انہوں نے اپنی نوجوان اولاد کو بھی جو یہودی یا عیسائی بن چکے تھے، زبردستی مسلمان بنانا چاہا ، جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ شان نزول کے اس اعتبار سے بعض مفسرین نے اسے اہل کتاب کے لئے خاص مانا ہے یعنی مسلمان مملکت میں رہنے والے اہل کتاب، اگر وہ جزیہ ادا کرتے ہوں، تو انہیں قبول اسلام پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ لیکن یہ آیت حکم کے اعتبار سے عام ہے، یعنی کسی پر بھی قبول اسلام کے لئے جبر نہیں کیا جائے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور گمراہی دونوں کو واضح کردیا ہے۔ تاہم کفر وشرک کے خاتمے اور باطل کا زور توڑنے کے لئے جہاد ایک الگ اور جبرواکراہ سے مختلف چیز ہے۔ مقصد معاشرے سے اس قوت کا زور اور دباؤ ختم کرنا ہے جو اللہ کے دین پر عمل اور اس کی تبلیغ کی راہ میں روڑہ بنی ہوئی ہو۔ تاکہ ہر شخص اپنی آزاد مرضی سے چاہے تو اپنے کفر پر قائم رہے اور چاہے تو اسلام میں داخل ہوجائے۔ چونکہ روڑہ بننے والی طاقتیں رہ رہ کر ابھرتی رہیں گی اس لئے جہاد کا حکم اور اس کی ضرورت بھی قیامت تک رہے گی، جیسا کہ حدیث میں ہے«الجِهَادُ مَاضٍ إِلَى يَوْمِ القِيَامَةِ»، ”جہاد قیامت تک جاری رہے گا“، خود نبی (صلى الله عليه وسلم) نے کافروں اور مشرکوں سے جہاد کیا ہے اور فرمایا ہے۔«أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ»، الحديث- (صحيح بخاري- كتاب الإيمان ، باب فإن تابوا وأقاموا الصلاة) ”مجھے حکم دیا گیا ہے میں لوگوں سے اس وقت تک جہاد کروں جب تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کا اقرار نہ کرلیں“۔ اسی طرح سزائے ارتداد (قتل) سے بھی اس آیت کا کوئی ٹکراؤ نہیں ہے (جیسا کہ بعض لوگ ایسا باور کراتے ہیں)۔ کیونکہ ارتداد کی سزا۔ قتل۔ سے مقصود جبرواکراہ نہیں ہے بلکہ اسلامی ریاست کی نظریاتی حیثیت کا تحفظ ہے۔ ایک اسلامی مملکت میں ایک کافر کو اپنے کفر پر قائم رہ جانے کی اجازت تو بےشک دی جاسکتی ہے لیکن ایک بار جب وہ اسلام میں داخل ہوجائے تو پھر اس سے بغاوت وانحراف کی اجازت نہیں دی جاسکتی لہذا وہ خوب سوچ کر اسلام لائے۔ کیونکہ اگر یہ اجازت دے دی جاتی تو نظریاتی اساس منہدم ہوسکتی تھی جس سے نظریاتی انتشار اور فکری انارکی پھیلتی جو اسلامی معاشرے کے امن کو اور ملک کے استحکام کو خطرے میں ڈال سکتی تھی۔ اس لئے جس طرح انسانی حقوق کے نام پر، قتل، چوری ، زنا، ڈاکہ اور حرابہ وغیرہ جرائم کی اجازت نہیں دی جاسکتی، اسی طرح آزادی رائے کے نام پر ایک اسلامی مملکت میں نظریاتی بغاوت (ارتداد) کی اجازت بھی نہیں دی جاسکتی۔ یہ جبر واکراہ نہیں ہے۔ بلکہ مرتد کا قتل اسی طرح عین انصاف ہے جس طرح قتل وغارت گری اور اخلاقی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو سخت سزائیں دینا عین انصاف ہے۔ ایک کا مقصدملک کا نظریاتی تحفظ ہے اور دوسرے کا مقصد ملک کو شروفساد سے بچانا ہے اور دونوں ہی مقصد، ایک مملکت کے لئے ناگزیر ہیں۔ آج اکثر اسلامی ممالک ان دونوں ہی مقاصد کو نظرانداز کرکے جن الجھنوں، دشواریوں اور پریشانیوں سے دوچار ہیں، محتاج وضاحت نہیں۔

2:256 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3

تفسیر سورۃ البقرہ
0/286
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
مشاري العفاسي البقرہ 2:256 0:00 0:00 پڑھ لیا، آگے بڑھیں

تفسیر · 2:256

Al-Mukhtasar

256- دینِ اسلام میں داخل ہونے کے لیے کسی کو مجبور نہ کیا جائے کیونکہ یہ ایسا واضح سچا دین ہے کہ اس پر کسی کو مجبور کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہدایت گمراہی سے بالکل نمایاں ہوچکی ہے، چنانچہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا پوجے جانے والے تمام معبودوں کا انکار کرکے ان سے براء ت کا اظہار کرتا ہے اور اللہ وحدہ لا شریک پر ایمان لاتا ہے تو اس نے دین کا ایسا مضبوط سہارا پکڑ لیا ہے جو روزِ قیامت نجات دلانے تک نہیں ٹوٹے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے تمام اقوال کو خوب سننے والا اور ان کے افعال کو خوب جاننے والا ہے اور اس پر انھیں ضرور بدلہ دے گا۔

Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution

پارہ
3
الفاظ کی تعداد
24
مدینہ مصحف (604 صفحات)
42
انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
42
نسخ مصحف (612 صفحات)
43
آیت 2:256 کس سورت میں ہے؟

سورۃ البقرہ (البقرة). 114 میں سے سورت نمبر 2 · آیات کی تعداد: 286.

آیت 2:256 کس پارے میں ہے؟

پارہ: 3.

آیت 2:256 کس صفحے پر ہے؟

مدینہ مصحف (604 صفحات): 42 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 42 · نسخ مصحف (612 صفحات): 43.

آیت 2:256 میں کتنے الفاظ ہیں؟

الفاظ کی تعداد: 24.

آیت 2:256 میں کتنے عربی حروف ہیں؟

آیت 2:256: حروف کی تعداد 101، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔

آیت 2:256 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟

آیت 2:256 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 263 ہے۔

سورۃ البقرہ میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ البقرہ: آیات کی تعداد 286۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 2 پر ہے۔

سورۃ البقرہ مکی ہے یا مدنی؟

سورۃ البقرہ مدنی ہے۔

کیا آیت 2:256 سنی جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ آیت 2:256 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔

سورۃ البقرہ کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟

شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 286 آیات اور 6,116 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play