مواد پر جائیں

سورۃ آل عمران 3:14

یہ سورۃ آل عمران کی 200 آیات میں سے آیت 14 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 307، پارہ 3۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 51 پر ہے۔

زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ ٱلشَّهَوَٰتِ مِنَ ٱلنِّسَآءِ وَٱلۡبَنِينَ وَٱلۡقَنَٰطِيرِ ٱلۡمُقَنطَرَةِ مِنَ ٱلذَّهَبِ وَٱلۡفِضَّةِ وَٱلۡخَيۡلِ ٱلۡمُسَوَّمَةِ وَٱلۡأَنۡعَٰمِ وَٱلۡحَرۡثِۗ ذَٰلِكَ مَتَٰعُ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ وَٱللَّهُ عِندَهُۥ حُسۡنُ ٱلۡمَـَٔابِ

مرغوب چیزوں کی محبت لوگوں کے لئے مزین کر دی گئی ہے، جیسے عورتیں اور بیٹے اور سونے اور چاندی کے جمع کئے ہوئے خزانے اور نشاندار گھوڑے اور چوپائے اور کھیتی1 ، یہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے اور لوٹنے کا اچھا ٹھکانا تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔

مترجم کے حواشی (1)
  1. 1 شَهَوَاتٌ سے مراد یہاں مُشْتَهَيَاتٌ ہیں یعنی وہ چیزیں جوطبعی طور پر انسان کو مرغوب اورپسندیدہ ہیں۔ اسی لئے ان میں رغبت اور ان کی محبت ناپسندیدہ نہیں ہے۔ بشرطیکہ اعتدال کے اندر اور شریعت کے دائرے میں رہے۔ ان کی تزیین بھی اللہ کی طرف سے بطور آزمائش ہے۔ «إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الأَرْضِ زِينَةً لَهَا لِنَبْلُوَهُمْ» (الكهف: 7) ”ہم نے زمین پر جو کچھ ہے، اسے زمین کی زینت بنایاہے تاکہ ہم لوگوں کو آزمائیں“ سب سے پہلے عورت کا ذکر کیا ہے کیونکہ یہ ہر بالغ انسان کی سب سے بڑی ضرورت بھی ہے اور سب سے زیادہ مرغوب بھی۔ خود نبی (صلى الله عليه وسلم) کا فرمان ہے: ”حُبِّبَ إِلَيَّ النِّسَاءُ وَالطِّيبُ“ (مسند احمد) ”عورت اور خوشبو مجھے محبوب ہیں“۔ اسی طرح نبی (صلى الله عليه وسلم) نے نیک عورت کو ”دنیا کی سب سے بہتر متاع“ قرار دیا ہے ”خَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ“ اس لئے اس کی محبت شریعت کے دائرے سے تجاوز نہ کرے تو یہ بہترین رفیق زندگی بھی ہے اور زاد آخرت بھی۔ ورنہ یہی عورت مرد کے لئے سب سے بڑا فتنہ ہے۔ فرمان رسول (صلى الله عليه وسلم) ہے: ”مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجِالِ مِنَ النِّسَاءِ“ (صحيح بخاري كتاب النكاح، باب ما يتقى من شؤم المرأة)(میرے بعد جو فتنے رونما ہوں گے، ان میں مردوں کے لئے سب سے بڑا فتنہ عورتوں کا ہے۔) اسی طرح بیٹوں کی محبت ہے۔ اگر اس سے مقصد مسلمانوں کی قوت میں اضافہ اور بقا وتکثیر نسل ہے تو محمود ہے ورنہ مذموم۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) کا فرمان ہے ”تَزَوَّجُوا الوَدُودَ الْوَلُودَ؛ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الأُمَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“ (بہت محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی عورت سے شادی کرو، اس لئے کہ میں قیامت والے دن دوسری امتوں کے مقابلے میں اپنی امت کی کثرت پر فخر کروں گا) اس آیت سے رھبانیت کی تردیداور تحریک خاندانی منصوبہ بندی کی تردید بھی ثابت ہوتی ہے کیونکہ بَنِينٌ جمع ہے۔ مال ودولت سے بھی مقصود قیام معیشت، صلۂ رحمی، صدقہ وخیرات اور اسے امور خیر میں خرچ کرنا اور سوال سے بچنا ہے تاکہ اللہ کی رضا حاصل ہو، تو اس کی محبت بھی عین مطلوب ہے ورنہ مذموم۔ گھوڑوں سے مقصد جہاد کی تیاری، دیگر جانوروں سے کھیتی باڑی اور باربرداری کا کام لینا اور زمین سےاس کی پیداوار حاصل کرنا ہو تو یہ سب پسندیدہ ہیں اور اگر مقصود محض دنیا کمانا اور پھر اس پرفخر وغرور کا اظہار کرنا اور یاد الٰہی سے غافل ہو کر عیش وعشرت سے زندگی گزارنا ہے تو یہ سب مفید چیزیں اس کے لئے وبال جان ثابت ہوں گی۔ قَنَاطِيرُ قِنْطَارٌ (خزانہ) کی جمع ہے۔ مراد ہے خزانے یعنی سونے چاندی اورمال ودولت کی فراوانی اور کثرت۔ االمُسَوَّمَةِ وہ گھوڑے جو چراگاہ میں چرنے کے لئے چھوڑے گئے ہوں۔ یاجہاد کےلئے تیار کئے گئے ہوں یا نشان زدہ، جن پر امتیاز کے لئے کوئی نشان یانمبرلگادیا جائے (فتح القدیر وابن کثیر)

3:14 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3

تفسیر سورۃ آل عمران
0/200
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
مشاري العفاسي آل عمران 3:14 0:00 0:00 پڑھ لیا، آگے بڑھیں

تفسیر · 3:14

Al-Mukhtasar

14- اللہ تعالیٰ بتا رہا ہے کہ اس نے بندوں کی آزمائش کے لیے عورتوں، بیٹوں، سونے اور چاندی کی صورت میں بہت زیادہ مال، سدھائے ہوئے عمدہ خوبصورت گھوڑوں، اونٹوں، گائیوں، بکریوں اور کاشت کاری جیسی دنیاوی خواہشات کی محبت ان کے دلوں میں پرکشش بناکر رکھ دی ہے۔ یہ دنیا کی زندگی کا معمولی سامان ہے جس سے تھوڑے عرصے کے لیے فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور پھر ختم ہو جاتا ہے، اس لیے مومن کے شایانِ شان نہیں کہ وہ ان چیزوں میں الجھ جائے اور اللہ اکیلے ہی کے پاس اچھا ٹھکانا ہے اور وہ جنت ہے جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔

Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution

پارہ
3
الفاظ کی تعداد
24
مدینہ مصحف (604 صفحات)
51
انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
51
نسخ مصحف (612 صفحات)
52
آیت 3:14 کس سورت میں ہے؟

سورۃ آل عمران. 114 میں سے سورت نمبر 3 · آیات کی تعداد: 200.

آیت 3:14 کس پارے میں ہے؟

پارہ: 3.

آیت 3:14 کس صفحے پر ہے؟

مدینہ مصحف (604 صفحات): 51 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 51 · نسخ مصحف (612 صفحات): 52.

آیت 3:14 میں کتنے الفاظ ہیں؟

الفاظ کی تعداد: 24.

آیت 3:14 میں کتنے عربی حروف ہیں؟

آیت 3:14: حروف کی تعداد 122، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔

آیت 3:14 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟

آیت 3:14 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 307 ہے۔

سورۃ آل عمران میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ آل عمران: آیات کی تعداد 200۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 3 پر ہے۔

سورۃ آل عمران مکی ہے یا مدنی؟

سورۃ آل عمران مدنی ہے۔

کیا آیت 3:14 سنی جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ آیت 3:14 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔

سورۃ آل عمران کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟

شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 200 آیات اور 3,481 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play