مواد پر جائیں

سورۃ آل عمران 3:152

یہ سورۃ آل عمران کی 200 آیات میں سے آیت 152 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 445، پارہ 4۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 69 پر ہے۔

وَلَقَدۡ صَدَقَكُمُ ٱللَّهُ وَعۡدَهُۥٓ إِذۡ تَحُسُّونَهُم بِإِذۡنِهِۦۖ حَتَّىٰٓ إِذَا فَشِلۡتُمۡ وَتَنَٰزَعۡتُمۡ فِي ٱلۡأَمۡرِ وَعَصَيۡتُم مِّنۢ بَعۡدِ مَآ أَرَىٰكُم مَّا تُحِبُّونَۚ مِنكُم مَّن يُرِيدُ ٱلدُّنۡيَا وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ ٱلۡأٓخِرَةَۚ ثُمَّ صَرَفَكُمۡ عَنۡهُمۡ لِيَبۡتَلِيَكُمۡۖ وَلَقَدۡ عَفَا عَنكُمۡۗ وَٱللَّهُ ذُو فَضۡلٍ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ

اللہ تعالیٰ نے تم سے اپنا وعده سچا کر دکھایا جبکہ تم اس کے حکم سے انہیں کاٹ رہے تھے1 ۔ یہاں تک کہ جب تم نے پست ہمتی اختیار کی اور کام میں جھگڑنے لگے اور نافرمانی کی2، اس کے بعد کہ اس نے تمہاری چاہت کی چیز تمہیں دکھا دی3، تم میں سے بعض دنیا چاہتے تھے4 اور بعض کا اراده آخرت کا تھا5 تو پھر اس نے تمہیں ان سے پھیر دیا تاکہ تم کو آزمائے6 اور یقیناً اس نے تمہاری لغزش سے درگزر فرما دیا اور ایمان والوں پر اللہ تعالیٰ بڑے فضل واﻻ ہے.7

مترجم کے حواشی (7)
  1. 1 اس وعدے سے بعض مفسرین نے تین ہزار اور ہزار فرشتوں کا نزول مراد لیا ہے لیکن یہ رائے سرے سے صحیح نہیں بلکہ صحیح یہ ہے کہ فرشتوں کا یہ نزول صرف جنگ بدر کے ساتھ مخصوص تھا۔ باقی رہا وہ وعدہ جو اس آیت میں مذکورہے تو اس سے مراد فتح ونصرت کا وہ عام وعدہ ہے جو اہل اسلام کے لئے اور اس کے رسول کی طرف سے بہت پہلے سے کیا جا چکا تھا۔ حتیٰ کہ بعض آیتیں مکہ میں نازل ہو چکی تھیں۔ اور اس کے مطابق ابتدائے جنگ میں مسلمان غالب وفاتح رہے جس کی طرف «إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ» سے اشارہ کیا گیا ہے۔
  2. 2 اس تنازع اور عصیان سے مراد تیر اندازوں کاوہ اختلاف ہے جو فتح وغلبہ دیکھ کر ان کے اندر واقع ہوا اور جس کی وجہ سے کافروں کو پلٹ کر دوبارہ حملہ آور ہونے کا موقع ملا۔
  3. 3 اس سے مراد وہ فتح ہے جو ابتدا میں مسلمانوں کو حاصل ہوئی۔
  4. 4 یعنی مال غنیمت، جس کے لئے انہوں نے وہ پہاڑی چھوڑ دی جس کے نہ چھوڑنے کی انہیں تاکید کی گئی تھی۔
  5. 5 وہ لوگ ہیں جنہوں نے مورچہ چھوڑنے سے منع کیا اور نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کے فرمان کے مطابق اسی جگہ ڈٹے رہنے کا عزم ظاہر کیا۔
  6. 6 یعنی غلبہ عطا کرنے کے بعد پھر تمہیں شکست دے کر ان کافروں سے پھیر دیا تاکہ تمہیں آزمائے۔
  7. 7 اس میں صحابہ کرام (رضي الله عنهم) کے اس شرف وفعل کا اظہار ہے جو ان کی کوتاہیوں کے باوجود اللہ نے ان پر فرمایا۔ یعنی ان کی غلطیوں کی وضاحت کرکے آئندہ اس کا اعادہ نہ کریں، اللہ نے ان کے لئے معافی کا اعلان کر دیا تاکہ کوئی بد باطن ان پر زبان طعن دراز نہ کرے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ہی قرآن کریم میں ان کے لئے عفو عام کا اعلان فرما دیا تو اب کسی کے لئے طعن وتشنیع کی گنجائش کہاں رہ گئی؟ صحیح بخاری میں ایک واقعہ مذکور ہے کہ ایک حج کے موقعے پر ایک شخص نے حضرت عثمان (رضي الله عنه) پر بعض اعتراضات کئے کہ وہ جنگ بدر میں، بیعت رضوان میں شریک نہیں ہوئے، نیز یوم احد میں فرار ہوگئے تھے۔ حضرت ابن عمر (رضي الله عنه) نے فرمایا کہ جنگ بدر میں تو ان کی اہلیہ (بنت رسول ج) بیمار تھیں، بیعت رضوان کے موقع پر آپ رسول (صلى الله عليه وسلم) کے سفیر بن کر مکہ گئے ہوئے تھے اور یوم احد کے فرار کو اللہ نے معاف فرما دیا ہے۔ (ملخصا۔ صحیح بخاری، غزوۂ احد)

3:152 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3

تفسیر سورۃ آل عمران
0/200
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
مشاري العفاسي آل عمران 3:152 0:00 0:00 پڑھ لیا، آگے بڑھیں

تفسیر · 3:152

Al-Mukhtasar

152- اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے خلاف مدد کا جو وعدہ تم سے کیا تھا، احد کے روز وہ پورا کر دیا جب تم انھیں اللہ کے حکم سے بری طرح قتل کر رہے تھے، پھر رسول اللہ( صلى اللہ عليہ وسلم ) نے تمھیں جو حکم دیا تھا، اس پر قائم رہنے میں تم نے کمزوری اور کم ہمتی دکھائی اور اپنی جگہوں پر ڈٹے رہنے اور اس جگہ کو چھوڑ کر مالِ غنیمت اکٹھا کرنے کے بارے میں اختلاف کا شکار ہوگئے۔ رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم نے جو تمھیں درے پر ہر حال میں ڈٹے رہنے کا حکم دیا تھا، اس کی نافرمانی کی۔ یہ سب کچھ اس کے بعد ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں تمھاری پسندیدہ چیز، دشمن پر فتح دکھا دی تھی۔ تم میں سے کچھ دنیا کے مالِ غنیمت کے طلب گار تھے اور انھوں نے ہی اپنی جگہ چھوڑی تھی اور تم میں سے کچھ آخرت کا ثواب چاہتے تھے، وہ اپنے رسول کے حکم کی تعمیل میں مقررہ جگہ پر ڈٹے رہے، پھر اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان کے مقابلے سے پھیر دیا اور انھیں تم پر مسلط کر دیا تاکہ وہ تمھیں آزمائے اور آزمائش پر صبر کرنے والے مومن کو اس سے ممتاز کردے جس کے قدم لڑکھڑا گئے اور اس نے کمزوری کا مظاہرہ کیا۔ اپنے رسول کے حکم کی مخالفت کر کے تم نے جس گناہ کا ارتکاب کیا، اللہ تعالیٰ نے وہ معاف کر دیا ہے۔ اللہ مومنوں پر عظیم فضل کرنے والا ہے کہ اس نے انھیں ایمان کی توفیق دی، ان کے گناہوں سے درگزر کیا اور ان کے مصائب پر انھیں اجر دیا۔

Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution

پارہ
4
الفاظ کی تعداد
40
مدینہ مصحف (604 صفحات)
69
انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
69
نسخ مصحف (612 صفحات)
70
آیت 3:152 کس سورت میں ہے؟

سورۃ آل عمران. 114 میں سے سورت نمبر 3 · آیات کی تعداد: 200.

آیت 3:152 کس پارے میں ہے؟

پارہ: 4.

آیت 3:152 کس صفحے پر ہے؟

مدینہ مصحف (604 صفحات): 69 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 69 · نسخ مصحف (612 صفحات): 70.

آیت 3:152 میں کتنے الفاظ ہیں؟

الفاظ کی تعداد: 40.

آیت 3:152 میں کتنے عربی حروف ہیں؟

آیت 3:152: حروف کی تعداد 165، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔

آیت 3:152 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟

آیت 3:152 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 445 ہے۔

سورۃ آل عمران میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ آل عمران: آیات کی تعداد 200۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 3 پر ہے۔

سورۃ آل عمران مکی ہے یا مدنی؟

سورۃ آل عمران مدنی ہے۔

کیا آیت 3:152 سنی جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ آیت 3:152 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔

سورۃ آل عمران کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟

شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 200 آیات اور 3,481 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play