مواد پر جائیں

سورۃ آل عمران 3:7

یہ سورۃ آل عمران کی 200 آیات میں سے آیت 7 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 300، پارہ 3۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 50 پر ہے۔

هُوَ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ عَلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ مِنۡهُ ءَايَٰتٞ مُّحۡكَمَٰتٌ هُنَّ أُمُّ ٱلۡكِتَٰبِ وَأُخَرُ مُتَشَٰبِهَٰتٞۖ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمۡ زَيۡغٞ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَٰبَهَ مِنۡهُ ٱبۡتِغَآءَ ٱلۡفِتۡنَةِ وَٱبۡتِغَآءَ تَأۡوِيلِهِۦۖ وَمَا يَعۡلَمُ تَأۡوِيلَهُۥٓ إِلَّا ٱللَّهُۗ وَٱلرَّٰسِخُونَ فِي ٱلۡعِلۡمِ يَقُولُونَ ءَامَنَّا بِهِۦ كُلّٞ مِّنۡ عِندِ رَبِّنَاۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّآ أُوْلُواْ ٱلۡأَلۡبَٰبِ

وہی اللہ تعالیٰ ہے جس نے تجھ پر کتاب اتاری جس میں واضح مضبوط آیتیں ہیں جو اصل کتاب ہیں اوربعض متشابہ آیتیں ہیں1 ۔ پس جن کے دلوں میں کجی ہے وه تواس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں، فتنے کی طلب اور ان کی مراد کی جستجو کے لئے، حاﻻنکہ ان کے حقیقی مراد کو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا2 اور پختہ ومضبوط علم والے یہی کہتے ہیں کہ ہم تو ان پر ایمان ﻻچکے، یہ ہمارے رب کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو صرف عقلمند حاصل کرتے ہیں۔

مترجم کے حواشی (2)
  1. 1 مُحْكَمَاتٌ سے مراد وہ آیات ہیں جن میں اوا مر ونواہی، احکام ومسائل اور قصص وحکایات ہیں جن کا مفہوم واضح اور اٹل ہے، اور ان کے سمجھنے میں کسی کو اشکال پیش نہیں آتا۔ اس کے برعکس آيَاتٌ مُتَشَابِهَاتٌ ہیں مثلاً اللہ کی ہستی، قضا وقدر کے مسائل، جنت دوزخ، ملائکہ وغیرہ یعنی ماورا عقل حقائق جن کی حقیقت سمجھنے سے عقل انسانی قاصر ہو یا ان میں ایسی تاویل کی گنجائش ہو یا کم از کم ایسا ابہام ہو جس سے عوام کو گمراہی میں ڈالنا ممکن ہو۔ اسی لئے آگے کہا جا رہا ہے کہ جن کے دلوں میں کجی ہوتی ہے وہ آیات متشابہات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور ان کے ذریعے سے (فتنے) برپا کرتے ہیں۔ جیسے عیسائی ہیں۔ قرآن نےحضرت عیسیٰ (عليه السلام) کو عبداللہ اور نبی کہا ہے یہ واضح اور محکم بات ہے۔ لیکن عیسائی اسے چھوڑ کر قرآن کریم سے حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کو روح اللہ اور کلمۃ اللہ جوکہا گیا ہے، اس سے اپنے گمراہ کن عقائد پر غلط استدلال کرتے ہیں۔ یہی حال اہل بدعت کاہے۔ قرآن کے واضح عقائد کے برعکس اہل بدعت نے جو غلط عقائد گھڑ رکھے ہیں، وہ انہی مُتَشَابِهَاتٌ کو بنیاد بناتے ہیں۔ اور بسا اوقات مُحْكَمَاتٌ کوبھی اپنے فلسفیانہ استدلال کے گورکھ دھندے سے مُتَشَابِهَاتٌ بناتے ہیں۔ أَعَاذَنَا اللهُ مِنْهم نہ ان کے برعکس صحیح العقیدہ مسلمان محکمات پرعمل کرتا ہے اورمُتَشَابِهَاتٌ کے مفہوم کو بھی (اگر اس میں اشتباہ ہو) محکمات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ قرآن نے انہی کو (اصل کتاب) قرار دیا ہے۔ جس سے وہ فتنے سے بھی محفوظ رہتا ہے اور عقائد کی گمراہی سے بھی۔جَعَلَنَا اللهُ منْهُمْ
  2. 2 تاویل کے ایک معنی تو ہیں (کسی چیز کی اصل حقیقت) اس معنی کے اعتبار سےإِلا اللهُ پر وقف ضروری ہے۔ کیونکہ ہر چیز کی اصل حقیقت واضح طورپرصرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ تاویل کے دوسرے معنی ہیں ”کسی چیزکی تفسیر وتعبیر اوربیان وتوضیح“ اس اعتبار سے الا اللہ پر وقف کے بجائے «وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ» پر بھی وقف کیا جاسکتاہے کیونکہ مضبوط علم والے بھی صحیح تفسیر وتوضیح کا علم رکھتے ہیں۔ ”تاویل“ کے یہ دونوں معنی قرآن کریم کے استعمال سے ثابت ہیں۔ (ملخص ازابن کثیر)

3:7 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3

تفسیر سورۃ آل عمران
0/200
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
مشاري العفاسي آل عمران 3:7 0:00 0:00 پڑھ لیا، آگے بڑھیں

تفسیر · 3:7

Al-Mukhtasar

7- اے نبی! اللہ وہی ذات ہے جس نے آپ پر قرآن اتارا جس کی کچھ آیات اپنے معانی و مفہوم میں بالکل واضح ہیں جن میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ یہی آیات کتاب کی اصل اور بنیاد ہیں اور زیادہ تر آیات ایسی ہی ہیں۔ اختلاف کے وقت انھی کی طرف رجوع ہوگا جبکہ قرآن کی کچھ دوسری آیتیں ہیں جو ایک سے زیادہ معانی کا احتمال رکھتی ہیں۔ ان کے معنی کے تعین میں اکثر لوگوں کو التباس اور شبہ پڑ جاتا ہے، پھر جن کے دلوں میں حق سے بیزاری ہو، وہ محکم اور واضح آیات کو چھوڑ دیتے ہیں اور متشابہات، جن کے معانی میں کئی احتمالات ہوتے ہیں، ان کو لے لیتے ہیں۔ اس سے ان کا مقصدشبہات پیدا کرنا اور لوگوں کو گمراہ کرنا ہوتا ہے۔ وہ اپنی خواہشات کے ذریعے سے ان آیات کی ایسی من مانی تاویلیں کرتے ہیں جو ان کے باطل نظریات کے مطابق ہوں۔ جبکہ ان آیات کے حقیقی معانی اور حتمی نتائج اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور نہیں جانتا۔ اور علم میں رسوخ رکھنے والے پختہ کار یوں کہتے ہیں: ہم سارے قرآن پر ایمان لائے کیونکہ وہ سارا ہمارے رب کی طرف سے ہے۔ وہ متشابہات کی تفسیر محکم آیات سے کرتے ہیں اور نصیحت اور عبرت صرف عقل سلیم رکھنے والے ہی حاصل کرتے ہیں۔

Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution

پارہ
3
الفاظ کی تعداد
46
مدینہ مصحف (604 صفحات)
50
انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
50
نسخ مصحف (612 صفحات)
51
آیت 3:7 کس سورت میں ہے؟

سورۃ آل عمران. 114 میں سے سورت نمبر 3 · آیات کی تعداد: 200.

آیت 3:7 کس پارے میں ہے؟

پارہ: 3.

آیت 3:7 کس صفحے پر ہے؟

مدینہ مصحف (604 صفحات): 50 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 50 · نسخ مصحف (612 صفحات): 51.

آیت 3:7 میں کتنے الفاظ ہیں؟

الفاظ کی تعداد: 46.

آیت 3:7 میں کتنے عربی حروف ہیں؟

آیت 3:7: حروف کی تعداد 191، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔

آیت 3:7 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟

آیت 3:7 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 300 ہے۔

سورۃ آل عمران میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ آل عمران: آیات کی تعداد 200۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 3 پر ہے۔

سورۃ آل عمران مکی ہے یا مدنی؟

سورۃ آل عمران مدنی ہے۔

کیا آیت 3:7 سنی جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ آیت 3:7 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔

سورۃ آل عمران کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟

شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 200 آیات اور 3,481 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play