مواد پر جائیں

سورۃ النساء 4:12

یہ سورۃ النساء کی 176 آیات میں سے آیت 12 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 505، پارہ 4۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 79 پر ہے۔

۞ وَلَكُمۡ نِصۡفُ مَا تَرَكَ أَزۡوَٰجُكُمۡ إِن لَّمۡ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٞۚ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٞ فَلَكُمُ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡنَۚ مِنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ يُوصِينَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٖۚ وَلَهُنَّ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡتُمۡ إِن لَّمۡ يَكُن لَّكُمۡ وَلَدٞۚ فَإِن كَانَ لَكُمۡ وَلَدٞ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكۡتُمۚ مِّنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ تُوصُونَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٖۗ وَإِن كَانَ رَجُلٞ يُورَثُ كَلَٰلَةً أَوِ ٱمۡرَأَةٞ وَلَهُۥٓ أَخٌ أَوۡ أُخۡتٞ فَلِكُلِّ وَٰحِدٖ مِّنۡهُمَا ٱلسُّدُسُۚ فَإِن كَانُوٓاْ أَكۡثَرَ مِن ذَٰلِكَ فَهُمۡ شُرَكَآءُ فِي ٱلثُّلُثِۚ مِنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ يُوصَىٰ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٍ غَيۡرَ مُضَآرّٖۚ وَصِيَّةٗ مِّنَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٞ

تمہاری بیویاں جو کچھ چھوڑ مریں اور ان کی اوﻻد نہ ہو تو آدھوں آدھ تمہارا ہے اور اگر ان کی اوﻻد ہو تو ان کے چھوڑے ہوئے مال میں سے تمہارے لئے چوتھائی حصہ ہے1 ۔ اس وصیت کی ادائیگی کے بعد جو وه کر گئی ہوں یا قرض کے بعد۔ اور جو (ترکہ) تم چھوڑ جاؤ اس میں ان کے لئے چوتھائی ہے، اگر تمہاری اوﻻد نہ ہو اور اگر تمہاری اوﻻد ہو تو پھر انہیں تمہارے ترکہ کا آٹھواں حصہ ملے گا2، اس وصیت کے بعد جو تم کر گئے ہو اور قرض کی ادائیگی کے بعد۔ اور جن کی میراث لی جاتی ہے وه مرد یا عورت کلالہ ہو یعنی اس کا باپ بیٹا نہ ہو3۔ اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو4 تو ان دونوں میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے اور اس سے زیاده ہوں تو ایک تہائی میں سب شریک ہیں5، اس وصیت کے بعد جو کی جائے اور قرض کے بعد6 جب کہ اوروں کا نقصان نہ کیا گیا ہو7 یہ مقرر کیا ہوا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اللہ تعالیٰ دانا ہے بردبار۔

مترجم کے حواشی (7)
  1. 1 اولاد کی عدم موجودگی میں بیٹے کی اولاد یعنی پوتے بھی اولاد کے حکم میں ہیں، اس پر امت کے علما کا اجماع ہے (فتح القدیر وابن کثیر) اسی طرح مرنے والے شوہر کی اولاد خواہ اس کی وراث ہونے والی موجودہ بیوی ہو یا کسی اور بیوی سے۔ اس طرح مرنے والی عورت کی اولاد اس کی وارث ہونے والے موجودہ خاوند سے ہو یا پہلے کے کسی خاوند سے۔
  2. 2 بیوی اگر ایک ہوگی تب بھی اسے چوتھا یا آٹھواں حصہ ملے گا۔ اگر زیادہ ہوں گی تب بھی یہی حصہ ان کے درمیان تقسیم ہوگا، ایک ایک کو چوتھائی یا آٹھواں حصہ نہیں ملے گا، یہ بھی اجماعی مسئلہ ہے (فتح القدیر)
  3. 3 کلالہ سے مراد وہ میت ہے جس کا باپ ہو نہ بیٹا۔ یہ اکلیل سے مشتق ہے۔ اکلیل ایسی چیز کو کہتے ہیں جو کہ سرکو اس کے اطراف (کناروں) سے گھیر لے، کلالہ کو بھی کلالہ اس لئے کہتے ہیں کہ اصول وفروع کے اعتبار سے تو اس کا وارث نہ بنے لیکن اطراف وجوانب سے وارث قرار پا جائے (فتح القدیر وابن کثیر) اور کہا جاتا ہے کہ کلالہ کلل سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں تھک جانا۔ گویا اس شخص تک پہنچتے پہنچتے سلسلۂ نسل ونسب تھک گیا اور آگے نہ چل سکا۔
  4. 4 اس سے مراد اخیافی بہن بھائی ہیں جن کی ماں ایک ہو باپ الگ الگ کیونکہ عینی بھائی بہن یا علاتی بہن بھائی کا حصہ میراث اس طرح نہیں ہے اور اس کا بیان اسی سورت کے اخیر میں آرہا ہے اور یہ مسئلہ بھی اجماعی ہے (فتح القدیر) اور دراصل نسل کے لئے مردو زن «لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ» کا قانون چلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیٹے بیٹیوں کےلئے اس جگہ اور بہن بھائیوں کے لئے آخری آیت نساء میں ہر دو جگہ یہی قانون ہے البتہ صرف ماں کی اولادمیں چونکہ نسل کا حصہ نہیں ہوتا اس لئے وہاں ہر ایک کو برابر کا حصہ دیا جاتا ہے۔ بہرحال ایک بھائی یاایک بہن کی صورت میں ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا۔
  5. 5 ایک سے زیادہ ہونے کی صورت میں یہ سب ایک تہائی حصے میں شریک ہوں گے۔ نیز ان میں مذکر اور مونث کے اعتبار سے بھی فرق نہیں کیا جائے گا۔ بلاتفریق سب کو مساوی حصہ ملے گا، مرد ہو یا عورت۔ ملحوظہ :ماں زاد یعنی اخیافی بھائی بعض احکام میں دوسرے وارثوں سے مختلف ہیں۔(1) یہ صرف اپنی ماں کی وجہ سے وارث ہوتے ہیں۔(2) ان کے مرد اور عورت، حصے میں مساوی ہوں گے۔(3) یہ اس وقت وارث ہوں گے جب کہ میت کلالہ ہو۔ پس باپ دادا بیٹا اور پوتے وغیرہ کی موجودگی میں یہ وارث نہیں ہوں گے۔(4) ان کے مرد وعورت کتنے بھی زیادہ ہوں، ان کا حصہ ثلث (ایک تہائی) سے زیادہ نہیں ہوگا اور جیسا کہ اوپر کہا گیا ان کو اپنے مرنے والے اخیانی بھائی سے جو مال ملے گا اس میں مرد اور عورت کا حصہ برابر ہوگا یہ نہیں کہ مرد کو عورت سے دوگنا دیا جائے۔ حضرت عمر (رضي الله عنه) نے اپنے دور خلافت میں یہی فیصلہ کیا تھا اور امام زہری فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رضي الله عنه) نے یہ فیصلہ یقیناً اس وقت ہی کیا ہوگا جب ان کے پاس نبی (صلى الله عليه وسلم) کی کوئی حدیث ہوگی۔ (ابن کثیر)
  6. 6 میراث کے احکام بیان کرنے کے ساتھ ساتھ یہ تیسری مرتبہ کہا جا رہا ہے کہ ورثے کی تقسیم، وصیت پر عمل کرنے اور فرض کی ادائیگی کے بعد کی جائے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں باتوں پر عمل کرنا کتنا ضروری ہے۔ پھر اس پر بھی اتفاق ہے کہ سب سے پہلے قرضوں کی ادائیگی کی جائے گی اور وصیت پر عمل اس کے بعد کیا جائے گا لیکن اللہ تعالیٰ نے تینوں جگہ وصیت کا ذکر دین (قرض) سے پہلے کیا حالانکہ ترتیب کے اعتبار سے دین کا ذکر پہلے ہونا چاہئے تھا۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ قرض کی ادائیگی کو تو لوگ اہمیت دیتے ہیں، نہ بھی دیں تو لینے والے زبردستی بھی وصول کر لیتے ہیں۔ لیکن وصیت پر عمل کرنے کو غیر ضروری سمجھا جاتا ہے اور اکثر لوگ اس معاملے میں تساہل یا تغافل سے کام لیتے ہیں اس لئے وصیت کا پہلے ذکر فرما کر اس کی اہمیت واضح کر دی گئی۔ (روح المعانی ) ملحوظہ :اگربیوی کا حق مہر ادا نہ کیا گیا ہو تو وہ بھی دین (قرض) میں شمار ہوگا اور اس کی ادائیگی بھی وراثت کی تقسیم سے پہلے ضروری ہے۔ نیز عورت کا حصہ شرعی اس مہر کے علاوہ ہوگا۔
  7. 7 بایں طور کہ وصیت کے ذریعے سے کسی وارث کو محروم کر دیا جائے یا کسی کا حصہ گھٹا بڑھا دیا جائے یا یوں ہی وارثوں کو نقصان پہنچانے کے لئے کہہ دے کہ فلاں شخص سے میں نے اتنا قرض لیا ہے درآں حالیکہ کچھ بھی نہ لیا ہو۔ گویا اضرارکا تعلق وصیت اور دین دونوں سے ہے اور دونوں کے ذریعے سے نقصان پہنچانا ممنوع اور کبیرہ گناہ ہے۔ نیز ایسی وصیت بھی باطل ہوگی۔

4:12 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3

تفسیر سورۃ النساء
0/176
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
مشاري العفاسي النساء 4:12 0:00 0:00 پڑھ لیا، آگے بڑھیں

تفسیر · 4:12

Al-Mukhtasar

12- اے خاوندو! تمھارے لیے تمھاری بیویوں کے ترکے میں سے کل جائداد کا آدھا حصہ (°) ہے بشرطیکہ تم سے یا کسی دوسرے خاوند سے ان کی کوئی اولاد (بیٹی یا بیٹا) نہ ہو اور اگر ان کی اولاد ہو تو تمھیں ان کے متروکہ مال سے چوتھا حصہ (²) ملے گا۔ یہ تقسیم ان کی وصیت پوری کرنے اور قرض کی ادائیگی کے بعد ہوگی۔ اور اے خاوند حضرات! تمھارے ترکے میں سے تمھاری بیویوں کا چوتھا (²) حصہ ہے اگر تمھاری کوئی اولاد (بیٹی یا بیٹا) ان سے یا کسی دوسری بیوی سے نہ ہو اور اگر تمھاری اولاد ہو تو پھر ان کے لیے تمھاری میراث میں سے آٹھواں حصہ (´) ہے۔ یہ تقسیم تمھاری وصیت کے نفاذ اور قرض کی ادائیگی کے بعد ہوگی۔ اور اگر کوئی آدمی فوت ہو جائے، اس کا والد ہو نہ اولاد یا کوئی عورت فوت ہو جائے اور اس کا والد اور اولاد نہ ہو اور اس کا کوئی اخیافی (ماں کی طرف سے) بھائی یا بہن ہو تو ہر ایک (لڑکی یا لڑکے) کووراثت میں فرض کردہ چھٹا حصہ (³) ملے گا اور اگر اخیافی بھائی بہنوں کی تعداد ایک سے زیادہ ہو تو سب کو کل مال کا تیسرا حصہ (±) بطور فرض ملے گا۔ وہ مرد و خواتین سب اس میں برابر کے شریک ہوں گے۔ وہ اپنا یہ حصہ میت کی وصیت پوری کرنے اور قرض ادا کرنے کے بعد وصول کریں گے، بشرطیکہ وصیت میں وارثوں کا نقصان نہ کیا گیا ہو، یعنی تیسرے حصے (±) سے زیادہ کی وصیت نہ ہو۔ یہ حکم جس پر یہ آیت مشتمل ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک پابندی ہے جو اس نے تم پر عائد کی ہے اور اللہ دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کی مصلحت خوب جاننے والا اور بڑا بردبار ہے کہ نافرمان کو جلد سزا نہیں دیتا۔

Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution

پارہ
4
الفاظ کی تعداد
88
مدینہ مصحف (604 صفحات)
79
انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
79
نسخ مصحف (612 صفحات)
80
آیت 4:12 کس سورت میں ہے؟

سورۃ النساء. 114 میں سے سورت نمبر 4 · آیات کی تعداد: 176.

آیت 4:12 کس پارے میں ہے؟

پارہ: 4.

آیت 4:12 کس صفحے پر ہے؟

مدینہ مصحف (604 صفحات): 79 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 79 · نسخ مصحف (612 صفحات): 80.

آیت 4:12 میں کتنے الفاظ ہیں؟

الفاظ کی تعداد: 88.

آیت 4:12 میں کتنے عربی حروف ہیں؟

آیت 4:12: حروف کی تعداد 296، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔

آیت 4:12 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟

آیت 4:12 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 505 ہے۔

سورۃ النساء میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ النساء: آیات کی تعداد 176۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 4 پر ہے۔

سورۃ النساء مکی ہے یا مدنی؟

سورۃ النساء مدنی ہے۔

کیا آیت 4:12 سنی جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ آیت 4:12 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔

سورۃ النساء کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟

شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 176 آیات اور 3,747 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play