سورۃ النساء 4:11
یہ سورۃ النساء کی 176 آیات میں سے آیت 11 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 504، پارہ 4۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 78 پر ہے۔
يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ فَإِن كُنَّ نِسَآءٗ فَوۡقَ ٱثۡنَتَيۡنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَۖ وَإِن كَانَتۡ وَٰحِدَةٗ فَلَهَا ٱلنِّصۡفُۚ وَلِأَبَوَيۡهِ لِكُلِّ وَٰحِدٖ مِّنۡهُمَا ٱلسُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُۥ وَلَدٞۚ فَإِن لَّمۡ يَكُن لَّهُۥ وَلَدٞ وَوَرِثَهُۥٓ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ ٱلثُّلُثُۚ فَإِن كَانَ لَهُۥٓ إِخۡوَةٞ فَلِأُمِّهِ ٱلسُّدُسُۚ مِنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ يُوصِي بِهَآ أَوۡ دَيۡنٍۗ ءَابَآؤُكُمۡ وَأَبۡنَآؤُكُمۡ لَا تَدۡرُونَ أَيُّهُمۡ أَقۡرَبُ لَكُمۡ نَفۡعٗاۚ فَرِيضَةٗ مِّنَ ٱللَّهِۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمٗا
اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اوﻻد کے بارے میں حکم کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے1 اور اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں اور دو سے زیاده ہوں تو انہیں مال متروکہ کا دو تہائی ملے گا2۔ اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کے لئے آدھا ہے اور میت کے ماں باپ میں سے ہر ایک کے لئے اس کے چھوڑے ہوئے مال کا چھٹا حصہ ہے، اگر اس (میت) کی اوﻻد ہو3، اور اگر اوﻻد نہ ہو اور ماں باپ وارث ہوتے ہوں تو اس کی ماں کے لئے تیسرا حصہ ہے4، ہاں اگر میت کے کئی بھائی ہوں تو پھر اس کی ماں کا چھٹا حصہ ہے5۔ یہ حصے اس وصیت (کی تکمیل) کے بعد ہیں جو مرنے واﻻ کر گیا ہو یا ادائے قرض کے بعد، تمہارے باپ ہوں یا تمہارے بیٹے تمہیں نہیں معلوم کہ ان میں سے کون تمہیں نفع پہچانے میں زیاده قریب ہے6، یہ حصے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کرده ہیں بے شک اللہ تعالیٰ پورے علم اور کامل حکمتوں واﻻ ہے۔
مترجم کے حواشی (6)
- 1 اس کی حکمت اور اس کا مبنی برعدل وانصاف ہونا ہم واضح کر آئے ہیں۔ ورثا میں لڑکی اور لڑکے دونوں ہوں تو پھر اس اصول کے مطابق تقسیم ہوگی۔ لڑکے چھوٹے ہوں یا بڑے، اسی طرح لڑکیاں چھوٹی ہو یا بڑی سب وراث ہوں گی۔ حتی کہ جنين( ماں کے پیٹ میں زیر پرورش بچہ) بھی وراث ہوگا۔ البتہ کافر اولاد وارث نہ ہوگی۔
- 2 یعنی بیٹا کوئی نہ ہو تو مال کا دو تہائی (یعنی کل مال کے تین حصے کرکے دو حصے) دو سے زائد لڑکیوں کو دیئے جائیں گے اور اگر صرف دو ہی لڑکیاں ہوں، تب بھی انہیں دو تہائی حصہ ہی دیا جائے گا، جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ سعد بن ربیع (رضي الله عنه) احد میں شہید ہوگئے اور ان کی دو لڑکیاں تھیں۔ مگر سعد کے سارے مال پر ان کے ایک بھائی نے قبضہ کر لیا تو نبی (صلى الله عليه وسلم) نے ان دونوں لڑکیوں کو ان کے چچا سے دو ثلث مال دلوایا (ترمذی، ابو داود، ابن ماجہ، کتاب الفرائض) علاوہ ازیں سورۂ نساء کے آخر میں بتلایا گیا ہے کہ اگر کسی مرنے والے کی وارث صرف دو بہنیں ہوں تو ان کے لئے بھی دو تہائی حصہ ہے لہٰذا جب دو بہنیں دو تہائی مال کی وارث ہوں گی تو دو بیٹیاں بطریق اولیٰ دو تہائی مال کی وارث ہوں گی جس طرح دو بہنوں سے زیادہ ہونے کی صورت میں انہیں دو سے زیادہ بیٹیوں کے حکم میں رکھا گیا ہے (فتح القدیر) خلاصۂ مطلب یہ ہوا کہ دو یا دو سے زائد لڑکیاں ہوں، تو دونوں صورتوں میں مال متروکہ سے دو تہائی لڑکیوں کا حصہ ہوگا، باقی مال عصبہ میں تقسیم ہوگا۔
- 3 ماں باپ کے حصے کی تین صورتیں بیان کی گئی ہیں یہ پہلی صورت ہے کہ مرنے والے کی اگر اولاد بھی ہو تو مرنے والے کے ماں باپ میں سے ہر ایک کو ایک ایک سدس ملے گا یعنی باقی دو تہائی مال اولاد پر تقسیم ہو جائے گا البتہ اگر مرنے والے کی اولاد صرف ایک بیٹی ہو تو اس میں سے چونکہ صرف نصف مال (یعنی چھ حصوں میں سے 3 حصے) بیٹی کے ہوں گے اور ایک سدس (چھٹا حصہ) ماں کو اور ایک سدس باپ کو دینے کے بعد مزید ایک سدس باقی بچ جائے گا اس لئے بچنے والا یہ سدس بطور عصبہ باپ کے حصہ میں جائے گا یعنی اس صورت میں باپ کو دو سدس ملیں گے، ایک باپ کی حیثیت سے دوسرے، عصبہ ہونے کی حیثیت سے۔
- 4 یہ دوسری صورت ہے کہ مرنے والے کی اولاد نہیں ہے (یاد رہے کہ پوتا پوتی بھی اولاد میں اجماعاً شامل ہیں) اس صورت میں ماں کے لئے تیسرا حصہ اور باقی دو حصے (جو ماں کے حصے میں دو گنا ہیں) باپ کو بطورعصبہ ملیں گے اور اگر ماں باپ کے ساتھ مرنے والے مرد کی بیوی یا مرنے والی عورت کا شوہر بھی زندہ ہے تو راجح قول کے مطابق بیوی یا شوہر کا حصہ (جس کی تفصیل آرہی ہے) نکال کر باقی ماندہ مال میں سے ماں کے لئے ثلث (تیسرا حصہ) اورباقی باپ کے لئے ہوگا۔
- 5 تیسری صورت یہ ہے کہ ماں باپ کے ساتھ، مرنے والے کے بھائی بہن زندہ ہیں، وہ بھائی چاہے سگے (عینی) ہوں یعنی ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہوں۔ یا باپ ایک ہو، مائیں مختلف ہوں یعنی علاتی بھائی بہن ہوں یا ماں ایک ہو، باپ مختلف ہوں یعنی اخیافی بھائی بہن ہوں۔ اگرچہ یہ بھائی بہن میت کے باپ کی موجودگی میں وراثت کے حق دار نہیں ہوں گے لیکن ماں کے لئے حجب (نقصان کا سبب) بن جائیں گے یعنی جب ایک سے زیادہ ہوں گے تو ماں کے ثلث (تیسرے حصے) کو سدس (چھٹے حصے) میں تبدیل کر دیں گے۔ باقی سارا مال ( 5/6) باپ کے حصہ میں چلا جائے گا۔ بشرطیکہ کوئی اور وارث نہ ہو۔ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ جمہور کے نزدیک دو بھائیوں کا بھی وہی حکم ہے جو دو سے زیادہ بھائیوں کا مذکور ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ایک بھائی یا بہن ہو تو اس صورت میں مال میں ماں کا حصہ ثلث برقرار رہے گاوہ سدس میں تبدیل نہیں ہوگا۔ (تفسیر ابن کثیر)
- 6 اس لئے تم اپنی سمجھ کے مطابق وراثت تقسیم مت کرو، بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق جس کا جتنا حصہ مقرر کر دیا گیا ہے،وہ ان کو دو۔
4:11 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 4:11
Al-Mukhtasar
11- اللہ تعالیٰ تمھیں اولاد کی وراثت کے معاملے میں پابند کرتا اور حکم دیتا ہے کہ ان کے درمیان میراث اس طرح تقسیم کی جائے کہ ایک بیٹے کو دو بیٹیوں کے برابر حصہ ملے۔ اگر مرنے والے کا کوئی بیٹا نہیں، صرف بیٹیاں ہیں، اور بیٹیوں کی تعداد دو یا دو سے زیادہ ہے تو انھیں کل ترکے کا دو تہائی (µ) ملے گا اور اگر صرف ایک بیٹی ہے تو اسے کل مال کا آدھا (°) ملے گا۔ مرنے والے کے والدین اگر زندہ ہوں تو ان میں سے ہر ایک کو کل ترکے کا چھٹا حصہ (³) ملے گا۔ والدین کا یہ حصہ اس صورت میں ہے جب مرنے والے کی اولاد بیٹے یا بیٹیاں موجود ہوں اور اگر اولاد نہ ہو اور ماں باپ کے علاوہ کوئی وارث بھی نہ ہو تو اس صورت میں مرنے والے کی ماں کو تیسرا حصہ (±) ملے گا اور باقی سارا مال باپ کا ہوگا۔ اگر مرنے والے کے ماں باپ موجود ہوں اور اس کے سگے یا سوتیلے دو یا دو سے زیادہ بہن بھائی بھی ہوں تو اس کی ماں کووراثت میں مقرر کردہ حصے کے مطابق چھٹا حصہ (³) ملے گا اور باقی سارا مال بطور عصبہ باپ کو ملے گا اور بہن بھائیوں کو اس صورت میں کچھ نہیں ملے گا۔ وراثت کی یہ تقسیم اس وصیت کو پورا کرنے کے بعد ہوگی جو مرنے والے نے کی ہو بشرطیکہ وہ وصیت کل مال کے ایک تہائی (±) سے زیادہ نہ ہو اور تقسیم سے پہلے میت کا قرض بھی ادا کیا جائے گا۔ میراث کی یہ تقسیم اللہ تعالیٰ نے خود اس طرح مقرر کی ہے کیونکہ تم نہیں جانتے کہ ماں باپ یا اولاد میں سے دنیا و آخرت میں کون تمھارے لیے زیادہ نفع بخش ہے۔ بسا اوقات مرنے والا کسی ایک وارث کے بارے میںاچھا گمان کر کے ساری وراثت اسے دے دیتا ہے یا کسی کے ساتھ برا گمان کر کے اسے اس سے محروم کر دیتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ ان سب باتوں کو وہ اللہ جانتا ہے جس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، اس لیے اس نے خود وراثت کی واضح تقسیم کر دی اور اس کا نفاذ اپنے بندوں پر فرض کر دیا۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ہے جس پر بندوں کی مصلحت کا کوئی پہلو مخفی نہیں۔ وہ اپنی شریعت سازی اور تدبیر میں کمال حکمت والا ہے۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 4
- الفاظ کی تعداد
- 71
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 78
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 79
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 80
آیت 4:11 کس سورت میں ہے؟
سورۃ النساء. 114 میں سے سورت نمبر 4 · آیات کی تعداد: 176.
آیت 4:11 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 4.
آیت 4:11 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 78 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 79 · نسخ مصحف (612 صفحات): 80.
آیت 4:11 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 71.
آیت 4:11 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 4:11: حروف کی تعداد 269، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 4:11 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 4:11 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 504 ہے۔
سورۃ النساء میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ النساء: آیات کی تعداد 176۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 4 پر ہے۔
سورۃ النساء مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ النساء مدنی ہے۔
کیا آیت 4:11 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 4:11 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ النساء کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 176 آیات اور 3,747 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔