سورۃ الطلاق 65:1
یہ سورۃ الطلاق کی 12 آیات میں سے آیت 1 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 5218، پارہ 28۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 558 پر ہے۔
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ إِذَا طَلَّقۡتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحۡصُواْ ٱلۡعِدَّةَۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ رَبَّكُمۡۖ لَا تُخۡرِجُوهُنَّ مِنۢ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخۡرُجۡنَ إِلَّآ أَن يَأۡتِينَ بِفَٰحِشَةٖ مُّبَيِّنَةٖۚ وَتِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ ٱللَّهِ فَقَدۡ ظَلَمَ نَفۡسَهُۥۚ لَا تَدۡرِي لَعَلَّ ٱللَّهَ يُحۡدِثُ بَعۡدَ ذَٰلِكَ أَمۡرٗا
اے نبی! (اپنی امت سے کہو کہ) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو1 تو ان کی عدت (کے دنوں کے آغاز) میں انہیں طلاق دو2 اور عدت کا حساب رکھو3، اور اللہ سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرتے رہو، نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالو4 اور نہ وه (خود) نکلیں5 ہاں یہ اور بات ہے کہ وه کھلی برائی کر بیٹھیں6، یہ اللہ کی مقرر کرده حدیں ہیں، جو شخص اللہ کی حدوں سے آگے بڑھ جائے اس نے یقیناً اپنے اوپر ﻇلم کیا7، تم نہیں جانتے شاید اس کے بعد اللہ تعالیٰ کوئی نئی بات پیدا کر دے.8
مترجم کے حواشی (8)
- 1 نبی (صلى الله عليه وسلم) سے خطاب آپ کے شرف ومرتبت کی وجہ سے ہے، ورنہ حکم تو امت کو دیا جارہا ہے۔ یا آپ ہی کو بطور خاص خطاب ہے اور جمع کا صیغہ بطور تعظیم کے ہے اور امت کے لیے آپ (صلى الله عليه وسلم) کا اسوہ ہی کافی ہے۔ طَلَّقْتُمُ کا مطلب ہے جب طلاق دینے کا پختہ ارادہ کر لو۔
- 2 اس میں طلاق دینے کا طریقہ اور وقت بتلایا ہے لِعِدَّتِهِنَّ میں لام توقیت کے لیے ہے۔ یعنی لأوَّلِ یا لاسْتِقْبَالِ عِدَّتِهِنَّ (عدت کے آغاز میں) طلاق دو۔ یعنی جب عورت حیض سے پاک ہو جائے تو اس سے ہم بستری کیے بغیر طلاق دو۔ حالت طہر اسکی عدت کا آغاز ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حیض کی حالت میں یا طہر میں ہم بستری کرنے کے بعد طلاق دینا غلط طریقہ ہے اس کو فقہا طلاق بدعی سے اور پہلے (صحیح) طریقے کو طلاق سنت سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں آتا ہے کہ حضرت ابن عمر (رضي الله عنه) ما نے حیض کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) غضبناک ہوئے اور انہیں اس سے رجوع کرنے کے ساتھ حکم دیا کہ حالت طہر میں طلاق دینا، اور اس کے لیے آپ (صلى الله عليه وسلم) نے اسی آیت سے استدلال فرمایا۔ (صحيح بخاري، كتاب الطلاق) تاہم حیض میں دی گئی طلاق بھی ، باوجود بدعی ہونے کے واقع ہو جائے گی۔ محدثین اور جمہور علما اسی بات کے قائل ہیں۔ البتہ امام ابن قیم اور امام ابن تیمیہ طلاق بدعی کے وقوع کے قائل نہیں ہیں۔ (تفصیل کے لیے دیکھیئے نيل الأوطار، كتاب الطلاق، باب النهي عن الطلاق في الحيض وفي الطهر اور دیگر شروحات حدیث)۔
- 3 یعنی اس کی ابتدا اور انتہا کا خیال رکھو، تاکہ عورت اس کے بعد نکاح ثانی کرسکے، یا اگر تم ہی رجوع کرنا چاہو، (پہلی اور دوسری طلاق کی صورت میں) تو عدت کے اندر رجوع کرسکو۔
- 4 یعنی طلاق دیتے ہی عورت کو اپنے گھر سے مت نکالو، بلکہ عدت تک اسے گھر میں ہی رہنے دو، اور اس وقت تک رہائش اور نان ونفقہ تمہاری ذمے داری ہے۔
- 5 یعنی عدت کے دوران خود عورت بھی گھر سے باہر نکلنے سے احتراز کرے، الایہ کہ کوئی بہت ہی ضروری معاملہ ہو۔
- 6 یعنی بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھے یا بدزبانی اور بداخلاقی کا مظاہرہ کرے جس سے گھر والوں کو تکلیف ہو۔ دونوں صورتوں میں اس کا اخراج جائز ہوگا۔
- 7 یعنی احکام مذکورہ، اللہ کی حدیں ہیں، جن سے تجاوز خود اپنے آپ پر ہی ظلم کرنا ہے، کیونکہ اس کے دینی اور دنیوی نقصانات خود تجاوز کرنے والے کو ہی بھگتنے پڑیں گے۔
- 8 یعنی مرد کے دل میں مطلقہ عورت کی رغبت پیدا کر دے اور وہ رجوع کرنے پر آمادہ ہو جائے، جیسا کہ پہلی اور دوسری طلاق کے بعد خاوند کو عدت کے اندر رجوع کرنے کا حق حاصل ہے۔ اسی لیےبعض مفسرین کی رائے ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صرف ایک طلاق دینے کی تلقین اور بیک وقت تین طلاقیں دینے سے منع فرمایا ہے، کیونکہ اگر وہ ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دے دے (اور شریعت اسے جائز قرار دے کر نافذ بھی کر دے) تو پھر یہ کہنا بےفائدہ ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ کوئی نئی بات پیدا کر دے۔ (فتح القدیر) اسی سے امام احمد اور دیگر بعض علما نے یہ استدلال بھی کیا ہے کہ رہائش اور نفقے کی جو تاکید کی گئی ہے وہ ان عورتوں کے لیے ہے جن کو ان کے خاوندوں نے پہلی یا دوسری طلاق دی ہو۔ کیونکہ ان میں خاوند کے رجوع کا حق برقرار رہتا ہے۔ اور جس عورت کو مختلف اوقات میں دو طلاقیں مل چکی ہوں تو تیسری طلاق اس کے لیے طلاق بتہ یا بائنہ ہے، اس کا سُكْنَى (رہائش) اور نفقہ خاوند کے ذمے نہیں ہے۔ اس کو فوراً خاوند کے مکان سے دوسری جگہ منتقل کر دیا جائے گا، کیونکہ خاوند اب اس سے رجوع کرکے اسے اپنے گھر آباد نہیں کرسکتا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ۔ اس لیے اب اسے خاوند کے پاس رہنے کا اور اس سے نان ونفقہ وصول کرنے کا حق نہیں ہے۔ اس کی تائید حضرت فاطمہ بنت قیس (رضی الله عنها) کے اس واقعے سے ہوتی ہے کہ جب ان کے خاوند نے ان کو تیسری طلاق بھی دے دی اور اس کے بعد انھیں خاوند کے مکان سے نکلنے کے لیے کہا گیا تو وہ آمادہ نہیں ہوئی بالآخر معاملہ رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کے پاس پہنچا تو آپ (صلى الله عليه وسلم) نے یہی فیصلہ فرمایا کہ ان کے لیے رہائش اور نفقہ نہیں ہے، انھیں فوراً کسی دوسری جگہ منتقل ہو جانا چاہیے۔ بلکہ بعض روایات میں صراحت بھی ہے، إِنَّمَا النَّفَقَةُ وَالسُّكْنَى لِلْمَرْأَةِ؛ إِذَا كَانَ لِزَوْجِهَا عَلَيْهَا الرَّجْعَةُ رواه أحمد والنسائي۔ البتہ بعض روایات میں حاملہ عورت کے لیے بھی نفقہ اور رہائش کی صراحت ہے۔ (تفصیل اور حوالوں کے لیے دیکھئے: نيل الأوطار، باب ما جاء في نفقة المبتوتة وسكناها وباب النفقة والسكنى للمعتدة الرجعية) بعض لوگ ان روایات کو قرآن کے مذکورہ حکم ”لا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ“ کے خلاف باور کرا کے ان کو رد کر دیتے ہیں جو صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن کا حکم اپنے گرد وپیش کے قرائن کے پیش نظر مطلقہ رجعیہ سے متعلق ہے۔ اور اگر اسے عام مان بھی لیا جائے تو یہ روایات اس کی مخصص ہیں یعنی قرآن کے عموم کو ان روایات نے مطلقہ رجعیہ کے لیے خاص کر دیا اور مطلقہ بائنہ کو اس عموم سے نکال دیا ہے۔
65:1 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 65:1
Al-Mukhtasar
1- اے نبی! جب آپ یا آپ کا کوئی امتی اپنی بیوی کو طلاق دینے کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ عدت کے شروع میں طلاق دے، اس طرح کہ ایسے طُہر میں طلاق دے جس میں بیوی کے ساتھ تعلق قائم نہ کیا ہو۔ عدت کا حساب رکھو تاکہ عدت کے اندر اگر تم اپنی بیویوں سے رجوع کرنا چاہو تو ان سے رجوع کر سکو۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرو جو تمھارا رب ہے، اس طرح کہ اس کے حکم مانو اور اس کے منع کیے ہوئے کاموں سے بچو۔ اپنی مطلقہ عورتوں کو ان گھروں سے نہ نکالو جن میں وہ رہتی ہیں اور نہ وہ خود وہاں سے نکلیں یہاں تک کہ ان کی عدت گزر جائے۔ ہاں اگر وہ کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں جیسے زنا کاری تو اور بات ہے۔ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی وہ حدیں ہیں جو اس نے اپنے بندوں کے لیے مقرر کی ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی حدوں سے گزر جائے تو اس نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا، اس طرح کہ اپنے رب کی نافرمانی کر کے خود کو ہلاکت و تباہی کے گڑھے میں ڈالا۔ اے طلاق دینے والے! تجھے نہیں معلوم کہ ہوسکتا ہے اس طلاق کے بعد اللہ تعالیٰ کوئی ایسی نئی صورت پیدا کر دے جس کی تجھے توقع بھی نہ ہو اور تو اپنی بیوی سے رجوع کر لے۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 28
- الفاظ کی تعداد
- 41
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 558
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 558
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 559
آیت 65:1 کس سورت میں ہے؟
سورۃ الطلاق. 114 میں سے سورت نمبر 65 · آیات کی تعداد: 12.
آیت 65:1 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 28.
آیت 65:1 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 558 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 558 · نسخ مصحف (612 صفحات): 559.
آیت 65:1 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 41.
آیت 65:1 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 65:1: حروف کی تعداد 171، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 65:1 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 65:1 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 5,218 ہے۔
سورۃ الطلاق میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ الطلاق: آیات کی تعداد 12۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 65 پر ہے۔
سورۃ الطلاق مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ الطلاق مدنی ہے۔
کیا آیت 65:1 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 65:1 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ الطلاق کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 12 آیات اور 287 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔