سورۃ التوبہ 9:120 التوبة
یہ سورۃ التوبہ کی 129 آیات میں سے آیت 120 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 1355، پارہ 11۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 206 پر ہے۔
مَا كَانَ لِأَهۡلِ ٱلۡمَدِينَةِ وَمَنۡ حَوۡلَهُم مِّنَ ٱلۡأَعۡرَابِ أَن يَتَخَلَّفُواْ عَن رَّسُولِ ٱللَّهِ وَلَا يَرۡغَبُواْ بِأَنفُسِهِمۡ عَن نَّفۡسِهِۦۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ لَا يُصِيبُهُمۡ ظَمَأٞ وَلَا نَصَبٞ وَلَا مَخۡمَصَةٞ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلَا يَطَـُٔونَ مَوۡطِئٗا يَغِيظُ ٱلۡكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنۡ عَدُوّٖ نَّيۡلًا إِلَّا كُتِبَ لَهُم بِهِۦ عَمَلٞ صَٰلِحٌۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجۡرَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ
مدینہ کے رہنے والوں کو اور جو دیہاتی ان کے گردوپیش ہیں ان کو یہ زیبا نہ تھا کہ رسول اللہ کو چھوڑ کر پیچھے ره جائیں1 اور نہ یہ کہ اپنی جان کو ان کی جان سے عزیز سمجھیں2، یہ اس سبب سے کہ3 ان کو اللہ کی راه میں جو پیاس لگی اور جو تکان پہنچی اور جو بھوک لگی اور جو کسی ایسی جگہ چلے جو کفار کے لیے موجب غیظ ہوا ہو4 اور دشمنوں کی جو کچھ خبر لی، ان سب پر ان کے نام (ایک ایک) نیک کام لکھا گیا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ مخلصین کا اجر ضائع نہیں کرتا۔5
مترجم کے حواشی (5)
- 1 جنگ تبوک میں شرکت کے لئے چونکہ عام منادی کر دی گئی تھی، اس لئے معذورین، بوڑھے اور دیگر شرعی عذر رکھنے والوں کے علاوہ۔ سب کے لئے اس میں شرکت ضروری تھی لیکن پھر بھی جو سکان مدینہ یا اطراف مدینہ میں اس جہاد میں شریک نہیں ہوئے۔ اللہ تعالٰی ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرما رہا ہے کہ ان کو رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) سے پیچھے نہیں رہنا چاہیے تھا۔
- 2 یعنی یہ بھی ان کے لئے زیبا نہیں کہ خود اپنی جانوں کا تحفظ کرلیں اور رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کی جان کے تحفظ کا انہیں خیال نہ ہو۔ بلکہ انہیں رسول کے ساتھ رہ کر اپنے سے زیادہ ان کی تحفظ کا اہتمام کرنا چاہئے۔
- 3 ذَلِكَ سے پیچھے نہ رہنے کی علت بیان کی جا رہی ہے۔ یعنی انہیں اس لئے پیچھے نہیں رہنا چایئے کہ اللہ کی راہ میں انہیں جو پیاس، تھکاوٹ، بھوک پہنچے گی یا ایسے اقدام، جن سے کافروں کے غیظ و غضب میں اضافہ ہوگا، اسی طرح دشمنوں کے آدمیوں کو قتل یا ان کو قیدی بناؤ گے، یہ سب کے سب کام عمل صالح لکھے جائیں گے یعنی عمل صالح صرف یہی نہیں ہے کہ آدمی مسجد میں یا کسی ایک گوشے میں بیٹھ کر نوافل، تلاوت، ذکر الٰہی وغیرہ کرے بلکہ جہاد میں پیش آنے والی ہر تکلیف اور پریشانی، حتیٰ کہ وہ کاروائیاں بھی جن سے دشمن کے دلوں میں خوف پیدا ہو یا غیظ بھڑکے، ان میں سے ہر ایک چیز اللہ کے ہاں عمل صالح لکھی جائے گی، اس لئے محض شوق عبادت میں بھی جہاد سے گریز صحیح نہیں، چہ جائے کہ بغیر عذر کے ہی آدمی جہاد سے جی چرائے؟
- 4 اس سے مراد پیادہ، یا گھوڑوں وغیرہ پر سوار ہو کر ایسے علاقوں سے گزرنا ہے کہ ان کے قدموں کی چابوں اور گھوڑوں کی ٹاپوں سے دشمن کے دلوں پر لرزہ طاری ہو جائے اور ان کی آتش غیظ بھڑک اٹھے۔
- 5 «وَلا يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَيْلا» (التوبة: 120) ”دشمن سے کوئی چیز لیتے ہیں یا ان کی خبر لیتے ہیں“ سے مراد، ان کے آدمیوں کو قتل یا قیدی کرتے ہیں یا انہیں شکست سے دو چار کرتے اور مال غنیمت حاصل کرتے ہیں۔
9:120 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 9:120
Al-Mukhtasar
120- اہل مدینہ اور آس پاس کے دیہاتیوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ رسول اکرم صلى اللہ عليہ وسلم سے اس وقت پیچھے رہیں جب آپ بذاتِ خود جہاد کے لیے نکلیں۔ نہ ان کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اپنی جانیں اللہ کے رسول صلى اللہ عليہ وسلم کی جان سے زیادہ عزیز سمجھیں اور انھیں اپنی ذات کی حفاظت کی اللہ کے رسول صلى اللہ عليہ وسلم کی ذات کی حفاظت سے زیادہ فکر ہو، بلکہ ان پر فرض ہے کہ اللہ کے رسول صلى اللہ عليہ وسلم کی خاطر اپنی جان تک قربان کر دیں۔ یہ اس لیے کہ انھیں اللہ کی راہ میں جو پیاس لگی، جو تھکاوٹ ہوئی، جو بھوک لگی اور جو ایسی جگہ ٹھہرے جہاں ان کی موجودگی کافروں کے کُڑھنے کا باعث بنی اور جو انھوں نے دشمن کی خبر لی کہ انھیں قتل کیا، یا قیدی بنایا یا غنیمت حاصل کی یا انھیں شکست سے دوچار کیا، ان سب کاموں پر اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایسے نیک عمل کا ثواب لکھ دیا جو اس کی بارگاہ میں مقبول ہو۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرے گا بلکہ انھیں پورا پورا بدلہ دے گا اور مزید بھی نوازے گا۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 11
- الفاظ کی تعداد
- 52
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 206
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 206
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 207
آیت 9:120 کس سورت میں ہے؟
سورۃ التوبہ (التوبة). 114 میں سے سورت نمبر 9 · آیات کی تعداد: 129.
آیت 9:120 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 11.
آیت 9:120 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 206 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 206 · نسخ مصحف (612 صفحات): 207.
آیت 9:120 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 52.
آیت 9:120 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 9:120: حروف کی تعداد 198، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 9:120 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 9:120 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 1,355 ہے۔
سورۃ التوبہ میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ التوبہ: آیات کی تعداد 129۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 9 پر ہے۔
سورۃ التوبہ مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ التوبہ مدنی ہے۔
کیا آیت 9:120 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 9:120 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ التوبہ کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 129 آیات اور 2,498 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔