سورۃ فاطر 35:11
یہ سورۃ فاطر کی 45 آیات میں سے آیت 11 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 3671، پارہ 22۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 435 پر ہے۔
وَٱللَّهُ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٖ ثُمَّ مِن نُّطۡفَةٖ ثُمَّ جَعَلَكُمۡ أَزۡوَٰجٗاۚ وَمَا تَحۡمِلُ مِنۡ أُنثَىٰ وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلۡمِهِۦۚ وَمَا يُعَمَّرُ مِن مُّعَمَّرٖ وَلَا يُنقَصُ مِنۡ عُمُرِهِۦٓ إِلَّا فِي كِتَٰبٍۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٞ
لوگو! اللہ تعالیٰ نے تمہیں مٹی سے پھر نطفہ سے پیدا کیا ہے1 ، پھر تمہیں جوڑے جوڑے (مرد وعورت) بنا دیا ہے، عورتوں کو حاملہ ہونا اور بچوں کا تولد ہونا سب اس کے علم سے ہی ہے2، اور جو بڑی عمر واﻻ عمر دیا جائے اور جس کی عمر گھٹے وه سب کتاب میں لکھا ہوا ہے3۔ اللہ تعالیٰ پر یہ بات بالکل آسان ہے.
مترجم کے حواشی (3)
- 1 یعنی تمہارے باپ آدم (عليه السلام) کو مٹی سے اور پھر اس کے بعد تمہاری نسل کو قائم رکھنے کے لئے انسان کی تخلیق کو نطفے سے وابستہ کردیا، جومرد کی پشت سے نکل کر عورت کے رحم میں جاتا ہے۔
- 2 یعنی اس سے کوئی چیز مخفی نہیں، حتیٰ کہ زمین پر گرنے والے پتے اور زمین کی تاریکیوں میں نشوونما پانے والے بیج کو بھی وہ جانتا ہے۔ (الأنعام: 59)۔
- 3 اس کا مطلب یہ ہے کہ عمر کی طوالت اور اس کی تقصیر (کم ہونا) اللہ کی تقدیر وقضا سے ہے۔ علاوہ ازیں اس کے اسباب بھی ہیں جس سے عمر لمبی یا چھوٹی ہوتی ہے، طوالت کے اسباب میں صلۂ رحمی وغیرہ ہے، جیسا کہ احادیث میں ہے اور تقصیر کے اسباب سے معاصی کا ارتکاب ہے۔ مثلاً کسی آدمی کی عمر 70 سال ہے لیکن کبھی اسباب زیادت کی وجہ سے اللہ اس میں اضافہ فرما دیتا ہے اور کبھی اس میں کمی کردیتا ہے جب وہ اسباب نقصان اختیار کرتا ہے۔ اور یہ سب کچھ اس نے لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ اس لئے عمر میں یہ کمی بیشی «فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلا يَسْتَقْدِمُونَ» کے منافی نہیں ہے۔ اس کی تائید اللہ کے اس قول سے بھی ہوتی ہے «يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ» (سورة الرعد: 39) ”جو چاہتا ہے، مٹاتا اور ثبت کرتا ہے اور اس کے پاس لوح محفوظ ہے“۔ (فتح القدیر)۔
35:11 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 35:11
Al-Mukhtasar
11-اور اللہ ہی وہ ذات ہے جس نے تمھارے باپ آدم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر تمھیں نطفے سے پیدا کیا، پھر تمھیں مذکر و مؤنث بنا دیا، تم آپس میں جوڑے بناتے ہو۔ کوئی عورت اپنے پیٹ میں جو بچہ اٹھاتی ہے اور جو بچہ جنتی ہے، وہ سب اللہ پاک کے علم میں ہے۔ اس میں سے کوئی چیز اس سے چھپی نہیں۔ اس کی مخلوق میں سے جس کسی کی عمر کم یا زیادہ ہوتی ہے تو وہ لوحِ محفوظ میں درج ہوتی ہے۔ بلاشبہ یہ مذکورہ امور، یعنی تمھیں مٹی سے پیدا کرنا، کئی مراحل سے گزار کر تمھیں وجود بخشنا اور لوح محفوظ میں تمھاری عمروں کا لکھنا اللہ تعالیٰ کے لیے نہایت آسان ہیں۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 22
- الفاظ کی تعداد
- 34
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 435
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 435
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 436
آیت 35:11 کس سورت میں ہے؟
سورۃ فاطر. 114 میں سے سورت نمبر 35 · آیات کی تعداد: 45.
آیت 35:11 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 22.
آیت 35:11 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 435 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 435 · نسخ مصحف (612 صفحات): 436.
آیت 35:11 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 34.
آیت 35:11 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 35:11: حروف کی تعداد 113، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 35:11 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 35:11 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 3,671 ہے۔
سورۃ فاطر میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ فاطر: آیات کی تعداد 45۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 35 پر ہے۔
سورۃ فاطر مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ فاطر مکی ہے۔
کیا آیت 35:11 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 35:11 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ فاطر کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 45 آیات اور 775 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔