القمر القمر · Minshawi (Murattal)
Minshawi (Murattal) کی آواز میں آیات: 55 حفص عن عاصم مرتل
ترجمہ: Muhammad Junagarhi
مطالعے کی ترتیبات
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
-
ٱقۡتَرَبَتِ ٱلسَّاعَةُ وَٱنشَقَّ ٱلۡقَمَرُ
قیامت قریب آ گئی1 اور چاند پھٹ گیا.2
مترجم کے حواشی (2)
- 1 ایک تو بہ اعتبار اس زمانےکے جو گزر گیا،کیونکہ جو باقی ہے، وہ تھوڑا ہے۔ دوسرے، ہر آنے والی چیز قریب ہی ہے چنانچہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے بھی اپنی بابت فرمایا کہ میرا وجود قیامت سےمتصل ہے، یعنی میرے اور قیامت کے درمیان کوئی نبی نہیں آئےگا۔
- 2 یہ وہ معجزہ ہے جو اہل مکہ کے مطالبے پر دکھایا گیا، چاندکے دو ٹکڑے ہو گئے حتیٰ کہ لوگوں نے حرا پہاڑ کو اس کے درمیان دیکھا۔ یعنی اس کا ایک ٹکڑا پہاڑ کے اس طرف اور ایک ٹکڑا اس طرف ہو گیا۔ (صحيح بخاري، كتاب مناقب الأنصار، باب انشقاق القمر وتفسير سورة اقتربت الساعة، وصحيح مسلم كتاب صفة القيامة، باب انشقاق القمر) جمہور سلف وخلف کا یہی مسلک ہے (فتح القدیر) امام ابن کثیر لکھتے ہیں ”علماء کے درمیان یہ بات متفق علیہ ہے کہ انشقاق قمر نبی (صلى الله عليه وسلم) کے زمانے میں ہوا اور یہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کے واضح معجزات میں سے ہے، صحیح سند سے ثابت احادیث متواترہ اس پردلالت کرتی ہیں“۔
-
وَكَذَّبُواْ وَٱتَّبَعُوٓاْ أَهۡوَآءَهُمۡۚ وَكُلُّ أَمۡرٖ مُّسۡتَقِرّٞ
انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی اور ہر کام ٹھہرے ہوئے وقت پر مقرر ہے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یہ کفار مکہ کی تکذیب اور اتباع اہوا کی تردید وبطلان کے لیے فرمایا کہ ہر کام کی ایک غایت اور انتہا ہے، وہ کام اچھا ہو یا برا۔ یعنی بالآخر اس کا نتیجہ نکلے گا، اچھے کام کانتیجہ اچھا اوربرے کام کا نتیجہ برا۔ اس نتیجے کا ظہوردنیا میں بھی ہو سکتا ہے اگراللہ کی مشیت متقضی ہو، ورنہ آخرت میں تو یقینی ہے۔
-
حِكۡمَةُۢ بَٰلِغَةٞۖ فَمَا تُغۡنِ ٱلنُّذُرُ
اور کامل عقل کی بات ہے1 لیکن ان ڈراؤنی باتوں نے بھی کچھ فائده نہ دیا.2
مترجم کے حواشی (2)
- 1 یعنی ایسی بات جو تباہی سے پھیر دینے والی ہے یا یہ قرآن حکمت بالغہ ہے جس میں کوئی نقص یا خلل نہیں ہے۔ یا اللہ تعالیٰ جس کو ہدایت دے اور اس کو گمراہ کرے، اس میں بڑی حکمت ہے جس کو وہی جانتا ہے۔
- 2 یعنی جس کے لیے اللہ نے شقاوت لکھ دی ہے اور اس کے دل پر مہر لگا دی ہے، اس کو پیغمبروں کا ڈراوا کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے؟ اس کےلیے تو «سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ» والی بات ہے تقریباً اسی مفہوم کی یہ آیت ہے۔ «قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ فَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ» (الأنعام: 149)۔
-
فَتَوَلَّ عَنۡهُمۡۘ يَوۡمَ يَدۡعُ ٱلدَّاعِ إِلَىٰ شَيۡءٖ نُّكُرٍ
پس (اے نبی) تم ان سے اعراض کرو جس دن ایک پکارنے واﻻ ناگوار چیز کی طرف پکارے گا.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 يَوْمَ سے پہلے اذْكُرْ محذوف ہے، یعنی اس دن کو یادکرو۔ نُكُرٌ، نہایت ہولناک اور دہشت ناک مراد میدان محشر اور موقف حساب کے اہوال اور آزمائشیں ہیں۔
-
خُشَّعًا أَبۡصَٰرُهُمۡ يَخۡرُجُونَ مِنَ ٱلۡأَجۡدَاثِ كَأَنَّهُمۡ جَرَادٞ مُّنتَشِرٞ
یہ جھکی آنکھوں قبروں سے اس طرح نکل کھڑے ہوں گے کہ گویا وه پھیلا ہوا ٹڈی دل ہے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی قبروں سے نکل کر وہ اس طرح پھیلیں گے اور موقف حساب کی طرف اس طرح نہایت تیزی سے جائیں گے، گویا ٹڈی دل ہے جو آناً فاناً فضائے بسیط میں پھیل جاتا ہے۔
-
۞ كَذَّبَتۡ قَبۡلَهُمۡ قَوۡمُ نُوحٖ فَكَذَّبُواْ عَبۡدَنَا وَقَالُواْ مَجۡنُونٞ وَٱزۡدُجِرَ
ان سے پہلے قوم نوح نے بھی ہمارے بندے کو جھٹلایا تھا اور یہ دیوانہ بتلا کر جھڑک دیا گیا تھا.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 وَازْدُجِرَ وَازْتُجِرَ ہے، یعنی قوم نوح نے نوح (عليه السلام) کی تکذیب ہی نہیں کی، بلکہ انہیں جھڑکا اور ڈرایا دھمکایا بھی۔ جیسے دوسرےمقام پر فرمایا لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ يَا نُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ (الشعراء: 116) ”اے نوح! اگر تو باز نہ آیا تو تجھے سنگسارکر دیا جائے گا“۔
-
فَدَعَا رَبَّهُۥٓ أَنِّي مَغۡلُوبٞ فَٱنتَصِرۡ
پس اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں بے بس ہوں تو میری مدد کر.
-
وَفَجَّرۡنَا ٱلۡأَرۡضَ عُيُونٗا فَٱلۡتَقَى ٱلۡمَآءُ عَلَىٰٓ أَمۡرٖ قَدۡ قُدِرَ
اور زمین سے چشموں کو جاری کر دیا پس اس کام کے لیے جو مقدر کیا گیا تھا (دونوں) پانی جمع ہو گئے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی آسمان اور زمین کے پانی نے مل کر وہ کام پورا کر دیا اور جو قضا و قدر میں لکھ دیا گیا تھا یعنی طوفان بن کر سب کو غرق کر دیا۔
-
تَجۡرِي بِأَعۡيُنِنَا جَزَآءٗ لِّمَن كَانَ كُفِرَ
جو ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی۔ بدلہ اس کی طرف سے جس کا کفر کیا گیا تھا.
-
وَلَقَد تَّرَكۡنَٰهَآ ءَايَةٗ فَهَلۡ مِن مُّدَّكِرٖ
اور بیشک ہم نے اس واقعہ کو نشانی بنا کر1 باقی رکھا پس کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے واﻻ.2
مترجم کے حواشی (2)
- 1 تَرَكْنَاهَا میں ضمیر کا مرجع سفینہ ہے۔ یا فعلہ یعنی تَرَكْنَا هَذِهِ الْفِعْلَةَ الَّتِي فَعَلْنَاهَا بِهِمْ عِبْرَةً وَّمَوْعِظَةً (فتح القدير)۔
- 2 مُدَّكِرٍ،اصل میں مُذْتَكِرٍ ہے۔ تاکو ڈال سے بدل دیا گیا اور ذال معجمہ کو دال بناکر، دال کا دال میں ادغام کر دیا گیا۔ معنی ہیں عبرت پکڑنے اورنصیحت حاصل کرنے والا۔ (فتح القدیر)۔
-
وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا ٱلۡقُرۡءَانَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِن مُّدَّكِرٖ
اور بیشک ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کر دیا ہے1 ۔ پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے واﻻ ہے؟
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی اس کے مطالب ومعانی کو سمجھنا، اس سےعبرت و نصیحت حاصل کرنا اور اسے زبانی یاد کرنا ہم نے آسان کر دیا ہے۔ چنانچہ یہ واقعہ ہےکہ قرآن کریم اعجاز وبلاغت کےاعتبار سےنہایت اونچے درجے کی کتاب ہونے کے باوجود، کوئی شخص تھوڑی سی توجہ دے تو وہ عربی گرامر اورمعانی وبلاغت کی کتابیں پڑھے بغیربھی اسے آسانی سے سمجھ لیتا ہے، اسی طرح یہ دنیا کی واحد کتاب ہے، جو لفظ بہ لفظ یاد کرلی جاتی ہے ورنہ چھوٹی سے چھوٹی کتاب کو بھی اس طرح یاد کر لینا اور اسے یاد رکھنا نہایت مشکل ہے۔ اور انسان اگر اپنے قلب وذہن کے دریچے وا رکھ کر اسے عبرت کی آنکھوں سے پڑھے، نصیحت کے کانوں سے سنے اورسمجھنے والے دل سے اس پر غور کرے تودنیا وآخرت کی سعادت کے دروازے اس کے لیے کھل جاتے ہیں اور یہ اس کے قلب ودماغ کی گہرائیوں میں اتر کر کفر ومعصیت کی تمام آلودگیوں کو صاف کر دیتی ہے۔
-
كَذَّبَتۡ عَادٞ فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ
قوم عاد نے بھی جھٹلایا پس کیسا ہوا میرا عذاب اور میری ڈرانے والی باتیں.
-
إِنَّآ أَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ رِيحٗا صَرۡصَرٗا فِي يَوۡمِ نَحۡسٖ مُّسۡتَمِرّٖ
ہم نے ان پر تیز وتند مسلسل چلنے والی ہوا، ایک پیہم منحوس دن میں بھیج دی.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 کہتے ہیں یہ بدھ کی شام تھی، جب اس تند، یخ اور شاں شاں کرتی ہوئی ہوا کا آغاز ہوا، پھر مسلسل 7 راتیں اور 8 دن چلتی رہی۔ یہ ہوا گھروں اورقلعوں میں بند انسانوں کو بھی وہاں سے اٹھاتی اور اس طرح زور سے انہیں زمین پر پٹختی کہ ان کے سر ان کے دھڑوں سے الگ ہو جاتے۔ یہ دن ان کےلیے عذاب کےاعتبار سے منحوس ثابت ہوا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بدھ کے دن میں یاکسی اور دن میں نحوست ہے، جیساکہ بعض لوگ سمجھتے ہیں۔ مُسْتَمِرٌّ کا مطلب یہ عذاب اس وقت تک جاری رہا جب تک سب ہلاک نہیں ہو گئے۔
-
تَنزِعُ ٱلنَّاسَ كَأَنَّهُمۡ أَعۡجَازُ نَخۡلٖ مُّنقَعِرٖ
جو لوگوں کو اٹھا اٹھا کر دے پٹختی تھی، گویا کہ وه جڑ سے کٹے ہوئے کھجور کے تنے ہیں.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یہ درازی قد کے ساتھ ان کی بےبسی اور لاچارگی کا بھی اظہار ہےکہ عذاب الٰہی کے سامنے وہ کچھ نہ کر سکے دراں حالیکہ انہیں اپنی قوت و طاقت پربڑا گھمنڈ تھا۔ أَعْجَازُ، عَجْزٌ کی جمع ہے، جو کسی چیز کے پچھلے حصے کو کہتے ہیں۔ مُنْقَعِرٌ اپنی جڑ سے اکھڑ جانے اور کٹ جانے والا۔ یعنی کھجورکے ان تنوں کی طرح، جو اپنی جڑ سے اکھڑ اور کٹ چکے ہوں، ان کے لاشے زمین پر پڑے ہوئے تھے۔
-
وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا ٱلۡقُرۡءَانَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِن مُّدَّكِرٖ
یقیناً ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا ہے، پس کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے واﻻ؟
-
فَقَالُوٓاْ أَبَشَرٗا مِّنَّا وَٰحِدٗا نَّتَّبِعُهُۥٓ إِنَّآ إِذٗا لَّفِي ضَلَٰلٖ وَسُعُرٍ
اور کہنے لگے کیا ہمیں میں سے ایک شخص کی ہم فرمانبرداری کرنے لگیں؟ تب تو ہم یقیناً غلطی اور دیوانگی میں پڑے ہوئے ہوں گے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی ایک بشرکو رسول مان لینا، ان کے نزدیک گمراہی اوردیوانگی تھی۔ سُعُرٌ، سَعِيرٌ کی جمع ہے آگ کی لپٹ۔ یہاں اس کو دیوانگی یا شدت و عذاب کےمفہوم میں استعمال کیا گیا ہے۔
-
أَءُلۡقِيَ ٱلذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢ بَيۡنِنَا بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٞ
کیا ہمارے سب کے درمیان صرف اسی پر وحی اتاری گئی؟ نہیں بلکہ وه جھوٹا اور شیخی خور ہے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 أَشِرٌ، بمعنی مُتَكَبِّرٌ یاکذب میں حد سے تجاوز کرنے والا، یعنی اس نے جھوٹ بھی بولا ہے تو بہت بڑا۔ کہ مجھ پروحی آتی ہے۔ بھلا ہم میں سے صرف اسی ایک پرو حی آنی تھی؟ یا اس ذریعے سےہم پر اپنی بڑائی جتانا اس کا مقصودہے۔
-
سَيَعۡلَمُونَ غَدٗا مَّنِ ٱلۡكَذَّابُ ٱلۡأَشِرُ
اب سب جان لیں گے کل کو کہ کون جھوٹا اور شیخی خور تھا؟1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یہ خود، پیغمبر پر الزام تراشی کرنے والے۔ یا حضرت صالح (عليه السلام) ؟ جن کو اللہ نے وحی و رسالت سے نوازا۔ غدا یعنی کل سےمراد قیامت کا دن ہے یا دنیا میں ان کے لیے عذاب کا مقررہ دن۔
-
إِنَّآ أَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ صَيۡحَةٗ وَٰحِدَةٗ فَكَانُواْ كَهَشِيمِ ٱلۡمُحۡتَظِرِ
ہم نے ان پر ایک چیﺦ بھیجی پس ایسے ہو گئے جیسے باڑ بنانے والے کی روندی ہوئی گھاس.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 حَظِيرَةٌ، مَحْظُورَةٌ بمعنی محظورۃ، باڑ جو خشک جھاڑیوں اور لکڑیوں سے جانورونکی حفاظت کےلیے بنائی جاتی ہے۔ مُحْتَظِرٌ ، اسم فاعل ہےصَاحِبُ الحْظَِيرَةِ هَشِيمٌ خشک گھاس یا کٹی ہوئی خشک کھیتی یعنی جس طرح ایک باڑ بنانے والی کی خشک لکڑیاں اور جھاڑیاں مسلسل روندے جانے کی وجہ سے چورا چورا ہو جاتی ہیں وہ بھی اس باڑکی مانند ہمارے عذاب سے چورا ہو گئے۔
-
وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا ٱلۡقُرۡءَانَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِن مُّدَّكِرٖ
اور ہم نے نصیحت کے لیے قرآن کو آسان کر دیا ہے پس کیا ہے کوئی جو نصیحت قبول کرے.
-
إِنَّآ أَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ حَاصِبًا إِلَّآ ءَالَ لُوطٖۖ نَّجَّيۡنَٰهُم بِسَحَرٖ
بیشک ہم نے ان پر پتھر برسانے والی ہوا بھیجی1 سوائے لوط (علیہ السلام) کے گھر والوں کے، انہیں ہم نے سحر کے وقت نجات دے دی.2
مترجم کے حواشی (2)
- 1 یعنی ایسی ہوا بھیجی جو ان کو کنکریاں مارتی تھی۔ یعنی ان کی بستیوں کو ان پر الٹا دیا گیا، اس طرح کہ ان کا اوپروالا حصہ نیچے اور نیچےوالا حصہ اوپر،اس کے بعد ان پر کھنگر پتھروں کی بارش ہوئی جیسا کہ سورۂ ہود وغیرہ میں تفصیل گزری۔
- 2 آل لوط سےمراد خود حضرت لوط (عليه السلام) اور ان پر ایمان لانے والےلوگ ہیں، جن میں حضرت لوط (عليه السلام) کی بیوی شامل نہیں، کیونکہ وہ مومنہ نہیں تھی، البتہ حضرت لوط (عليه السلام) کی دو بیٹیاں ان کے ساتھ تھیں، جن کو نجات دی گئی۔ سحر سے مراد رات کا آخری حصہ ہے۔
-
وَلَقَدۡ رَٰوَدُوهُ عَن ضَيۡفِهِۦ فَطَمَسۡنَآ أَعۡيُنَهُمۡ فَذُوقُواْ عَذَابِي وَنُذُرِ
اور ان (لوط علیہ السلام) کو ان کے مہمانوں کے بارے میں پھسلایا1 پس ہم نے ان کی آنکھیں اندھی کردیں2، (اور کہہ دیا) میرا عذاب اور میرا ڈرانا چکھو.
مترجم کے حواشی (2)
- 1 یا بہلایا یا مانگا لوط (عليه السلام) سے ان کے مہمانوں کو۔ مطلب یہ ہے کہ جب لوط (عليه السلام) کی قوم کو معلوم ہوا کہ چند خوبر ونوجوان لوط (عليه السلام) کے ہاں آئے ہیں (جو دراصل فرشتے تھے اور ان کو عذاب دینے کے لیے ہی آئے تھے) تو انہوں نے حضرت لوط (عليه السلام) سے مطالبہ کیا کہ ان مہمانوں کو ہمارے سپرد کردیں تاکہ ہم اپنے بگڑے ہوئے ذوق کی ان سے تسکین کریں۔
- 2 کہتے ہیں کہ یہ فرشتے جبرائیل میکائل اور اسرافیل (عليه السلام) تھے۔ جب انہوں نے بدفعلی کی نیت سے فرشتوں (مہمانوں) کو لینے پر زیادہ اصرار کیاتو جبرائیل (عليه السلام) نے اپنے پر کا ایک حصہ انہیں مارا، جس سے ان کی آنکھوں کے ڈھیلےہی باہر نکل آئے، بعض کہتے ہیں ، صرف آنکھوں کی بصارت زائل ہوئی، بہرحال عذاب عام سے پہلے یہ عذاب خاص ان لوگوں کوپہنچا جو حضرت لوط (عليه السلام) کے پاس بدنیتی سے آئے تھے۔ اور آنکھوں سے یا بینائی سے محروم ہو کر گھر پہنچے۔ اور پھر صبح اس عذاب عام میں تباہ ہو گئے جو پوری قوم کے لیے آیا (تفسیر ابن کثیر)۔
-
وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا ٱلۡقُرۡءَانَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِن مُّدَّكِرٖ
اور یقیناً ہم نے قرآن کو پند ووعﻆ کے لیے آسان کر دیا ہے1 ۔ پس کیا کوئی ہے نصحیت پکڑنے واﻻ.
مترجم کے حواشی (1)
- 1 تیسیر قرآن کا اس سورت میں بار بار ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ قرآن اور اس کے فہم وحفظ کو آسان کر دینا، اللہ کا احسان عظیم ہے، اس کے شکر سے انسان کو کبھی غافل نہیں ہوناچاہیے۔
-
أَكُفَّارُكُمۡ خَيۡرٞ مِّنۡ أُوْلَٰٓئِكُمۡ أَمۡ لَكُم بَرَآءَةٞ فِي ٱلزُّبُرِ
(اے قریشیو!) کیا تمہارے کافر ان کافروں سے کچھ بہتر ہیں1 ؟ یا تمہارے لیے اگلی کتابوں میں چھٹکارا لکھا ہوا ہے؟2
مترجم کے حواشی (2)
- 1 یہ استفہام انکار یعنی نفی کے لیے ہے۔ یعنی اے اہل عرب ! تمہارے کافر، گزشتہ کافروں سے، بہتر نہیں ہیں، جب وہ اپنے کفر کی وجہ سے ہلاک کر دیئے گئے، تو تم جب کہ تم ان سے بدتر ہو، عذاب سے سلامتی کی امید کیوں رکھتے ہو؟
- 2 زُبُرٌ سے مراد گزشتہ انبیا پرنازل شدہ کتابیں ہیں۔ یعنی کیا تمہاری بابت کتب منزلہ میں صراحت کر دی گئی ہے کہ یہ قریش یا عرب،جو مرضی کرتے رہیں، ان پر غالب نہیں آئے گا۔
-
سَيُهۡزَمُ ٱلۡجَمۡعُ وَيُوَلُّونَ ٱلدُّبُرَ
عنقریب یہ جماعت شکست دی جائےگی اور پیٹھ دے کر بھاگے گی.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 اللہ نے ان کے زعم باطل کی تردید فرمائی، جماعت سے مراد کفار مکہ ہیں۔ چنانچہ بدر میں انہیں شکست ہوئی اور یہ پیٹھ دےکربھاگے، روسائے شرک اور اساطین کفر ہلاک کردیئے گئے۔ جنگ بدر کے موقعے پرجب نبی ﹲ نہایت الحاح وزاری سے اپنے خیمے میں مصروف دعا تھےتو حضرت ابوبکر (رضي الله عنه) نے فرمایا «حَسْبُكَ يَا رَسُولَ اللهِ! أَلْحَحْتَ عَلَى رَبِّكَ»۔ بس کیجئے! اللہ کے رسول ! آپ نے رب کے سامنے بہت الحاح وزاری کرلی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیمے سے باہر تشریف لائے تو آپ کی زبان مبارک پر یہی آیت تھی۔ (البخاري، تفسير سورة اقتربت الساعة)۔
-
بَلِ ٱلسَّاعَةُ مَوۡعِدُهُمۡ وَٱلسَّاعَةُ أَدۡهَىٰ وَأَمَرُّ
بلکہ قیامت کی گھڑی ان کے وعدے کے وقت ہے اور قیامت بڑی سخت اور کڑوی چیز ہے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 أَدْهَى دَهَاءٌ سے ہے، سخت رسوا کرنے والا أَمَرُّ مَرَارَةٌ سے ہے، نہایت کڑوا۔ یعنی دنیا میں جو یہ قتل کیے گئے، قیدی بنائے گئے وغیرہ، یہ ان کی آخری سزا نہیں ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت سزائیں ان کو قیامت والے دن دی جائیں گی جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔
-
إِنَّا كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقۡنَٰهُ بِقَدَرٖ
بیشک ہم نے ہر چیز کو ایک (مقرره) اندازے پر پیدا کیا ہے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 ائمہ سنت نے اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات سے استدلال کرتے ہوئے تقدیر الٰہی کااثﺒات کیا ہے جس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کومخلوقات کے پیداکرنے سے پہلے ہی سب کا علم تھا اور اس نے سب کی تقدیر لکھ دی ہے اور فرقہ قدریہ کی تردید کی ہے جس کا ظہور عہد صحابہ کے آخرمیں ہوا۔ (ابن کثیر)۔
-
وَمَآ أَمۡرُنَآ إِلَّا وَٰحِدَةٞ كَلَمۡحِۭ بِٱلۡبَصَرِ
اور ہمارا حکم صرف ایک دفعہ (کا ایک کلمہ) ہی ہوتا ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا.
-
فِي مَقۡعَدِ صِدۡقٍ عِندَ مَلِيكٖ مُّقۡتَدِرِۭ
راستی اور عزت کی بیٹھک میں1 قدرت والے بادشاه کے پاس.2
مترجم کے حواشی (2)
- 1 مَقْعَدِ صِدقٍ، عزت کی بیٹھک یا مجلس حق، جس میں گناہ کی بات ہوگی نہ لغویات کا ارتکاب۔ مراد جنت ہے۔
- 2 مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ، قدرت والا بادشاہ یعنی وہ ہر طرح کی قدرت سے بہرہ ور ہے جو چاہے کر سکتا ہے،کوئی اسے عاجز نہیں کرسکتا۔ عِنْدَ (پاس) یہ کنایہ اس شرف منزلت اور عزت و احترام سے جواہل ایمان کو اللہ کے ہاں حاصل ہوگا۔
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
Minshawi (Murattal) کی مزید سورتیں
دوسرے قاری
- القمر · Mishary Alafasy
- القمر · AbdulBaset (Murattal)
- القمر · AbdulBaset AbdulSamad
- القمر · As-Sudais
- القمر · Abu Bakr ash-Shatri
- القمر · Hani ar-Rifai
- القمر · Mahmoud Khalil al-Husary
- القمر · Maher al-Muaiqly
- القمر · Saud ash-Shuraym
- القمر · Saad al-Ghamdi
- القمر · Ali Abdur-Rahman al-Hudhaify
- القمر · Abdullah Basfar
- القمر · Ahmed ibn Ali al-Ajamy
- القمر · Muhammad Ayyoub
- القمر · Muhammad Jibreel
- القمر · Ibrahim al-Akhdar
- القمر · Ayman Suwaid
- القمر · Mahmoud Khalil al-Husary
- القمر · Shahriar Parhizgar
- القمر · Mahmoud Khalil al-Husary
- القمر · Muhammad Siddiq al-Minshawi
- القمر · Mohammad al-Tablawi
- القمر · Khalifa al-Tunaiji
- القمر · Abdullah Awad al-Juhani
- القمر · Nasser al-Qatami
- القمر · Fares Abbad
- القمر · Salah al-Budair
- القمر · Salah Bukhatir
- القمر · Abdullah al-Matroud
- القمر · Abdul Mohsen al-Qasim
- القمر · Ali Jaber
- القمر · Khalid Abdullah al-Qahtani
- القمر · Mahmoud Ali al-Banna
- القمر · Sahl Yasin
- القمر · Ahmad Nauina
- القمر · Akram al-Alaqmi
- القمر · Ali Hajjaj al-Suwaisi
- القمر · Aziz Alili
- القمر · Yasser Salamah
- القمر · Nabil ar-Rifai
- القمر · Muhammad AbdulKareem
- القمر · Karim Mansoori