الْبَدِيعُ
نام 95 / 99
الْبَدِيعُ
بغیر کسی پہلے نمونے کے پیدا کرنے والا
یہ نام قرآن میں
نیچے دی گئی ہر آیت اپنے سیاق میں پڑھی گئی اور دو الگ الگ جائزوں سے تصدیق کی گئی، صرف ایک سوال پر: کیا یہ لفظ یہاں اللہ کا نام ہے۔ جہاں دونوں جائزوں میں اختلاف ہوا، وہ آیت نکال دی گئی۔ بعض میں یہ نام اسم کے بجائے فعل یا کسی اور صورت میں آیا ہے۔
بَدِيعُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ وَإِذَا قَضَىٰٓ أَمۡرٗا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ
وه زمین اور آسمانوں کا ابتداءً پیدا کرنے واﻻ ہے، وه جس کام کو کرنا چاہے کہہ دیتا ہے کہ ہوجا، بس وه وہیں ہوجاتا ہے۔1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی وہ اللہ تو وہ ہے کہ آسمان وزمین کی ہر چیز کا وہ مالک ہے، ہر چیز اس کی فرماں بردار ہے، بلکہ آسمان وزمین کا بغیر کسی نمونے کے بنانے والا بھی وہی ہے۔ علاوہ ازیں وہ جو کام کرنا چاہے اس کے لئے اسے صرف لفظ کن کافی ہے۔ ایسی ذات کو بھلا اولاد کی کیا ضرورت ہوسکتی ہے؟۔
بَدِيعُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُۥ وَلَدٞ وَلَمۡ تَكُن لَّهُۥ صَٰحِبَةٞۖ وَخَلَقَ كُلَّ شَيۡءٖۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٞ
وه آسمانوں اور زمین کا موجد ہے، اللہ تعالیٰ کے اوﻻد کہاں ہوسکتی ہے حاﻻنکہ اس کے کوئی بیوی تو ہے نہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا کیا1 اور وه ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی جس طرح اللہ تعالی ان تمام چیزوں کے پیدا کرنےمیں واحد ہے، کوئی اس کا شریک نہیں۔ اسی طرح وہ اس لائق ہے کہ اس اکیلے کی عبادت کی جائے، عبادت میں کسی اور کو شریک نہ بنایا جائے۔ لیکن لوگوں نے اس ذات واحد کو چھوڑ کر جنوں کو اس کا شریک بنا رکھا ہے، حالانکہ وہ خود اللہ کے پیدا کردہ ہیں۔ مشرکین عبادت تو بتوں کی یا قبروں میں مدفون اشخاﺹ کی کرتے ہیں لیکن یہاں کہا گیا ہے کہ انہوں نے جنات کو اللہ کا شریک بنایا ہوا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ جنات سے مراد شیاطین ہیں اور شیاطین کے کہنے سے ہی شرک کیا جاتا ہے اس لئے گویا شیطان ہی کی عبادت کی جاتی ہے۔ اس مضمون کو قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان کیا گیا ہے مثلا سورۂ نساء: 117، سورۂ مریم: 44، سورۂ یٰسین: 60 ، سورۂ سبا: 41۔
اس نام کے بارے میں
- وہ آیات جن میں یہ لفظ آیا ہے
- 2
- قرآنی متن
- شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن
- ترجمہ
- Muhammad Junagarhi