مواد پر جائیں

الْمَلِكُ

نام 3 / 99

الْمَلِكُ

سب کا حقیقی بادشاہ اور مالک

یہ نام قرآن میں

نیچے دی گئی ہر آیت اپنے سیاق میں پڑھی گئی اور دو الگ الگ جائزوں سے تصدیق کی گئی، صرف ایک سوال پر: کیا یہ لفظ یہاں اللہ کا نام ہے۔ جہاں دونوں جائزوں میں اختلاف ہوا، وہ آیت نکال دی گئی۔ بعض میں یہ نام اسم کے بجائے فعل یا کسی اور صورت میں آیا ہے۔

  1. فَتَعَٰلَى ٱللَّهُ ٱلۡمَلِكُ ٱلۡحَقُّۗ وَلَا تَعۡجَلۡ بِٱلۡقُرۡءَانِ مِن قَبۡلِ أَن يُقۡضَىٰٓ إِلَيۡكَ وَحۡيُهُۥۖ وَقُل رَّبِّ زِدۡنِي عِلۡمٗا

    پس اللہ عالی شان واﻻ سچا اور حقیقی بادشاه1 ہے۔ تو قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کر اس سے پہلے کہ تیری طرف جو وحی کی جاتی ہے وه پوری کی جائے2، ہاں یہ دعا کر کہ پروردگار! میرا علم بڑھا.3

    مترجم کے حواشی (3)
    1. 1 جس کا وعدہ اور وعید حق ہے، جنت دوزخ حق ہے اور اس کی ہر بات حق ہے۔
    2. 2 جبرائیل (عليه السلام) جب وحی لے کر آتے اور سناتے تو نبی (صلى الله عليه وسلم) بھی جلدی جلدی ساتھ ساتھ پڑھتے جاتے، کہ کہیں کچھ بھول نہ جائیں، اللہ تعالٰی نے اس سے منع فرمایا اور تاکید کی کہ غور سے، پہلے وحی کو سنیں، اس کو یاد کرانا اور دل میں بٹھا دینا ہمارا کام ہے۔ جیسا کہ سورۃ القيامۃ میں آئے گا۔
    3. 3 یعنی اللہ تعالٰی سے زیادتی علم کی دعا فرماتے رہیں۔ اس میں علماء کے لئے بھی نصیحت ہے کہ وہ فتوٰی میں پوری تحقیق اور غور سے کام لیں، جلد بازی سے بچیں اور علم میں اضافہ کی صورتیں اختیار کرنے میں کوتاہی نہ کریں علاوہ ازیں علم سے مراد قرآن و حدیث کا علم ہے۔ قرآن میں اسی کو علم سے تعبیر کیا گیا اور ان کے حاملین کو علماء دیگر چیزوں کا علم، جو انسان کسب معاش کے لئے حاصل کرتا ہے، وہ سب فن ہیں، ہنر ہیں اور صنعت وحرفت ہیں۔ نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) جس علم کے لئے دعا فرماتے تھے، وہ وحی و رسالت ہی کا علم ہے جو قرآن و حدیث میں محفوظ ہے، جس سے انسان کا ربط و تعلق اللہ تعالٰی کے ساتھ قائم ہوتا ہے، اس کے اخلاق و کردار کی اصلاح ہوتی اور اللہ کی رضا و عدم رضا کا پتہ چلتا ہے ایسی دعاؤں میں ایک دعا یہ ہے جو آپ پڑھا کرتے تھے۔ «اللَّهُمَّ انْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتَنِي، وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعُنِي، وَزِدْنِي عِلْمًا، وَالْحَمْدُ للهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ»۔ ( ابن ماجه، باب الانتفاع بالعلم والعمل المقدمة)
  2. فَتَعَٰلَى ٱللَّهُ ٱلۡمَلِكُ ٱلۡحَقُّۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ ٱلۡعَرۡشِ ٱلۡكَرِيمِ

    اللہ تعالیٰ سچا بادشاه ہے وه بڑی بلندی واﻻ ہے1 ۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی بزرگ عرش کا مالک ہے.2

    مترجم کے حواشی (2)
    1. 1 یعنی وہ اس سے بہت بلند کہ وہ تمہیں بغیر کسی مقصد کے یوں ہی ایک کھیل کے طور پر بےکار پیدا کرے۔ اور تم جو چاہو کرو، تم سے اس کی کوئی باز پرس ہی نہ ہو۔ بلکہ اس نے تمہیں ایک خاص مقصد کے تحت پیدا کیا ہے اور وہ ہے اس کی عبادت کرنا۔ اسی لئے آگے فرمایا وہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
    2. 2 عرش کی صفت کریم بیان فرمائی کہ وہاں سے رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہوتا ہے۔
  3. هُوَ ٱللَّهُ ٱلَّذِي لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡمَلِكُ ٱلۡقُدُّوسُ ٱلسَّلَٰمُ ٱلۡمُؤۡمِنُ ٱلۡمُهَيۡمِنُ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡجَبَّارُ ٱلۡمُتَكَبِّرُۚ سُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ عَمَّا يُشۡرِكُونَ

    وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاه، نہایت پاک، سب عیبوں سے صاف، امن دینے واﻻ، نگہبان، غالب زورآور، اور بڑائی واﻻ، پاک ہے اللہ ان چیزوں سے جنہیں یہ اس کا شریک بناتے ہیں.

  4. يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ ٱلۡمَلِكِ ٱلۡقُدُّوسِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَكِيمِ

    (ساری چیزیں) جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہیں (جو) بادشاه نہایت پاک (ہے) غالب وباحکمت ہے.

  5. مَلِكِ ٱلنَّاسِ

    لوگوں کے مالک کی1 (اور).

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 جوذات، تمام انسانوں کی پرورش اور نگہداشت کرنے والی ہے، وہی اس لائق ہے کہ کائنات کی حکمرانی اور بادشاہی بھی اس کے پاس ہو۔

اس نام کے بارے میں

وہ آیات جن میں یہ لفظ آیا ہے
65
قرآنی متن
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن
ترجمہ
Muhammad Junagarhi

وہ نام جو اس کے ساتھ آتے ہیں

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play