سورۃ یونس 10:22 يونس
یہ سورۃ یونس کی 109 آیات میں سے آیت 22 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 1386، پارہ 11۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 211 پر ہے۔
هُوَ ٱلَّذِي يُسَيِّرُكُمۡ فِي ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِۖ حَتَّىٰٓ إِذَا كُنتُمۡ فِي ٱلۡفُلۡكِ وَجَرَيۡنَ بِهِم بِرِيحٖ طَيِّبَةٖ وَفَرِحُواْ بِهَا جَآءَتۡهَا رِيحٌ عَاصِفٞ وَجَآءَهُمُ ٱلۡمَوۡجُ مِن كُلِّ مَكَانٖ وَظَنُّوٓاْ أَنَّهُمۡ أُحِيطَ بِهِمۡ دَعَوُاْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ لَئِنۡ أَنجَيۡتَنَا مِنۡ هَٰذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَ
وه اللہ ایسا ہے کہ تم کو خشکی اور دریا میں چلاتا ہے1 ، یہاں تک کہ جب تم کشتی میں ہوتے ہو اور وه کشتیاں لوگوں کو موافق ہوا کے ذریعہ سے لے کر چلتی ہیں اور وه لوگ ان سے خوش ہوتے ہیں ان پر ایک جھونکا سخت ہوا کا آتا ہے اور ہر طرف سے ان پر موجیں اٹھتی چلی آتی ہیں اور وه سمجھتے ہیں کہ (برے) آ گھرے2، (اس وقت) سب خالص اعتقاد کرکے اللہ ہی کو پکارتے ہیں 3کہ اگر تو ہم کو اس سے بچالے تو ہم ضرور شکر گزار بن جائیں گے.
مترجم کے حواشی (3)
- 1 يُسَيِّرُكُمْ وہ تمہیں چلاتا یا چلنے پھرنے اور سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے " خشکی میں " یعنی اس نے تمہیں قدم عطا کئے جن سے تم چلتے ہو، سواریاں مہیا کیں، جن پر سوار ہو کر دور دراز کے سفر کرتے ہو " اور سمندر میں " یعنی اللہ نے تمہیں کشتیاں اور جہاز بنانے کی عقل اور سمجھ دی، تم نے وہ بنائیں اور ان کے ذریعے سے سمندر کا سفر کرتے ہو۔
- 2 أُحِيطَ بِهِمْ کا مطلب ہے، جس طرح دشمن کسی قوم یا شہر کا احاطہ یعنی محاصرہ کر لیتا ہے اور وہ دشمن کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں، اسی طرح وہ جب سخت ہواؤں کے تھپیڑوں اور تلاطم خیز موجوں میں گھر جاتے ہیں اور موت ان کو سامنے نظر آتی ہے۔
- 3 یعنی پھر وہ دعا میں غیر اللہ کی ملاوٹ نہیں کرتے جس طرح عام حالات میں کرتے ہیں۔ عام حالات میں تو کہتے ہیں کہ یہ بزرگ بھی اللہ کے بندے ہیں، انہیں بھی اللہ نے اختیارات سے نواز رکھا ہے اور انہی کے ذریعے سے ہم اللہ کا قرب تلاش کرتے ہیں۔ لیکن جب اس طرح شدائد میں گھر جاتے ہیں تو یہ سارے شیطانی فلسفے بھول جاتے ہیں اور صرف اللہ یاد رہ جاتا ہے اور پھر صرف اسی کو پکارتے ہیں۔ اس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ انسان کی فطرت میں اللہ واحد کی طرف رجوع کا جذبہ ودیعت کیا گیا ہے۔ انسان ماحول سے متاثر ہو کر اس جذبے یا فطرت کو دبا دیتا ہے لیکن مصیبت میں یہ جذبہ ابھر آتا ہے اور یہ فطرت عود کر آتی ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ توحید، فطرت انسانی کی آواز اور اصل چیز ہے، جس سے انسان کو انحراف نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس سے انحراف فطرت سے انحراف جو سراسر گمراہی ہے، دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ مشرکین، جب اس طرح مصائب میں گھر جاتے تو وہ اپنے خود ساختہ معبودوں کے بجائے، صرف ایک اللہ کو پکارتے تھے چنانچہ حضرت عکرمہ بن ابی جہل (رضي الله عنه) کے بارے میں آتا ہے کہ جب مکہ فتح کیا تو یہ وہاں سے فرار ہوگئے۔ باہر کسی جگہ جانے کے لیے کشتی میں سوار ہوئے، تو کشتی طوفانی ہواؤں کی زد میں آگئی۔ جس پر ملاح نے کشتی میں سوار لوگوں سے کہا کہ آج اللہ واحد سے دعا کرو، تمہیں اس طوفان سے اس کے سوا کوئی نجات دینے والا نہیں ہے۔ حضرت عکرمہ (رضي الله عنه) کہتے ہیں، میں نے سوچا اگر سمندر میں نجات دینے والا صرف ایک اللہ ہے تو خشکی میں بھی یقینا نجات دینے والا وہی ہے۔ اور یہی بات محمد کہتے ہیں۔ چنانچہ انہوں فیصلہ کر لیا اگر یہاں سے میں زندہ بچ کر نکل گیا تو مکہ واپس جا کر اسلام قبول کرلوں گا۔ چنانچہ یہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مسلمان ہوگئے۔ (رضي الله عنه) (سنن نسائي، أبو داود- نمبر 2683۔ وذكر الألباني في الصحيحة نمبر1723) لیکن افسوس! امت محمدیہ کے عوام اس طرح شرک میں پھنسے ہوئے ہیں کہ شدائد و آلام میں بھی وہ اللہ کی طرف رجوع کرنے کے بجائے فوت شدہ بزرگوں کو ہی مشکل کشا سمجھتے اور انہی کو مدد کے لیے پکارتے ہیں۔ فَإِنَّا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ آہ! فَلْيَبْكِ عَلَى الإسْلامِ مَنْ كَانَ بَاكِيًا
10:22 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 10:22
Al-Mukhtasar
22- اے لوگو! وہ اللہ ہی ہے جو خشکی میں تمھیں تمھارے قدموں پر اور تمھارے سواری کے چوپایوں پر چلاتا ہے۔ وہی ہے جو تمھیں سمندر میں کشتیوں میں اٹھائے پھرتا ہے حتی کہ جب تم سمندر میں کشتیوں میں ہوتے ہو اور عمدہ اور موافق ہوائیں انھیں لے کر چلتی ہیں تو اس موافق ہوا سے سوار بڑے خوش ہوتے ہیں۔ وہ اپنی اسی خوشی میں ہوتے ہیں کہ ان پر تیز آندھی چلنے لگتی ہے اور سمندر کی لہریں ہر طرف سے ان پر چڑھ دوڑتی ہیں اور انھیں غالب گمان ہونے لگتا ہے کہ اب وہ ہلاک ہو جائیں گے تو وہ اکیلے اللہ کو پکارتے ہوئے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: (اے اللہ!) اگر تو نے ہمیں اس تباہ کن صورت حال سے نکال لیا تو ہم اپنے اوپر ہونے والے تیرے اس انعام پر ضرور تیرے شکر گزار بنیں گے۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 11
- الفاظ کی تعداد
- 41
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 211
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 211
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 212
آیت 10:22 کس سورت میں ہے؟
سورۃ یونس (يونس). 114 میں سے سورت نمبر 10 · آیات کی تعداد: 109.
آیت 10:22 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 11.
آیت 10:22 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 211 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 211 · نسخ مصحف (612 صفحات): 212.
آیت 10:22 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 41.
آیت 10:22 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 10:22: حروف کی تعداد 165، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 10:22 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 10:22 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 1,386 ہے۔
سورۃ یونس میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ یونس: آیات کی تعداد 109۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 10 پر ہے۔
سورۃ یونس مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ یونس مکی ہے۔
کیا آیت 10:22 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 10:22 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ یونس کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 109 آیات اور 1,833 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔