سورۃ الاحزاب 33:50 الأحزاب
یہ سورۃ الاحزاب کی 73 آیات میں سے آیت 50 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 3583، پارہ 22۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 424 پر ہے۔
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ إِنَّآ أَحۡلَلۡنَا لَكَ أَزۡوَٰجَكَ ٱلَّٰتِيٓ ءَاتَيۡتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتۡ يَمِينُكَ مِمَّآ أَفَآءَ ٱللَّهُ عَلَيۡكَ وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّٰتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَٰلَٰتِكَ ٱلَّٰتِي هَاجَرۡنَ مَعَكَ وَٱمۡرَأَةٗ مُّؤۡمِنَةً إِن وَهَبَتۡ نَفۡسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنۡ أَرَادَ ٱلنَّبِيُّ أَن يَسۡتَنكِحَهَا خَالِصَةٗ لَّكَ مِن دُونِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَۗ قَدۡ عَلِمۡنَا مَا فَرَضۡنَا عَلَيۡهِمۡ فِيٓ أَزۡوَٰجِهِمۡ وَمَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُهُمۡ لِكَيۡلَا يَكُونَ عَلَيۡكَ حَرَجٞۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٗا رَّحِيمٗا
اے نبی! ہم نے تیرے لئے تیری وه بیویاں حلال کر دی ہیں جنہوں تو ان کا مہر دے چکا ہے1 اور وه لونڈیاں بھی جو اللہ تعالیٰ نے غنیمت میں تجھے دی ہیں2 اور تیرے چچا کی لڑکیاں اور پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تیرے ماموں کی بیٹیاں اور تیری خاﻻؤں کی بیٹیاں بھی جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی ہے3، اور وه باایمان عورت جو اپنا نفس نبی کو ہبہ کردے یہ اس صورت میں کہ خود نبی بھی اس سے نکاح کرنا چاہے4، یہ خاص طور پر صرف تیرے لئے ہی ہے اور مومنوں کے لئے نہیں5، ہم اسے بخوبی جانتے ہیں جو ہم نے ان پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں (احکام) مقرر کر رکھے ہیں6، یہ اس لئے کہ تجھ پر حرج واقع نہ ہو، اللہ تعالیٰ بہت بخشنے اور بڑے رحم واﻻ ہے.
مترجم کے حواشی (6)
- 1 بعض احکام شرعیہ میں نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کو امیتاز حاصل تھا، جنہیں آپ (صلى الله عليه وسلم) کی خصوصیات کہا جاتا ہے۔ مثلاً اہل علم کی ایک جماعت کے بقول قیام اللیل (تہجد) آپ (صلى الله عليه وسلم) پر فرض تھا، صدقہ آپ (صلى الله عليه وسلم) پر حرام تھا، اسی طرح کی بعض خصوصیات کا ذکر قرآن کریم کے اس مقام پر کیا گیا ہے جن کا تعلق نکاح سے ہے۔ 1 . جن عورتوں کو آپ (صلى الله عليه وسلم) نے مہر دیا ہے، وہ حلال ہیں چاہے تعداد میں وہ کتنی ہی ہوں اور آپ (صلى الله عليه وسلم) نے حضرت صفیہ (رضی الله عنها) اور جویریہ (رضی الله عنها) کا مہر ان کی آزادی کو قرار دیا تھا، ان کے علاوہ بصورت نقد سب کو مہر ادا کیا تھا۔ صرف ام حبیبہ (رضی الله عنها) کا مہر نجاشی نے اپنی طرف سے دیا تھا۔
- 2 چنانچہ حضرت صفیہ (رضی الله عنها) اور جویریہ (رضی الله عنها) ملکیت میں آئیں جنہیں آپ (صلى الله عليه وسلم) نے آزاد کرکے نکاح کرلیا، اور ریحانہ (رضی الله عنها) اور ماریہ قبطیہ (رضی الله عنها) یہ بطور لونڈی آپ کےپاس رہیں۔
- 3 اس کا مطلب ہے کہ جس طرح آپ (صلى الله عليه وسلم) نے ہجرت کی، اسی طرح انہوں نے بھی مکے سے مدینہ ہجرت کی۔ کیونکہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کے ساتھ تو کسی عورت نے بھی ہجرت نہیں کی تھی۔
- 4 یعنی اپنے آپ (صلى الله عليه وسلم) کو ہبہ کرنے والی عورت، اگر آپ (صلى الله عليه وسلم) اس سے نکاح کرنا پسند فرمائیں تو بغیر مہر کے آپ (صلى الله عليه وسلم) کے لئے اسے اپنے نکاح میں رکھنا جائزہے۔
- 5 یہ اجازت صرف آپ (صلى الله عليه وسلم) کے لئے ہے۔ دیگر مومنوں کے لئے تو ضروری ہے کہ وہ حق مہر، ادا کریں، تب نکاح جائز ہوگا۔
- 6 یعنی عقد کے جو شرائط اور حقوق ہیں جو ہم نے فرض کئے ہیں کہ مثلاً چار سے زیادہ عورتیں بیک وقت کوئی شخص اپنے نکاح میں نہیں رکھ سکتا، نکاح کے لئے ولی، گواہ اور حق مہر ضروری ہے۔ البتہ لونڈیاں جتنی کوئی چاہے، رکھ سکتا ہے، تاہم آج کل لونڈیوں کا مسئلہ تو ختم ہے۔
33:50 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 33:50
Al-Mukhtasar
50-اے نبی( صلى اللہ عليہ وسلم )! بلاشبہ ہم نے آپ کے لیے آپ کی وہ بیویاں حلال کر دیں جنھیں آپ نے ان کے حق مہر ادا کیے ہیں اور وہ لونڈیاں بھی آپ کے لیے حلال ہیں جو آپ کی ملکیت ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو قیدیوں کی صورت میں عطا فرمائیں۔ اور ہم نے آپ کے لیے آپ کے چچاؤں کی بیٹیوں سے، آپ کی پھوپھیوں کی بیٹیوں سے، آپ کے ماموؤں کی بیٹیوں سے اور آپ کی خالاؤں کی بیٹیوں سے جنھوں نے آپ کے ساتھ مکّے سے مدینے کی طرف ہجرت کی ہے، نکاح کرنا حلال کردیا ہے۔ ہم نے آپ کے لیے اس مومن عورت سے بغیر حق مہر کے نکاح کرنا حلال کر دیا ہے جو خود کو آپ کے لیے ہبہ (وقف) کر دے، بشرطیکہ آپ اس سے نکاح کرنا چاہیں۔ نکاحِ ہبہ صرف رسول اکرم صلى اللہ عليہ وسلم کے ساتھ خاص ہے۔ آپ کے علاوہ کسی امتی کے لیے یہ جائز نہیں۔ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ ہم نے مومنوں پر ان کی بیویوں کے بارے میں کیا فرض قرار دیا ہے کہ وہ ایک وقت میں چار بیویوں سے زائد اپنے عقد میں نہ رکھیں اور ان کی لونڈیوں کے بارے میں ان کے لیے جو جائز ٹھہرایا ہے کہ وہ کسی مقرر تعداد کے بغیر ان میں سے جتنی لونڈیوں سے چاہیں فائدہ اٹھائیں۔ ہم نے آپ( صلى اللہ عليہ وسلم ) کے لیے جو مباح اور حلال کیا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا، وہ ہم نے آپ کے علاوہ کسی اور کے لیے حلال نہیں کیا تاکہ آپ پر کوئی تنگی یا مشقت نہ ہو۔ اللہ کے بندوں میں سے جو توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اسے بے حد بخشنے والا، ان پر نہایت رحم کرنے والا ہے۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 22
- الفاظ کی تعداد
- 61
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 424
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 424
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 425
آیت 33:50 کس سورت میں ہے؟
سورۃ الاحزاب (الأحزاب). 114 میں سے سورت نمبر 33 · آیات کی تعداد: 73.
آیت 33:50 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 22.
آیت 33:50 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 424 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 424 · نسخ مصحف (612 صفحات): 425.
آیت 33:50 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 61.
آیت 33:50 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 33:50: حروف کی تعداد 257، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 33:50 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 33:50 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 3,583 ہے۔
سورۃ الاحزاب میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ الاحزاب: آیات کی تعداد 73۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 33 پر ہے۔
سورۃ الاحزاب مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ الاحزاب مدنی ہے۔
کیا آیت 33:50 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 33:50 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ الاحزاب کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 73 آیات اور 1,287 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔