مواد پر جائیں

سورۃ الاحزاب 33:51 الأحزاب

یہ سورۃ الاحزاب کی 73 آیات میں سے آیت 51 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 3584، پارہ 22۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 425 پر ہے۔

۞ تُرۡجِي مَن تَشَآءُ مِنۡهُنَّ وَتُـٔۡوِيٓ إِلَيۡكَ مَن تَشَآءُۖ وَمَنِ ٱبۡتَغَيۡتَ مِمَّنۡ عَزَلۡتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكَۚ ذَٰلِكَ أَدۡنَىٰٓ أَن تَقَرَّ أَعۡيُنُهُنَّ وَلَا يَحۡزَنَّ وَيَرۡضَيۡنَ بِمَآ ءَاتَيۡتَهُنَّ كُلُّهُنَّۚ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ مَا فِي قُلُوبِكُمۡۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَلِيمٗا

ان میں سے جسے تو چاہے دور رکھ دے اور جسے چاہے اپنے پاس رکھ لے1 ، اور اگر تو نے ان میں سے بھی کسی کو اپنے پاس بلالے جنہیں تو نے الگ کر رکھا تھا تو تجھ پر کوئی گناه نہیں2، اس میں اس بات کی زیاده توقع ہے کہ ان عورتوں کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وه رنجیده نہ ہوں اور جو کچھ بھی تو انہیں دے دے اس پر سب کی سب راضی رہیں3۔ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے اللہ (خوب) جانتا ہے4۔ اللہ تعالیٰ بڑا ہی علم اور حلم واﻻ ہے.

مترجم کے حواشی (4)
  1. 1 اس کا تعلق إِنَّا أَحْلَلْنَا سے ہے یعنی مذکورہ تمام عورتوں کی آپ (صلى الله عليه وسلم) کے لئے حلت اس لئے ہے تاکہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کو تنگی محسوس نہ ہو اور آپ (صلى الله عليه وسلم) ان میں سے کسی کے ساتھ نکاح میں گناہ نہ سمجھیں۔
  2. 2 یعنی جن بیویوں کی باریاں موقوف کر رکھی تھیں اگر آپ (صلى الله عليه وسلم) چاہیں کہ ان سے بھی مباشرت کا تعلق قائم کیا جائے، تو یہ اجازت بھی آپ (صلى الله عليه وسلم) کو حاصل ہے۔
  3. 3 یعنی باری موقوف ہونے اور ایک کو دوسری پر ترجیح دینے کے باوجود وہ خوش ہوں گی، غمگین نہیں ہوں گی اور جتنا کچھ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی طرف سے انہیں مل جائے گا، اس پر مطمئن رہیں گی۔ کیوں؟ اس لئے کہ انہیں معلوم ہے کہ پیغمبر (صلى الله عليه وسلم) یہ سب کچھ اللہ کے حکم اور اجازت سے کر رہے ہیں اور یہ ازواج مطہرات اللہ کے فیصلہ پر راضی اور مطمئن ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کو یہ اختیار ملنے کے باوجود آپ (صلى الله عليه وسلم) نے اسے استعمال نہیں کیا اور سوائے حضرت سودہ (رضی الله عنها) کے (کہ انہوں نے اپنی باری خود ہی حضرت عائشہ (رضی الله عنها) کے لئے ہبہ کردی تھی) آپ (صلى الله عليه وسلم) نے تمام ازواج مطہرات کی باریاں برابر برابر مقرر کر رکھی تھیں، اس لئے آپ (صلى الله عليه وسلم) نے مرض الموت میں ازواج مطہرات سے اجازت لے کر بیماری کے ایام حضرت عائشہ (رضی الله عنها) کے پاس گزارے ”أَنْ تَقَرَّ أَعْيُنُهُنَّ“ کا تعلق آپ (صلى الله عليه وسلم) کے اسی طرز عمل سے ہے کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) پر تقسیم اگرچہ (دوسرے لوگوں کی طرح) واجب نہیں تھی، اس کے باوجود آپ (صلى الله عليه وسلم) نے تقسیم کو اختیار فرمایا، تاکہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی بیویوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں اور آپ (صلى الله عليه وسلم) کے اس حسن سلوک اور عدل وانصاف سے خوش ہوجائیں کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے خصوصی اختیار استعمال کرنے کے بجائے ان کی دلجوئی اور دلداری کا اہتمام فرمایا۔
  4. 4 یعنی تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے، ان میں یہ بات بھی یقیناً ہے کہ سب بیویوں کی محبت دل میں یکساں نہیں ہے۔ کیوں کہ دل پر انسان کا اختیار ہی نہیں ہے۔ اس لئے بیویوں کے درمیان مساوات باری میں، نان و نفقہ اور دیگر ضروریات زندگی اور آسائشوں میں ضروری ہے، جس کا اہتمام انسان کرسکتا ہے۔ دلوں کے میلان میں مساوات چونکہ اختیار ہی میں نہیں ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ اس پر گرفت بھی نہیں فرمائے گا بشرطیکہ دلی محبت کسی ایک بیوی سے امتیازی سلوک کا باعث نہ ہو۔ اسی لئے نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) فرمایا کرتے تھے یااللہ یہ میری تقسیم ہے جو میرے اختیار میں ہے، لیکن جس چیز پر تیرا اختیار ہے، میں اس پر اختیار نہیں رکھتا، اس میں مجھے ملامت نہ کرنا۔ (أبو داود، باب القسم في النساء، ترمذي، نسائي، ابن ماجه، مسند أحمد 6 / 144)۔

33:51 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3

تفسیر سورۃ الاحزاب
0/73
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
مشاري العفاسي الاحزاب 33:51 0:00 0:00 پڑھ لیا، آگے بڑھیں

تفسیر · 33:51

Al-Mukhtasar

51-اے رسول( صلى اللہ عليہ وسلم )! آپ اپنی بیویوں میں سے جس کی باری چاہیں پیچھے کر دیں اور اس کےہاں قیام نہ کریں اور ان میں سے جسے چاہیں اپنے قریب کر لیں اور اس کے ہاں قیام کریں اور جنھیں آپ نے پیچھے کیا ہے، ان میں سے اگر کسی کو آپ ساتھ رکھنا چاہیں تو اس میں بھی آپ پر کوئی گناہ نہیں۔ آپ کو یہ اختیار اور وسعت دینے سے آپ کی بیویوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہونے کے امکانات زیادہ ہیں اور زیادہ قریب ہے کہ انھیں آپ جو دیں اس پر وہ سب راضی ہوں کیونکہ انھیں علم ہوگا کہ آپ نے کوئی واجب چھوڑا ہے نہ کسی کا حق ادا کرنے میں بخل سے کام لیا ہے۔ اے مردو! تمھارے دلوں میں کسی ایک بیوی سے زیادہ کسی دوسری بیوی کے بارے میں جو میلان اور جھکاؤ پایا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے اعمال خوب جاننے والا ہے۔ اس سے ان کا کوئی عمل چھپا ہوا نہیں۔ وہ نہایت بردبار ہے کہ انھیں جلد سزا نہیں دیتا کہ شاید وہ اس کے حضور توبہ کر لیں۔

Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution

پارہ
22
الفاظ کی تعداد
35
مدینہ مصحف (604 صفحات)
425
انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
425
نسخ مصحف (612 صفحات)
426
آیت 33:51 کس سورت میں ہے؟

سورۃ الاحزاب (الأحزاب). 114 میں سے سورت نمبر 33 · آیات کی تعداد: 73.

آیت 33:51 کس پارے میں ہے؟

پارہ: 22.

آیت 33:51 کس صفحے پر ہے؟

مدینہ مصحف (604 صفحات): 425 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 425 · نسخ مصحف (612 صفحات): 426.

آیت 33:51 میں کتنے الفاظ ہیں؟

الفاظ کی تعداد: 35.

آیت 33:51 میں کتنے عربی حروف ہیں؟

آیت 33:51: حروف کی تعداد 138، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔

آیت 33:51 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟

آیت 33:51 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 3,584 ہے۔

سورۃ الاحزاب میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ الاحزاب: آیات کی تعداد 73۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 33 پر ہے۔

سورۃ الاحزاب مکی ہے یا مدنی؟

سورۃ الاحزاب مدنی ہے۔

کیا آیت 33:51 سنی جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ آیت 33:51 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔

سورۃ الاحزاب کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟

شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 73 آیات اور 1,287 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play