مواد پر جائیں

سورۃ الانفال 8:41 الأنفال

یہ سورۃ الانفال کی 75 آیات میں سے آیت 41 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 1201، پارہ 10۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 182 پر ہے۔

۞ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّمَا غَنِمۡتُم مِّن شَيۡءٖ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُۥ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي ٱلۡقُرۡبَىٰ وَٱلۡيَتَٰمَىٰ وَٱلۡمَسَٰكِينِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِيلِ إِن كُنتُمۡ ءَامَنتُم بِٱللَّهِ وَمَآ أَنزَلۡنَا عَلَىٰ عَبۡدِنَا يَوۡمَ ٱلۡفُرۡقَانِ يَوۡمَ ٱلۡتَقَى ٱلۡجَمۡعَانِۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ

جان لو کہ تم جس قسم کی جو کچھ غنیمت حاصل کرو1 اس میں سے پانچواں حصہ تو اللہ کا ہے اور رسول کا اور قرابت داروں کا اور یتیموں اور مسکینوں کا اور مسافروں کا2، اگر تم اللہ پر ایمان ﻻئے ہو اور اس چیز پر جو ہم نے اپنے بندے پر اس دن اتارا ہے3، جو دن حق وباطل کی جدائی کا تھا4 جس دن دو فوجیں بھڑ گئی تھیں5۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

مترجم کے حواشی (5)
  1. 1 غنیمت سے مراد وہ مال ہے جو کافروں سے، کافروں پر لڑائی میں فتح وغلبہ حاصل ہونے کے بعد، حاصل ہو ۔ پہلی امتوں میں اس کے لئے یہ طریقہ تھا کہ جنگ ختم ہونے کے بعد کافروں سے حاصل کردہ سارا مال ایک جگہ ڈھیر کر دیا جاتا، آسمان سے آگ آتی اور اسے جلا کر بھسم کرڈالتی ۔ لیکن امت مسلمہ کے لئے یہ مال غنیمت حلال کر دیا گیا اور جو مال بغیر لڑائی کے صلح کے ذریعے یا جزیہ وخراج سے وصول ہو، اسے فَيْءٌ کہا جاتا ہے ۔ کبھی غنیمت کو فَيْءٌ سے تعبیر کر لیا جاتا ہے۔ ”مِنْ شَيْءٍ“ سے مراد جو کچھ بھی ہو یعنی تھوڑا ہو یا زیادہ، قیمتی ہو یا معمولی، سب کو جمع کرکے اس کی تقسیم حسب ضابطہ کی جائے گی۔ کسی سپاہی کو اس میں سے کوئی چیز تقسیم سے قبل اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہیں ہے ۔
  2. 2 اللہ کا لفظ تو بطور تبرک، نیز اس لئے بھی ہے کہ ہر چیز کا اصل مالک وہی ہے اور حکم بھی اسی کا چلتا ہے۔ مراد اللہ اور اس کے رسول کے حصہ سے ایک ہی ہے، یعنی سارے مال غنیمت کے پانچ حصے کرکے چار حصے تو ان مجاہدین میں تقسیم کیے جائیں گے جنہوں نے جنگ میں حصہ لیا۔ ان میں بھی پیادہ کو ایک حصہ اور سوار کو تین گنا حصہ ملے گا۔ پانچواں حصہ، جسے عربی میں خمس کہتے ہیں، کہا جاتا ہے کہ اس کے پھر پانچ حصے کئے جائیں گے۔ ایک حصہ رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کا ( اور آپ صلى الله عليه وسلم کے بعد اسے مفاد عامہ میں خرچ کیا جائے گا) جیسا کہ خود آپ (صلى الله عليه وسلم) بھی یہ حصہ مسلمانوں پر ہی خرچ فرماتے تھے بلکہ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا بھی ہے۔ ”وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ“ (سنن النسائي- وصححه الألباني في صحيح النسائي: 3858 ۔ ومسند أحمد جلد: 5، ص،319) یعنی میرا جو پانچواں حصہ ہے وہ بھی مسلمانوں کے مصالح پر ہی خرچ ہوتا ہے۔ دوسرا حصہ رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کے قرابت داروں کا، پھر یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کا۔ اور کہا جاتا ہے کہ یہ خمس حسب ضرورت خرچ کیا جائے گا۔
  3. 3 اس نزول سے مراد فرشتوں کا اور آیات الٰہی ( معجزات وغیرہ ) کا نزول ہے جو بدر میں ہوا۔
  4. 4 بدر کی جنگ 2 ہجری 17رمضان المبارک کو ہوئی۔ اس دن کو یوم الفرقان اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ کافروں اور مسلمانوں کے درمیان پہلی جنگ تھی اور مسلمانوں کو فتح وغلبہ دے کر واضح کر دیا گیا کہ اسلام حق ہے اور کفر وشرک باطل ہے۔
  5. 5 یعنی مسلمانوں اور کافروں کی فوجیں۔

8:41 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3

تفسیر سورۃ الانفال
0/75
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
مشاري العفاسي الانفال 8:41 0:00 0:00 پڑھ لیا، آگے بڑھیں

تفسیر · 8:41

Al-Mukhtasar

41- اے ایمان والو! جان لو کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے جو مال تم کافروں سے زبردستی بطور غنیمت حاصل کرو، اس کے پانچ حصے ہوں گے۔ چار حصے مجاہدین میں تقسیم ہوں گے اور باقی پانچویں حصے کو مزید پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا: ایک حصہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلى اللہ عليہ وسلم کے لیے ہوگا جو مسلمانوں کی عام ضروریات پر خرچ ہوگا۔ دوسرا حصہ نبیٔ اکرم صلى اللہ عليہ وسلم کے قرابت داروں بنوہاشم اور بنومطلب کے لیے ہوگا۔ تیسرا حصہ یتیموں کے لیے، چوتھا فقراء و مساکین کے لیے اور پانچواں حصہ ان مسافروں کے لیے ہوگا جن کے پاس سفری اخراجات ختم ہو جائیں، اگر تم اللہ پر اور اس چیز پر ایمان لائے ہو جو ہم نے اپنے بندے محمد رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم پر بدر کے دن اتاری جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کے درمیان فرق کر دیا، جب اس نے تمھارے دشمنوں کے خلاف تمھاری مدد کی اور جس اللہ نے تمھاری مدد کی، وہ ہرچیز پر پوری طرح قادر ہے۔

Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution

پارہ
10
الفاظ کی تعداد
33
مدینہ مصحف (604 صفحات)
182
انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
182
نسخ مصحف (612 صفحات)
183
آیت 8:41 کس سورت میں ہے؟

سورۃ الانفال (الأنفال). 114 میں سے سورت نمبر 8 · آیات کی تعداد: 75.

آیت 8:41 کس پارے میں ہے؟

پارہ: 10.

آیت 8:41 کس صفحے پر ہے؟

مدینہ مصحف (604 صفحات): 182 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 182 · نسخ مصحف (612 صفحات): 183.

آیت 8:41 میں کتنے الفاظ ہیں؟

الفاظ کی تعداد: 33.

آیت 8:41 میں کتنے عربی حروف ہیں؟

آیت 8:41: حروف کی تعداد 149، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔

آیت 8:41 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟

آیت 8:41 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 1,201 ہے۔

سورۃ الانفال میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ الانفال: آیات کی تعداد 75۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 8 پر ہے۔

سورۃ الانفال مکی ہے یا مدنی؟

سورۃ الانفال مدنی ہے۔

کیا آیت 8:41 سنی جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ آیت 8:41 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔

سورۃ الانفال کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟

شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 75 آیات اور 1,233 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play