سورۃ البقرہ 2:213 البقرة
یہ سورۃ البقرہ کی 286 آیات میں سے آیت 213 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 220، پارہ 2۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 33 پر ہے۔
كَانَ ٱلنَّاسُ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗ فَبَعَثَ ٱللَّهُ ٱلنَّبِيِّـۧنَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَ ٱلنَّاسِ فِيمَا ٱخۡتَلَفُواْ فِيهِۚ وَمَا ٱخۡتَلَفَ فِيهِ إِلَّا ٱلَّذِينَ أُوتُوهُ مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ ٱلۡبَيِّنَٰتُ بَغۡيَۢا بَيۡنَهُمۡۖ فَهَدَى ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لِمَا ٱخۡتَلَفُواْ فِيهِ مِنَ ٱلۡحَقِّ بِإِذۡنِهِۦۗ وَٱللَّهُ يَهۡدِي مَن يَشَآءُ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٍ
دراصل لوگ ایک ہی گروه تھے1 اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو خوشخبریاں دینے اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا اور ان کے ساتھ سچی کتابیں نازل فرمائیں، تاکہ لوگوں کے ہر اختلافی امر کا فیصلہ ہوجائے۔ اور صرف ان ہی لوگوں نے جنھیں کتاب دی گئی تھی، اپنے پاس دﻻئل آچکنے کے بعد آپس کے بغض وعناد کی وجہ سے اس میں اختلاف کیا2 اس لئے اللہ پاک نے ایمان والوں کی اس اختلاف میں بھی حق کی طرف اپنی مشیئت سے رہبری کی3 اور اللہ جس کو چاہے سیدھی راه کی طرف رہبری کرتا ہے
مترجم کے حواشی (3)
- 1 یعنی توحید پر۔یہ حضرت آدم(عليه السلام) سے حضرت نوح(عليه السلام)، یعنی دس صدیوں تک لوگ توحید پر، جس کی تعلیم انبیا دیتے رہے، قائم رہے۔ آیت میں مفسرین صحابہ نے فَاخْتَلَفُوا محذوف مانا ہے، یعنی اس کے بعد شیطان کی وسوسہ اندازی سے ان کے اندر اختلاف پیدا ہوگیا اور شرک ومظاہرپرستی عام ہوگئی۔فَبَعَثَ اس کا عطف فَاخْتَلَفُوا ( جو محذوف ہے) پر ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو کتابوں کے ساتھ بھیج دیا، تاکہ وہ لوگوں کے درمیان اختلافات کا فیصلہ اور حق اور توحید کو قائم وواضح کریں۔ (ابن کثیر)
- 2 اختلاف ہمیشہ راہ حق سے انحراف کی وجہ سے ہوتا ہے اور اس انحراف کا منبع بغض وعناد بنتا ہے، امت مسلمہ میں بھی جب تک یہ انحراف نہیں آیا، یہ امت اپنی اصل پر قائم اور اختلافات کی شدت سے محفوظ رہی، لیکن اندھی تقلید اور بدعات نے حق سے گریز کا جو راستہ کھولا، اس سے اختلافات کا دائرہ پھیلتا اور بڑھتا ہی چلا گیا، تاآنکہ اتحاد امت ایک ناممکن چیز بن کر رہ گیا ہے۔ فَهَدَى اللهُ الْمُسْلِمِينَ.
- 3 چنانچہ مثلاً اہل کتاب نے جمعہ میں اختلاف کیا، یہود نے ہفتہ کو اور نصاریٰ نے اتوار کو اپنا مقدس دن قرار دیا تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جمعے کا دن اختیار کرنے کی ہدایت دے دی۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ(عليه السلام) کے بارے میں اختلاف کیا۔ یہود نے ان کی تکذیب کی اور ان کی والدہ حضرت مریم پر بہتان باندھا، اس کے برعکس عیسائیوں نے ان کو اللہ کا بیٹا اور الٰہ بنا دیا۔ اللہ نے مسلمانوں کو ان کے بارے میں صحیح موقف اپنانے کی توفیق عطا فرمائی کہ وہ اللہ کے پیغمبر اور اس کے فرماں بردار بندے تھے۔ حضرت ابراہیم(عليه السلام) کے بارے میں بھی انہوں نے اختلاف کیا، ایک نے یہودی اور دوسرے نصرانی کہا مسلمانوں کو اللہ نے صحیح بات بتلائی کہ وہ «حَنِيفًا مُسْلِمًا» تھے اور اس طرح کے دیگر کئی مسائل میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اذن یعنی اپنے فضل سے مسلمانوں کو صراط مستقیم دکھائی۔
2:213 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 2:213
Al-Mukhtasar
213- لوگ ایک ہی امت تھے، ہدایت پر متفق تھے اور اپنے باپ آدم علیہ السلام کے دین پر قائم تھے حتی کہ شیاطین نے انھیں سیدھی راہ سے بہکا دیا، پھر وہ مومن اور کافر میں تقسیم ہوگئے۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے رسول بھیجے جنھوں نے اہلِ ایمان و اطاعت کو ان انعامات کی خوشخبری سنائی جو اللہ نے اپنی رحمت سے ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں اور اہلِ کفر و شرک کو اس سخت عذاب سے ڈرایا جس کی اللہ نے انھیں دھمکی دی ہے اور رسولوں کو ایسی کتابیں دے کر بھیجا جو شک و شبہ سے پاک اور حق پر مشتمل تھیں تاکہ وہ لوگوں کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کریں جن میں انھوں نے اختلاف کیا۔ اللہ کی نازل کردہ کتاب تورات میں اختلاف تو یہود ہی نے کیا جنھیں اس کا علم دیا گیا تھا جبکہ ان کے پاس واضح دلائل آچکے تھے کہ یہ اللہ کی طرف سے حق ہے۔ یہ اختلاف ان کا ظلم تھا، اس میں اختلاف بنتا نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص اجازت اور ارادے سے مومنوں کو گمراہی سے ہدایت کی پہچان عطا فرمائی اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی، جس میں کوئی ٹیڑھ نہ ہو، توفیق دیتا ہے اور یہی ایمان کا راستہ ہے۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 2
- الفاظ کی تعداد
- 49
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 33
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 33
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 34
آیت 2:213 کس سورت میں ہے؟
سورۃ البقرہ (البقرة). 114 میں سے سورت نمبر 2 · آیات کی تعداد: 286.
آیت 2:213 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 2.
آیت 2:213 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 33 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 33 · نسخ مصحف (612 صفحات): 34.
آیت 2:213 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 49.
آیت 2:213 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 2:213: حروف کی تعداد 211، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 2:213 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 2:213 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 220 ہے۔
سورۃ البقرہ میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ البقرہ: آیات کی تعداد 286۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 2 پر ہے۔
سورۃ البقرہ مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ البقرہ مدنی ہے۔
کیا آیت 2:213 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 2:213 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ البقرہ کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 286 آیات اور 6,116 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔