سورۃ البقرہ 2:217 البقرة
یہ سورۃ البقرہ کی 286 آیات میں سے آیت 217 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 224، پارہ 2۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 34 پر ہے۔
يَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلشَّهۡرِ ٱلۡحَرَامِ قِتَالٖ فِيهِۖ قُلۡ قِتَالٞ فِيهِ كَبِيرٞۚ وَصَدٌّ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَكُفۡرُۢ بِهِۦ وَٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ وَإِخۡرَاجُ أَهۡلِهِۦ مِنۡهُ أَكۡبَرُ عِندَ ٱللَّهِۚ وَٱلۡفِتۡنَةُ أَكۡبَرُ مِنَ ٱلۡقَتۡلِۗ وَلَا يَزَالُونَ يُقَٰتِلُونَكُمۡ حَتَّىٰ يَرُدُّوكُمۡ عَن دِينِكُمۡ إِنِ ٱسۡتَطَٰعُواْۚ وَمَن يَرۡتَدِدۡ مِنكُمۡ عَن دِينِهِۦ فَيَمُتۡ وَهُوَ كَافِرٞ فَأُوْلَٰٓئِكَ حَبِطَتۡ أَعۡمَٰلُهُمۡ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِۖ وَأُوْلَٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ
لوگ آپ سے حرمت والے مہینوں میں لڑائی کی بابت سوال کرتے ہیں، آپ کہہ دیجیئے کہ ان میں لڑائی کرنا بڑا گناه ہے، لیکن اللہ کی راه سے روکنا، اس کے ساتھ کفر کرنا اور مسجد حرام سے روکنا اور وہاں کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا، اللہ کے نزدیک اس سے بھی بڑا گناه ہے یہ فتنہ قتل سے بھی بڑا گناه ہے1 ، یہ لوگ تم سے لڑائی بھڑائی کرتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ اگر ان سے ہوسکے تو تمہیں تمہارے دین سے مرتد کردیں2 اور تم میں سے جو لوگ اپنے دین سے پلٹ جائیں اور اسی کفر کی حالت میں مریں، ان کے اعمال دنیوی اور اخروی سب غارت ہوجائیں گے۔ یہ لوگ جہنمی ہوں گے اور ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں ہی رہیں گے۔3
مترجم کے حواشی (3)
- 1 رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم۔ یہ چار مہینے زمانۂ جاہلیت میں بھی حرمت والے سمجھے جاتے تھے، جن میں قتال وجدال ناپسندیدہ تھا۔ اسلام نے بھی ان کی حرمت کو برقرار رکھا۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) کے زمانے میں ایک مسلمان فوجی دستے کے ہاتھوں رجب کے مہینے میں ایک کافر قتل ہوگیا اور بعض کافر قیدی بنا لئے گئے۔ مسلمانوں کے علم میں یہ نہیں تھا کہ رجب شروع ہوگیا ہے۔ کفار نے مسلمانوں کو طعنہ دیا کہ دیکھو یہ حرمت والے مہینے کی حرمت کا بھی خیال نہیں رکھتے، جس پر یہ آیت نازل ہوئی اور کہا گیا کہ یقیناً حرمت والے مہینے میں قتال بڑا گناہ ہے، لیکن حرمت کی دہائی دینے والوں کو اپنا عمل نظر نہیں آتا؟ یہ خود اس سے بھی بڑے جرائم کے مرتکب ہیں یہ اللہ کے راستے سے اور مسجد حرام سے لوگوں کو روکتے ہیں اور وہاں سے مسلمانوں کو نکلنے پر انہوں نے مجبور کردیا۔ علاوہ ازیں کفر وشرک بجائے خود قتل سے بھی بڑا گناہ ہے۔ اس لئے اگر مسلمانوں سے غلطی سے ایک آدھ قتل حرمت والے مہینے میں ہوگیا تو کیا ہوا؟ اس پر واویلا کرنے کے بجائے ان کو اپنا نامۂ سیاہ بھی تو دیکھ لینا چاہیے۔
- 2 جب یہ اپنی شرارتوں، سازشوں اور تمہیں مرتد بنانے کی کوششوں سے باز آنے والے نہیں تو پھر تم ان سے مقابلہ کرنے میں شہر حرام کی وجہ سے کیوں رکے رہو؟
- 3 جو دین اسلام سے پھر جائے، یعنی مرتد ہوجائے (اگر وہ توبہ نہ کرے) تو اس کی دنیوی سزا قتل ہے۔ حدیث میں ہے :«مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ» (صحيح بخاري ، كتاب الجهاد، باب لا يعذب بعذاب الله) آیت میں اس کی اخروی سزا بیان کی جارہی ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ ایمان کی حالت میں کئے گئے اعمال صالحہ بھی کفر ارتداد کی وجہ سے کالعدم ہوجائیں گے اور جس طرح ایمان قبول کرنے سے انسان کے پچھلے گناہ معاف ہوجاتے ہیں، اسی طرح کفر ارتداد سے تمام نیکیاں برباد ہوجاتی ہیں۔ تاہم قرآن کے الفاظ سے واضح ہے کہ حبط اعمال اسی وقت ہوگا جب خاتمہ کفر پر ہوگا، اگر موت سے پہلے تائب ہوجائے گا تو ایسا نہیں ہوگا، یعنی مرتد کی توبہ مقبول ہے۔
2:217 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 2:217
Al-Mukhtasar
217- اے نبی! لوگ آپ سے حرمت والے مہینوں (ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب) کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ ان میں لڑائی کا کیا حکم ہے؟ انھیں جواب میں کہہ دیجیے کہ ان مہینوں میں لڑائی کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑا گناہ اور ناپسندیدہ امر ہے۔ اسی طرح مشرکوں کا اللہ کی راہ سے روکنا بھی نہایت قبیح اور برا کام ہے۔ اہلِ ایمان کو مسجد الحرام میں داخل ہونے سے منع کرنا اور مسجد الحرام کے باسیوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک حرمت والے مہینوں میں قتال کرنے سے بھی بڑا گناہ ہے۔ اور شرک جس کے وہ مرتکب ہیں،قتل سے بھی بڑا گناہ ہے۔ اے اہلِ ایمان! یہ مشرک مسلسل ظلم کرتے رہیں گے اور اس وقت تک تم سے لڑتے رہیں گے جب تک تمھیں دینِ حق سے اپنے باطل دین کی طرف نہ پھیر دیں بشرطیکہ ان کا بس چلے اور جو تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے اور اللہ سے کفر کرتے ہوئے مر جائے تو اس کے نیک عمل برباد ہوگئے اور آخرت میں اس کا انجام آگ میں جلنا اور ہمیشہ جلتے رہنا ہے۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 2
- الفاظ کی تعداد
- 57
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 34
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 34
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 35
آیت 2:217 کس سورت میں ہے؟
سورۃ البقرہ (البقرة). 114 میں سے سورت نمبر 2 · آیات کی تعداد: 286.
آیت 2:217 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 2.
آیت 2:217 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 34 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 34 · نسخ مصحف (612 صفحات): 35.
آیت 2:217 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 57.
آیت 2:217 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 2:217: حروف کی تعداد 242، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 2:217 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 2:217 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 224 ہے۔
سورۃ البقرہ میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ البقرہ: آیات کی تعداد 286۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 2 پر ہے۔
سورۃ البقرہ مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ البقرہ مدنی ہے۔
کیا آیت 2:217 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 2:217 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ البقرہ کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 286 آیات اور 6,116 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔