سورۃ البقرہ 2:29 البقرة
یہ سورۃ البقرہ کی 286 آیات میں سے آیت 29 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 36، پارہ 1۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 5 پر ہے۔
هُوَ ٱلَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا فِي ٱلۡأَرۡضِ جَمِيعٗا ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰٓ إِلَى ٱلسَّمَآءِ فَسَوَّىٰهُنَّ سَبۡعَ سَمَٰوَٰتٖۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٞ
وه اللہ جس نے تمہارے لئے زمین کی تمام چیزوں کو پیدا کیا1 ، پھر آسمان کی طرف قصد کیا2 اور ان کو ٹھیک ٹھاک سات آسمان3 بنایا اور وه ہر چیز کو جانتا ہے۔
مترجم کے حواشی (3)
- 1 اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ زمین کی اشیاء مخلوقہ کے لئے (اصل) حلت ہے۔ الا یہ کہ کسی چیز کی حرمت نص سے ثابت ہو (فتح القدیر)
- 2 بعض سلف امت نے اس کا ترجمہ ”پھر آسمان کی طرف چڑھ گیا“ کیا ہے (صحیح بخاری) اللہ تعالیٰ کا آسمانوں کے اوپر عرش پر چڑھنا اور خاص خاص مواقع پر آسمان دنیا پر نزول، اللہ کی صفات میں سے ہے، جن پر اسی طرح بغیر تاویل کے ایمان رکھنا ضروری ہے۔ جس طرح قرآن یا احادیث میں بیان کی گئی ہیں۔
- 3 اس سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ (آسمان) ایک حسی وجود اور حقیقت ہے۔ محض بلندی کو سماء سے تعبیر نہیں کیا گیا ہے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ ان کی تعداد سات ہے۔ اور حدیث کے مطابق دو آسمانوں کے درمیان سال کی مسافت ہے۔ اور زمین کی بابت قرآن کریم میں ہے «وَمِنَ الأَرْضِ مِثْلَهُنَّ» (الطلاق:12) ”اور زمین بھی آسمان کی مثل ہیں“ اس سے زمین کی تعداد بھی سات ہی معلوم ہوتی ہے جس کی مزید تائید حدیث نبوی سے ہوجاتی ہے : «مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنْ الأَرْضِ ظُلْمًا، فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرْضِينَ» (صحيح بخاري، بدء الخلق ما جاء في سبع أرضين) ”جس نے ظلماً کسی کی ایک بالشت زمین لے لی تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن ساتوں زمینوں کا طوق پہنائے گا۔“ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آسمان سے پہلے زمین کی تخلیق ہوئی ہے۔ لیکن سورہ نازعات میں آسمان کے ذکر کے بعد فرمایا گیا ہے۔ «وَالأَرْضَ بَعْدَ ذَلِكَ دَحَاهَا» ”زمین کو اس کے بعد بچھایا“ اس کی توجیہ یہ کی گئی ہے کہ تخلیق پہلے زمین ہی کی ہوئی ہے اور دَحْوٌ (صاف اور ہموار کرکے بچھانا) تخلیق سے مختلف چیز ہے جو آسمان کی تخلیق کے بعد عمل میں آیا۔ (فتح القدیر)
2:29 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 2:29
Al-Mukhtasar
29- اللہ اکیلے ہی نے تمھارے لیے دریا، درخت وغیرہ جیسی زمین کی تمام چیزیں پیدا کیں جن کا کوئی شمار نہیں۔ اس نے ان چیزوں کو تمھارے تابع کر دیا کہ تم ان سے فائدہ اور نفع حاصل کر رہے ہو، پھر وہ آسمانوں کی تخلیق کی طرف متوجہ ہوا تو انھیں برابر سات آسمان بنا دیے۔ وہی ہے جس کا علم ہر شے کو محیط ہے۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 1
- الفاظ کی تعداد
- 19
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 5
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 5
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 6
آیت 2:29 کس سورت میں ہے؟
سورۃ البقرہ (البقرة). 114 میں سے سورت نمبر 2 · آیات کی تعداد: 286.
آیت 2:29 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 1.
آیت 2:29 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 5 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 5 · نسخ مصحف (612 صفحات): 6.
آیت 2:29 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 19.
آیت 2:29 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 2:29: حروف کی تعداد 68، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 2:29 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 2:29 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 36 ہے۔
سورۃ البقرہ میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ البقرہ: آیات کی تعداد 286۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 2 پر ہے۔
سورۃ البقرہ مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ البقرہ مدنی ہے۔
کیا آیت 2:29 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 2:29 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ البقرہ کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 286 آیات اور 6,116 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔