سورۃ الفتح 48:29
یہ سورۃ الفتح کی 29 آیات میں سے آیت 29 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 4612، پارہ 26۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 515 پر ہے۔
مُّحَمَّدٞ رَّسُولُ ٱللَّهِۚ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥٓ أَشِدَّآءُ عَلَى ٱلۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡۖ تَرَىٰهُمۡ رُكَّعٗا سُجَّدٗا يَبۡتَغُونَ فَضۡلٗا مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضۡوَٰنٗاۖ سِيمَاهُمۡ فِي وُجُوهِهِم مِّنۡ أَثَرِ ٱلسُّجُودِۚ ذَٰلِكَ مَثَلُهُمۡ فِي ٱلتَّوۡرَىٰةِۚ وَمَثَلُهُمۡ فِي ٱلۡإِنجِيلِ كَزَرۡعٍ أَخۡرَجَ شَطۡـَٔهُۥ فَـَٔازَرَهُۥ فَٱسۡتَغۡلَظَ فَٱسۡتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِۦ يُعۡجِبُ ٱلزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ ٱلۡكُفَّارَۗ وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ مِنۡهُم مَّغۡفِرَةٗ وَأَجۡرًا عَظِيمَۢا
محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحمدل ہیں، تو انہیں دیکھے گا کہ رکوع اور سجدے کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں، ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کے اﺛر سے ہے، ان کی یہی مثال تورات میں ہے اور ان کی مثال انجیل میں ہے1 ، مثل اسی کھیتی کے جس نے اپنا انکھوا نکالا2 پھر اسے مضبوط کیا اور وه موٹا ہوگیا پھر اپنے تنے پر سیدھا کھڑا ہوگیا اور کسانوں کو خوش کرنے لگا3 تاکہ ان کی وجہ سے کافروں کو چڑائے4، ان ایمان والوں اور نیک اعمال والوں سے اللہ نے بخشش کا اور بہت بڑے ﺛواب کا وعده کیا ہے.5
مترجم کے حواشی (5)
- 1 انجیل پر وقف کی صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ ان کی یہ خوبیاں جو قرآن میں بیان ہوئی ہیں۔ ان کی یہی خوبیاں تورات وانجیل میں مذکور ہیں۔ اور آگے كَزَرْعٍ میں اس سےپہلے ھم محذوف ہوگا۔ اور بعض فِي التَّوْرَاةِ پر وقف کرتے ہیں یعنی ان کی مذکورہ صفت تورات میں ہے اور وَمَثَلُهُمْ فِي الإِنْجِيلِ کو كَزَرْعٍ کے ساتھ ملاتے ہیں۔ یعنی انجیل میں ان کی مثال، مانند اس کھیتی کے ہے۔ (فتح القدیر)۔
- 2 شَطْأَهُ سے پودے کا وہ پہلا ظہور ہے جو دانہ پھاڑ کر اللہ کی قدرت سے باہر نکلتا ہے۔
- 3 یہ صحابہ کرام (رضي الله عنهم) کی مثال بیان فرمائی گئی ہے۔ ابتدا میں وہ قلیل تھے، پھر زیادہ اور مضبوط ہوگئے، جیسےکھیتی، ابتداء میں کمزور ہوتی ہے، پھر دن بدن قوی ہوتی جاتی ہے حتیٰ کہ مضبوط تنے پر وہ قائم ہو جاتی ہے۔
- 4 یا کافر غلظ وغضب میں مبتلا ہوں۔ یعنی صحابہ کرام (رضي الله عنهم) کا بڑھتا ہوا اثر ونفوذ اور ان کی روز افزوں قوت وطاقت، کافروں کے لئے غیظ وغضب کا باعث تھی، اس لئے کہ اس سے اسلام کا دائرہ پھیل رہا اور کفر کا دائرہ سمٹ رہا تھا۔ اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے بعض ائمہ نے صحابہ کرام (رضي الله عنهم) سے بغض وعناد رکھنے والوں کو کافر قرار دیا ہے۔ علاوہ ازیں اس فرقہ ضالہ کے دیگر عقائد بھی ان کے کفر پر ہی ڈال ہیں۔
- 5 اس پوری آیت کا ایک ایک جز صحابہ کرام (رضي الله عنهم) کی عظمت وفضیلت، اخروی مغفرت اور اجر عظیم کو واضح کر رہا ہے، اس کے بعد بھی صحابہ (رضي الله عنهم) کے ایمان میں شک کرنے والا مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے تو اسے کیوں کر دعوائے مسلمانی میں سچا سمجھا جا سکتا ہے؟
48:29 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 48:29
Al-Mukhtasar
29-محمد( صلى اللہ عليہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں اور آپ کے صحابہ جو آپ کے ساتھ ہیں وه جنگ کرنے والے کافروں پر بہت سخت اور آپس میں نہایت رحمدل اور الفت و محبت رکھنے والے ہیں۔ اے دیکھنے والے! تو انھیں اللہ پاک کے سامنے رکوع اور سجدے میں دیکھے گا۔ وہ اللہ تعالیٰ سے التجائیں کرتے ہیں کہ وہ انھیں بخش کر اور نہایت اچھا بدلہ دے کر ان پر اپنا فضل و احسان فرمائے اور ان سے خوش ہو جائے۔ ان کی نشانی ان کے چہروں پر سجدوں کے نشانات ہیں جو ان کی چال ڈھال اور چہروں پر نماز کے نور سے ظاہر اور نمایاں ہوتی ہے۔ ان کا یہی وصف موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی تورات میں ہے۔ جہاں تک عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی انجیل میں ان کے وصف کا ذکر ہے تو وہ یہ ہے کہ وہ باہمی تعاون اور کمال میں اس کھیتی کی طرح ہیں جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر اسے مضبوط کیا اور موٹی ہوگئی، پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہو گئی۔ اس کی مضبوطی اور کمال سے کسان خوش ہوتے ہیں، تاکہ اللہ ان کے ذریعے سے کافروں کو غصہ دلائے، جب وہ ان میں مضبوطی و یکسانیت اور کمال دیکھیں۔ صحابہ میں سے جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے، ان سے اللہ تعالیٰ نے گناہوں کی بخشش کا وعدہ کیا ہے، چنانچہ ان کے گناہوں پر اُن کی پکڑ نہیں ہوگی اور اپنی طرف سے ثوابِ عظیم کا وعدہ کیا ہے اور وہ ہے جنت۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 26
- الفاظ کی تعداد
- 54
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 515
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 515
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 516
آیت 48:29 کس سورت میں ہے؟
سورۃ الفتح. 114 میں سے سورت نمبر 48 · آیات کی تعداد: 29.
آیت 48:29 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 26.
آیت 48:29 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 515 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 515 · نسخ مصحف (612 صفحات): 516.
آیت 48:29 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 54.
آیت 48:29 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 48:29: حروف کی تعداد 248، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 48:29 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 48:29 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 4,612 ہے۔
سورۃ الفتح میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ الفتح: آیات کی تعداد 29۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 48 پر ہے۔
سورۃ الفتح مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ الفتح مدنی ہے۔
کیا آیت 48:29 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 48:29 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ الفتح کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 29 آیات اور 560 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔