مواد پر جائیں

سورۃ الحج 22:18

یہ سورۃ الحج کی 78 آیات میں سے آیت 18 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 2613، پارہ 17۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 334 پر ہے۔

أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يَسۡجُدُۤ لَهُۥۤ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَن فِي ٱلۡأَرۡضِ وَٱلشَّمۡسُ وَٱلۡقَمَرُ وَٱلنُّجُومُ وَٱلۡجِبَالُ وَٱلشَّجَرُ وَٱلدَّوَآبُّ وَكَثِيرٞ مِّنَ ٱلنَّاسِۖ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيۡهِ ٱلۡعَذَابُۗ وَمَن يُهِنِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِن مُّكۡرِمٍۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَفۡعَلُ مَا يَشَآءُ ۩

کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ اللہ کے سامنے سجده میں ہیں سب آسمانوں والے اور سب زمینوں والے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور1 اور بہت سے انسان بھی2۔ ہاں بہت سے وه بھی ہیں جن پر عذاب کا مقولہ ﺛابت ہو چکا ہے3، جسے رب ذلیل کردے اسے کوئی عزت دینے واﻻ نہیں4، اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

مترجم کے حواشی (4)
  1. 1 بعض مفسرین نے اس سجدے سے ان تمام چیزوں کا احکام الٰہی کے تابع ہونا مراد لیا ہے، کسی میں مجال نہیں کہ وہ حکم الٰہی سے سرتابی کر سکے۔ ان کے نزدیک وہ سجدہ اطاعت و عبادت مراد نہیں جو صرف عقلا کے ساتھ خاص ہے۔ جب کہ بعض مفسرین نے اسے مجاز کے بجائے حقیقت پر مبنی کیا ہے کہ ہر مخلوق اپنے اپنے انداز سے اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہے مثلا «مَنْ فِي السَّمَواتِ»سے مراد فرشتے ہیں«وَمَنْ فِي الأَرْضِ» سے ہر قسم کے حیوانات، انسان، جنات، چوپائے اور پرندے اور دیگر اشیاء ہیں یہ سب اپنے اپنے انداز سے سجدہ اور تسبیح کرتی ہیں «وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِه» (الاسراء:44)۔ سورج چاند اور ستاروں کا بطور خاص اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ مشرکین ان کی عبادت کرتے رہے ہیں اللہ تعالٰی نے بیان فرمایا تم ان کو سجدہ کرتے ہو یہ تو اللہ تعالٰی کو سجدہ کرنے والے ہیں اور اس کے ماتحت ہیں اس لیے تم انہیں سجدہ مت کرو اس ذات کو سجدہ کرو جو ان کا خالق ہے۔ (حم السجدہ: ۳۷) صحیح حدیث میں ہے کہ حضرت ابو ذر (رضي الله عنه) فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے پوچھا، جانتے ہو سورج کہاں جاتا ہے؟ میں نے کہا، اللہ اور اس کا رسول (صلى الله عليه وسلم) ہی بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا سورج جاتا ہے اور عرش کے نیچے جاکر سجدہ ریز ہو جاتا ہے پھر اسے (طلوع ہونے کا) حکم دیا جاتا ہے ایک وقت آئے گا کہ اسے کہا جائے گا واپس لوٹ جا یعنی جہاں سے آیا ہے وہیں چلا جا۔ (صحيح بخاري، بدء الخلق، باب صفة الشمس والقمر بحسبان - مسلم، كتاب الإيمان، باب بيان الزمن الذي لا يقبل فيه الإيمان) اسی طرح صحابی کا واقعہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے خواب میں اپنے ساتھ درخت کو سجدہ کرتے دیکھا (ترمذي، أبواب السفر، باب ما يقول في سجود القرآن تحفة الأحوذي، صفحة 402 ، ابن ماجه 1053) اور پہاڑوں اور درختوں کے سجدے میں ان سایوں کا دائیں بائیں پھرنا یا جھکنا بھی شامل ہے جس طرف اشارہ سورۃ الرعد 15اور النحل 48، 49 میں بھی کیا گیا ہے۔
  2. 2 یہ سجدہ اطاعت و عبادت ہی ہے جس کو انسانوں کی ایک بڑی تعداد کرتی ہے اور اللہ کی رضا کی مستحق قرار پاتی ہے۔
  3. 3 یہ وہ ہیں جو سجدہ اطاعت سے انکار کرکے کفر اختیار کرتے ہیں، ورنہ تکوینی احکام یعنی سجدہ انقیاد میں تو انہیں بھی مجال انکار نہیں۔
  4. 4 کفر اختیار کرنے کا نتیجہ ذلت و رسوائی اور آخرت کا دائمی عذاب ہے، جس سے بچا کر کافروں کو عزت دینے والا کوئی نہیں ہوگا۔

22:18 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3

تفسیر سورۃ الحج
0/78
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
مشاري العفاسي الحج 22:18 0:00 0:00 پڑھ لیا، آگے بڑھیں

تفسیر · 22:18

Al-Mukhtasar

18- اے رسول( صلى اللہ عليہ وسلم )! کیا آپ جانتے نہیں کہ آسمانوں کے فرشتے اور زمین کے اہلِ ایمان انسان اور جنّ اللہ کے سامنے اطاعت کا سجدہ کرتے ہیں اور سورج، چاند، آسمان میں موجود ستارے، پہاڑ، درخت اور زمین میں بسنے والے چوپائے سب اللہ کے حضور سجدہ کرتے ہیں اور ان کا سجدہ اللہ کے حکم کی تعمیل ہے۔ بہت سارے لوگ اللہ تعالیٰ کو اطاعت کا سجدہ کرتے ہیں اور بہت سے لوگ اطاعت کا سجدہ کرنے کے منکر ہیں تو ان کے کفر کی وجہ سے ان پر اللہ کا عذاب ثابت ہوگیا۔ جس کے کفر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کی ذلت و رسوائی کا فیصلہ کردے تو کوئی اسے عزت دینے والا نہیں۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے، اسے کوئی مجبور کرنے والا نہیں۔

Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution

پارہ
17
الفاظ کی تعداد
37
مدینہ مصحف (604 صفحات)
334
انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
334
نسخ مصحف (612 صفحات)
335

آیت 18 پر مدینہ مصحف میں سجدے کی علامت ہے۔

آیت 22:18 کس سورت میں ہے؟

سورۃ الحج. 114 میں سے سورت نمبر 22 · آیات کی تعداد: 78.

آیت 22:18 کس پارے میں ہے؟

پارہ: 17.

آیت 22:18 کس صفحے پر ہے؟

مدینہ مصحف (604 صفحات): 334 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 334 · نسخ مصحف (612 صفحات): 335.

آیت 22:18 میں کتنے الفاظ ہیں؟

الفاظ کی تعداد: 37.

آیت 22:18 میں کتنے عربی حروف ہیں؟

آیت 22:18: حروف کی تعداد 142، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔

آیت 22:18 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟

آیت 22:18 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 2,613 ہے۔

سورۃ الحج میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ الحج: آیات کی تعداد 78۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 22 پر ہے۔

سورۃ الحج مکی ہے یا مدنی؟

سورۃ الحج مدنی ہے۔

کیا آیت 22:18 سنی جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ آیت 22:18 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔

سورۃ الحج کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟

شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 78 آیات اور 1,274 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔

کیا آیت 22:18 میں سجدہ ہے؟

آیت 18 پر مدینہ مصحف میں سجدے کی علامت ہے۔

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play