سورۃ الحجرات 49:12
یہ سورۃ الحجرات کی 18 آیات میں سے آیت 12 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 4624، پارہ 26۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 517 پر ہے۔
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱجۡتَنِبُواْ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلظَّنِّ إِنَّ بَعۡضَ ٱلظَّنِّ إِثۡمٞۖ وَلَا تَجَسَّسُواْ وَلَا يَغۡتَب بَّعۡضُكُم بَعۡضًاۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمۡ أَن يَأۡكُلَ لَحۡمَ أَخِيهِ مَيۡتٗا فَكَرِهۡتُمُوهُۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ تَوَّابٞ رَّحِيمٞ
اے ایمان والو! بہت بدگمانیوں سے بچو یقین مانو کہ بعض بدگمانیاں گناه ہیں1 ۔ اور بھید نہ ٹٹوﻻ کرو2 اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے3۔ کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مرده بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی4، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ توبہ قبول کرنے واﻻ مہربان ہے.
مترجم کے حواشی (4)
- 1 ظَنَّ کے معنی ہیں گمان کرنا۔ مطلب ہے کہ اہل خیر واہل اصلاح وتقویٰ کے بارے میں ایسے گمان رکھنا جو بےاصل ہوں اور تہمت وافترا کے ضمن میں آتے ہوں اسی لئے اس کا ترجمہ بدگمانی کیا جاتا ہے۔ اور حدیث میں اس کو أَكْذَبُ الْحَدِيثِ (سب سے بڑا جھوٹ) کہہ کر اس سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ (البخاري، كتاب الأدب ، باب يا أيها الذين آمنوا اجتنبوا كثيرا من الظن - صحيح مسلم، كتاب البر، باب تحريم الظن والتجسس) ورنہ فسق وفجور میں مبتلا لوگوں سے ان کے گناہوں کی وجہ سے اور ان کے گناہوں پر بدگمانی رکھنا، یہ وہ بدگمانی نہیں ہے جسے یہاں گناہ کہا گیا ہے اور اس سے اجتناب کی تاکید کی گئی ہے «إِنَّ الظَّنَّ الْقَبِيحَ بِمَنْ ظَاهِرُهُ الْخَيْرُ، لا يَجُوزُ، وَإِنَّهُ لا حَرَجَ فِي الظَّنِّ الْقَبِيحِ بِمَنْ ظَاهِرُه الْقَبِيحُ» (القرطبي)۔
- 2 یعنی اس ٹوہ میں رہنا کہ کوئی خامی یا عیب معلوم ہو جائے تاکہ اسے بدنام کیا جائے، یہ تجسس ہے جو منع ہے اور حدیث میں بھی اس سے منع کیا گیا ہے۔ بلکہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر کسی کی خامی، کوتاہی تمہارے علم میں اجائے تو اس کی پردہ پوشی کرو۔ نہ کہ اسے لوگوں کے سامنے بیان کرتے پھرو، بلکہ جستجو کرکے عیب تلاش کرو۔ آج کل حریت اور آزادی کا بڑا چرچا ہے۔ اسلام نے بھی تجسس سےروک کر انسان کی حریت اور آزادی کو تسلیم کیا ہے لیکن اس وقت تک، جب تک وہ کھلے عام بےحیائی کا ارتکاب نہ کرے یا جب تک دوسروں کے لئے ایذا کا باعث نہ ہو۔ مغرب نے مطلق آزادی کا درس دے کر لوگوں کو فساد عام کی اجازت دے دی ہے جس سے معاشرے کا تمام امن وسکون برباد ہو گیا ہے
- 3 غیبت کا مطلب یہ ہےکہ دوسرے لوگوں کے سامنےکسی کی برائیوں اور کوتاہیوں کا ذکر کیا جائے جسے وہ برا سمجھے اور اگر اس کی طرف ایسی باتیں منسوب کی جائیں جو اس کے اندر موجود ہی نہیں تو وہ بہتان ہے۔ اپنی اپنی جگہ دونوں ہی بڑے جرم ہیں۔
- 4 یعنی کسی مسلمان بھائی کی کسی کے سامنے برائی بیان کرنا ایسے ہی ہے جیسے مردار بھائی کا گوشت کھانا۔ مردار بھائی کا گوشت کھانا تو کوئی پسند نہیں کرتا۔ لیکن غیبت لوگوں کی نہایت مرغوب غذا ہے۔
49:12 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 49:12
Al-Mukhtasar
12- اے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس کی شریعت کے مطابق عمل کرنے والو! ایسے بہت سے گمانوں سے دور رہو جن کو ثابت کرنے کے لیے اسباب و قرائن کی کوئی بنیاد نہ ہو۔ بلاشبہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں جیسے ظاہری طور پر نیک آدمی کے بارے میں برا گمان رکھنا۔ ایمان والوں کے عیبوں کی ٹوہ میں رہو نہ تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا اس انداز میں ذکر کرے جو اسے ناپسند ہو، بلاشبہ اس انداز سے اس کا ذکر کرنا جو اسے ناپسند ہو، اس کے مردہ ہونے کی صورت میں اس کا گوشت کھانے کی طرح ہے۔ کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟! لہٰذا اس کی غیبت کو بھی ناپسند کرو کیونکہ وہ بھی مردہ بھائی کا گوشت کھانے کی طرح ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اس طرح کہ اس کے حکم مانو اور اس کے منع کیے ہوئے کاموں سے بچو۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے رجوع کرنے والے بندوں کی توبہ بہت قبول کرنے والا، ان پر نہایت رحم کرنے والا ہے۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 26
- الفاظ کی تعداد
- 31
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 517
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 517
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 518
آیت 49:12 کس سورت میں ہے؟
سورۃ الحجرات. 114 میں سے سورت نمبر 49 · آیات کی تعداد: 18.
آیت 49:12 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 26.
آیت 49:12 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 517 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 517 · نسخ مصحف (612 صفحات): 518.
آیت 49:12 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 31.
آیت 49:12 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 49:12: حروف کی تعداد 129، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 49:12 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 49:12 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 4,624 ہے۔
سورۃ الحجرات میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ الحجرات: آیات کی تعداد 18۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 49 پر ہے۔
سورۃ الحجرات مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ الحجرات مدنی ہے۔
کیا آیت 49:12 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 49:12 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ الحجرات کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 18 آیات اور 347 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔