مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
سورۃ کے بارے میں
سورۃ اللیل قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 92 پر ہے، یہ مکی ہے اور اس کی آیات کی تعداد 21 ہے۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 595 سے شروع ہوتی ہے۔
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
وَٱلَّيۡلِ إِذَا يَغۡشَىٰ
قسم ہے رات کی جب چھا جائے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی افق پر چھا جائے جس سے دن کی روشنی ختم اور اندھیرا ہو جائے۔
وَٱلنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ
اور قسم ہے دن کی جب روشن ہو.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی رات کا اندھیرا ختم اور دن کا اجالا پھیل جائے۔
وَمَا خَلَقَ ٱلذَّكَرَ وَٱلۡأُنثَىٰٓ
اور قسم ہے اس ذات کی جس نے نر وماده کو پیدا کیا.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یہ اللہ نے اپنی قسم کھائی، کیونکہ مرد وعورت دونوں کا خالق اللہ ہی ہے ماموصولہ ہے۔ - یعنی کوئی اچھے عمل کرتا ہے، جس کا صلہ جنت ہے اور کوئی برے عمل کرتا ہے جس کا بدلہ جہنم ہے۔
إِنَّ سَعۡيَكُمۡ لَشَتَّىٰ
یقیناً تمہاری کوشش مختلف قسم کی ہے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی کوئی اچھے عمل کرتا ہے، جس کا صلہ جنت ہے اور کوئی برے عمل کرتا ہے جس کا بدلہ جہنم ہے۔ یہ جواب قسم ہے شَتَّى، شَتِيتٌ کی جمع ہے، جیسے مَرِيضٌ کی جمع مَرْضَى۔
فَأَمَّا مَنۡ أَعۡطَىٰ وَٱتَّقَىٰ
جس نے دیا (اللہ کی راه میں) اور ڈرا (اپنے رب سے).1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی خیر کے کاموں میں خرچ کرے گا اور محارم سے بچے گا۔
وَصَدَّقَ بِٱلۡحُسۡنَىٰ
اور نیک بات کی تصدیق کرتا رہے گا.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یا اچھے صلے کی تصدیق کرے گا، یعنی اس بات پر یقین رکھے گا کہ انفاق اور تقویٰ کا اللہ کی طرف سے عمدہ صلہ ملے گا۔
فَسَنُيَسِّرُهُۥ لِلۡيُسۡرَىٰ
تو ہم بھی اس کو آسان راستے کی سہولت دیں گے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 يُسْرَى کا مطلب نیکی اور الْخَصْلَةُ الْحُسْنَى ہے۔ یعنی ہم اس کو نیکی واطاعت کی توفیق دیتے اور ان کو اس کے لئے آسان کر دیتے ہیں۔ مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق (رضي الله عنه) کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جنہوں نے چھ غلام آزاد کیے، جنہیں اہل مکہ مسلمان ہونے کی وجہ سے سخت اذیت دیتے تھے۔ ( فتح القدیر ) ۔
وَأَمَّا مَنۢ بَخِلَ وَٱسۡتَغۡنَىٰ
لیکن جس نے بخیلی کی اور بے پرواہی برتی.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرے گا اور اللہ کے حکم سے بے پرواہی، کرے گا۔ - یا آخرت کی جزا اور حساب کتاب کا انکار کرے گا۔
وَكَذَّبَ بِٱلۡحُسۡنَىٰ
اور نیک بات کی تکذیب کی.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یا آخرت کی جزا اور حساب کتاب کا انکار کرے گا۔-
فَسَنُيَسِّرُهُۥ لِلۡعُسۡرَىٰ
تو ہم بھی اس کی تنگی ومشکل کے سامان میسر کر دیں گے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 عُسْرَى( تنگی ) سےمراد کفر ومعصیت اور طریق شر ہے۔ یعنی ہم اس کے لئے نافرمانی کا راستہ آسان کر دیں گے، جس سے اس کے لئے خیر وسعادت کے راستے مشکل ہو جائیں گے۔ قرآن مجید میں یہ مضمون کئی جگہ بیان کیا گیا ہے کہ جو خیر ورشد کا راستہ اپناتا ہے، اس کے صلے میں اللہ اسے خیر کی توفیق سے نوازتا ہے اور جو شر ومعصیت کو اختیار کرتا ہے، اللہ اس کو اس کے حال پر چھوڑدیتا ہے اور یہ اس تقدیر کے مطابق ہی ہوتا ہے جو اللہ نے اپنے علم سے لکھ رکھی ہے۔ ( ابن کثیر ) یہ مضمون حدیث میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا تم عمل کرو، ہر شخص جس کام کے لئے پیدا کیا گیا ہے، وہ اس کے لئے آسان کر دیا جاتا ہے، جو اہل سعادت سے ہوتا ہے، اسے اہل سعادت والے عمل کی توفیق دے دی جاتی ہے اور جو اہل شقاوت سے ہوتا ہے، اس کے لئے اہل شقاوت والے عمل آسان کر دیئے جاتے ہیں۔ ( صحيح البخاري، تفسير سورة الليل )
وَمَا يُغۡنِي عَنۡهُ مَالُهُۥٓ إِذَا تَرَدَّىٰٓ
اس کا مال اسے (اوندھا) گرنے کے وقت کچھ کام نہ آئے گا.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی جب جہنم میں گرے گا تو یہ مال، جسے وہ خرچ نہیں کرتا تھا، کچھ کام نہ آئے گا۔
إِنَّ عَلَيۡنَا لَلۡهُدَىٰ
بیشک راه دکھا دینا ہمارے ذمہ ہے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی حلال اور حرام، خیر اور شر، ہدایت اور ضلالت کو واضح اور بیان کرنا ہمارے ذمے ہے۔ ( جو کہ ہم نے کر دیا ہے)
وَإِنَّ لَنَا لَلۡأٓخِرَةَ وَٱلۡأُولَىٰ
اور ہمارے ہی ہاتھ آخرت اور دنیا ہے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی دونوں کے مالک ہم ہی ہیں، ان میں جس طرح چاہیں تصرف کریں اس لئے ان دونوں کے یا ان میں سے کسی ایک کے طالب ہم سے ہی مانگیں کیوں کہ ہر طالب کو ہم ہی اپنی مشیت کے مطابق دیتے ہیں۔
فَأَنذَرۡتُكُمۡ نَارٗا تَلَظَّىٰ
میں نے تو تمہیں شعلے مارتی ہوئی آگ سے ڈرا دیا ہے.
لَا يَصۡلَىٰهَآ إِلَّا ٱلۡأَشۡقَى
جس میں صرف وہی بدبخت داخل ہوگا.
ٱلَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ
جس نے جھٹلایا اور (اس کی پیروی سے) منھ پھیر لیا.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 اس آیت سے مرجئہ فرقے نے (جو ایک باطل فرقہ گزرا ہے) استدلال کیا ہے کہ جہنم میں صرف کافر ہی جائیں گے۔ کوئی مسلمان چاہے کتنا ہی گناہ گار ہو، وہ جہنم میں نہیں جائے گا۔ لیکن یہ عقیدہ ان نصوص صریحہ کے خلاف ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے مسلمان بھی، جن کو اللہ تعالیٰ کچھ سزا دینا چاہے گا، کچھ عرصے کے لئے جہنم میں جائیں گے، پھر وہ نبی (صلى الله عليه وسلم) ، ملائکہ اور دیگر صالحین کی شفاعت سے نکال لئے جائیں گے، یہاں حصر کے انداز میں جو کہا گیا ہے، اس کا مطلب ہے کہ جو لوگ پکے کافر اور نہایت بدبخت ہیں، جہنم دراصل ان ہی کے لئے بنائی گئی ہے، جس میں وہ لازمی اور حتمی طور پر اور ہمیشہ کے لئے داخل ہوں گے۔ اگر کچھ نافرمان قسم کے مسلمان جہنم میں جائیں گے تو وہ لازمی اور حتمی طور پر اور ہمیشہ کے لئے نہیں جائیں گے، بلکہ بطور سزا ان کا یہ دخول عارضی ہوگا۔ ( فتح القدیر )۔
وَسَيُجَنَّبُهَا ٱلۡأَتۡقَى
اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہو گا.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی جہنم سے دور رہے گا اور جنت میں داخل ہوگا۔
ٱلَّذِي يُؤۡتِي مَالَهُۥ يَتَزَكَّىٰ
جو پاکی حاصل کرنے کے لئے اپنا مال دیتا ہے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی جو اپنا مال اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کرتا ہے تاکہ اس کا نفس بھی اور اس کا مال بھی پاک ہو جائے۔
وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُۥ مِن نِّعۡمَةٖ تُجۡزَىٰٓ
کسی کا اس پر کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی بدلہ اتارنے کے لیے خرچ نہ کرتا ہو۔
إِلَّا ٱبۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِ ٱلۡأَعۡلَىٰ
بلکہ صرف اپنے پروردگار بزرگ وبلند کی رضا چاہنے کے لئے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 بلکہ اخلاص سے اللہ کی رضا اور جنت میں اس کے دیدار کے لئے خرچ کرتا ہے۔
وَلَسَوۡفَ يَرۡضَىٰ
یقیناً وه (اللہ بھی) عنقریب رضامند ہو جائے گا.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یا وہ راضی ہو جائے گا، یعنی جو شخص ان صفات کا حامل ہوگا، اللہ تعالیٰ اسے جنت کی نعمتیں اور عزت وشرف عطا فرمائے گا، جس سے وہ راضی ہو جائے گا۔ اکثر مفسرین نے کہا ہے بلکہ بعض نے اجماع تک نقل کیا ہے کہ یہ آیات حضرت ابوبکر صدیق (رضي الله عنه) کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔ تاہم معنی ومفہوم کے اعتبار سے یہ عام ہیں۔ جو بھی ان صفات عالیہ سے متصف ہوگا، وہ بارگاہ الٰہی میں ان کا مصداق قرار پائے گا۔
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
مصحف میں سورۃ اللیل
- نزول
- مکی
- پارہ
- 30
- الفاظ کی تعداد
- 71
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 595-596
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 601-602
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 602-603
سورۃ اللیل کے بارے میں سوالات
سورۃ اللیل میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ اللیل: آیات کی تعداد 21۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 92 پر ہے۔
سورۃ اللیل کس پارے میں ہے؟
سورۃ اللیل: پارہ 30 (کل 30 پارے)۔
سورۃ اللیل مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ اللیل مکی ہے۔
سورۃ اللیل کس صفحے پر ہے؟
سورۃ اللیل مدینہ مصحف (604 صفحات) میں: 595-596۔ انڈو پاک مصحف (610 صفحات) میں: 601-602۔ نسخ مصحف (612 صفحات) میں: 602-603۔
سورۃ اللیل میں کتنے الفاظ ہیں؟
سورۃ اللیل: الفاظ کی تعداد 71، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے۔
سورۃ اللیل میں کتنے عربی حروف ہیں؟
سورۃ اللیل: حروف کی تعداد 313، اسی عثمانی متن سے، اعراب کے بغیر۔
سورۃ اللیل قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
سورۃ اللیل قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 6,059 سے آیت نمبر 6,079 تک ہے۔
کیا سورۃ اللیل میں سجدے کی آیت ہے؟
نہیں۔ مدینہ مصحف میں سورۃ اللیل پر سجدے کی کوئی علامت نہیں؛ 114 سورتوں میں سے 14 میں سجدے کی آیت ہے۔
کیا سورۃ اللیل سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ سورۃ اللیل کی تمام 21 آیات یہاں آیت بہ آیت، 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہیں، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ اللیل کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 21 آیات اور 71 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔
سورۃ اللیل سنیں
- Mishary Alafasy مشاري العفاسي حفص عن عاصممرتل
- AbdulBaset (Murattal) عبدالباسط عبدالصمد حفص عن عاصممرتل
- AbdulBaset AbdulSamad عبدالباسط عبدالصمد حفص عن عاصممجود
- Minshawi (Murattal) محمد صديق المنشاوي حفص عن عاصممرتل
- As-Sudais عبدالرحمن السديس حفص عن عاصممرتل
- Abu Bakr ash-Shatri أبو بكر الشاطري حفص عن عاصممرتل