سورۃ آل عمران 3:186
یہ سورۃ آل عمران کی 200 آیات میں سے آیت 186 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 479، پارہ 4۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 74 پر ہے۔
۞ لَتُبۡلَوُنَّ فِيٓ أَمۡوَٰلِكُمۡ وَأَنفُسِكُمۡ وَلَتَسۡمَعُنَّ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلِكُمۡ وَمِنَ ٱلَّذِينَ أَشۡرَكُوٓاْ أَذٗى كَثِيرٗاۚ وَإِن تَصۡبِرُواْ وَتَتَّقُواْ فَإِنَّ ذَٰلِكَ مِنۡ عَزۡمِ ٱلۡأُمُورِ
یقیناً تمہارے مالوں اور جانوں سے تمہاری آزمائش کی جائے گی1 اور یہ بھی یقین ہے کہ تمہیں ان لوگوں کی جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے اور مشرکوں کی بہت سی دکھ دینے والی باتیں بھی سننی پڑیں گی اور اگر تم صبر کر لو اور پرہیزگاری اختیار کرو تو یقیناً یہ بہت بڑی ہمت کا کام ہے.2
مترجم کے حواشی (2)
- 1 اہل ایمان کو ان کے ایمان کے مطابق آزمانے کا بیان ہے۔ جیسا کہ سورۃ البقرۃ کی آیت میں گزر چکا ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک واقعہ بھی آتا ہے کہ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی نے ابھی اسلام کا اظہار نہیں کیا تھا اور جنگ بدر بھی نہیں ہوئی تھی کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) حضرت سعد بن عبادۃ (رضي الله عنه) کی عیادت کے لئے بنی حارث بن خزرج میں تشریف لے گئے۔ راستے میں ایک مجلس میں مشرکین، یہود اور عبداللہ بن ابی وغیرہ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی سواری سے جو گرد اٹھی، اس نے اس پر بھی ناگواری کا اظہار کیا اور آپ (صلى الله عليه وسلم) نے انہیں ٹھہر کر قبول اسلام کی دعوت بھی دی جس پر عبداللہ بن ابی نے گستاخانہ کلمات بھی کہے۔ وہاں بعض مسلمان بھی تھے، انہوں نے اس کے برعکس آپ (صلى الله عليه وسلم) کی تحسین فرمائی، قریب تھا کہ ان کے مابین جھگڑا ہو جائے، آپ (صلى الله عليه وسلم) نے ان سب کو خاموش کرایا، پھر آپ (صلى الله عليه وسلم) حضرت سعد (رضي الله عنه) کے پاس پہنچے تو انہیں بھی یہ واقعہ سنایا جس پر انہوں نے فرمایا کہ عبداللہ بن ابی یہ باتیں اس لئے کرتا ہے کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کے مدینہ آنے سے قبل، یہاں کے باشندگان کو اس کی تاج پوشی کرنی تھی، آپ (صلى الله عليه وسلم) کے آنے سے اس کی سرداری کا یہ حسین خواب ادھورا رہ گیا جس کا اسے سخت صدمہ ہے اور اس کی یہ باتیں اس کے اس بغض وعناد کا مظہر ہیں۔ اس لئے آپ۔ درگزر ہی سے کام لیں۔ (صحيح البخاري كتاب التفسير ملخصًا)
- 2 اہل کتاب سے مراد یہود ونصاریٰ ہیں۔ یہ نبی (صلى الله عليه وسلم) ، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مختلف انداز سے طعن وتشنیع کرتے رہتے تھے۔ اسی طرح مشرکین عرب کا حال تھا۔ علاوہ ازیں مدینہ میں آنے کے بعد منافقین بالخصوص ان کا رئیس عبداللہ بن ابی بھی آپ (صلى الله عليه وسلم) کی شان میں استخفاف کرتا رہتا تھا۔ آپ کے مدینہ آنے سے قبل اہل مدینہ اپنا سردار بنانے لگے تھے اور اس کے سر پر تاج سیادت رکھنے کی تیاری مکمل ہو چکی تھی کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کے آنے سے اس کا یہ سارا خواب بکھر کر رہ گیا، جس کا اسے شدید صدمہ تھا چنانچہ انتقام کے طور پر بھی یہ شخص آپ کے خلاف سب وشتم کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتا تھا (جیسا کہ صحیح بخاری کے حوالے سے اس کی ضرورت تفصیل گزشتہ حاشیہ میں ہی بیان کی گئی ہے) ان حالات میں مسلمانوں کو عفوو درگزر اور صبر اور تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ داعیان حق کا اذیتوں اور مشکلات سے دوچار ہونا اس راہ حق کے ناگزیر مرحلوں میں سے ہے اور اس کا علاج صبر فی اللہ، استعانت باللہ اور رجوع الی اللہ کے سوا کچھ نہیں (ابن کثیر)
3:186 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 3:186
Al-Mukhtasar
186- اے ایمان والو! تم اپنے مالوں کے معاملے میں ضرور آزمائے جاؤ گے کہ ان کے بارے میں واجب حقوق ادا کیے یا نہیں اور ان کے بارے میں آنے والی مصیبتوں پر تمھارا ردعمل کیا تھا؟ تمھاری جانوں کا بھی ضرور امتحان ہوگا کہ تم نے شرعی احکام کی پاسداری کی یا نہیں، اسی طرح مختلف آزمائشوں سے بھی تمھیں جانچا جائے گا۔ تم اپنے سے پہلے اہلِ کتاب اور مشرکوں سے بہت کچھ ایسا سنو گے جس سے تمھیں شدید تکلیف ہوگی، مثلاً: تمھاری ذات پر یا دین پر طعنہ زنی وغیرہ۔ اگر تم ان انواع و اقسام کے مصائب اور آزمائشوں پر صبر کرتے رہے اور تم نے احکام الٰہی مان کر اور منع کیے گئے کاموں سے باز رہ کر اللہ کا تقویٰ اختیار کیے رکھا تو یقیناً یہ بڑی ہمت اور حوصلے کے کام ہیں اور مقابلہ کرنے والوں کو ایسے ہی امور میں مقابلہ کرنا چاہیے۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 4
- الفاظ کی تعداد
- 24
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 74
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 74
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 75
آیت 3:186 کس سورت میں ہے؟
سورۃ آل عمران. 114 میں سے سورت نمبر 3 · آیات کی تعداد: 200.
آیت 3:186 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 4.
آیت 3:186 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 74 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 74 · نسخ مصحف (612 صفحات): 75.
آیت 3:186 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 24.
آیت 3:186 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 3:186: حروف کی تعداد 106، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 3:186 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 3:186 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 479 ہے۔
سورۃ آل عمران میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ آل عمران: آیات کی تعداد 200۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 3 پر ہے۔
سورۃ آل عمران مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ آل عمران مدنی ہے۔
کیا آیت 3:186 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 3:186 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ آل عمران کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 200 آیات اور 3,481 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔