مواد پر جائیں

سورۃ محمد 47:4

یہ سورۃ محمد کی 38 آیات میں سے آیت 4 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 4549، پارہ 26۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 507 پر ہے۔

فَإِذَا لَقِيتُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فَضَرۡبَ ٱلرِّقَابِ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَثۡخَنتُمُوهُمۡ فَشُدُّواْ ٱلۡوَثَاقَ فَإِمَّا مَنَّۢا بَعۡدُ وَإِمَّا فِدَآءً حَتَّىٰ تَضَعَ ٱلۡحَرۡبُ أَوۡزَارَهَاۚ ذَٰلِكَۖ وَلَوۡ يَشَآءُ ٱللَّهُ لَٱنتَصَرَ مِنۡهُمۡ وَلَٰكِن لِّيَبۡلُوَاْ بَعۡضَكُم بِبَعۡضٖۗ وَٱلَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعۡمَٰلَهُمۡ

تو جب کافروں سے تمہاری مڈبھیڑ ہوتو گردنوں پر وار مارو1 ۔ جب ان کو اچھی طرح کچل ڈالو تو اب خوب مضبوط قید وبند سے گرفتار کرو2، (پھر اختیار ہے) کہ خواه احسان رکھ کر چھوڑ دو یا فدیہ3 لے کر تاوقتیکہ لڑائی اپنے ہتھیار رکھ دے4۔ یہی حکم ہے5 اور اللہ اگر چاہتا تو (خود) ہی ان سے بدلہ لے لیتا6، لیکن (اس کا منشا یہ ہے) کہ تم میں سے ایک کا امتحان دوسرے کے ذریعہ سے لے لے7، جو لوگ اللہ کی راه میں شہید کر دیے جاتے ہیں اللہ ان کے اعمال ہرگز ضائع نہ کرے گا.8

مترجم کے حواشی (8)
  1. 1 جب دونوں فریقوں کا ذکر کر دیا تو اب کافروں اور غیر معاہد اہل کتاب سے جہاد کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ قتل کرنے کے بجائے۔ گردنیں مارنے کا حکم دیا، کہ اس تعبیر میں کفار کے ساتھ غلظت وشدت کا زیادہ اظہار ہے۔ (فتح القدیر)۔
  2. 2 یعنی زور دار معرکہ آرائی اور زیادہ سے زیادہ ان کو قتل کرنے کے بعد، ان کے جو آدمی قابو میں آجائیں، انہیں قیدی بنا لو اور مضبوطی سے انہیں جکڑ کر رکھو تاکہ وہ بھاگ نہ سکیں۔
  3. 3 مَنٌّ کا مطلب ہے بغیر فدیہ کا لئے بطور احسان چھوڑ دینا اور فداء کا مطلب، کچھ معاوضہ لےکر چھوڑنا ہے، قیدیوں کے بارے میں اختیار دے دیا گیا جو صورت، حالات کے اعتبار سے اسلام اور مسلمانوں کےحق میں زیادہ بہتر ہو وہ اختیار کر لی جائے۔
  4. 4 یعنی کافروں کے ساتھ جنگ ختم ہو جائے، یا مراد ہے کہ محارب دشمن شکست کھا کر یا صلح کرکےہتھیار رکھ دے یا اسلام غالب آجائے اور کفر کا خاتمہ ہو جائے۔ مطلب یہ ہے کہ جب تک یہ صورت حال نہ ہو جائے، کافروں کے ساتھ تمہاری معرکہ آرائی جاری رہے گی جس میں تم انہیں قتل بھی کرو گے قیدیوں میں تمہیں مذکورہ دونوں باتوں کا اختیار ہے، بعض کہتےہیں، یہ آیت منسوخ ہے اور سوائے قتل کےکوئی صورت باقی نہیں ہے۔ لیکن صحیح بات یہی ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں محکم ہے۔ اور امام وقت کو چاروں باتوں کا اختیار ہے، کافروں کو قتل کرے یا قیدی بنائے۔ قیدیوں میں سے جس کو یاسب کو چاہے بطور احسان چھوڑ دے یا معاوضہ لے کر چھوڑ دے۔ (فتح القدیر)۔
  5. 5 یا تم اسی طرح کرو، افْعَلُوا ذَلِك یا ذَلِكَ حُكْمُ الْكُفَّارِ۔
  6. 6 مطلب کافروں کو ہلاک کرکے یا انہیں عذاب میں مبتلا کرکے۔ یعنی ان سے لڑنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔
  7. 7 یعنی تمہیں ایک دوسرے کے ذریعے سے آزمائے تاکہ وہ جان لے کہ تم میں سے اس کی راہ میں لڑنے والے کون ہیں؟ تاکہ ان کو اجر وثواب دے اور ان کے ہاتھوں سے کافروں کو ذلت وشکست سے دوچار کرے۔
  8. 8 یعنی ان کا اجر وثواب ضائع نہیں فرمائے گا۔

47:4 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3

تفسیر سورۃ محمد
0/38
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
مشاري العفاسي محمد 47:4 0:00 0:00 پڑھ لیا، آگے بڑھیں

تفسیر · 47:4

Al-Mukhtasar

4- پھر اے مومنو! جب تم جنگ کرنے والے کافروں سے ٹکراؤ تو اپنی تلواروں سے ان کی گردنیں اڑاؤ اور اس وقت تک ان سے لڑو جب تک ان کی اکثریت کو قتل نہ کر لو اور ان کی شان و شوکت خاک میں نہ ملا دو۔ جب تم انھیں اچھی طرح قتل کر لو تو قیدیوں کی بیڑیاں خوب کس لو۔ جب تم انھیں قیدی بنا لو تو اپنے مفاد کے مطابق تمھیں اختیار ہے کہ ان سے کچھ لیے بغیر ان پر احسان کرتے ہوئے انھیں چھوڑ دو یا مال وغیرہ کی صورت میں فدیہ لے کر چھوڑ دو۔ یہ لڑائی کرنا اور قیدی بنانا اس وقت تک جاری رکھو جب تک کافروں کے اسلام قبول کرنے یا ان کے ساتھ معاہدہ ہو جانے کی وجہ سے لڑائی ختم نہ ہو جائے۔ مومنوں کی کافروں کے ساتھ مذکورہ آزمائش وقت کا ہیر پھیر اور ان کا ایک دوسرے پر غلبہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ بغیر جنگ کے کافروں سے بدلہ لینا چاہتا تو لے لیتا لیکن اس نے جہاد اس لیے فرض کیا تاکہ تمھیں ایک دوسرے کے ساتھ آزمائے اور امتحان لے کہ کون مومن اس کی راہ میں جہاد کرتا ہے اور کون قتال نہیں کرتا، اور کافر کو مومن کے ساتھ آزمائے، چنانچہ اگر کافر نے مومن کو قتل کر دیا تو مومن جنت میں داخل ہوگا اور اگر مومن نے کافرکو قتل کر دیا تو کافر آگ میں داخل ہو گا۔ جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں لڑائی کی، اللہ تعالیٰ ان کے اعمال ہرگز برباد نہیں کرے گا۔

Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution

پارہ
26
الفاظ کی تعداد
38
مدینہ مصحف (604 صفحات)
507
انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
507
نسخ مصحف (612 صفحات)
508
آیت 47:4 کس سورت میں ہے؟

سورۃ محمد. 114 میں سے سورت نمبر 47 · آیات کی تعداد: 38.

آیت 47:4 کس پارے میں ہے؟

پارہ: 26.

آیت 47:4 کس صفحے پر ہے؟

مدینہ مصحف (604 صفحات): 507 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 507 · نسخ مصحف (612 صفحات): 508.

آیت 47:4 میں کتنے الفاظ ہیں؟

الفاظ کی تعداد: 38.

آیت 47:4 میں کتنے عربی حروف ہیں؟

آیت 47:4: حروف کی تعداد 167، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔

آیت 47:4 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟

آیت 47:4 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 4,549 ہے۔

سورۃ محمد میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ محمد: آیات کی تعداد 38۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 47 پر ہے۔

سورۃ محمد مکی ہے یا مدنی؟

سورۃ محمد مدنی ہے۔

کیا آیت 47:4 سنی جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ آیت 47:4 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔

سورۃ محمد کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟

شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 38 آیات اور 539 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play