مواد پر جائیں

الْقَهَّارُ

نام 15 / 99

الْقَهَّارُ

ہر چیز پر غالب، جس کے آگے سب جھکے ہوئے ہیں

یہ نام قرآن میں

نیچے دی گئی ہر آیت اپنے سیاق میں پڑھی گئی اور دو الگ الگ جائزوں سے تصدیق کی گئی، صرف ایک سوال پر: کیا یہ لفظ یہاں اللہ کا نام ہے۔ جہاں دونوں جائزوں میں اختلاف ہوا، وہ آیت نکال دی گئی۔ بعض میں یہ نام اسم کے بجائے فعل یا کسی اور صورت میں آیا ہے۔

  1. يَٰصَٰحِبَيِ ٱلسِّجۡنِ ءَأَرۡبَابٞ مُّتَفَرِّقُونَ خَيۡرٌ أَمِ ٱللَّهُ ٱلۡوَٰحِدُ ٱلۡقَهَّارُ

    اے میرے قید خانے کے ساتھیو1 ! کیا متفرق کئی ایک پروردگار بہتر ہیں2؟ یا ایک اللہ زبردست طاقتور؟

    مترجم کے حواشی (2)
    1. 1 قید خانے کے ساتھی۔ اسلئے قرار دیا کہ یہ سب ایک عرصے سے جیل میں محبوس چلے آ رہے تھے۔
    2. 2 تفریق ذوات، صفات اور عدد کے لحاظ سے ہے۔ یعنی وہ رب، جو ذات کے لحاظ سے ایک دوسرے سے متفرق، صفات میں ایک دوسرے سے مختلف اور تعداد میں باہم متنافی ہیں، وہ بہتر ہیں یا اللہ، جو اپنی ذات و صفات میں متفرد ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے اور وہ سب پر غالب اور حکمران ہے؟۔
  2. يَوۡمَ تُبَدَّلُ ٱلۡأَرۡضُ غَيۡرَ ٱلۡأَرۡضِ وَٱلسَّمَٰوَٰتُۖ وَبَرَزُواْ لِلَّهِ ٱلۡوَٰحِدِ ٱلۡقَهَّارِ

    جس دن زمین اس زمین کے سوا اور ہی بدل دی جائے گی اور آسمان بھی1 ، اور سب کے سب اللہ واحد غلبے والے کے روبرو ہوں گے.

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 امام شوکانی فرماتے ہیں کہ آیت میں دونوں احتمال ہیں کہ یہ تبدیلی صفات کے لحاظ سے ہو یا ذات کے لحاظ سے۔ یعنی یہ آسمان و زمین اپنے صفات کے اعتبار سے بدل جائیں گے یا ویسے ہی ذاتی طور پر یہ تبدیلی آئے گی، نہ زمین رہے گی اور نہ یہ آسمان۔ زمین بھی کوئی اور ہوگی اور آسمان بھی کوئی اور۔ حدیث میں آتا ہے، رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا :«يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى أَرْضٍ بَيْضَاءَ عَفْرَاءَ، كَقُرْصَةِ النَّقِيِّ لَيْس فِيهَا عَلَمٌ لأحَدٍ»۔ (صحيح مسلم، صفة القيامة، باب في البعث والنشور) « قیامت والے دن لوگ سفید بھوری زمین پر اکھٹے ہونگے جو میدہ کی روٹی کی طرح ہوگی۔ اس میں کسی کا کوئی جھنڈا (یا علامتی نشان) نہیں ہوگا»۔ حضرت عائشہ رضی اللہ نے پوچھا کہ جب یہ آسمان و زمین بدل دئیے جائیں گے تو پھر لوگ اس دن کہاں ہونگے؟ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”صراط پر“ یعنی پل صراط پر (حوالہ مذکور) ایک یہودی کے پوچھنے پر آپ نے فرمایا کہ ”لوگ اس دن پل کے قریب اندھیرے میں ہونگے“۔ (صحيح مسلم، كتاب الحيض، باب بيان صفة مني الرجل)
  3. قُلۡ إِنَّمَآ أَنَا۠ مُنذِرٞۖ وَمَا مِنۡ إِلَٰهٍ إِلَّا ٱللَّهُ ٱلۡوَٰحِدُ ٱلۡقَهَّارُ

    کہہ دیجئے! کہ میں تو صرف خبردار کرنے واﻻ ہوں1 اور بجز اللہ واحد غالب کے اور کوئی ﻻئق عبادت نہیں.

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی جو تم گمان کرتے ہو، میں وہ نہیں ہوں بلکہ تمہیں اللہ کے عذاب اور اس کےعتاب سے ڈرانے والا ہوں۔
  4. لَّوۡ أَرَادَ ٱللَّهُ أَن يَتَّخِذَ وَلَدٗا لَّٱصۡطَفَىٰ مِمَّا يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُۚ سُبۡحَٰنَهُۥۖ هُوَ ٱللَّهُ ٱلۡوَٰحِدُ ٱلۡقَهَّارُ

    اگر اللہ تعالیٰ کااراده اوﻻد ہی کا ہوتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا۔ (لیکن) وه تو پاک ہے، وه1 وہی اللہ تعالیٰ ہے یگانہ اور قوت واﻻ.

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی پھر اس کی اولاد لڑکیاں ہی کیوں ہوتیں؟ جس طرح کہ مشرکین کا عقیدہ تھا۔ بلکہ وہ اپنی مخلوق میں سے جس کو پسند کرتا، وہ اس کی اولاد ہوتی، نہ کہ وہ جن کو وہ باور کراتے ہیں، لیکن وہ تو اس نقص سے پاک ہے۔ (ابن کثیر)۔
  5. يَوۡمَ هُم بَٰرِزُونَۖ لَا يَخۡفَىٰ عَلَى ٱللَّهِ مِنۡهُمۡ شَيۡءٞۚ لِّمَنِ ٱلۡمُلۡكُ ٱلۡيَوۡمَۖ لِلَّهِ ٱلۡوَٰحِدِ ٱلۡقَهَّارِ

    جس دن سب لوگ ﻇاہر ہو جائیں گے1 ، ان کی کوئی چیز اللہ سے پوشیده نہ رہے گی۔ آج کس کی بادشاہی ہے2؟ فقط اللہ واحد و قہار کی.3

    مترجم کے حواشی (3)
    1. 1 یعنی زندہ ہوکر قبروں سے باہر نکل کھڑے ہوں گے۔
    2. 2 یہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ پوچھے گا، جب سارے انسان اس کے سامنے میدان محشر میں جمع ہوں گے، اللہ تعالیٰ زمین کو اپنی مٹھی میں اور آسمان کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا، اور کہے گا میں بادشاہ ہوں، زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟ (صحیح بخاری، سورۂ زمر)۔
    3. 3 جب کوئی نہیں بولے گا تو یہ جواب اللہ تعالیٰ خود ہی دے گا۔ بعض کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک فرشتہ منادی کرے گا، جس کے ساتھ ہی تمام کافر اور مسلمان بیک آواز یہی جواب دیں گے۔ (فتح القدیر)۔

اس نام کے بارے میں

وہ آیات جن میں یہ لفظ آیا ہے
6
قرآنی متن
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن
ترجمہ
Muhammad Junagarhi

وہ نام جو اس کے ساتھ آتے ہیں

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play