سورۃ الاعراف 7:157 الأعراف
یہ سورۃ الاعراف کی 206 آیات میں سے آیت 157 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 1111، پارہ 9۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 170 پر ہے۔
ٱلَّذِينَ يَتَّبِعُونَ ٱلرَّسُولَ ٱلنَّبِيَّ ٱلۡأُمِّيَّ ٱلَّذِي يَجِدُونَهُۥ مَكۡتُوبًا عِندَهُمۡ فِي ٱلتَّوۡرَىٰةِ وَٱلۡإِنجِيلِ يَأۡمُرُهُم بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَنۡهَىٰهُمۡ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ ٱلۡخَبَٰٓئِثَ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ إِصۡرَهُمۡ وَٱلۡأَغۡلَٰلَ ٱلَّتِي كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡۚ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِهِۦ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَٱتَّبَعُواْ ٱلنُّورَ ٱلَّذِيٓ أُنزِلَ مَعَهُۥٓ أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ
جو لوگ ایسے رسول نبی امی کا اتباع کرتے ہیں جن کو وه لوگ اپنے پاس تورات وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں1 ۔ وه ان کو نیک باتوں کا حکم فرماتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں2 اور پاکیزه چیزوں کو حلال بتاتے ہیں اور گندی چیزوں کو ان پر حرام فرماتے ہیں اور ان لوگوں پر جو بوجھ اور طوق تھے3 ان کو دور کرتے ہیں۔ سو جو لوگ اس نبی پر ایمان ﻻتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں اور اس نور کا اتباع کرتے ہیں جو ان کے ساتھ بھیجا گیا ہے، ایسے لوگ پوری فلاح پانے والے ہیں۔4
مترجم کے حواشی (4)
- 1 یہ آیت بھی اس امر کی وضاحت کے لیے نص قطعی کی حیثیت رکھتی ہے کہ رسالت محمدیہ پر ایمان لائے بغیر نجات اخروی ممکن نہیں اور ایمان وہی معبتر ہے جس کی تفصیلات محمد رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے بیان فرمائی ہیں۔ اس آیت سے بھی تصور (وحدت ادیان) کی جڑ کٹ جاتی ہے۔
- 2 معروف، وہ ہے جسے شریعت نے اچھا اور منکر، وہ ہے جسے شریعت نے برا قرار دیا ہے ۔
- 3 یہ بوجھ اور طوق وہ ہیں جو پچھلی شریعت میں تھے، مثلاً نفس کے بدلے نفس کا قتل ضروری تھا، (دیت یا معافی نہیں تھی) یا جس کپڑے کو نجاست لگ جاتی، اس کا قطع کرنا ضروری تھا، شریعت اسلامیہ نے اسے صرف دھونے کا حکم دیا ۔ جس طرح قصاص میں دیت اور معافی کی بھی اجازت دی ۔ وغیرہ اور آپ (صلى الله عليه وسلم) نے بھی فرمایا ہے کہ ”مجھے آسان دین حنیفی کے ساتھ بھیجا گیا ہے“۔ ( مسند أحمد جلد 5۔ ص 266جلد ۔ ٦،ص116،233) لیکن افسوس! اس امت نے اپنے طور پر رسوم ورواج کے بہت سے بوجھ اپنے اوپر لاد لیے ہیں اور جاہلیت کے طوق زیب گلو کر لیے ہیں، جن سے شادی اور مرگ دونوں عذاب بن گئے ہیں ۔ هَدَاهَا اللهُ تَعَالَى ۔
- 4 ان آخری الفاظ سے بھی یہی بات واضح ہوتی ہے کہ کامیاب وہی لوگ ہوں گے جو حضرت محمد رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) پر ایمان لانے والے اور ان کی پیروی کرنے والے ہوں گے۔ جو رسالت محمدیہ پر ایمان نہیں لائیں گے، وہ کامیاب نہیں، خاسر اور ناکام ہوں گے ۔ علاوہ ازیں کامیابی سے مراد بھی آخرت کی کامیابی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ کوئی قوم رسالت محمدیہ پر ایمان نہ رکھتی ہو اور اسے دنیاوی خوش حالی وفراوانی حاصل ہو۔ جس طرح اس وقت مغربی اور یورپی اور دیگر بعض قوموں کا حال ہے کہ وہ عیسائی یا یہودی یا کافر ومشرک ہونے کے باوجود مادی ترقی اور خوش حالی میں ممتاز ہیں۔ لیکن ان کی یہ ترقی عارضی وبطور امتحان واستدراج ہے۔ یہ ان کی اخروی کامیابی کی ضمانت یا علامت نہیں۔ اسی طرح سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ المائدہ کی آیت 15میں نور سے مراد قرآن مجید ہی ہے ۔ (جیسا وہاں بھی وضاحت کی گئی تھی) کیوں کہ جو نور آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے، وہ قرآن مجید ہی ہے اس لیے اس (نور) سے خود نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کی ذات مراد نہیں ہے ۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ آپ کی صفات میں ایک صفت نور بھی ہے۔ جس سے کفروشرک کی تاریکیاں دور ہوئیں۔ لیکن آپ کے نوری صفت ہونے سے آپ کا نُورٌ مِنْ نُورِ اللهِ ہونا ثابت نہیں ہوسکتا، جس طرح اہل بدعت یہ ثابت کرتے ہیں۔ (مزید دیکھئے سورۂ المائدۂ آیت 15 کا حاشیہ)
7:157 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 7:157
Al-Mukhtasar
157- یہ لوگ محمد رسول اللہ( صلى اللہ عليہ وسلم ) کی پیروی کرتے ہیں جو اُمی نبی ہیں، یعنی پڑھتے لکھتے نہیں، اور ان پر صرف ان کے رب کی وحی آتی ہے۔ وہی نبی جن کے نام، صفات اور نبوت کا ذکر وہ اس تورات میں لکھا ہوا پاتے ہیں جو موسیٰ( علیہ السلام ) پر اتاری گئی اور اس انجیل میں بھی جو عیسیٰ( علیہ السلام ) پر نازل ہوئی۔ وہ انھیں وہ باتیں بتاتے ہیں جن کا اچھا اور درست ہونا سب کے ہاں معروف ہے۔ اور انھیں ان باتوں سے منع کرتے ہیں جو درست عقل والوں اور سلیم الفطرت لوگوں کے نزدیک بری ہیں۔ وہ ان کے لیے کھانے پینے اور نکاح وغیرہ جیسی لطف اندوز ہونے والی بے ضرر چیزوں کو مباح قرار دیتے ہیں اور ان میں سے خبیث چیزوں کو حرام ٹھہراتے ہیں اور ان سے وہ سخت مشکلات دُور کرتے ہیں جن کا وہ شکار تھے، جیسے قاتل کو بہر صورت بدلے میں قتل کرنا ضروری تھا، خواہ اس نے جان بوجھ کر قتل کیا ہو یا غلطی سے، چنانچہ بنی اسرائیل اور دیگر لوگ جو ان پر ایمان لائے اور ان کی عزت و توقیر کی اور ان کے کافر دشمنوں کے خلاف ان کی مدد و نصرت کی، نیز ان پر نازل ہونے والے نورِ ہدایت قرآن کی پیروی کی تو یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں جو اپنا مطلوب (جنت) پالیں گے اور جس (جہنم) سے وہ ڈرتے ہیں، اس سے دور رکھے جائیں گے۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 9
- الفاظ کی تعداد
- 43
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 170
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 170
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 171
آیت 7:157 کس سورت میں ہے؟
سورۃ الاعراف (الأعراف). 114 میں سے سورت نمبر 7 · آیات کی تعداد: 206.
آیت 7:157 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 9.
آیت 7:157 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 170 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 170 · نسخ مصحف (612 صفحات): 171.
آیت 7:157 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 43.
آیت 7:157 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 7:157: حروف کی تعداد 220، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 7:157 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 7:157 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 1,111 ہے۔
سورۃ الاعراف میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ الاعراف: آیات کی تعداد 206۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 7 پر ہے۔
سورۃ الاعراف مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ الاعراف مکی ہے۔
کیا آیت 7:157 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 7:157 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ الاعراف کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 206 آیات اور 3,320 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔