سورۃ البقرہ 2:61 البقرة
یہ سورۃ البقرہ کی 286 آیات میں سے آیت 61 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 68، پارہ 1۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 9 پر ہے۔
وَإِذۡ قُلۡتُمۡ يَٰمُوسَىٰ لَن نَّصۡبِرَ عَلَىٰ طَعَامٖ وَٰحِدٖ فَٱدۡعُ لَنَا رَبَّكَ يُخۡرِجۡ لَنَا مِمَّا تُنۢبِتُ ٱلۡأَرۡضُ مِنۢ بَقۡلِهَا وَقِثَّآئِهَا وَفُومِهَا وَعَدَسِهَا وَبَصَلِهَاۖ قَالَ أَتَسۡتَبۡدِلُونَ ٱلَّذِي هُوَ أَدۡنَىٰ بِٱلَّذِي هُوَ خَيۡرٌۚ ٱهۡبِطُواْ مِصۡرٗا فَإِنَّ لَكُم مَّا سَأَلۡتُمۡۗ وَضُرِبَتۡ عَلَيۡهِمُ ٱلذِّلَّةُ وَٱلۡمَسۡكَنَةُ وَبَآءُو بِغَضَبٖ مِّنَ ٱللَّهِۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ كَانُواْ يَكۡفُرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَيَقۡتُلُونَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّۚ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَواْ وَّكَانُواْ يَعۡتَدُونَ
اور جب تم نے کہا اے موسیٰ! ہم سے ایک ہی قسم کے کھانے پر ہرگز صبر نہ ہوسکے گا، اس لئے اپنے رب سے دعا کیجیئے کہ وه ہمیں زمین کی پیداوار ساگ، ککڑی، گیہوں، مسور اور پیاز دے، آپ نے فرمایا، بہتر چیز کے بدلے ادنیٰ چیز کیوں طلب کرتے ہو! اچھا شہر میں جاؤ وہاں تمہاری چاہت کی یہ سب چیزیں ملیں گی1 ۔ ان پر ذلت اور مسکینی ڈال دی گئی اور اللہ تعالی کا غضب لے کر وه لوٹے2 یہ اس لئے کہ وه اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے تھے اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے3 تھے، یہ ان کی نافرمانیوں اور زیادتیوں کا نتیجہ ہے۔4
مترجم کے حواشی (4)
- 1 یہ قصہ بھی اسی میدان تیہ کا ہے۔ مصر سے مراد یہاں ملک مصر نہیں، بلکہ کوئی ایک شہر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہاں سے کسی بھی شہر میں چلے جاؤ اور وہاں کھیتی باڑی کرو، اپنی پسند کی سبزیاں، دالیں اگاؤ اور کھاؤ۔ ان کا یہ مطالبہ چونکہ کفران نعمت اور استکبار پر مبنی تھا، اس لئے زجروتوبیخ کے انداز میں ان سے کہا گیا ”تمہارے لئے وہاں مطلوبہ چیزیں ہیں۔“
- 2 کہاں وہ انعامات واحسانات، جس کی تفصیل گزری؟ اور کہاں وہ ذلت ومسکنت جو بعد میں ان پر مسلط کردی گئی؟ اور وہ غضب الٰہی کے مصداق بن گئے، غضب بھی رحمت کی طرح اللہ کی صفت ہے، جس کی تاویل ارادۂ عقوبت یا نفس عقوبت سے کرنا صحیح نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان پر غضب ناک ہوا۔ كَمَا هُوَ شَأْنُهُ۔ (اپنی شان کے لائق)
- 3 یہ ذلت وغضب الٰہی کی وجہ بیان کی جارہی ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار اور اللہ کی طرف بلانے والے انبیا (عليهم السلام) اور داعیان حق کا قتل اور ان کی تذلیل واہانت، یہ غضب الٰہی کا باعث ہے۔ کل یہود اس کا ارتکاب کرکے مغضوب اور ذلیل ورسوا ہوئے تو آج اس کا ارتکاب کرنے والے کس طرح معزز اور سرخرو ہوسکتے ہیں: ”أَيْنَ مَا كَانُوا وَحَيْثُ مَا كَانُوا“ ”وہ کوئی بھی ہوں اور کہیں بھی ہوں۔“
- 4 یہ ذلت ومسکنت کی دوسری وجہ ہے۔ عَصَوْا(نافرمانی کی) کا مطلب ہے جن کاموں سے انہیں روکا گیا تھا، ان کا ارتکاب کیا اور (يَعْتَدُونَ) کا مطلب ہے مامور بہ کاموں میں حد سے تجاوز کرتے تھے۔ اطاعت و فرمانبرداری یہ ہے کہ مَنْهِيَّات سے باز رہا جائے اور مَأْمُورَات کو اس طرح بجا لایا جائے جس طرح ان کو بجا لانے کا حکم دیا گیا ہو۔ اپنی طرف سے کمی بیشی یہ زیادتی (اعْتِدَاء) ہے جو اللہ کو سخت ناپسند ہے۔
2:61 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 2:61
Al-Mukhtasar
61- اے بنی اسرائیل! اس وقت کو یاد کرو جب تم نے اپنے رب کی نعمت کی ناقدری کی۔ تم اللہ تعالیٰ کا اتارا ہوا من و سلویٰ کھانے سے اکتا گئے اور تم نے کہا: ہم ایک ہی طرح کے کھانے پر، جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، گزارا نہیں کر سکتے اور تم نے موسیٰ علیہ السلام سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ تمھارے لیے زمین کی نباتات میں سے سبزیاں، ککڑی، گندم، مسور اور پیاز وغیرہ پیدا کرے۔ موسیٰ علیہ السلام نے تمھارا مطالبہ ناپسند کرتے ہوئے کہا کہ تم اچھی اور اعلیٰ چیز من و سلویٰ، جو بغیر محنت و مشقت کے تمھیں مل جاتی ہے، کو چھوڑ کر ادنیٰ اور گھٹیا چیزیں بدلے میں لینا چاہتے ہو تو پھر اس علاقے کو چھوڑ کر کسی بھی بستی میں چلے جاؤ، وہاں تمھیں تمھاری مطلوبہ سبزیاں اور گندم کھیتوں اور بازاروں میں مل جائیں گی۔ اپنی خواہشات کی پیروی کرنے اور اللہ تعالیٰ کے انتخاب سے بار بار اعراض کرنے کی وجہ سے ذلت و رسوائی، فقر و فاقہ اور تنگدستی و بدحالی بنی اسرائیل کا مقدر بن گئی۔ دین سے منہ موڑنے، اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرنے اور اس کے انبیاء کو ظلم و زیادتی کے ساتھ قتل کرنے کی وجہ سے وہ اللہ کے غضب کے حق دار ٹھہرے۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہوا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور وہ اس کی حدود سے تجاوز کرتے تھے۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 1
- الفاظ کی تعداد
- 59
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 9
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 9
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 10
آیت 2:61 کس سورت میں ہے؟
سورۃ البقرہ (البقرة). 114 میں سے سورت نمبر 2 · آیات کی تعداد: 286.
آیت 2:61 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 1.
آیت 2:61 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 9 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 9 · نسخ مصحف (612 صفحات): 10.
آیت 2:61 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 59.
آیت 2:61 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 2:61: حروف کی تعداد 254، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 2:61 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 2:61 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 68 ہے۔
سورۃ البقرہ میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ البقرہ: آیات کی تعداد 286۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 2 پر ہے۔
سورۃ البقرہ مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ البقرہ مدنی ہے۔
کیا آیت 2:61 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 2:61 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ البقرہ کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 286 آیات اور 6,116 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔