سورۃ المجادلہ 58:8 المجادلة
یہ سورۃ المجادلہ کی 22 آیات میں سے آیت 8 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 5112، پارہ 28۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 543 پر ہے۔
أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ نُهُواْ عَنِ ٱلنَّجۡوَىٰ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا نُهُواْ عَنۡهُ وَيَتَنَٰجَوۡنَ بِٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِ وَمَعۡصِيَتِ ٱلرَّسُولِۖ وَإِذَا جَآءُوكَ حَيَّوۡكَ بِمَا لَمۡ يُحَيِّكَ بِهِ ٱللَّهُ وَيَقُولُونَ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ لَوۡلَا يُعَذِّبُنَا ٱللَّهُ بِمَا نَقُولُۚ حَسۡبُهُمۡ جَهَنَّمُ يَصۡلَوۡنَهَاۖ فَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ
کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا؟ جنہیں کانا پھوسی سے روک دیا گیا تھا وه پھر بھی اس روکے ہوئے کام کو دوباره کرتے ہیں1 اور آپس میں گناه کی اور ﻇلم وزیادتی کی اور نافرمانیٴ پیغمبر کی سرگوشیاں کرتے ہیں2، اور جب تیرے پاس آتے ہیں تو تجھے ان لفظوں میں سلام کرتے ہیں جن لفظوں میں اللہ تعالیٰ نے نہیں کہا3 اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر جو ہم کہتے ہیں سزا کیوں نہیں دیتا4، ان کے لیے جہنم کافی (سزا) ہے جس میں یہ جائیں گے5، سو وه برا ٹھکانا ہے.
مترجم کے حواشی (5)
- 1 اس سے مدینے کے یہودی اور منافقین مراد ہیں۔ جب مسلمان ان کے پاس سے گزرتے تو یہ باہم سر جوڑ کر اس طرح سرگوشیاں اور کانا پھوسی کرتے کہ مسلمان یہ سمجھتے کہ شاید ان کے خلاف یہ کوئی سازش کررہے ہیں، یا مسلمانوں کے کسی لشکر پر دشمن نے حملہ کرکے انہیں نقصان پہنچایا ہے، جس کی خبر ان کے پاس پہنچ گئی ہے۔ مسلمان ان چیزوں سے خوف زدہ ہو جاتے۔ چنانچہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے اس طرح سرگوشیاں کرنے سے منع فرما دیا۔ لیکن کچھ ہی عرصے کے بعد انہوں نے پھر یہ مذموم سلسلہ شروع کر دیا۔ آیت میں ان کے اسی کردار کو بیان کیا جارہا ہے۔
- 2 یعنی ان کی سرگوشیاں نیکی اور تقویٰ کی باتوں میں نہیں ہوتیں، بلکہ گناہ، زیادتی اور معصیت رسول (صلى الله عليه وسلم) پر مبنی ہوتی ہیں مثلاً کسی کی غیبت ، الزام تراشی ، بے ہودہ گوئی ، ایک دوسرے کو رسول (صلى الله عليه وسلم) کی نافرمانی پر اکسانا وغیرہ۔
- 3 یعنی اللہ نے تو سلام کا طریقہ یہ بتلایا کہ تم السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ ، کہو لیکن یہ یہودی نبی (صلى الله عليه وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوتے تو اس کے بجائے کہتے السَّامُ عَلَيْكُمْ یا عَلَيْكَ (تم پر موت وارد ہو) اس لیے رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) ان کے جواب میں صرف یہ فرمایا کرتے تھے۔ وَعَلَيْكُمْ یا وَعَلَيْكَ (اور تم پر ہی ہو) اور مسلمانوں کو بھی آپ (صلى الله عليه وسلم) نے تاکید فرمائی کہ جب کوئی اہل کتاب تمہیں سلام کرے تو تم جواب میں ”عَلَيْكَ“ کہا کرو یعنی عَلَيْكَ مَا قُلْتَ (تو نے جو کہا ہے ، وہ تجھ پر ہی وارد ہو) (صحيح بخاري ومسلم ، كتاب الأدب ، باب لم يكن النبي صلى الله عليه وسلم فاحشا ولا متفحشا)۔
- 4 یعنی وہ آپس میں یا اپنے دلوں میں کہتے کہ اگر یہ سچا نبی ہوتا تو اللہ تعالیٰ یقیناً ہماری اس قبیح حرکت پر ہماری گرفت ضرور فرماتا۔
- 5 اللہ نے فرمایا کہ اگر اللہ نے اپنی مشیت اور حکمت بالغہ کے تحت دنیا میں ان کو فوری گرفت نہیں فرمائی تو کیا وہ آخرت میں جہنم کے عذاب سے بھی بچ جائیں گے؟ نہیں یقیناً نہیں۔ جہنم ان کی منتظر ہے جس میں وہ داخل ہوں گے۔
58:8 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 58:8
Al-Mukhtasar
8- اے رسول( صلى اللہ عليہ وسلم )! کیا آپ نے یہودیوں کو نہیں دیکھا کہ جب وہ کسی ایمان والے کو دیکھتے ہیں تو سرگوشی شروع کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں سرگوشی سے منع کیا مگر وہ پھر وہی کام کرتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے انھیں منع کیا ہے اور وہ آپس میں گناہ پر مبنی سرگوشیاں کرتے ہیں، جیسے اہلِ ایمان کی غیبت، ان سے زیادتی کے مشورے اور اللہ کے رسول صلى اللہ عليہ وسلم کی نافرمانی کی باتیں۔ اے رسول( صلى اللہ عليہ وسلم )! جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو ان لفظوں میں سلام کہتے ہیں جن لفظوں میں اللہ نے نہیں کہا اور وه یوں کہتے ہيں: اَلسَّامُ عَلَیْکَ۔ اس سے ان کی مراد موت ہوتی ہے اور وہ نبیٔ اکرم صلى اللہ عليہ وسلم کو جھٹلانے کے لیے کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ ہمیں ہماری باتوں کی وجہ سے عذاب کیوں نہیں دیتا، یعنی اگر آپ اپنے دعوے میں سچے ہیں کہ آپ اللہ کے نبی ہیں تو اللہ ہمیں ان باتوں پر عذاب کیوں نہیں دیتا جو ہم آپ کے بارے میں کہتے ہیں! ان کے قول کی سزا کے لیے جہنم ہی انھیں کافی ہے۔ وہ اس کی گرمی جھیلیں گے اور ان کا ٹھکانا نہایت برا ہے۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 28
- الفاظ کی تعداد
- 38
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 543
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 543
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 544
آیت 58:8 کس سورت میں ہے؟
سورۃ المجادلہ (المجادلة). 114 میں سے سورت نمبر 58 · آیات کی تعداد: 22.
آیت 58:8 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 28.
آیت 58:8 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 543 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 543 · نسخ مصحف (612 صفحات): 544.
آیت 58:8 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 38.
آیت 58:8 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 58:8: حروف کی تعداد 165، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 58:8 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 58:8 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 5,112 ہے۔
سورۃ المجادلہ میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ المجادلہ: آیات کی تعداد 22۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 58 پر ہے۔
سورۃ المجادلہ مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ المجادلہ مدنی ہے۔
کیا آیت 58:8 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 58:8 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ المجادلہ کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 22 آیات اور 472 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔