مواد پر جائیں

سورۃ الممتحنہ 60:10 الممتحنة

یہ سورۃ الممتحنہ کی 13 آیات میں سے آیت 10 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 5160، پارہ 28۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 550 پر ہے۔

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا جَآءَكُمُ ٱلۡمُؤۡمِنَٰتُ مُهَٰجِرَٰتٖ فَٱمۡتَحِنُوهُنَّۖ ٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِإِيمَٰنِهِنَّۖ فَإِنۡ عَلِمۡتُمُوهُنَّ مُؤۡمِنَٰتٖ فَلَا تَرۡجِعُوهُنَّ إِلَى ٱلۡكُفَّارِۖ لَا هُنَّ حِلّٞ لَّهُمۡ وَلَا هُمۡ يَحِلُّونَ لَهُنَّۖ وَءَاتُوهُم مَّآ أَنفَقُواْۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ أَن تَنكِحُوهُنَّ إِذَآ ءَاتَيۡتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّۚ وَلَا تُمۡسِكُواْ بِعِصَمِ ٱلۡكَوَافِرِ وَسۡـَٔلُواْ مَآ أَنفَقۡتُمۡ وَلۡيَسۡـَٔلُواْ مَآ أَنفَقُواْۚ ذَٰلِكُمۡ حُكۡمُ ٱللَّهِ يَحۡكُمُ بَيۡنَكُمۡۖ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٞ

اے ایمان والو! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کرکے آئیں تو تم ان کا امتحان لو1 ۔ دراصل ان کے ایمان کو بخوبی جاننے واﻻ تو اللہ ہی ہے لیکن اگر وه تمہیں ایمان والیاں معلوم ہوں2 تو اب تم انہیں کافروں کی طرف واپس نہ کرو، یہ ان کے لیے حلال نہیں اور نہ وه ان کے لیے حلال ہیں3، اور جو خرچ ان کافروں کا ہوا ہو وه انہیں ادا کردو4، ان عورتوں کو ان کے مہر دے کر ان سے نکاح کر لینے میں تم پر کوئی گناه نہیں5 اور کافر عورتوں کی ناموس اپنے قبضہ میں نہ رکھو6 اور جو کچھ تم نے خرچ کیا ہو7، مانگ لو اور جو کچھ ان کافروں نے خرچ کیا ہو8 وه بھی مانگ لیں یہ اللہ کا فیصلہ ہے جو تمہارے درمیان کر رہا ہے9، اللہ تعالیٰ بڑے علم (اور) حکمت واﻻ ہے.

مترجم کے حواشی (9)
  1. 1 معاہدۂ حدیبیہ میں ایک شق یہ تھی کہ مکے سے کوئی مسلمانوں کے پاس چلا جائے گا، تو اس کو واپس کرنا پڑے گا۔ لیکن اس میں مرد وعورت کی صراحت نہیں تھی۔ بظاہر کوئی (احد) میں دونوں ہی شامل تھے۔ چنانچہ بعد میں بعض عورتیں مکے سے ہجرت کرکے مسلمانوں کے پاس چلی گئیں تو کفار نے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا، جس پر اللہ نے اس آیت میں مسلمانوں کی رہنمائی فرمائی اور یہ حکم دیا۔ امتحان لینے کا مطلب ہے اس امر کی تحقیق کرو کہ ہجرت کرکے آنے والی عورت جو ایمان کا اظہار کر رہی ہے، اپنے کافر خاوند سے ناراض ہوکر یا کسی مسلمان کے عشق میں یا کسی اور غرض سے تو نہیں آئی ہے اور صرف یہاں پناہ لینے کی خاطر ایمان کا دعویٰ کر رہی ہے۔
  2. 2 یعنی تم اپنی تحقیق سے اس نتیجے پر پہنچو اور تمہیں گمان غالب حاصل ہو جائے کہ یہ واقعی مومنہ ہیں۔
  3. 3 یہ انہیں ان کے کافر خاوندوں کے پاس واپس نہ کرنے کی علت ہے کہ اب کوئی مومن عورت کسی کافر کے لیے حلال نہیں۔ جیسا کہ ابتدائے اسلام میں یہ جائز تھا، چنانچہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کی صاحبزادی حضرت زینب (رضی الله عنها) کا نکاح ابو العاص ابن ربیع کے ساتھ ہوا تھا، جب کہ وہ مسلمان نہیں تھے۔ لیکن اس آیت نے آئندہ کے لیے ایسا کرنے سے منع کر دیا، اسی لیے یہاں فرمایا گیا کہ وہ ایک دوسرے کے لیے حلال نہیں، اس لیے انہیں کافروں کے پاس مت لوٹاؤ۔ ہاں اگر شوہر بھی مسلمان ہو جائے تو پھر ان کا نکاح برقرار رہ سکتا ہے۔ چاہے خاوند عورت کے بعد ہجرت کرکے آئے۔
  4. 4 یعنی ان کے کافر خاوندوں نے ان کو جو مہر ادا کیا ہے ، وہ تم انہیں ادا کر دو۔
  5. 5 یہ مسلمانوں کو کہا جارہا ہے کہ یہ عورتیں، جو ایمان کی خاطر اپنے کافر خاوندوں کو چھوڑ کر تمہارے پاس آگئی ہیں ، تم ان سے نکاح کر سکتے ہو، بشرطیکہ ان کا حق مہر تم ادا کرو۔ تاہم یہ نکاح مسنون طریقے سے ہی ہوگا۔ یعنی ایک تو انقضائے عدت (استبراء رحم) کے بعد ہوگا۔ دوسرے، اس میں ولی کی اجازت اور دو عادل گواہوں کی موجودگی بھی ضروری ہے۔ البتہ عورت مدخول بہا نہیں ہے تو پھر بلاعدت فوری نکاح جائز ہے۔
  6. 6 عِصَمٌ، عِصْمَةٌ کی جمع ہے، یہاں اس سے مراد عصمت عقد نکاح ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر خاوند مسلمان ہو جائے اور بیوی بدستور کافر اور مشرک رہے تو ایسی مشرک عورت کو اپنے نکاح میں رکھنا جائز نہیں ہے۔ اسے فوراً طلاق دے کر اپنے سے علیحدہ کر دیا جائے۔ چنانچہ اس حکم کے بعد حضرت عمر (رضي الله عنه) نے اپنی دو مشرک بیویوں کو اور حضرت طلحہ ابن عبید اللہ (رضي الله عنه) نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ (ابن کثیر) البتہ اگر بیوی کتابیہ (یہودی یا عیسائی) ہو تو اسے طلاق دینا ضروری نہیں ہے۔ کیونکہ ان سے نکاح جائز ہے، اس لیے اگر وہ پہلے سے ہی بیوی کی حیثیت سے تمہارے پاس موجود ہے تو قبول اسلام کے بعد اسے علیحدہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
  7. 7 یعنی ان عورتوں پر جو کفر پر برقرار رہنے کی وجہ سے کافروں کے پاس چلی گئی ہیں۔
  8. 8 یعنی ان عورتوں پر جو مسلمان ہوکر ہجرت کرکے مدینے آگئی ہیں۔
  9. 9 یعنی یہ حکم مذکور کہ دونوں ایک دوسرے کو حق مہر ادا کریں بلکہ مانگ کرلیں، اللہ کا حکم ہے۔ امام قرطبی فرماتے ہیں کہ یہ حکم اس دور کے ساتھ ہی خاص تھا۔ اس پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔ (فتح القدیر) اس کی وجہ وہ معاہدہ ہے جو اس وقت فریقین کے درمیان تھا۔ اس قسم کے معاہدے کی صورت میں آئندہ بھی اس پر عمل کرنا ضروری ہوگا۔ بصورت دیگر نہیں۔

60:10 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3

تفسیر سورۃ الممتحنہ
0/13
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
مشاري العفاسي الممتحنہ 60:10 0:00 0:00 پڑھ لیا، آگے بڑھیں

تفسیر · 60:10

Al-Mukhtasar

10- اے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس کی شریعت پر عمل کرنے والو! جب کافروں کے علاقے سے مومن عورتیں ہجرت کر کے مسلمانوں کے علاقے میں تمھارے پاس آئیں تو ان کے ایمان کی سچائی کے متعلق ان کا امتحان لو۔ اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کے متعلق خوب جانتا ہے۔ اس سے ان کے دل کی کوئی بات چھپی ہوئی نہیں۔ پھر اگر امتحان کے بعد تمھیں ان کے ایمان دار ہونے کا یقین ہو جائے اور ان کی سچائی تمھارے لیے ظاہر ہو جائے تو انھیں ان کے کافر خاوندوں کے پاس واپس نہ بھیجو۔ مومن عورتوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ کافروں سے شادی کریں اور نہ کافروں کے لیے مومن عورتوں سے شادی کرنا جائز ہے۔ ان کے کافر خاوندوں نے جو مہر ان پر خرچ کیے ہیں، وہ انھیں دے دو۔ اے ایمان والو! اگر تم ان کے حق مہر ادا کر دو تو ان کی عدت گزرنے کے بعد ان سے نکاح کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔ جس کی بیوی کافر ہو یا اسلام سے مرتد ہو جائے تو وہ اسے نہ روکے کیونکہ اس کے کفر کی وجہ سے ان کا نکاح ختم ہوگیا ہے اور جو تم نے مہر کی صورت میں اپنی مرتد بیویوں پر خرچ کیا، وہ کافروں سے مانگ لو اور وہ بھی مسلمانوں سے اس مہر کا مطالبہ کر لیں جو انھوں نے اپنی مسلمان ہونے والی بیویوں پر خرچ کیا۔ یہ مذکورہ بات کہ دونوں طرف سے مہر واپس کیا جائے، اللہ کا حکم ہے۔ وہ پاک رب جیسے چاہے تمھارے درمیان فیصلہ کرے اور اللہ اپنے بندوں کے حالات اور اعمال سے خوب آگاہ ہے، ان میں سے کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں۔ وہ اپنے بندوں کے لیے جو شریعت مقرر کرتا ہے، اس میں کمال حکمت والا ہے۔

Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution

پارہ
28
الفاظ کی تعداد
55
مدینہ مصحف (604 صفحات)
550
انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
550
نسخ مصحف (612 صفحات)
551
آیت 60:10 کس سورت میں ہے؟

سورۃ الممتحنہ (الممتحنة). 114 میں سے سورت نمبر 60 · آیات کی تعداد: 13.

آیت 60:10 کس پارے میں ہے؟

پارہ: 28.

آیت 60:10 کس صفحے پر ہے؟

مدینہ مصحف (604 صفحات): 550 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 550 · نسخ مصحف (612 صفحات): 551.

آیت 60:10 میں کتنے الفاظ ہیں؟

الفاظ کی تعداد: 55.

آیت 60:10 میں کتنے عربی حروف ہیں؟

آیت 60:10: حروف کی تعداد 254، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔

آیت 60:10 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟

آیت 60:10 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 5,160 ہے۔

سورۃ الممتحنہ میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ الممتحنہ: آیات کی تعداد 13۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 60 پر ہے۔

سورۃ الممتحنہ مکی ہے یا مدنی؟

سورۃ الممتحنہ مدنی ہے۔

کیا آیت 60:10 سنی جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ آیت 60:10 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔

سورۃ الممتحنہ کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟

شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 13 آیات اور 348 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play