الدخان الدخان · AbdulBaset AbdulSamad
AbdulBaset AbdulSamad کی آواز میں آیات: 59 حفص عن عاصم مجود
ترجمہ: Muhammad Junagarhi
مطالعے کی ترتیبات
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
-
إِنَّآ أَنزَلۡنَٰهُ فِي لَيۡلَةٖ مُّبَٰرَكَةٍۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ
یقیناً ہم نے اسے بابرکت رات1 میں اتارا ہے بیشک ہم ڈرانے والے ہیں.2
مترجم کے حواشی (2)
- 1 بابرکت رات «لَيْلَةٌ مُبَارَكَةٌ» سے مراد شب قدر «لَيْلَةُ الْقَدْرِ» ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر صراحت ہے «شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ» (البقرة: 185) ”رمضان کے مہینے میں قرآن نازل کیا گیا“ «إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ» (سورة القدر) ”ہم نے یہ قرآن شب قدر میں نازل فرمایا“۔ یہ شب قدر رمضان کے عشرۂ اخیر کی طاق راتوں میں سے ہی کوئی ایک رات ہوتی ہے۔ یہاں قدر کی اس رات کو بابرکت رات قرار دیا گیا ہے۔ اس کے بابرکت ہو نے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے کہ ایک تو اس میں قرآن کا نزول ہوا۔ دوسرے، اس میں فرشتوں اور روح الامین کا نزول ہوتا ہے۔ تیسرے اس میں سارے سال میں ہونے والے واقعات کا فیصلہ کیا جاتا ہے، (جیسا کہ آگے آرہا ہے) چوتھے، اس رات کی عبادت ہزار مہینے (یعنی 83 سال 4 ماہ) کی عبادت سے بہتر ہے شب قدر یا لیلۂ مبارکہ میں قرآن کے نزول کا مطلب یہ ہے کہ اسی رات سے نبی (صلى الله عليه وسلم) پر قرآن مجید کا نزول شروع ہوا۔ یعنی پہلے پہل اسی رات آپ پر قرآن نازل ہوا۔ یا یہ مطلب ہے کہ لوح محفوظ سے اسی رات قرآن بیت العزت میں اتارا گیا جو آسمان دنیا پر ہے۔ پھر وہاں سے حسب ضرورت و مصلحت 23 سالوں تک مختلف اوقات میں نبی (صلى الله عليه وسلم) پر اترتا رہا۔ بعض لوگوں نے لیلۂ مبارکہ سے شعبان کی پندرھویں رات مراد لی ہے۔ لیکن یہ صحیح نہیں ہے، جب قرآن کی نص صریح سے قرآن کا نزول شب قدر میں ثابت ہے تو اس سے شب براءت مراد لینا کسی طرح بھی صحیح نہیں۔ علاوہ ازیں شب براء ت (شعبان کی پندرھویں رات) کی بابت جتنی بھی روایات آتی ہیں، جن میں اس کی فضیلت کا بیان ہے یا ان میں اسے فیصلے کی رات کہا گیا ہے، تو یہ سب روایات سنداً ضعیف ہیں۔ یہ قرآن کی نص صریح کا مقابلہ کس طرح کر سکتی ہیں؟
- 2 یعنی نزول قرآن کا مقصد لوگوں کو نفع وضرر شرعی سے آگاہ کرنا ہے تاکہ ان پر حجت قائم ہوجائے۔
-
فِيهَا يُفۡرَقُ كُلُّ أَمۡرٍ حَكِيمٍ
اسی رات میں ہر ایک مضبوط کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 يُفْرَقُ، يُفَصَّلُ وَيُبَيَّنُ، فیصلہ کردیا جاتا اور یہ کام کو اس سے متعلق فرشتے کے سپرد کردیا جاتا ہے۔ حکیم بمعنی پر حکمت کہ اللہ کا ہر کام ہی باحکمت ہوتا ہے یا بمعنی مُحْكَمٍ (مضبوط، پختہ) جس میں تغیر وتبدیلی کا امکان نہیں۔ صحابہ وتابعین سے اس کی تفسیر میں مروی ہے کہ اس رات میں آنے والے سال کی بابت موت وحیات اور وسائل زندگی کے فیصلے لوح محفوظ سے اتار کر فرشتوں کے سپرد کردیے جاتے ہیں۔ (ابن کثیر)۔
-
رَحۡمَةٗ مِّن رَّبِّكَۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ
آپ کے رب کی مہربانی سے1 ۔ وه ہی ہے سننے واﻻ جاننے واﻻ.
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی انزال کتب کے ساتھ إِرْسَالُ رُسُلٍ (رسولوں کا بھیجنا) یہ بھی ہماری رحمت ہی کا ایک حصہ ہے تاکہ وہ ہماری نازل کردہ کتابوں کو کھول کر بیان کریں اور ہمارے احکام لوگوں تک پہنچائیں۔ اس طرح مادی ضرورتوں کی فراہمی کے ساتھ ہم نے اپنی رحمت سے لوگوں کے روحانی تقاضوں کی تکمیل کا بھی سامان مہیا کردیا۔
-
رَبِّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَآۖ إِن كُنتُم مُّوقِنِينَ
جو رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔ اگر تم یقین کرنے والے ہو.
-
لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ يُحۡيِۦ وَيُمِيتُۖ رَبُّكُمۡ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ ٱلۡأَوَّلِينَ
کوئی معبود نہیں اس کے سوا وہی جلاتا ہے اور مارتا ہے، وہی تمہارا رب ہے اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یہ آیات بھی سورۂ اعراف کی آیت کی طرح ہیں، «قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ لا إِلَهَ إِلا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ» (سورۃ الاعراف:۔ 158)۔
-
فَٱرۡتَقِبۡ يَوۡمَ تَأۡتِي ٱلسَّمَآءُ بِدُخَانٖ مُّبِينٖ
آپ اس دن کے منتظر رہیں جب کہ آسمان ﻇاہر دھواں ﻻئے گا.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یہ ان کفار کے لیے تہدید ہے کہ اچھا آپ اس دن کا انتظار فرمائیں جب کہ آسمان پر دھوئیں کا ظہور ہوگا۔ اس کے سبب نزول میں بتلایا گیا ہے کہ اہل مکہ کے معاندانہ رویئے سے تنگ آکر نبی (صلى الله عليه وسلم) نے ان کے لیے قحط سالی کی بددعا فرمائی، جس کے نتیجے میں ان پر قحط کا عذاب نازل کردیا گیا حتیٰ کہ وہ ہڈیاں، کھالیں، اور مردار وغیرہ تک کھانے پر مجبور ہوگئے، آسمان کی طرف دیکھتے تو بھوک اور کمزوری کی شدت کی وجہ سے انہیں دھواں سا نظر آتا۔ بالآخر تنگ آکر نبی (صلى الله عليه وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عذاب ٹلنے پر ایمان لانے کا وعدہ کیا، لیکن یہ کیفیت دور ہوتے ہی ان کا کفر وعناد پھر اسی طرح عود کر آیا۔ چنانچہ پھر جنگ بدر میں ان کی سخت گرفت کی گئی۔ (صحیح بخاری کتاب التفسیر) بعض کہتے ہیں کہ قرب قیامت کی دس بڑی بڑی علامات میں سے ایک علامت دھواں بھی ہے جس سے کافر زیادہ متاثر ہوں گے اور مومن بہت کم۔ آیت میں اسی دھوئیں کا ذکر ہے۔ اس تفسیر کی رو سے یہ علامت قیامت کے قریب ظاہر ہوگی جب کہ پہلی تفسیر کی رو سے یہ ظاہر ہوچکی۔ امام شوکانی فرماتے ہیں، دونوں باتیں اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں، اس کی شان نزول کے اعتبار سے یہ واقعہ ظہور پذیر ہوچکا ہے جو صحیح سند سے ثابت ہے۔ تاہم علامات قیامت میں بھی اس کا ذکر صحیح احادیث میں آیا ہے، اس لیے وہ بھی اس کے منافی نہیں ہے، اس وقت بھی اس کا ظہور ہوگا۔
-
أَنَّىٰ لَهُمُ ٱلذِّكۡرَىٰ وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُولٞ مُّبِينٞ
ان کے لیے نصیحت کہاں ہے؟ کھول کھول کر بیان کرنے والے پیغمبران کے پاس آچکے.
-
ثُمَّ تَوَلَّوۡاْ عَنۡهُ وَقَالُواْ مُعَلَّمٞ مَّجۡنُونٌ
پھر بھی انہوں نے ان سے منھ پھیرا اور کہہ دیا کہ سکھایا پڑھایا ہوا باؤﻻ ہے.
-
إِنَّا كَاشِفُواْ ٱلۡعَذَابِ قَلِيلًاۚ إِنَّكُمۡ عَآئِدُونَ
ہم عذاب کو تھوڑا دور کردیں گے تو تم پھر اپنی اسی حالت پر آجاؤ گے.
-
يَوۡمَ نَبۡطِشُ ٱلۡبَطۡشَةَ ٱلۡكُبۡرَىٰٓ إِنَّا مُنتَقِمُونَ
جس دن ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے1 ، بالیقین ہم بدلہ لینے والے ہیں.
مترجم کے حواشی (1)
- 1 اس سے مراد جنگ بدر کی گرفت ہے، جس میں ستر کافر مارے گئے اور ستر قیدی بنالیے گئے۔ دوسری تفسیر کی رو سے یہ سخت گرفت قیامت والے دن ہوگی۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ یہ اس گرفت خاص کا ذکر ہے جو جنگ بدر میں ہوئی، کیونکہ قریش کے سیاق میں ہی اس کا ذکر ہے۔ اگرچہ قیامت والے دن بھی اللہ تعالیٰ سخت گرفت فرمائے گا تاہم وہ گرفت عام ہوگی، ہر نافرمان اس میں شامل ہوگا۔
-
۞ وَلَقَدۡ فَتَنَّا قَبۡلَهُمۡ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ وَجَآءَهُمۡ رَسُولٞ كَرِيمٌ
یقیناً ان سے پہلے ہم قوم فرعون کو (بھی) آزما چکے ہیں1 جن کے پاس (اللہ) کا باعزت رسول آیا.
مترجم کے حواشی (1)
- 1 آزمانے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے انہیں دنیوی خوشی، خوشحالی وفراغت سے نوازا اور پھر اپنا جلیل القدر پیغمبر بھی ان کی طرف ارسال کیا لیکن انہوں نے رب کی نعمتوں کا شکر ادا کیا اور نہ پیغمبر پر ایمان لائے۔
-
فَأَسۡرِ بِعِبَادِي لَيۡلًا إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ
(ہم نے کہہ دیا) کہ راتوں رات تو میرے بندوں کو لے کر نکل، یقیناً تمہارا1 پیچھا کیا جائے گا.
مترجم کے حواشی (1)
- 1 چنانچہ اللہ نے دعا قبول فرمائی اور انہیں حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو راتوں رات لے کر یہاں سے نکل جاؤ۔ اور دیکھو ! گھبرانا نہیں، تمہارا پیچھا بھی ہوگا۔
-
وَٱتۡرُكِ ٱلۡبَحۡرَ رَهۡوًاۖ إِنَّهُمۡ جُندٞ مُّغۡرَقُونَ
تو دریا کو ساکن چھوڑ کر چلا جا1 ، بلاشبہ یہ لشکر غرق کردیا جائے گا.
مترجم کے حواشی (1)
- 1 رَهْوًا بمعنی ساکن یا خشک۔ مطلب یہ ہے کہ تیرے لاٹھی مارنے سے دریا معجزانہ طور پر ساکن یا خشک ہوجائے گا اور اس میں راستہ بن جائے گا، تم دریا پار کرنے کے بعد اسے اسی حالت میں چھوڑ دینا تاکہ فرعون اور اس کا لشکر بھی دریا کو پار کرنے کی غرض سے اس میں داخل ہوجائے اور ہم اسے وہیں غرق کردیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ جیسا کہ پہلے تفصیل گزر چکی ہے۔
-
كَمۡ تَرَكُواْ مِن جَنَّٰتٖ وَعُيُونٖ
وه بہت سے باغات1 اور چشمے چھوڑ گئے.
مترجم کے حواشی (1)
- 1 كَمْ، خبر یہ ہے جو تکثیر کا فائدہ دیتا ہے۔ دریائے نیل کے دونوں طرف باغات اور کھیتوں کی کثرت تھی، عالی شان مکانات اور خوش حالی کے آثار تھے۔ سب کچھ یہیں دنیا میں ہی رہ گیا اور عبرت کے لیے صرف فرعون اور اس کی قوم کا نام رہ گیا۔
-
فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ ٱلسَّمَآءُ وَٱلۡأَرۡضُ وَمَا كَانُواْ مُنظَرِينَ
سو ان پر نہ تو آسمان وزمین1 روئے اور نہ انہیں مہلت ملی.
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی ان فرعونیوں کے نیک اعمال ہی نہیں تھے جو آسمان پر چڑھتے اور ان کا سلسلہ منقطع ہونے پر آسمان روتے، نہ زمین پر ہی وہ اللہ کی عبادت کرتے تھے کہ اس سے محرومی پر زمین روتی۔ مطلب یہ ہے کہ آسمان وزمین میں سے کوئی بھی ان کی ہلاکت پر رونے والا نہیں تھا۔ (فتح القدیر)۔
-
وَلَقَدۡ نَجَّيۡنَا بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ مِنَ ٱلۡعَذَابِ ٱلۡمُهِينِ
اور بےشک ہم نے (ہی) بنی اسرائیل کو (سخت) رسوا کن سزا سے نجات دی.
-
مِن فِرۡعَوۡنَۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَالِيٗا مِّنَ ٱلۡمُسۡرِفِينَ
(جو) فرعون کی طرف سے (ہو رہی) تھی۔ فیالواقع وه سرکش اور حد سے گزر جانے والوں میں سے تھا.
-
وَلَقَدِ ٱخۡتَرۡنَٰهُمۡ عَلَىٰ عِلۡمٍ عَلَى ٱلۡعَٰلَمِينَ
اور ہم نے دانستہ طور پر بنی اسرائیل کو دنیا جہان والوں پر فوقیت دی.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 اس جہان سے مراد، بنی اسرائیل کے زمانے کا جہان ہے۔ علی الاطلاق کل جہان نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن میں امت محمدیہ کو كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ کے لقب سے ملقب کیا گیا ہے۔ یعنی بنی اسرائیل اپنے زمانے میں دنیا جہاں والوں پر فضیلت رکھتے تھے۔ ان کی یہ فضیلت اس استحقاق کی وجہ سے تھی جس کا علم اللہ کو ہے۔
-
وَءَاتَيۡنَٰهُم مِّنَ ٱلۡأٓيَٰتِ مَا فِيهِ بَلَٰٓؤٞاْ مُّبِينٌ
اور ہم نے انہیں ایسی نشانیاں دیں جن میں صریح آزمائش تھی.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 آیات سے مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ (عليه السلام) کو دیے گئے تھے، ان میں آزمائش کا پہلو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ دیکھے کہ وہ کیسے عمل کرتے ہیں؟ یا پھر آیات سے مراد وہ احسانات ہیں جو اللہ نے ان پر فرمائے۔ مثلاً فرعونیوں کو غرق کر کے ان کو نجات دینا، ان کے لیے دریا کو پھاڑ کر راستہ بنانا، بادلوں کا سایہ اور من وسلویٰ کا نزول وغیرہ۔ اس میں آزمائش یہ ہے کہ ان احسانات کے بدلے میں یہ قوم اللہ کی فرماں برداری کا راستہ اختیار کرتی ہے یا اس کی ناشکری کرتے ہوئے اس کی بغاوت اور سرکشی کا راستہ اپناتی ہے۔
-
إِنَّ هَٰٓؤُلَآءِ لَيَقُولُونَ
یہ لوگ تو یہی کہتے ہیں.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یہ اشارہ کفار مکہ کی طرف ہے۔ اس لیے کہ سلسلۂ کلام ان ہی سے متعلق ہے۔ درمیان میں فرعون کا قصہ ان کی تنبیہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے کہ فرعون نے بھی ان کی طرح کفر پر اصرار کیا تھا، دیکھ لو، اس کا کیا حشر ہوا۔ اگر یہ بھی اپنے کفروشرک پر مصر رہے تو ان کا انجام بھی فرعون اور اس کے ماننے والوں سے مختلف نہیں ہوگا۔
-
فَأۡتُواْ بِـَٔابَآئِنَآ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادوں کو لے آؤ.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یہ نبی (صلى الله عليه وسلم) اور مسلمانوں کو کافروں کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ اگر تمہارا یہ عقیدہ واقعی صحیح ہے کہ دوبارہ زندہ ہونا ہے تو ہمارے باپ دادوں کو زندہ کرکے دکھادو۔ یہ ان کا جدل اور کٹ حجتی تھی کیونکہ دوبارہ زندہ کرنے کا عقیدہ قیامت سے متعلق ہے نہ کہ قیامت سے پہلے ہی دنیا میں زندہ ہوجانا یا کردینا۔
-
أَهُمۡ خَيۡرٌ أَمۡ قَوۡمُ تُبَّعٖ وَٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ أَهۡلَكۡنَٰهُمۡۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ مُجۡرِمِينَ
کیا یہ لوگ بہتر ہیں یا تبع کی قوم کے لوگ اور جو ان سے بھی پہلے تھے۔ ہم نے ان سب کو ہلاک کردیا یقیناً وه گنہ گار تھے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی یہ کفار مکہ کیا تبع اور ان سے پہلے کی قومیں، عاد وثمود وغیرہ سے زیادہ طاقت ور اور بہتر ہیں، جب ہم نے انہیں ان کے گناہوں کی پاداش میں، ان سے زیادہ قوت و طاقت رکھنے کے باوجود ہلاک کردیا تو یہ کیا حیثیت رکھتے ہیں؟ تبع سے مراد قوم سبا ہے۔ سبا میں حمیر قبیلہ تھا، یہ اپنے بادشاہ کو تبع کہتے تھے، جیسے روم کے بادشاہ کو قیصر، فارس کے بادشاہ کو کسریٰ، مصر کے حکمران کو فرعون اور حبشہ کے فرماں روا کو نجاشی کہا جاتا تھا۔ اہل تاریخ کا اتفاق ہے کہ تبابعہ میں سے بعض تبع کو بڑا عروج حاصل ہوا۔ حتیٰ کہ بعض مورخین نے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ ملکوں کو فتح کرتے ہوئے سمرقند تک پہنچ گیا، اس طرح اور بھی کئی عظیم بادشاہ اس قوم میں گزرے اور اپنے وقت کی یہ ایک عظیم ترین قوم تھی جو قوت وطاقت، شوکت وحشمت اور فراغت وخوشحالی میں ممتاز تھی۔ لیکن جب اس قو م نے بھی پیغمبروں کی تکذیب کی تو اسے تہس نہس کرکے رکھ دیا گیا (تفصیل کے لیے دیکھئے سورۂ سبا کی متعلقہ آیات) حدیث میں ایک تبع کے بارے میں آتا ہے کہ وہ مسلمان ہوگیا تھا، اسے سب و شتم نہ کرو (مجمع الزوائد 87 / 86 ،صحیح الجامع للالبانی، 1319) تاہم ان کی اکثریت نافرمانوں کی ہی رہی ہے جس کی وجہ سے ہلاکت ان کا مقدر بنی۔
-
يَوۡمَ لَا يُغۡنِي مَوۡلًى عَن مَّوۡلٗى شَيۡـٔٗا وَلَا هُمۡ يُنصَرُونَ
اس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ ان کی امداد کی جائے گی.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 جیسے فرمایا: «فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلا أَنْسَابَ بَيْنَهُمْ» (المؤمنون: 101) «وَلا يَسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا» (المعارج: 10)۔
-
إِلَّا مَن رَّحِمَ ٱللَّهُۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ
مگر جس پر اللہ کی مہربانی ہوجائے وه زبردست اور رحم کرنے واﻻ ہے.
-
ثُمَّ صُبُّواْ فَوۡقَ رَأۡسِهِۦ مِنۡ عَذَابِ ٱلۡحَمِيمِ
پھر اس کے سر پر سخت گرم پانی کا عذاب بہاؤ.
-
يَلۡبَسُونَ مِن سُندُسٖ وَإِسۡتَبۡرَقٖ مُّتَقَٰبِلِينَ
باریک اور دبیز ریشم کے لباس پہنے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے.1
مترجم کے حواشی (1)
- 1 اہل کفر وفسق کے مقابلے میں اہل ایمان وتقویٰ کا مقام بیان کیا جارہا ہے۔ جنہوں نے اپنا دامن کفروفسق اور معاصی سے بچائے رکھا تھا۔ امین کا مطلب ایسی جگہ، جہاں ہر قسم کے خوف اور اندیشوں سے وہ محفوظ ہوں گے۔
-
كَذَٰلِكَ وَزَوَّجۡنَٰهُم بِحُورٍ عِينٖ
یہ اسی طرح ہے1 اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ان کا نکاح کردیں گے.2
مترجم کے حواشی (2)
- 1 یعنی متقین کے ساتھ یقیناً ایسا ہی معاملہ ہوگا۔
- 2 حٌورٌ حَوْرَاءُ کی جمع ہے۔ یہ حُورٌ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں کہ آنکھ کی سفیدی انتہائی اور سیاہی انتہائی سیاہ ہو۔ حَوْرَاءُ اس لیے کہا جاتا ہے کہ نظریں ان کے حسن وجمال کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ جائیں گی عِينٌ ، عَيْنَاءُ کی جمع ہے، کشادہ چشم۔ جیسے ہرن کی آنکھیں ہوتی ہیں۔ ہم پہلے وضاحت کر آئے ہیں کہ ہر جنتی کو کم ازکم دو حوریں ضرور ملیں گی۔ جو حسن وجمال کے اعتبار سے چندے آفتاب وماہتاب ہوں گی۔ البتہ ترمذی کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے، جسے صحیح کہا گیا ہے ، کہ شہید کو خصوصی طور پر 72 حوریں ملیں گی (أبواب فضائل الجهاد، باب ما جاء أي الناس أفضل)۔
-
لَا يَذُوقُونَ فِيهَا ٱلۡمَوۡتَ إِلَّا ٱلۡمَوۡتَةَ ٱلۡأُولَىٰۖ وَوَقَىٰهُمۡ عَذَابَ ٱلۡجَحِيمِ
وہاں وه موت چکھنے کے نہیں ہاں پہلی موت1 (جو وه مر چکے)، انہیں اللہ تعالیٰ نے دوزخ کی سزا سے بچا دیا.
مترجم کے حواشی (1)
- 1 یعنی دنیا میں انہیں جو موت آئی تھی، اس موت کے بعد انہیں موت کامﺰہ نہیں چکھنا پڑے گا۔ جیسے حدیث میں آتا ہے کہ ”موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں لاکر دوزخ اور جنت کے درمیان ذبح کردیا جائے گا اور اعلان کردیا جائے گا، اے جنتیو ! تمہارے لیے جنت کی زندگی دائمی ہے، اب تمہارے لیےموت نہیں۔ اور اے جہنمیو ! تمہارے لیے جہنم کا عذاب دائمی ہے، موت نہیں“۔ (صحيح بخاري، تفسير سورة مريم ، مسلم، كتاب الجنة ، باب النار يدخلها الجبارون ، والجنة يدخلها الضعفاء) دوسری حدیث میں فرمایا ”اے جنتیو ! تمہارا مقدر اب صحت وقوت ہے، تم کبھی بیمار نہیں ہو گے۔ تمہارے لیے اب زندگی ہی زندگی ہے، موت نہیں۔ تمہارے لیےنعمتیں ہی نعمتیں ہیں، ان میں کمی نہیں ہوگی اور سدا جوان رہو گے، کبھی بڑھاپا طاری نہیں ہوگا“۔(صحيح بخاري ، كتاب الرقاق ، باب القصد والمداومة على العمل ، ومسلم كتاب مذكور)۔
-
فَضۡلٗا مِّن رَّبِّكَۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ
یہ صرف تیرے رب کا فضل ہے1 ، یہی ہے بڑی کامیابی.
مترجم کے حواشی (1)
- 1 جس طرح حدیث میں بھی ہے۔ فرمایا (یہ بات جان لو ! تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے گا، صحابہ نے عرض کیا۔ یارسول اللہ ! آپ کو بھی؟ فرمایا ”ہاں مجھے بھی، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت اور فضل میں ڈھانپ لے گا“ (صحيح بخاري ، كتاب الرقاق ، باب القصد والمداومة على العمل ، ومسلم كتاب مذكور)۔
-
فَإِنَّمَا يَسَّرۡنَٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُونَ
ہم نے اس (قرآن) کو تیری زبان میں آسان کردیا تاکہ وه نصیحت حاصل کریں.
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
AbdulBaset AbdulSamad کی مزید سورتیں
دوسرے قاری
- الدخان · Mishary Alafasy
- الدخان · AbdulBaset (Murattal)
- الدخان · Minshawi (Murattal)
- الدخان · As-Sudais
- الدخان · Abu Bakr ash-Shatri
- الدخان · Hani ar-Rifai
- الدخان · Mahmoud Khalil al-Husary
- الدخان · Maher al-Muaiqly
- الدخان · Saud ash-Shuraym
- الدخان · Saad al-Ghamdi
- الدخان · Ali Abdur-Rahman al-Hudhaify
- الدخان · Abdullah Basfar
- الدخان · Ahmed ibn Ali al-Ajamy
- الدخان · Muhammad Ayyoub
- الدخان · Muhammad Jibreel
- الدخان · Ibrahim al-Akhdar
- الدخان · Ayman Suwaid
- الدخان · Mahmoud Khalil al-Husary
- الدخان · Shahriar Parhizgar
- الدخان · Mahmoud Khalil al-Husary
- الدخان · Muhammad Siddiq al-Minshawi
- الدخان · Mohammad al-Tablawi
- الدخان · Khalifa al-Tunaiji
- الدخان · Abdullah Awad al-Juhani
- الدخان · Nasser al-Qatami
- الدخان · Fares Abbad
- الدخان · Salah al-Budair
- الدخان · Salah Bukhatir
- الدخان · Abdullah al-Matroud
- الدخان · Abdul Mohsen al-Qasim
- الدخان · Ali Jaber
- الدخان · Khalid Abdullah al-Qahtani
- الدخان · Mahmoud Ali al-Banna
- الدخان · Sahl Yasin
- الدخان · Ahmad Nauina
- الدخان · Akram al-Alaqmi
- الدخان · Ali Hajjaj al-Suwaisi
- الدخان · Aziz Alili
- الدخان · Yasser Salamah
- الدخان · Nabil ar-Rifai
- الدخان · Muhammad AbdulKareem
- الدخان · Karim Mansoori