مواد پر جائیں

سورۃ الممتحنہ 60:4 الممتحنة

یہ سورۃ الممتحنہ کی 13 آیات میں سے آیت 4 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 5154، پارہ 28۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 549 پر ہے۔

قَدۡ كَانَتۡ لَكُمۡ أُسۡوَةٌ حَسَنَةٞ فِيٓ إِبۡرَٰهِيمَ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥٓ إِذۡ قَالُواْ لِقَوۡمِهِمۡ إِنَّا بُرَءَٰٓؤُاْ مِنكُمۡ وَمِمَّا تَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ كَفَرۡنَا بِكُمۡ وَبَدَا بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمُ ٱلۡعَدَٰوَةُ وَٱلۡبَغۡضَآءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤۡمِنُواْ بِٱللَّهِ وَحۡدَهُۥٓ إِلَّا قَوۡلَ إِبۡرَٰهِيمَ لِأَبِيهِ لَأَسۡتَغۡفِرَنَّ لَكَ وَمَآ أَمۡلِكُ لَكَ مِنَ ٱللَّهِ مِن شَيۡءٖۖ رَّبَّنَا عَلَيۡكَ تَوَكَّلۡنَا وَإِلَيۡكَ أَنَبۡنَا وَإِلَيۡكَ ٱلۡمَصِيرُ

(مسلمانو!) تمہارے لیے حضرت ابراہیم میں اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے1 ، جبکہ ان سب نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان سب سے بالکل بیزار ہیں2۔ ہم تمہارے (عقائد کے) منکر ہیں جب تک تم اللہ کی وحدانیت پر ایمان نہ ﻻؤ ہم میں تم میں ہمیشہ کے لیے بغض وعداوت ﻇاہر ہوگئی3 لیکن ابراہیم کی اتنی بات تو اپنے باپ سے ہوئی تھی4 کہ میں تمہارے لیے استغفار ضرور کروں گا اور تمہارے لیے مجھے اللہ کے سامنے کسی چیز کا اختیار کچھ بھی نہیں۔ اے ہمارے پروردگار تجھی پر ہم نے بھروسہ کیا ہے5 اور تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے.

مترجم کے حواشی (5)
  1. 1 کفار سے عدم موالات کے مسئلے کی توضیح کے لیے حضرت ابراہیم (عليه السلام) کی مثال دی جارہی ہے أُسْوَةٌ کے معنی ہوتے ہیں، ایسا نمونہ جس کی اقتدا کی جائے۔
  2. 2 یعنی شرک کی وجہ سے ہمارا اور تمہارا کوئی تعلق نہیں، اللہ کے پرستاروں کا بھلا غیر اللہ کے پجاریوں سے کیا تعلق؟
  3. 3 یعنی یہ علیحدگی اور بیزاری اس وقت تک رہے گی جب تک تم کفروشرک چھوڑ کر توحید کو نہیں اپنالو گے۔ ہاں جب تم ایک اللہ کو ماننے والے بن جاؤ گے تو پھر یہ عداوت موالات میں اور یہ بغض محبت میں بدل جائے گا۔
  4. 4 یہ ایک استثنا ہے جو فی ابراہیم میں مقدر محذوف مضاف سے ہے۔ یعنی «قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي مَقَالاتِ إِبْرَاهيِمَ إِلا قَوْلَهُ لأبِيهِ یا أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ» سے استثنا ہے، اس لیے کہ قول بھی منجملہ اسوہ ہے۔ گویا کہا جارہا ہے۔ «قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ فِي جَمِيعِ أَقْوَالِهِ وَأَفْعَالِهِ إِلا قَوْلَهُ لأبِيهِ»(فتح القدير) مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (عليه السلام) کی پوری زندگی ایک قابل تقلید نمونہ ہے، البتہ ان کا اپنے باپ کے لیے مغفرت کی دعا کرنا ایک ایسا عمل ہے جس میں ان کی پیروی نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ ان کا یہ فعل اس وقت کا ہے جب ان کو اپنے باپ کی بابت علم نہیں تھا، چنانچہ جب ان پر یہ واضح ہوگیا کہ ان کا باپ اللہ کا دشمن ہے تو انہوں نے اپنے باپ سے بھی اظہار براءت کر دیا، جیسا کہ سورۂ براءت آیت 114 میں ہے۔ (سورۂ براءت سورۂ توبہ کو کہا جاتا ہے)۔
  5. 5 توکل کا مطلب ہے۔ امکانی حد تک ظاہری اسباب ووسائل اختیار کرنے کے بعد معاملہ اللہ کے سپرد کر دیا جائے۔ یہ مطلب نہیں کہ ظاہری وسائل اختیار کیے بغیر ہی اللہ پر اعتماد اور توکل کا اظہار کیا جائے، اس سے ہمیں منع کیا گیا ہے، اس لیے توکل کا یہ مفہوم بھی غلط ہوگا۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور اونٹ کو باہر کھڑا کرکے اندر آگیا ، آپ (صلى الله عليه وسلم) نے پوچھا تو کہا میں اونٹ اللہ کے سپرد کر آیا ہوں، آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا۔ یہ توکل نہیں ہے۔ ”اعْقِلْ وَتَوَكَّلْ“ پہلے اسے کسی چیز سے باندھ ، پھر اللہ پر بھروسہ کر۔ (ترمذی) انابت کا مطلب ہے، اللہ کی طرف رجوع کرنا۔

60:4 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3

تفسیر سورۃ الممتحنہ
0/13
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
مشاري العفاسي الممتحنہ 60:4 0:00 0:00 پڑھ لیا، آگے بڑھیں

تفسیر · 60:4

Al-Mukhtasar

4- اے مومنو! یقیناً تمھارے لیے ابراہیم علیہ السلام اور ان کے مومن ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے، جب انھوں نے اپنی کافر قوم سے کہا: بلاشبہ ہم تم سے اور جن بتوں کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، ان سے براء ت اور بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔ تم جس دین پر ہو، ہم اس کے منکر ہیں۔ ہمارے اور تمھارے درمیان دشمنی و نفرت ظاہر ہوچکی ہے یہاں تک کہ تم اکیلے اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک نہ کرو۔ تم پر لازم ہے کہ تم بھی ان کی طرح اپنی کافر قوم سے براء ت کا اظہار کرو۔ ہاں ابراہیم علیہ السلام نے جو بات اپنے باپ سے کہی تھی کہ میں اللہ تعالیٰ سے تیرے لیے بخشش مانگوں گا، تو اس میں تم نے ان کی پیروی نہیں کرنی کیونکہ ابراہیم علیہ السلام کی یہ بات اس وقت کی ہے جب ابھی وہ اپنے باپ سے ناامید نہیں ہوئے تھے۔ چنانچہ کسی مومن کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی مشرک کے لیے بخشش طلب کرے اور (ابراہیم علیہ السلام نے کہا:) میں تجھ سے اللہ کا عذاب کچھ بھی دور کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ اے ہمارے رب! ہم نے اپنے تمام معاملات میں تجھ پر بھروسا کیا ہے اور توبہ کر کے تیری ہی طرف رجوع کیا ہے اور ہمیں تیری ہی طرف قیامت کے دن لوٹنا ہے۔

Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution

پارہ
28
الفاظ کی تعداد
52
مدینہ مصحف (604 صفحات)
549
انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
549
نسخ مصحف (612 صفحات)
550
آیت 60:4 کس سورت میں ہے؟

سورۃ الممتحنہ (الممتحنة). 114 میں سے سورت نمبر 60 · آیات کی تعداد: 13.

آیت 60:4 کس پارے میں ہے؟

پارہ: 28.

آیت 60:4 کس صفحے پر ہے؟

مدینہ مصحف (604 صفحات): 549 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 549 · نسخ مصحف (612 صفحات): 550.

آیت 60:4 میں کتنے الفاظ ہیں؟

الفاظ کی تعداد: 52.

آیت 60:4 میں کتنے عربی حروف ہیں؟

آیت 60:4: حروف کی تعداد 219، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔

آیت 60:4 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟

آیت 60:4 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 5,154 ہے۔

سورۃ الممتحنہ میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ الممتحنہ: آیات کی تعداد 13۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 60 پر ہے۔

سورۃ الممتحنہ مکی ہے یا مدنی؟

سورۃ الممتحنہ مدنی ہے۔

کیا آیت 60:4 سنی جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ آیت 60:4 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔

سورۃ الممتحنہ کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟

شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 13 آیات اور 348 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play